عتیق کی یاسمین

یہ تحریر 217 مرتبہ دیکھی گئی

اس کہانی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ حقیقت نے اس کہانی کو جنم دیا ہے کہانی نے حقیقت کو نہیں۔ عتیق اور یاسمین جیسے کتنے ہی کردار ہمارے آس پاس چلتے نظر تو آتے ہیں لیکن کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔ جیسے اندھا ہی اندھے کی رمزیں سمجھتا ہے ویسے ہی یاسمین کے پاگل پن کو عتیق کا کمزور دماغ اندھیرے میں ٹٹولتاتھا۔ عتیق کی زندگی میں آنے والی درمیانی عمر کی یاسمین کو اس کے باپ کی موت نے ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ سپاٹ تکونی چہرہ تاثرات سے عاری تھا، پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر نے اسے ایک عرصہ بے حس و حرکت رکھا۔ پھر آہستہ آہستہ علاج کے بعد وہ چیزوں کو پہچاننے کے قابل ہوئی۔ یاسمین سارا دن خاموش رہ کر گزارتی یا ٹی۔ وی کی سکرین کو تصویریں بدلتے ہوئے دیکھتی رہتی۔ کبھی تو اسے گھر کے کام کرنے کا شوق ہونے لگتاتو کچن میں بھابھی کو کام کرتا دیکھ کر ساکت کھڑی رہتی۔ اس ڈس آرڈر پر قابو پانے کے لیے ہسپتال والے جو ٹیکہ لگاتے تھے وہ پورا سال اسے نارمل رہنے میں مدد دیتا۔ اس کے خون میں سرایت کرنے والی یہ دوا ذہن کو آسودہ رکھنے پر قادر تھی۔ مگر جب اس کا اثر ختم ہونے لگتا تو وہ عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتی ان حرکتوں میں سے سب گندی حرکت سر کھجانا تھا۔ اس کے لمبے ناخن میل سے بھر جاتے لیکن وہ باز نہ آتی۔ ویسے وہ اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی تھی لیکن بس یہ ناخن سنبھالنا اور تراشنا اس کے لیے درد سر سے کم نہیں تھا۔

عتیق کے ساتھ ایسا نہیں تھا کیونکہ وہ سر کو چڑھنے والے بخار کے باعث سلو لرنر ہو گیا تھا۔ دبلے پتلے جسم پر لمبا سا منہ، باریک ہونٹ اور بڑی بڑی آنکھوں کو گھماتے ہوئے وہ ذرا غور کرنے پر دماغی کمزور محسوس ہوتا۔ جسمانی کمزوری کے کوٹے پر بھرتی ہونے والاعتیق پرنٹنگ پریس کارپوریشن کا معمولی چوکیدار تھا کیونکہ صاحب لوگ اسے روزانہ ”ٹھیک ہو“ کہہ کر گزرتے۔ وہ ان دو حرفوں کے خمار میں سارا دن گزارتا۔ وہ صبح اپنی سائیکل پر دفتر کے لیے نکلتا اور شام ڈھلے واپس آ جاتا۔ بھابھی غزالہ اس کے لیے روٹی بنا کر صحن میں بچھی چارپائی پر رکھ دیتی اور وہ چپ چاپ کھا کر وہیں سو جاتا۔ بھائیوں اور بھابھیوں سے بھرا گھر اور بچوں کی کُربل کُربل اس کے کانوں میں بجتی تو وہ اپنے باپ کے کمرے میں چلا جاتا۔ باپ نے اس کے وجود میں اترتی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے گھر میں اس کی شادی کی بات چھیڑ دی۔

 ”توبہ کرو جی! اسے کس نے رشتہ دینا ہے۔“

”اباجی! آپ کو لوگوں کے نخروں کا نہیں پتہ۔“

”اس کی دو روٹیاں ہم پر بھاری نہیں۔“ غزالہ یہ کہتے ہوئے کچن میں چلی جاتی۔

عتیق کی بڑی بڑی آنکھوں میں دو دئیے جس تیزی سے جلتے تھے بھابھی انہیں پھونک مار کر بجھا دیتی۔ باپ کے تجربے اور سوچ کے آگے گھر کی عورتوں نے ہتھیار ڈال دیے تو یاسمین کو اس کے لیے پسند کر لیا گیا۔

”لگتی تو اچھی ہے۔ بڑی چپ چپ سی ہے۔“

”چلو اچھا ہے، اب عتیق کے سارے کام خود کر لے گی۔“

”بھابھی! آپ کو بھی کچھ آرام تو ملے گا نہ۔“ چھوٹی بہو نے غزالہ کو کہنی مارتے ہوئے خواب سے جگایا۔ وہ چشم زدن میں عتیق سے ملنے والی تنخواہ کو جاتا ہوا دیکھ کر صدمے میں تھی۔ یوں عتیق اور یاسمین چھت پر دوسرے کمرے میں شفٹ ہو گئے۔ سارا گھر چیختا چلاتا اور شور مچاتا رہتا لیکن ان کے کمرے سے مجال ہے جو ذرا سی بھی آواز آئی ہو۔ عتیق چپکے سے سائیکل صحن میں لگا کر سیڑھیاں چڑھ جاتا۔ دونوں دروازہ بند کرنے کے تکلف سے عاری تھے۔ تجسس سانپ بن کر غزالہ کے سینے پر لوٹتا تھا۔ وہ جب بھی بہانے سے چھت پر جاتی تو وہاں خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دونوں اپنے پلنگ پر چت لیٹے ملتے، وہ اس احتیاط سے سانس لیتے کہ ان کے جسموں کا اتار چڑھاؤ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ غزالہ کو لگتا کہ کمرے میں دو لاشیں پڑی ہیں جن کے ہاتھوں میں ہاتھ ہیں اور وہ بنا سانس لیے سل پر لیٹے ہیں۔ وہ گھنٹے بعد بھی آ کر دیکھتی تو دونوں اسی پوزیشن میں پائے جاتے۔ دفتر اور گھر والے عتیق میں زمین آسمان کا فرق تھا، وہاں وہ دوستوں کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ کر لیتا تھا لیکن گھر آتے ساتھ ہی خاموشی کی چادر اوڑھ کر لیٹ جاتا۔ جب سے یاسمین اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی وہ تیسرے کردار میں ڈھل گیا تھا لیکن گپ شپ کی بجائے بس اسے دیکھتا رہتا۔

یاسمین کو سیر سپاٹے کا بہت شوق تھا وہ عتیق کے آنے سے پہلے ہی تیار ہو کر بیٹھ جاتی۔ وہ بڑی اونچی سی پونی باندھ کر بالوں کو پیچھے سے ہلاتے ہوئے آئینہ دیکھتی اور ہی ہی ہی کر کے بنا ہنسی دانت نکالنے لگتی۔ دونوں تنگ سیڑھیوں سے بانہوں میں بانہیں ڈالے اترتے تو صحن میں دبی دبی ہنسی ابھرنے لگتی۔ وہ اسی خاموشی سے اپنی دنیا میں مگن تھے جیسے کوئی جنات کے گھیرے میں ہو اور وہ اسے نظر نہ آتے ہوں۔ عتیق سائیکل پر ہاتھ رکھتے ہی ٹرن۔ ٹرن۔ ٹرن کی آواز منہ سے نکالتا اور یاسمین بھی زبان سے ٹاؤ۔ ٹاؤ۔ ٹاؤ کی آواز برآمد کرتی جیسے کوچوان گھوڑے کو چابک مارتے ہوئے پچکارتا ہو۔ یاسمین کو پیپسی اور برگر بہت پسند تھا اکثر وہ یہی کھاتے ہوئے گھر لوٹتے۔ سائیکل صحن میں لگاتے ہی وہ دونوں میکانکی انداز میں بانہوں میں بانہیں ڈالے سیڑھیاں چڑھ جاتے۔ گھر والوں کو لگتا جیسے دو روبوٹ صبح شام تواتر سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں اور کوئی آن کا بٹن دبا کر آف کرنا بھول گیا ہے۔ سات مہینے خیریت سے گزر گئے تو غزالہ نے ان کی ٹوہ بازی چھوڑ دی۔

پھر کچھ دن بعد سب کو محسوس ہونے لگا جیسے یاسمین میں کچھ بدلاؤ آ رہا ہو۔ وہ مسلسل اپنا سر کھجانے لگی تھی، خارش بڑھتے بڑھتے اس کی ٹانگوں تک پہنچ گئی۔ اس دن تو یاسمین کے کمرے میں گھستے ہی غزالہ کی چیخ نکل گئی وہ سنگھار میز کے سامنے کپڑے اتارے کھڑی تھی۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے یاسمین کو کپڑے پہنائے اور بال بنا کر پلنگ پر بٹھا دیا۔ غزالہ کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے اسے کچھ سمجھ نہیں آتاتھا کہ کسے بتائے۔ اتنی دیر میں یاسمین سر کھجاتے باہر نکل گئی۔ اس کے ٹیڑھے میڑھے ناخن میل سے بھرے ہوئے تھے۔

”اللہ! یاسمین۔ تیرا کوئی حال نہیں۔ میں ہی تیرے ناخن کاٹوں تو کاٹوں۔ چل سیدھی ہو۔“

یاسمین کی آنکھوں میں مزید بے چینی پھیل گئی۔ غزالہ اسے اپنے کمرے میں چھوڑ کر کچن تک ہی گئی تھی کہ واپسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ یاسمین پاگلوں کی طرح اپنی شلوار میں ہاتھ ڈالے خارش کرنے میں مگن تھی۔ پورا گھر اس ناگہانی خارش کو اپنے جسموں پر محسوس کرنے لگا تھا۔ اباجی نے پریشانی میں یاسمین کی بہن کو فون کرکے اس کی حالت بتائی تو معلوم ہوا کہ چار مہینے بعد لگنے والے ٹیکے کا اثر ختم ہو گیا ہے۔ اس دن سب پریشان تھے سوائے عتیق کے، وہ اپنی اسی روٹین سے گھر واپس آیا اور یاسمین کو بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے گیا۔ یاسمین کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا جسے وہ پکڑے چومتا جا رہا تھا۔ وہ کبھی تو اوں آں کرتی اور پھر ہوا میں ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے عتیق کو گدگدی کرنے لگ جاتی۔ ایک ہفتے سے وہ سو بھی نہیں پائی تھی۔ رات کے سناٹے میں ان کے کمرے سے بولنے کی ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگی تھیں۔ ”عتیق! اٹھو۔ عتیق اٹھو۔“ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہی ورد کرتی۔ کبھی عتیق کی ٹانگوں کو سہلانے لگتی تو کبھی اس کے سر میں ہاتھ پھیرتی رہتی۔ گھر کے لڑکوں کی مسیِں بھیگنے لگی تھیں ان کے لیے چھت کا یہ کمرہ سینما گھر بن گیا تھا جہاں وہ کھڑکی سے آنکھیں لگائے فلم دیکھنے کے مشتاق رہتے تھے۔ ”آج رات چھت پر چلیں گے، یہ فلم صرف بالغوں کے لیے ہے۔ سمجھے۔“غزالہ اپنے بڑے بیٹے کے منہ سے نکلا یہ جملہ سن کر رہا سہا سکون بھی کھو چکی تھی۔ پھر اس دن خوب لڑائی ہوئی، اباجی بیچ بچاؤ کرواتے غزالہ کا پارہ دوبارہ چڑھنے لگتا۔ یاسمین کی بہن ذہنی طور پر اس لڑائی کے لیے تیار تھی سو وہ اسے لے کر میکے چلی آئی۔

 یاسمین جا چکی تھی، خالی کمرہ دیکھ کر عتیق کے کمزور کندھے مزید ڈھے گئے۔ وہ پلنگ پر چت لیٹ گیا، آنکھیں چھت پر یاسمین کا عکس ڈھنڈ رہی تھیں۔ ساری رات اسے اپنے جسم پر دو ہاتھ چلتے پھرتے محسوس ہوتے رہے لیکن جیسی ہی اس کی آنکھ کھلتی ہاتھ غائب ہو جاتے۔ صبح اٹھتے ہی اس نے صحن میں شور مچانا شروع کر دیا۔ ”یاسمین کو لاؤ۔ یاسمین کدھر گئی۔ بھابھی تو بڑی گندی چوڑی شدین ہے۔ باؤ جی اسے بھی اس کی ماں کے گھر چھوڑ آؤ۔“ عتیق کے منحنی جسم میں نجانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی تھی کہ وہ غزالہ کے بال نوچنے کو دوڑتا۔ اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے یاسمین کو دوبارہ گھر لانا پڑا۔ عتیق اسے اپنے پاس پا کر بہت خوش تھا جیسے بچے کو اس کی من پسند چیز مل جائے تو وہ اسے ہاتھوں میں پکڑے رکھتا ہے۔ ویسے ہی یاسمین اب اس کے ہاتھوں میں تھی، ٹیکہ لگنے کے بعد اس کا جسم دوائی کے اثر میں رہنے کے باعث کچی دیوار بن کر ڈھے جاتا تھا۔ وہ پلنگ پر بے سدھ پڑی رہتی تو عتیق گیلے تولیے سے اس کا منہ اور ہاتھ پاؤں صاف کرتا۔ پھر اپنی ٹانگوں سے ٹیک لگا کر اس کے کپڑے بدلتا اور گود میں سر رکھ کر بال بناتا۔ وہ کومے کے مریض کی طرح بس آنکھیں بند کیے پڑی رہتی۔ پھر دھیرے دھیرے اس کے کان کے پاس دو ہونٹ سرسراتے: ”چنا جور گرم، جیوے دل دا چور صنم۔“ ایک مہینہ یونہی گزر جاتا اور پھر یاسمین سنگوبیان کی گولیاں کھا کر ہوش کی دنیا میں آنکھ کھولتی۔ دونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے سیڑھیاں نیچے اترتے تو بے نیازی کا سونامی ان کے ساتھ ٹھاٹھیں مارتا چلا آتا۔ جب وہ ٹھیک ہوتی تو کھانا اپنے ہاتھوں سے بناتی لیکن گھر کا کوئی اور فرد اس کے ہاتھ کا بنا کورمہ تک نہیں چکھتا تھا۔ بیماری میں سر کھجانے کی لت نے اس کے ناخنوں کو جس طرح آلودہ کیا تھا اس کا احساس بس عتیق کو نہیں تھا۔ اگر دال میں سے کوئی کنکر منہ میں آ جاتا تو یاسمین فوراً عتیق کے سامنے اپنی ہتھیلی کھول دیتی۔ وہ بھی لاڈ سے پچکا نوالہ اس کے ہاتھ پرتھوک دیتا پھر دونوں بچوں کی طرح کھلکھلا کر ہنستے لیکن بنا آواز کیے ان کی یہ ہنسی خاموش فلموں کی طرح تھی۔

ان کے کمرے کو تالے کی حاجت نہیں تھی، چھت پر آنے والے حفظِ ماتقدم کے طور پر دروازہ بھیڑ دیتے یا کبھی پردہ آگے کر دیا جاتا۔ یاسمین دورے کی حالت میں سڑک کنارے ہگنے موتنے والے جانور کی طرح اکڑوں کھڑی رہتی۔ جب تک اباجی زندہ تھے وہ اسے بات بات پر ٹوکتے لیکن ہمیشہ پیار سے سمجھاتے۔ اگر کبھی غزالہ غصہ کرتی تو یاسمین زخمی ناگن کی طرح اسے مارنے کو دوڑتی۔ غلط سلط گنتی سناتے سناتے سب کے کان کھا جاتی۔ اس کے بے سروپا جملوں کی تکرار سے گھر میں شور مچ جاتا۔ ہمسائے کی عورتیں دیواوں سے اچک اچک کر اسے دیکھتیں تو وہ انھیں بھی مارنے کو لپکتی۔ ”میں چھپکلی تو کَکڑی، کھا لے تجھے جگ سارا۔ ظالم زمانہ۔ ایک دو تین چار۔“ بس ایسے ہی جملے بولتے بولتے اس کا سانس پھول جاتا۔ شام کو عتیق گھر گھستے ہی اس کا ہاتھ ہاتھوں میں لیے لیٹ جاتا۔ دنوں بنا بات کیے ایک دوسرے کو تکتے رہتے۔ گھر میں لگی بھیڑ کے لیے اب یہ باتیں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں وہ بہت کچھ دیکھنے کے عادی ہو گئے تھے۔ غزالہ کو اپنے دو جوان ہوتے بچوں کی فکر تھی جن کی آنکھوں پر وہ ہاتھ رکھتی آئی تھی۔

غزالہ نے یاسمین کو ٹیکہ لگوانے کی ذمہ داری اٹھا لی تھی۔ شادی کو بارہ برس کا عرصہ گزر چکا تھا کتنی ہی موسم آئے اور گئے لیکن دونوں کی زندگی ایک ہی معمول پر چل رہی تھی۔ وہ کبھی بہت دور سیر کرنے نہیں نکلے لیکن ایک دن پتہ نہیں عتیق کو کیا سوجھی۔ وہ اسے اپنی سائیکل پر بٹھا کر راوی کا کنارہ پار کر گیا۔ شہر میں گھستے ہی بے ھنگم ٹریفک اور لوگوں کا اژدھام دیکھ کر سائیکل کے پیچھے بیٹھی یاسمین بار بار اپنے بال کانوں کے پیچھے کرتی رہی۔ وہ گھومتے گھومتے شہر کے لنڈا بازار گھس چکے تھے۔ ”یاسمین، یاسمین۔ میکسی لے لو۔ ادھر آؤ۔“ بیسمنٹ کی دکان میں ہر طرف گوری میموں کی میکسیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ نیلی، پیلی اور خاص کر سفید جالی دار فرل سے بھری ہوئی میکسیاں اور فراکیں دیکھ کر یاسمین بار بار ہتھیلی سے ناک کھجانے لگتی۔ رات کے نو بجے جب سائیکل اپنے سٹینڈ پر لگی تو گھر والوں نے پریشانی کے عالم میں انھیں کچھ کہنا چاہا۔ مگر وہاں تو خاموشی ہی خاموشی تھی جیسے دو بھوت انسانوں کی دنیا میں بے نقاب ہو گئے ہوں۔ یاسمین منہ سے لمبے لمبے ڈکار لیتی عتیق کا ہاتھ پکڑے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور وہ مسلسل اس کا ہاتھ چومے جاتا تھا۔ صحن کی دیواروں کو بھی خبر مل چکی تھی کہ ٹیکے کا اثر ختم ہوا چاہتا ہے۔ اس رات بھی کمرے کا دروازہ کھلا رہا اور یاسمین میکسی پہنے پلنگ پر دراز تھی دونوں لاشوں کی طرح پڑے تھے کہ اچانک یاسمین نے اٹھ کر عتیق کے جسم کو سہلانا شروع کر دیا۔ وہ اُوں آں کرتا رہا اور وہ کبھی سر کھجاتی تو کبھی ہوا میں ہاتھ ہلاتے ہوئے الٹی سیدھی باتیں کرتی رہی۔ صبح عتیق کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ ساری رات نہیں سو سکا۔ غزالہ نے اپنے خاوند سے کہہ دیا تھا کہ اس بار یاسمین کو دورہ پڑا تو وہ برداشت نہیں کرے گی۔ دورہ پڑنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت ہی کب تھی ایک ہفتے سے مسلسل جاگنے کے باعث یاسمین کی حالت بھی خراب رہنے لگی تھی۔ وہ دن بھر نیچے بچھی چارپائی پر اکڑوں بیٹھی رہتی کبھی اس کی آنکھیں بند ہو جاتیں اور کبھی وہ دیوانوں کی طرح ایک ہی سمت دیکھے چلی جاتی۔ ”یاسمین کا علاج اب فاؤنٹین ہاؤس سے ہی ہو گا، پاگل خانے سے نہیں۔“ یاسمین کی بہن نے دو ٹوک انداز میں بات کرتے ہوئے فون بند کر دیا۔ غزالہ کبھی غصے سے یاسمین کو دیکھتی تو کبھی اس کی خون خوار آنکھیں اپنے خاوند پر ٹک جاتیں۔ ”کتنی بار سمجھایا ہے کہ دوسری جگہ سے علاج کروانا ٹھیک نہیں ہے، اسے ٹیکے کی ضرورت ہے دوائیوں کی نہیں۔“ عتیق کے ہونٹ اس کے ہاتھوں کو چوم رہے تھے۔ ”ظاہر ہے جی، مصیبت ہمیں سنبھالنا پڑتی ہے اس کے پچھلوں کو نہیں۔“

”میں نے کہہ دیا ہے جی، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے یاسمین کو اس کے بھائی کے گھر چھوڑو۔ بس۔“ اس کی رخصت کا اعلان ہو چکا تھا اگلی صبح عتیق کے دفتر جاتے ہی غزالہ نے چادر لپیٹی اور یاسمین کا بازو پکڑ کر رکشے میں ڈال روانہ ہو گئی۔ یاسمین کے بڑے بھائی دل کے مریض تھے سو وہ اپنا سینہ سہلاتے ہوئے کمرے میں چلے گئے۔ وہ صوفے پر اکڑوں بیٹھی سامنے دیکھے جاتی تھی۔ شام کو واپسی پر عتیق نے پورے گھر کا طائرانہ جائزہ لیا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔ پھر اپنی بیٹھی بیٹھی آواز میں یاسمین کو پکارنے لگا۔ ”چلی گئی ہے وہ اپنے بھائی کے گھر۔ اب جب ٹیکہ لگے گا تو ہی آئے گی ورنہ نہیں۔“ غزالہ نے کچن کی کھڑکی سے قیدی کو سزا سنائی۔ اب یہ روز کا معمول بن چکا تھا عتیق گھر آتے ہی یاسمین کو پکارتا اور غزالہ روز اسے ایک ہی خبر سناتی۔ پھر تنگ آ کر اس نے سزا سنانا بن کر دیا تھا عتیق یاسمین کو پکارتے پکارتے تھک ہار کر چارپائی پہ لیٹ جاتا۔ یاسمین کے لیے زندگی مشکل بن چکی تھی اس کی بہنوں کی خودسری ایک طرف اور دوسری جانب بھابھیوں کے تیوروں نے اس کی ذہنی حالت کو مزید بگاڑ دیا تھا۔ دل کے مریض بھائی کو یقین تھا کہ اس کی بہن پاگل نہیں رہی وہ روز اسے دیکھ کر کڑھتا اور سینے پر ہاتھ ملتے ہوئے کمرے میں چلا جاتا۔ اس رات بھی وہ بڑی شد و مد سے اپنا سر کھجا رہی تھی، ٹی۔ وی لاؤنج کا صوفہ اس کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ اچانک بھائی صاحب وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اس کا ایک ہاتھ اپنی شلوار میں ہے اور دوسراہاتھ سر کھجا رہا تھا۔ پھر وہ ٹانگیں کھجاتے کھجاتے اپنے پورے جسم پر خارش کرنے لگی جیسے نہاتے ہوئے صابن مل رہی ہو۔ بھائی سے یہ منظر دیکھا نہیں گیا اور وہ گھبرا کر کمرے میں آ گئے۔ شاداب کالونی کی کوٹھی فکر کے جالے میں لپٹی ہوئی تھی۔ وہ کمرے میں دائیں سے بائیں بس گھومتے چلے جاتے تھے۔ ”غزالہ کو فون کرو اور کہوکہ یاسمین کو لے جائے۔۔۔ بلکہ سنو پہلے اسے مینٹل ہاسپٹل ضرور لے کر جاؤ۔ جہاں سے اس کا علاج ہو رہا ہے وہیں سے کروانا چاہیے۔ بشریٰ کون ہوتی ہے اپنی من مانی کرنے والی۔“ بھائی صاحب کی آواز گونج رہی تھی اور لاؤنج کا صوفہ خارش کے مرض میں مبتلا ہو چکا تھا۔

”بھائی جی! یاسمین لے آؤ۔“

”یاسمین لا دو۔“

”یاسمین کب آئے گی۔“

”میری یاسمین، لا دو۔“ عتیق روزانہ فقیروں کی طرح کاسہ لیے گھر والوں کے آگے بھیک مانگتا رہتا۔ چار مہینے کی اس جدائی نے اسے بھی پاگل بنا دیا تھا۔ لمبوترے منہ پر اب استرا نہیں چلتا تھا نہ ہی وہ اپنا لباس جلدی تبدیل کرتا۔ پھر ایک دن وہ بنا سوچے سمجھے یاسمین کے گھر کی جانب چل پڑا۔ اس کی سائیکل لوگوں کی گردنوں کے بیچوں بیچ بل کھاتی لڑکھڑاتی چل رہی تھی۔ جیسے ہی وہ کوٹھی کے دروازے پر پہنچا تو کتنی ہی دیر گیٹ کے باہر کھڑا رہا اندر جانے کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ کوٹھی کی دیوار کو چومتا چلا جا رہا تھا اور آنسوؤں نے دیوار پر لکیریں کھینچ دی تھیں۔ وہ کچھ دیر اسی کیفیت میں وہاں کھڑا رہا اور ہمت ہار کر واپس سائیکل گھر کی طرف موڑ لی۔ رات دیر سے گھر آنے پر سب اس پہ پل پڑے۔ ”کہاں چلے گئے تھے۔“

”کچھ خیال ہے تمہیں کہ ہم کتنے پریشان تھے۔“

”حد ہے بھئی، یاسمین نے تو تجھ پہ جانے کیا پھونک دیا ہے۔“

عتیق نے آنکھیں موند لیں تو بھائی جی نے ترس کھاتے ہوئے اپنا فون اس کے ہاتھ میں دے کر کہا: ”یہ لو یاسمین کی بھابھی کا نمبر ملا دیا ہے۔ کر لو اس سے بات۔۔۔ لیکن اب جلدی گھر آ جایا کرنا۔ سنا تم نے۔“ عتیق نے جست لگا کر فون پکڑا اور لڑکھڑاتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اسے نہیں معلوم بھائی صاحب پیچھے سے کیا بولتے رہے۔ وہ اندھیرے کمرے میں داخل ہو کر پلنگ پر بیٹھ گیا دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا تھا۔ پنکھا چلنے کی مدھم سی آواز نے بتا دیا تھا کہ یاسمین لائن پر ہے۔ کوٹھی کے لاؤنج کا صوفہ خارش کرتے ہوئے پکارا:”ھم م م م م۔۔۔۔“

”چنا جور گرم، جیوے دل دا چور صنم“

یاسمین کے سر کی کھجلی بڑھ گئی تھی اس نے فوراً لڑکھڑاتی زبان سے آواز نکالی: ”ٹا ؤ، ٹاؤ، ٹاؤ، جیسے وہ چابک مار کر گھوڑے کی سرزنش کر رہی ہو۔ نجانے کتنی دیر فون پر دونوں طرف سے یہی آوازیں سنائی دیتی رہیں جیسے دونوں قیدی زنداں خانے کی دیوار سے کان لگائے چیخ و پکار کر رہے ہوں۔

”چنا جور گرم، جیوے دل دا چور صنم“

”ٹا ؤ، ٹاؤ، ٹاؤ“