عشق اور خوف (قحط، وبا)

یہ تحریر 113 مرتبہ دیکھی گئی

صدیوں پہلے ایک مشرقی شاعر نے کہا تھا کہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ یاروں نے عشق فراموش کردیا۔
برسوں پہلے ایک لاطینی امریکی ادیب نے وباء کے دنوں میں محبت کے سفر کے ابد تک جاری رہنے کی نوید سنائی۔
اس نے کئی بار سوچا تھا کہ قحط میں عشق کیسے فراموش ہوسکتا ہے اور اگر ایسا ممکن ہے تو موت عشق پر بھاری ہے لیکن اگر وبا کے زمانے میں محبت کا سفر ابد تک جاری رہ سکتا ہے تو محبت وبا سے زیادہ طاقت ور ہے۔ مگر وہ کوئی فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ دونوں میں سے سچی بات کون سی ہے۔ تب ایک دن اس کے اپنے شہر کو ایک ایسی وبا نے آلیا کہ جس کے سامنے انسانی وجود حقیر تنکے کی طرح اڑنے لگے۔ تب اس نے اپنی محبوبہ سے رابطہ کیا اور اسے یاد دلایا کہ کل ان کی ملاقات کا دن ہے۔ کچھ دیر دوسری جانب خاموشی رہی پھر پوچھا گیا:
”کہاں۔“
اس نے بڑے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا جہاں تم چاہو۔ ان کے تعلق میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔ تب دوسری جانب خاموشی کا وقفہ طویل ہوا۔
”کیا ہوا۔“
”میں آپ کو تھوڑی دیر بعد بتاتی ہوں۔“
اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمایاں تھے۔ وہ جو اس کا ہر حال میں ساتھ دینے کا دعویٰ کرتی آئی تھی۔ اب اس سے ملاقات سے گریزاں تھی۔ اس نے خود اپنے اندر کچھ ٹٹولا۔ کافی غور کے بعد اسے بڑا اطمینان محسوس ہوا۔ وہ ملاقات کا اتنی ہی شدت سے متمنی تھا جتنی شدت سے وہ پہلے ملتا آیا تھا۔ ہم دونوں ایک ہی ڈور سے بندھے ہیں۔ پھر اس کے اور میرے درمیان اتنا فرق کیوں ہے۔ شاید ان کے تعلق میں یہ فرق ہمیشہ سے موجود رہا تھا مگر اس نے کبھی اس پر زیادہ غور نہیں کیا تھا۔ یا پھر موجودہ وبا نے ہر حال میں وفا کرنے والی کے اندر کچھ تبدیل کردیا تھا۔
کافی دیر کے بعد اس کی جانب سے جواب آیا کہ ہم کل ملیں گے۔ اطمینان کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ بس اس کے وسوسے تھے جو ہر محبت کرنے والے کے دل میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود رہتے ہیں۔ اس نے وہ رات اسی اطمینان کے ساتھ نیند لی جس اطمینان سے وہ سونے کا عادی تھا۔
دوسری صبح ابھی وہ ناشتے سے فارغ ہی ہوا تھا کہ پیغام ملا۔ ملاقات نہیں ہوسکے گی۔ اس نے اوکے کہہ کر بات ختم کردی۔ گھر سے نکلا اور ان کی ملاقات کے لیے مخصوص جگہ پہنچ گیا۔ وہ سارا وقت جو دونوں اکٹھے گزارتے تھے اس نے تنہا گزارا۔
اس دوران وہ اپنے تعلق کے بارے میں سوچتا رہا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں گزرے وقت کی یادیں ایک بات اسے ستاتی رہی کہ تعلق کے ایک خط پر موجود وہ دونوں ایک جیسے کیوں نہیں ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ایک کے لیے محبت زیادہ اہم ہے اور دوسرے کو وبا کا خوف رک رہا ہے۔
وہ کیوں یہ سوچتا ہے کہ محبت میں گزارے چند لمحے ابد تک محیط ہوسکتے ہیں۔ اور خط کے دوسرے سرے پر موجود لڑکی کیوں اتنی مجبور ہے کہ وہ ایک ایسی وبا کے ڈر سے جس میں مرنے کا امکان چند فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
تو کیا ان دونوں نے جو وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا۔ ایک فریب تھا۔ دراصل دونوں اپنے اپنے انداز میں اپنے وجود کے تقاضے پورے کر رہے تھے۔
ان کے درمیان کچھ تھا بھی یا بس ایک سیراب، ایک دھوکا جو زندہ رہنے کے لیے ہر انسان خود کو کسی نہ کسی صورت میں دیتا ہے۔
کیا اس پر عشق نے فتح پائی تھی اور دوسری طرف ڈر اور خوف نے۔
تب اسے اتنی بات سمجھ آئی تھی کہ عشق اگر انسان کے اندر کے خوف کو نہ مار سکے تو خوف انسان کے اندر موجود عشق کو مار دیتا ہے۔

(۲)

اور اب برسوں بعد وہ لوٹ آئی تھی۔ ایک ایسے موسم میں جو فاصلے اور علیحدگی سے بھرپور تھا۔ میں نے جب اپنے فون پر ایک اجنبی نمبر سے آنے والا پیغام پڑھا کہ کوئی مجھ سے فون پر بات کرنا چاہتا ہے تو میں نے حسب معمول اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا:
”آپ کون۔“
چند لمحے بعد ٹیلی فون سکرین پر نمودار ہونے والے نام نے مجھے چونکا دیا۔ ہاں یہ وہی ہے یا صرف فقط نام کی مماثلت ہے۔
میں نے جواب میں اس نمبر پر فون ملایا۔ دوسری جانب سے ہیلو کی آواز سنتے ہی میرے ذہن نے ہزاروں آوازوں اور لہجوں میں اسے صاف شناخت کرلیا۔
”کیسے ہیں آپ۔“
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا:
”تم کہاں گم ہوگئی تھیں۔“
”اب تو آپ سے بات کر رہی ہوں۔“
”اتنے سالوں بعد۔“
”میں نے ہی رابطہ کیا ہے۔“
”تم تو اپنا نشان چھوڑے بغیر گم ہوگئی تھیں۔“
”بے نشانوں کا نشان کب ہوتا ہے۔“

اس دن ہم دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس وقت کی جو ہم نے ایک دوسرے سے دور گزارا تھا۔ کچھ باتوں کا اس نے جواب دیا کچھ گول کرگئی۔ مگر اس نے میرے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں پوچھا مگر اس کے انداز سے لگتا ہے کہ اس ساری مدت میں وہ میرے بارے میں باخبر رہی ہے۔ میری ملازمت سے تخلیقی زندگی تک ہر بات کی اسے خبر تھی۔ اس بات پر کہ وہ کہاں سے بات کر رہی ہے اس نے بتایا کہ اس بات کا جواب وہ اگلی ملاقات پر دے گی۔ فون بند ہونے پر میں نے اس کا نمبر اپنے ذہن اور فون میں محفوظ کرلیا۔
اگلا کافی وقت میں نے اس کے اپنے تعلق کے بارے میں سوچتے ہوئے گزارا۔ وہ ایک دن اچانک کسی وبا کی طرح میری زندگی میں در آئی تھی اور میری ساری احتیاطی تدابیر کے باوجود اس نے میرے وجود کو تہہ و بالا کردیا تھا۔ اس کی چند باتوں نے مجھے حیران کردیا تھا وہ یہ تھیں کہ اپنی تمام تر محبت اور عنایات کے باوجود اسے جواب میں کچھ بھی نہیں چاہیے تھا حتیٰ کہ میری جانب سے محبت کا سچا جھوٹا اقرار تک۔ اس کا میرے ساتھ تعلق کچھ پانچ سال رہا۔ اس دوران وہ ہر ملاقات پر میرے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لے آتی اور جب جواب میں میں اسے کچھ دینے کی کوشش کرتا تو ناراض ہو جاتی۔ ایسے میں اس کی آنکھوں سے شدید غصہ چھلکنے لگتا اور وہ کہتی آپ مجھے ایسی لڑکی سمجھتے ہیں۔
ویسے سچ یہی تھا کہ میں اسے سمجھنے سے بالکل قاصر تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا کہ وہ محبت کی ان پرانی داستانوں سے نکلی ہے جنہیں ہم قصہ کہانیاں سمجھ کر بھولتے جا رہے ہیں۔ اس نے میری ٹھہری ہوئی زندگی میں بھونچال پیدا کردیا تھا۔ میری ساری توجہ سا بات پر رہتی کہ کہیں اس سے میرا تعلق افشاء نہ ہو جائے۔ میرے ڈر پر وہ قہقہہ لگاتی اور عاشقوں کے انداز میں کہتی بادشاہو فکر نہ کرو میں سارا الزام اپنے سر لے لوں گی۔
ملاقات تو اس سے کم کم ہی ہوتی تھی مگر ہر ملاقات اتنا بھرپور ہوتی کہ لگتا اس سے بڑھ کر وصل کیا گیا۔ ایک بار تو ایسی () اور مسرت کا احساس ہوتا کہ مرجانے کو دل کرتا مگر پھر رفتہ رفتہ تشنگی سر اٹھانے لگتی اور جب یہ تشنگی اپنے عروج پر ہوتی تو اچانک وہ آ دھمکتی۔ ایسا لگتا کہ اس کے اور میرے درمیان اور ایسا تار جڑا ہوا ہے جو اسے میرے حال کی پل پل خبر دیتا ہے۔
پھر ایک دن اس کی جانب سے آخری پیغام ملا۔ اس نے یہ پیغام کسی دوسرے نمبر سے دیا تھا۔ بتایا کہ اس نے اپنے فون کو توڑ دیا ہے۔ سم بلاک کروادی ہے اور جلد رابطہ کرے گی مگر اس نے ایسا کیوں کیا۔ دوسری جانب سے کوئی جواب نہ ملا۔ میرے رابطہ کرنے پر دوسرا نمبر بھی بند ملتا رہا۔ یوں ایک دن جیسے وہ میری زندگی اچانک نمودار ہوئی تھی۔ اسی طرح اپنا کوئی بھی نام و نشان چھوڑے بغیر غائب ہوگئی۔
اور اب برسوں بعد وہ ایک ایسے موسم میں واپس لوٹ آئی تھی جو فاصلے اور جدائی کا موسم تھا۔ شہر کو ایک وبا نے گھیر رکھا تھا۔ لوگ گھروں سے کم کم نکلتے تھے۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر چلتے تھے۔ اب خواب میں بھی اگر کوئی قریب آتا محسوس ہوتا تو ہڑبڑا کر نیند سے اٹھ جاتے۔ ایسے میں وہ دوبارہ نمودار ہوئی تھی اور برسوں کے فاصلے کو اس نے چند منٹ میں قربت میں تبدیل کردیا تھا۔ لگا کہ وہ کبھی گئی ہی نہیں تھی۔
دو دن بعد اس کا فون دوبارہ آیا اور اس نے بہت سی یادیں تازہ کرنے کے بعد کہا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کی توجہ شہر کے حالات کی طرف دلائی تو حسب معمول اس کا قہقہہ سنائی دیا اور اس نے حسب معمول کہا ”بادشاہو تم فکر نہ کرو میں اپنے سر لے لوں گی۔“
فون بند کرنے کے بعد میں دیر تک گو مگو کا شکار رہا۔ وبا اور وصل کے درمیان ایک پورا جہان پڑا تھا اور جہاں بھی اس جس میں وقت کے سائے ہر طرف پھیلے تھے۔ یہ درست ہے کہ مرنے والوں کی شرح بہت کم تھی مگر خوف نے زندگی کو مفلوج کر رکھا تھا۔
اگلے دن میں اس کے بتائے ہوئے پتے پر ملاقات کے لیے نکل پڑا کہ آواز دوست کو بے صدا جانے دینا مکتبہ عشق میں کفر کے مترادف ہے۔

(۲)

موت کا کیا ہے وہ تو کسی بھی وقت انسان کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ قحط میں، وبا میں، بیماری میں، حادثے میں، سڑک پر یا گھر کے آرام دہ بستر پر نیند میں ڈوبے ہوء۔ یہ موت ہی ہے جو کب کسی کو آلے گی کوئی نہیں جانتا اور شاید ہماری زندگی کی یہ سچائی ہے جو ہر ذی روح کو برابر کردیتی ہے۔ زمین پر رینگتی حقیر کیڑی سے لے کر عظیم الجثہ جانوروں تک اور سمندر کے گہرے پانیوں میں پرورش پانے والی حیات سے آسمان کی بلندیوں پر نمودار عقابوں تک موت سب کو پلک جھپکنے میں بے جان گوشت کے لوتھڑے اور خاک میں تبدیل کردیتی ہے۔
میں حسب معمول اپنے گھر سے نکلا۔ اتوار شام چار بجے کا وقت تھا اور میں پرانی کتابیں دیکھنے اور پرانے دوستوں سے ملنے کے لیے گھر سے چلا تھا۔ اس راستے پر میں ہزار بار آجاچکا تھا۔ اپنی گلی سے سڑک پر موٹر سائیکل دائیں موڑی، ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اپنے دائیں جانب اور بائیں جانب موٹر سائیکل کو کراس کرتا محسوس کیا۔ ایک لمحے تو میرے ہاتھ کپکپائے اور دوسرے ہی لمحے میں تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔

میں خود کو ا یک تاریک غار میں گرتے ہوئے محسوس کیا۔ مجھے لگا کہ میں اس میں نیچے ہی نیچے اترتا جا رہا ہوں۔ میرے حواس اردگرد کی آوازیں یا تصویریں اور خوشبو ئیں وصول کرنے سے قاصر تھے اور ایک تاریک ہاتھ تھا جب مجھے کھنچتا چلا جا رہا تھا۔ تب میں سامنے ایک نہایت حسین و جمیل چہرہ ابھرا۔ یہ چہرے میرے لیے مکمل طور پر اجنبی مگر بے حد مانوس تھا۔ اس چہرے سے ایک عجیب اپنائیت اور وابستگی ٹپک رہی تھی۔ ایک لمحے کو مجھے محسوس ہوا کہ تاریک ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ تاریک غار میں میرا سفر رک گیا ہے۔ مجھے لگا کہ میں دو ہاتھوں کی گرفت میں ہو جو بغلیوں سے مجھ اٹھا کر ایک طرف بیٹھا رہے۔ اسے لیٹا دو۔ آواز کچھ نامانوس تھی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی سامنے عجیب و غریب رنگ برنگی تصویریں تھیں۔ سب کچھ اجنبی، اجنبی۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ اب میں آوازیں سن سکتا تھا۔ فون کرو، ہوش آیا۔ سانس ٹھیک چل رہا ہے۔ میں نے دوبارہ آنکھیں کھول کر دیکھا یہ دیوار تو کچھ جانی پہچانی ہے میں نے دائیں طرف دیکھا کچھ دور مجھے سڑک ایک گلی کی طرف مڑتی نظر آئی۔ اسے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دو۔ دو لوگوں نے مجھے آہستہ سے اٹھایا اور میری پشت درخت سے لگا دی۔ میں نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔ رفتہ رفتہ میرے کان آوازوں سے مانوس ہو رہے تھے۔ میں نے آنکھیں کھولیں۔ سامنے کی دیوار تو وہی تھی جسے میں متعدد بار دیکھ چکا تھا۔ دور سڑک پر میڈیکل سٹور کے بورڈ کے ساتھ سڑک میری گلی کی جانب مڑ رہی تھی۔ میں نے بائیں طرف دیکھا۔ دوسری موٹر سائیکل کا سوار مجھے پریشان نظروں سے دیکھ رہا تھا اور اپنی ٹانگوں پر مشکل سے کھڑا محسوس ہوتا تھا۔ کیا مجھ سے ٹکرانے والا ٹھیک ہے۔ دور سے ایمبولینس کی آواز آئی اور ریسکیو کے اہلکار دو موٹر سائیکلوں پر ہمارے قریب رکے۔ دو افراد میری جانب آئے جبکہ باقی دو دوسرے آدمی کی طرف گئے۔ معمولی چیک اپ کے بعد انھوں نے مجھے کھڑا کیا۔ مجھے اپنے پاؤں پر توازن برقرار رکھنا مشکل تو لگا مگر جلد ہی میں نے خود کو سنبھال لیا۔ میرے سر پر ہیلمٹ کے باعث صرف خراش ہی آئی تھی۔ انھوں نے سر اور کندھے پر کوئی جل ملی۔ آپ کو ہسپتال لے چلی۔ میں نے چونک کر انھیں دیکھا۔ نہیں۔ شکریہ۔ میرا گھر پاس ہے۔ میں فون کرتا ہوں میرا بیٹا آجائے گا۔ میں نے جیب میں فون ٹٹولا، نکالا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ غیر ارادی طور پر اپنے بیٹے کا نمبر ملایا۔ اس کی آوازیں سنائی دیں۔ بیٹا جلدی سے اس دفتر کے سامنے آجاؤ۔ بیٹے کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔ کچھ نہیں۔ بس تم آجاؤ۔ میں نے فون بند کردیا۔ ریکسیو اہل کار میرے بیٹے کے آنے تک وہاں موجود رہے۔
جب میں صورت حال سے سنبھلا تو پہلا خیال مجھے یہ آیا کہ میں لمبی زندگی پاؤں لگا کر اگر کچھ ہونا ہوتا تو ہوچکا ہوتا کہ میرے ہیلمٹ کی حالت بتا رہی تھی کہ اگر ابھی میری زندگی کے دن باقی نہ ہوتے تو یہی حال میرے سر کا ہوا ہوتا۔ چوٹ اگرچہ زیادہ نہیں آئی تھی۔ کندھے میں بھی صرف کھچاؤ تھا تمام ہڈیاں سلامت رہی تھیں۔ مگر وہ ایک لمحہ جب میں نیچے ہی نیچے گرتے محسوس کر رہا تھا۔ ایسا تھا جو زندگی بھر بھولنے والا نہیں تھا۔
چند ماہ بعد شہر پر ایک وبا کے سائے گہرے ہوئے۔ موت نے کم اور خوف نے زیادہ انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کیا۔ سارا سارا دن گھر میں ایک دوسرے کا منہ دیکھتے، لا یعنی گفتگو کرتے یا ادھر ادھر کی ہانکتے گزر جاتی۔ شہر والے سن رہے تھے کہ سو سال بعد ایسی وبا آئی۔ سو سال میں دنیا کہیں کی کہیں پہنچ گئی تھی مگر ایک حقیر پروٹی