عتیقیت اور تاریخ

یہ تحریر 219 مرتبہ دیکھی گئی

(۲)

چناں چہ بالشوزم اور فاشزم نام کے بظاہر دو ایسے نئے زاویہ ہاے نگاہ نے سیاسیات میں جنم لیا جنھیں یورپ اور ان کی سرحدوں میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ دونوں واضح مثالیں ہیں زوال کی۔ یہ زوال زیادہ تر ان دونوں سیاسی عقیدوں میں شامل مثبت مواد کی وجہ سے نہیں، جس کا علاحدہ طور پر جائزہ لیا جائے تو اس میں لازماً جزوی صداقت نظر آتی ہے اور آخر کائنات کی کون سی ایسی چیز ہے جس میں کہیں نہ کہیں صداقت کا شمّہ نظر نہیں آتا __ جس زوال کا ابھی ذکر ہوا، وہ اس تاریخ دشمن اور بیگانہئ تاریخ مطمحِ نظر کے باعث ہوگا جس کی روشنی میں یہ لوگ اس سیاسی عقیدے کے معقول عناصر کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ ازدحامی آدمیوں کی تمام مخصوص تحریکوں کی باگیں کلیتاً ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جو متوسط ذہانت کے مالک ہوتے ہیں ___ ان گھڑ؛ جو طویل حافظے اور تاریخی شعور سے یکسر عاری ہوتے ہیں۔ آغازِ کار سے وہ ظاہر ایسا کرتے ہیں گویا وہ شروع ہی سے ماضی کی جاگیر تھے۔ گویا وہ عہدِ ماضی ہی کے حیوان تھے اگرچہ زندہ حال میں ہیں۔

یہ کمیونسٹ یا بالشویک ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں اس مسلک پر بحث نہیں کر رہا ہوں۔ جو چیز میرے لیے ناقابلِ فہم اور تاریخ بیگانگی Anachronism کی ذیل میں آتی ہے یہ ہے کہ ۱۹۱۷ء کا کمیونسٹ ایک ایسے انقلاب کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جو اپنی صورت میں ان تمام انقلابوں سے مماثل ہے جو ماضی میں برپا ہو چکے ہیں اور جس کے طریقہئ کار میں اس کے پیش روؤں سے سرزد ہونے والی تمام کوتاہیاں اور نقائص بہ تمام و کمال موجود ہیں۔ چناں چہ روس میں جو کچھ ہوا ہے اس میں تاریخی دل چسپی کا کوئی سامان موجود نہیں۔ دو لفظوں میں بات کہنا چاہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ انقلاب سب کچھ ہو سکتا ہے  لیکن انسانی زندگی میں ایک نیا آغاز ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسے دائمی انقلاب کے مقابلے میں اس کی تھکا دینے والی تکرار کہا جا سکتا ہے۔ یہ عامیانہ قسم کا انقلاب ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انقلابات سے متعلق انسانی تجربے نے جتنی بھی ضرب الامثال پیش کی ہیں ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جس کا اس انقلاب پر کلّی اطلاق نہ ہوتا ہو۔ ”انقلاب اپنے ہی بچوں کو نگل لیتا ہے۔“ ”انقلاب کا آغاز ایک معتدل پارٹی سے ہوتا ہے۔ پھر یہ انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور جلد ہی پہلی صورتِ حال کی طرف لوٹ جاتا ہے۔“ وغیرہ وغیرہ۔ ان ”مقدس“ ضرب الامثال کی فہرست میں ایسے حقائق بھی اضافہ کیے جا سکتے ہیں جو اگرچہ اتنے معروف تو نہیں لیکن اتنے ہی یقینی ضرور ہیں، مثلاً ان میں سے ایک یہ ہو سکتا ہے ”ایک انقلاب پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہتا جو ایک نسل کی بلوغت کے عرصے جتنا ہے۔“(۳)

جو شخص بھی نئے سماجی یا سیاسی نظام کی تخلیق کا متمنی ہے اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو اس بات کی ضمانت پر آمادہ کرنا چاہیے کہ تاریخی تجربے کے یہ عامیانہ انقلابات اس کی پیدا کردہ نئی صورتِ حال میں غیر معتبر قرار پا جائیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس سیاستدان کے لیے ”نابغہ“ کی اصطلاح مختص کروں گا جس کے آغازِ کار ہی میں تاریخ کے پروفیسر اس بات پر متوحش ہو جائیں کہ ان کے محبوب علم کے تمام قوانین معطل ہوگئے ہیں۔ ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں، خاک میں مل گئے ہیں۔

بالشوزم سے مخصوص علامت تبدیل کر کے ہم فاشزم کے متعلق بھی اسی قسم کی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ ان دونوں میں سے کوئی تجربہ بھی ”عہدِ موجود کی معراج پر“ نہیں ہے۔ یہ دونوں مسلک کلی ماضی کی، بظاہر اختصار کردہ پس منظر کے طور پر، نمایندگی نہیں کرتے اور یہی وہ شرط ہے جو ماضی کے تجربات سے بہتر استفادے کے لیے ضروری ہے۔ ماضی کے ساتھ کش مکش دست بدست لڑائی کے مترادف نہیں ہوا کرتی۔ مستقبل اس کو نگل کر اس پر فتح پا لیتا ہے اور اگر کوئی چیز اس کے نگلنے سے رہ جائے تو وہ ضائع ہو جاتی ہے۔

بالشوزم اور فاشزم دونوں کاذب صبحیں ہیں۔ یہ نئے دن کی نئی صبح کو جنم نہیں دیتے بلکہ ایک ایسے متروک دن کو جو بار بار گزر چکا ہے۔ ان دونوں کو قبل از تاریخ کی قدامت پرستی قرار دیا جا سکتا ہے __ ایسی دوسری تحریکوں کا بھی یہی حشر ہوگا جو ماضی کے کسی ایک جز کا انتخاب کر کے اسے ہضم کرنے کے بجائے اس کی مدد سے ایک باکسنگ میچ کے آغاز کی حماقت کر بیٹھیں۔ بے شک ہمیں انیسویں صدی کے لبرل ازم کو آگے بڑھانا ہے لیکن واقعہ یہ ہے فاشزم جیسی کوئی بھی تحریک جو اپنے آپ کو آزاد خیالی کی دشمن تحریک کہتی ہے، یہ کام سرانجام دینے سے قاصر ہے کیوں کہ آزاد خیالی کی دشمن یا قدامت دوستی کی یہی وہ حقیقت تھی جس سے ماقبل آزاد خیالی کے انسان کا خمیر اٹھا تھا اور جب کبھی آخرالذکر نے اپنے حریف پر فتح پا لی تو یا تو یہ وقتاً فوقتاً اپنی فتح کو دہراتا رہے گا اور یا پھر یہ کہ ہر شے ___ لبرل ازم اور انٹی لبرل ازم یورپ کی تباہی کے ساتھ ہی تباہ و برباد ہو جائیں گے __ زندگی کی اپنی ایک کٹھور تاریخ اور توقیت ہے۔ اس میں لبرل ازم کا درجہ انٹی لبرل ازم کے بعد کا بنتا ہے، یا جیسے بات وہی رہتی ہے کہ لبرل ازم انٹی لبرل ازم سے زیادہ اہم ہے، بعینہٖ ایسے جیسے بندوق نیزے کی نسبت بہتر ہتھیار ہے۔

پہلی نظر میں ہر ”شے کے خلاف“ ہونے کا رویہ اس سے بعد کی چیز معلوم ہوتا ہے کیوں کہ یہ امر اس چیز کے خلاف ایک ردِّعمل کی علامت ہوتا ہے اور اس کے سابقہ وجود کو فرض کرتا ہے۔ لیکن جس جدت کی نمایندگی یہ مخالف کر رہا ہوتا ہے، جلد ہی ایک خالی خولی منفی رویے میں تحلیل ہو جاتی ہے اور اپنے پیچھے صرف ایک ہی مثبت عنصر چھوڑ جاتا ہے جسے آپ ”عتیق“ کہہ سکتے ہیں۔ جب اُس کے اُس رویے کو مثبت معانی پہنائے جائیں تو صورت یہ بنتی ہے کہ جو شخص اپنی پیٹر دشمنی کا اعلان کر رہا ہوتا ہے وہ اصلاً اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر رہا ہوتا کہ وہ ایک ایسی دنیا کا علمبردار ہے، جہاں پیٹر (Peter) نام کی کسی شے کا وجود تک نہیں ہوتا __ لیکن یہ صورت بالکل ویسی ہے جیسی پیٹر کی پیدائش سے قبل کی دنیا کو پیش آئی۔ یہ پیٹر دشمن شخص، خود کو پیٹر کے مابعد مقیم کرنے کے بجائے، خود کو اس کے ماقبل کا انسان بنا لیتا ہے اور صورتِ حال کو مقلوب کرکے ماضی کی شے بنا دیتا ہے __ ایسی صورتِ حال جس کے بعد پیٹر کا ظہور ثانی لابدی ہو جاتا ہے۔ ان تمام مخالفت مائل لوگوں کو ایسا ہی واقعہ پیش آتا ہے جیسا کہ ایک حکایت کے مطابق کنفوشس سے پیش آیا۔ قدرتی بات ہے کہ وہ اپنے باپ کے بعد پیدا ہوا لیکن وہ اسّی سال کی عمر میں پیدا ہوا جب کہ اس کا پیش رو صرف تیس سال کا تھا! ہر مخالف شخص ”نفی محض“ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اس سے بہتر بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ادھر ہم منہ سے نہیں کا لفظ نکالیں، اُدھر ماضی کی نفی ہو جائے لیکن ماضی تو اپنے جوہر کے اعتبار سے ایک آسیب ہے __ ایک روح ہے، اسے بجھا بھی دیا جائے تو یہ پھر آ موجود ہوتی ہے۔ چناں چہ اس سے الگ ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ نہیں کہ اسے گُل کر دیا جائے بلکہ یہ کہ اس کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے اور اس کے وجود کی روشنی میں کام کیا جائے نہ یہ کہ اسے جُل دیا جائے، اس سے کنّی کترائی جائے۔ ایک لفظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”اپنے عہد کی معراج پر زندگی کرنا مگر تاریخی وقوعات کا گہرا شعور رکھتے ہوئے۔“

ماضی کا ایک اپنا جواز اس کی ذات میں موجود ہے __ خالصتاً اس کا اپنا جواز۔ اگر اس جواز کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ اس کا مطالبہ کرے گا۔ لبرل ازم کا بھی ایک اپنا جواز تھا جسے نسلاً بعد نسلٍ تسلیم کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ کلّی جواز کا حامل نہیں تھا اور جو حصہ اس جواز سے متعلق نہیں اسے اس سے الگ کر دینا ہوگا۔ یورپ کے لیے اپنے ناگزیر لبرل ازم کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے، یہی شرط اسے متبادل مہیا کر سکتی ہے۔

اگرمیں نے یہاں بالشوزم یا فاشزم کا ذکر کیا ہے تو یہ صرف اور صرف بالواسطہ طور پر آیا ہے کیوں کہ ان دونوں کے تاریخ بیگانہ پہلو سے پردہ اٹھانا مقصود تھا۔ یہ پہلو میری نظر میں موجودہ کام یاب صورتِ حال سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آج ازدحامی آدمی کی فتح ہے اور نتیجۃً وہی، صرف وہی خاکے جو اس کی تحریک کا نتیجہ ہیں اور جن پر ان کے وحشیانہ اسلوب کی چھاپ لگی ہوئی ہے، واضح کام یابی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں لیکن اس سے قطعِ نظر میں ان دونوں میں سے کسی ایک کی سچی باطنیت سے بھی بحث نہیں کر رہا بالکل اسی طرح جیسے میں انقلاب اور ارتقا میں سے کسی ایک ابدی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ زیرِ نظر  مضمون کا زیادہ سے زیادہ مطالبہ اسی قدر ہے کہ انقلاب یا ارتقا کو تاریخی ہونا چاہیے نہ کہ تاریخ بیگانہ!

ان صفحات میں مَیں جس موضوع کا استیعاب کر رہا ہوں وہ سیاسی طور پر غیرجانب دارانہ ہے کیوں کہ یہ سیاسیات اور اس کے اختلافی پہلوؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع فضا میں سانس لیتا ہے۔ کنزرویٹو اور ریڈیکل دونوں ازدحام کے سوا اور کچھ نہیں اور ان دونوں کے درمیان اختلاف، جو ہر دور میں نہایت سطحی رہا ہے، ان دونوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھلا ڈھلایا آدمی بننے میں مزاحم نہیں ہوتا اور وہ آدمی ایک بغاوت مائل عامی آدمی ہے۔

یورپ کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ اس کی تقدیر کی ڈور ایسے انسانوں کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو واقعی ہم عصر ہوں، جو اپنے تحت میں تاریخ کی تمام زیر سطحی دھڑکنیں گننے پر قادر ہوں اور ہر متروک اور قبل از تاریخ مطمحِ نظر سے متنفر بھی ہوں۔ ہمیں تاریخ کی مع اس کی کلیت کے ضرورت ہے تاکہ ہم پس پا ہو کر اس میں گم نہ ہو جائیں بلکہ اِس سے بچنے کی سبیل کر سکیں۔

حواشی:

۱-            جنوبی ہسپانیہ کی بحیرہ روم میں واقع ایک بندرگاہ جسے عرب مالقہ کہتے ہیں۔ (مترجم)

۲-           یہاں ہم ایک مخصوص عہد میں علوم کی صورتِ حال اور اس عہد کی ثقافتی صورتِ حال میں فرق کی ایک جھلک دیکھتے ہیں جس پر ہم جلد اظہار خیال کریں گے۔ (مصنف)

۳-          ایک نسل تقریباً تیس برس تک چلتی ہے لیکن اس کی سرگرمیاں دو مرحلوں اور صورتوں میں منقسم ہیں۔ قریباً پہلے نصف میں نئی نسل اپنے افکار، ترجیحات اور افکار کا وسیع ابلاغ کرتی ہے جو بالآخر قوت پکڑ کر اس کے دوسرے نصف حصے کے رستے پر حاوی ہو جاتے ہیں لیکن اس کے سائے میں پروان چڑھنے اور تربیت پانے والی نسل اسی دوران میں اس کے متوازی دوسرے نظریات و افکار، ترجیحات اور میلانات سامنے لا کر انھیں پھیلانا شروع کر دیتی ہے۔ جب حاکم نسل کے افکار، ترجیحات اور اذواق انتہا پسندانہ اور انقلابی ہوتے ہیں، نئی نسل کے افکار و نظریات اعتدال پسندانہ اور انقلاب مخالف ہوتے ہیں۔ گویا اپنی روح میں بہت حد تک ”بحال کنندہ“۔ ہاں ”بحال کنندہ“ کے معنی محض ”پرانے اوضاع کی طرف رجعت“ کے نہ لیے جائیں کیوں کہ بحالی کے یہ معنی کبھی نہیں رہے۔