غزل ۔ مطلعِ ثانی

یہ تحریر 90 مرتبہ دیکھی گئی

غبارِ رہ سا پڑا ہوں کنارِ راہگزار
کبھی ادھر سے بھی گزرے گا محملِ دلدار

بس ایک سانس میں تسبیحِ درد ٹوٹ گئی
میں قطرہ قطرہ لہو دل کا کر رہا تھا شمار

میں سن رہا تھا ابھی چاپ اس کے قدموں کی
گزر گیا وہ مرے پاس سے صبا رفتار

ہوائے عیش نے دل کو نہ دی کبھی فرصت
تمام عمر رہی اس کے در پئے آزار

لہو جگر کا مجھے جیسے خوانِ نعمت ہے
کہ زخمِ عشقِ جنوں خیز کر گیا سرشار

جنوں نصیب مجھے فرصتِ نظارہ ہے
بس ایک سانس قضا سے لیا تھا میں نے ادھار

میں کرتا رہتا ہوں سیّاحیئ جراحتِ دل
کہاں کہاں سے ہوا ہے یہ میرا سینہ فگار

وہ آفتاب شمایل، میں ذرہئ خاکی
ضیا سے اس کی ہُوا میں بھی نقطہئ انوار

یہیں کہیں ہے سراغ اس پری شمایل کا
یہیں کہیں ہے وہ محبوبِ آئنہ رخسار

یہیں کہیں سے گلِ آفتاب کھلتا ہے
یہیں کہیں سے رواں ہے نسیمِ صبحِ بہار

یہیں کہیں ہے درِ بارگاہِ صبحِ سخن
یہیں کہیں ہے مقامِ قرینہئ گفتار

یہیں کہیں ہے دمیدہ رخِ گلِ امید
یہیں کہیں سے بکھرتا ہے رنگ و بو کا غبار

یہیں کہیں غمِ دل کا علاج ہوتا ہے
یہیں کہیں پہ اترتا ہے روح کا زنگار

یہیں کہیں ہے قیامِ حکیمِ عیسٰیؑ نفس
یہیں کہیں سنی جاتی ہے دل زدوں کی پکار

یہیں کہیں ہے نظامِ جہاں کا پایے تخت
یہیں کہیں ہے شہِ دو جہانؐ کا دربار

یہیں کہیں پہ ہے تائیدِ کاتبِ تقدیر
یہیں کہیں پہ عطا ہوتا ہے دلوں کو قرار

یہیں کہیں ہے حریمِ حبیبِ شیریں سخن
یہیں کہیں پہ ہے اس پیکرِ حیا کا دیار

یہیں کہیں پہ ہے وہ بارگاہِ لطف و کرم
یہیں کہیں شہِ خیرالوریٰؐ کا ہے گھر بار

ہے شرحہ شرحہ بدن میرا زخمِ ہجراں سے
میں کرتا رہتا ہوں گل ہائے داغِ دل کا شمار

مجھے تو جیسے جہانوں کی بادشاہی ملی
عطا ہوئی ہے جو مجھ کو یہ کلکِ زرّیں نگار

ثنائے خواجہؐ کی خاطر ملا ہے اذنِ سخن
کمال اوج پہ ہے میرا طالعِ بیدار

قلم اٹھایا ہے نعتِ رسولؐ لکھنے کو
برس رہی ہے مضامینِ نو بہ نو کی پھوار

کھڑے ہیں لفظ بصد شوق سامنے میرے
کہ مدحِ سرورِ عالمؐ میں ان کا بھی ہو شمار

یہ شہر شہرِ محمدؐ، مدینہئ انوار
قیام گاہِ رسالت مآب، والا تبار

یہ شہر شہروں کا سرتاج، بستیوں کا وقار
تجلیّات کا مرکز، سخاوتوں کا دیار

یہاں ہوائیں ادب سے خرام کرتی ہیں
یہاں کے لوگ ہیں شیریں مقال و خوش گفتار

یہاں کی ریت سے تارے اگائے جاتے ہیں
یہاں کی مٹی سے بنتے ہیں ثابت و سیّار

یہاں کے پانی کو آبِ حیات کہتے ہیں
یہاں کی دھوپ کو کہتے ہیں مجمعِ انوار

یہاں پرندے درود و سلام پڑھتے ہیں
یہاں بہشت سے برتر ہیں کوچہ و بازار

یہاں فرشتے سروں کو جھکا کے چلتے ہیں
یہاں ادب گہِ حلّاجؒ و رومیؒ و عطّارؒ

یہاں طواف کو آتے ہیں انجم و مہتاب
یہاں ہے بارگہِ کاروانِ لیل و نہار

یہاں کے ذروں سے پاتے ہیں تاب مروارید
یہاں کی خاک سے ملتا ہے کہکشاں کو وقار

یہاں فقیروں کو ملتی ہے دولتِ دارین
یہاں امیروں کو ملتی ہے خلعتِ کردار

یہاں زمیں پہ ستارے لٹائے جاتے ہیں
یہاں سے ملتا ہے جو بھی کسی کو ہے درکار

یہاں پہ ہوتی ہے توقیرِ بندگی تعلیم
یہاں پہ ہوتا ہے بندوں کو ذوقِ استغفار

یہاں کے فرش کی کرتا ہے آسماں تعظیم
یہاں فضاؤں میں دایم تجلّیوں کی پھوار

یہاں کے دن کو فضیلت ہزار صدیوں پر
یہاں کی شب ہے شبِ عید سے بھی عالی وقار

یہاں فضا میں مہکتی ہے اسؐ کی بوئے بدن
کہ جس پہ رشک کرے مشکِ آہوئے تاتار

ذرا سنبھل کے ہو تابش بیانِ مدحِ رسولؐ
کہ یہ شہنشہِ کون و مکاں کا ہے دربار

اے تاجدارِ رسالت، اے سیّدالابرار
اے فخرِ کون و مکاں، اے رسولِ عالی وقار

لقب ترے ہیں رؤف و رحیم، شاہِ امم
رسولِ رحمت دنیا و دیں، شہِ اخیار

نبیِ اُمّی لقب، اے رسولِ عالی نسب
حبیب، طیّب و طاہر، اے سیّدالاطہار

حمید و حامد و احمد، محمد و محمود
تمام اسم ترے ذی وقار، والا تبار

حبیبِ ربِّ دو عالم، امام اہلِ خبر
ہے تیرا دینِ متیں گلشنِ ہمیشہ بہار

اے نکتہ دانِ ازل، راز دانِ لوح و قلم
اے عمقِ قلزمِ ہستی کے صاحبِ اسرار

امینِ حسنِ ازل، آمنہؓ کے نورِ نظر
ہے دو جہاں کی سیادت کی تیرے سر دستار

حدیثِ اوّل و آخر کا رازداں تو ہے
رموزِ کون و مکاں ہیں ترے سرِ گفتار

تری جبیں سے سحر کی نمود ہوتی ہے
شفق کو رنگ عطا کرتے ہیں ترے رخسار

نمودِ حسن ترے لمعہئ تبسم سے
تمام رونقِ عالم تری نظر پہ نثار

ترے لیے ہے درودِ زرِ طلوع و غروب
ترے ہی واسطے یہ روز و شب کی ہے تکرار

ہے آب و گل کا طلسمِ نمو تری خاطر
ہے تیرے واسطے ساعاتِ دو جہاں کا شمار

کھلا ہے سامنے تیرے جریدہئ ہستی
عیاں ہیں تجھ پہ در و بست سرِّ لیل و نہار

جہاتِ ارض و سما، عرصہئ نفس دو نفس
ہیں کہکشائیں ترے راستے کا گرد و غبار

ترا وجود کہ وجہِ قیامِ بزمِ جہاں
تھی آفرینشِ عالم ترے لیے درکار

بجا کہ باعثِ تکوینِ کائنات ہے تو
ہوے ہیں خلق ترے واسطے یمین و یسار

حبیب! تیری ہی خاطر عروسِ ہستی کے
خود اپنے ہاتھوں سے اس نے کیے ہیں سولہ سنگار

کمالِ شوق سے زیبایشِ جہاں کی ہے
کہ اس جگہ اسے تیرا قیام تھا درکار

ہیں آبجوئیں رواں وادیوں کے سینوں پر
سجے ہوے کہیں پھولوں سے دامنِ کہسار

خطِ افق پہ پرافشاں ہے ڈار کونجوں کی
رواں ہے سینہئ دریا پہ کشتیوں کی قطار

سجی ہے چار طرف بزمِ اطلس و کمخواب
بساطِ سبزہ و گل ہے بچھی یمین و یسار

زمینِ سبز ہے دیوانِ نغمہئ نوخیز
عروسِ لالہ نے لکھے ہیں جا بجا اشعار

ہرے جزیروں پہ پاکیزہ پانیوں کا نزول
گیاہِ سبز پہ آبِ بہشت کی ہے پھوار

بچھے ہوے کہیں فرش و فروشِ سبزہ و گل
سجے ہوے کہیں صحرائے آئنہ آثار

کہیں بھرے ہیں لبالب سمندروں کے سبو
ہیں سرکشیدہ کہیں برف سے ڈھکے کہسار

اے شاہِ بزمِ حسینانِ ظاہر و مستور
اے کاروانِ رسالت کے کارواں سالار

جہانِ انفس و آفاق کے سراجِ منیر
اے دلبرانِ دو عالم میں سب سے عالی وقار

ترا مقام ہمیں، خاکیوں کو، کیا معلوم
ترے شمایلِ کبریٰ ہیں بے حدود و شمار

اے شمعِ بزمِ دو عالم، مثالِ پروانہ
فریفتہ ترے رُخ پر مہاجر و انصار

درود بھیجتے ہیں ساکنانِ ہفت افلاک
سلام کہتے ہیں پیغمبرانِ عالی وقار

ہیں خوشہ چیں ترے خرمن کے اہلِ عقل و خرد
ہیں رازدانِ حقایق ترے سپاس گزار

ترا کلام بھی ہے جیسے آیتوں کا نزول
ہے تیرے نطق میں پوشیدہ حکمتوں کا شمار

ہیں جن و انس ترے گنجِ فیض کے طالب
سبھی رسولؐ ترے میکدے کے بادہ گسار

زبانِ انس و ملائک کا ورد اسم ترا
کہ عرش و فرش میں مذکور ہیں ترے اذکار

ہے تیرے پیشِ نظر شرحِ جدولِ عالم
تری نگہ میں زمین و زماں کے ہیں اسرار

ہے مصطفائی تری، تاجِ سروری بھی ترا
ہے تیرے واسطے ارض و سما کا عزّ و وقار

تجھی سے اہلِ خرد کو ملے گا رازِ حیات
ادھر ہی آئیں گے بعد از خرابیئ بسیار

میں ایک بندہئ عزلت گزین و خاک نشیں
جسے نمود و نمایش سے کچھ نہیں درکار

ہے تیرا اسمِ مبیں روز و شب وظیفہ مرا
مرے لیے ہے ترا نام سیّد الاذکار

مرا اثاثہ مرا قلبِ مطمئن ہے یہاں
کہ ہے علائقِ دنیا سے میرا دل بیزار

پتا چلا کہ قناعت میں بادشاہی ہے
یہ مال و دولتِ دنیا ہیں روح کے آزار

کھڑا ہوں بابِ نبوت پہ ہاتھ پھیلائے
میں بے نوا و پریشاں نصیب و عصیاں کار

ترے حضور میں کچھ عرضِ حال کرنا ہے
اگرچہ مجھ کو نہیں کچھ سلیقہئ اظہار

حدیثِ درد بھلا اور کس سے جا کے کہوں
سنے گا کون سوا تیرے، دل زدہ کی پکار

جہاں میں ملتِ بیضا زبون و خوار ہوئی
نہ کارواں ہے کوئی اور نہ کارواں سالار

کچھ اس طرح تری امت ہوئی تہی دامن
نہ ذوقِ عشق ہے باقی نہ رفعتِ افکار

دیارِ مشرق و مغرب میں نام لیوا ترے
سب ایک جبرِ مسلسل کے مستقل ہیں شکار

حریف بیٹھے ہیں دندانِ آز تیز کیے
جدھر بھی دیکھیں سبھی اس کے در پئے آزار

جہاں میں عزت و ناموس نام کو بھی نہیں
جو بالادست ہیں ان کے ہوے ہیں باج گزار

یہ بے کسی ہے، یہ بے چارگی کا عالم ہے
کہ اب تو نانِ جویں بھی یہ مانگتے ہیں اُدھار

کیے ہیں بند دریچے ہوائے تازہ پر
دلوں کے گرد بنا لی ہے آہنی دیوار

ہے ایک سیلِ بلاخیز تا بہ حدِّ نظر
چراغِ مصطفویؐ پر ہوا کی ہے یلغار

نگاہِ لطف و کرم کا سوال ہے آقاؐ
کہ بے کسوں کو ہے تھوڑا سا حوصلہ درکار

مدد حبیبِ خدا، المدد رسول اللہؐ
کرم اے رحمتِ عالمؐ، اے سیّد الابرارؐ