عبیرہ احمد، ایک فکر انگیز شاعرہ

یہ تحریر 245 مرتبہ دیکھی گئی

تعارفیہ: قاضی ظفراقبال

عبیرہ احمد کی نظموں کی کتاب”لکھتے رہنا” کے نام سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں 66 نظمیں ہیں ان میں سے 61 طبع زاد اور 5 کسی دوسری زبان کی نظموں کے تراجم شامل ہیں۔ اردو شاعرات میں جن کے نام احترام کے ساتھ لیے جاتے ہیں ۔ان میں (فہرست بلا تقدیم و تاخیر مقام و منصب) ادا جعفری ، زہرہ نگاہ ، شبنم شکیل ، سارا شگفتہ، کشور ناہید، حمیدہ شاہین، یاسمین حمید، شاہدہ حسن، فاطمہ حسن ، سدرہ افضل اور پروین شاکر کے اسما تاریخ ادب کا حصہ ہیں اور میرا ماننا ہے کہ اس محترم فہرست میں عبیرہ احمد کا نام بلا کسی ہچکچاہٹ اور تحفظ کے شامل کیا جا سکتا ہے۔
مشتے از خروارے دو ایک نظموں کے تیور ملاحظہ کریں:
مجھ سے مری خطا نہ پوچھ
میرا معاملہ نہ پوچھ
مجھ سے نہ میری عمر پوچھ
مجھ سے نہ کچھ حساب مانگ
میں ہوں سوال سر بہ سر
آج نہ کچھ جواب مانگ
کچھ بھی بتا نہ کچھ چھپا
سامنے میرے آن کر
کہنا ہی ہے تو کہہ گزر
چولہا جلا کہ گھر بنے ،پردہ گرا کہ شب سجے
(چولہا جلا کہ گھر بنے)

خوب دیکھو
کہیں میرے کمرے کے پردوں سے لپٹی ہوئی اک کہانی ملے
ڈھونڈ لو
کیا عجب کامرانی ملے
میں وہیں رہ رہی ہوں
اسی کنج گل کے قریں
(سر بستہ)

اب کیا خیال آبرو
بھیڑ میں آن بیٹھیے
اب کیا سوال دید اور کیسا ججاب
بس جناب
جاتی ہوا سے کس لیے سر کی ردا بچائیے
دیکھیئے ،مسکرائی ہے
ایک نگاہ اشتیاق
ہوش میں آییے حضور
آپ بھی مسکرایئے
دیکھ کے یاں برہنہ سر
کون ہے جو ملول ہو
حیف ہے اب بھی شعر کی
داد نہ گر وصول ہو
(خیال آبرو)

میں کیا ہوں
کون ہوں
کوئی نہیں کیا
مری تعریف میرا پا شکستہ عشق ہے
یا مخملیں آواز ہے میری؟
بلا عنوان کچھ نظمیں مری تحسین کو لب کھولتی ہیں
مرے تکیے پہ سر رکھ کر سحرد۔م بولتی ہیں
(مقدور)

ان کے علاوہ “ایک شخص دو آنکھیں” ، پہلی بارش” اور “دیے بجھا دو” خاصے کی نظمیں ہیں۔

شاعری کا بڑا اور بنیادی موضوع تو ہمیشہ سے محبت ہی رہا ہے اور محبت اور اس کے مختلف رنگوں کو ایک خاتون جس شدت اور سلیقے سے شعری کینوس پر منتقل کر سکتی ہے وہ اسی کا حصہ ہے۔۔۔۔عبیرہ احمد کی نظموں میں بھی محبت کے مختلف شیڈز دیکھے جا سکتے ہیں اور ہر شیڈ اثر دار اور خوبصورت ہے مگر اس کی ہر نظم میں ایک نوع کی پیاس اور تشنگی ہے جو پڑھنے والے کو مسلسل گھیرتی چلی جاتی ہے بلکہ یوں کہییے کہ ایک دریائے تشنگی ہے جو لق ودق سراب میں اترتا چلا جاتا ہے اوریہ تشنگی ، یہ پیاس ایک سچی پیاس اور شاعری کا حسن ہے ۔بقول عرفی شیرازی:

ز نقص تشنہ لبی داں بہ عقل خویش مناز
دلت فریب گر از جلوہءسراب نہ خورد

نظمیں پڑھتے ہوئے ایک اور احساس بھی ہوتا ہے کہ ترکیب سازی ج و ایک تخلیقی عمل ہے شاعرہ نے اس سے خوب خوب کام لیا ہے۔اس کی نظموں کے مصرعے شاندار تراکیب سے آراستہ ہیں اور صاف پتا چلتا ہے کہ شاعرہ فارسی کا اچھا ذوق رکھتی ہیں۔

شاعری کی بہت سی کتابیں چھپتی ہیں جن میں سے کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں سونگھ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے ،کچھ کو سرسری دیکھا جاتا ہے جب کہ بہت کم کتابیں لائق خواندگی ہوتی ہیں اور میرے نزدیک یہ کتاب سنجیدہ مطالعے کا تقاضا کرتی ہے ۔

کسی دوسری زبان سے منظوم ترجمہ کاری کوئی آسان کام نہیں ۔اس کتاب میں بھی کچھ نظموں کے تراجم ” خمار مستعار” کے عنوان کے تحت اردو میں کئے گئے ہیں جب کہ آخری نظم “سراپاانتظارستم” کے نام سے فارسی میں ترجمہ شدہ ہے ۔ یہ نظم اپنے آہنگ اور سلاست کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔

مگر اصل متن سامنے نہ ہونے کی صورت میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے تاہم ان کے مطالعے سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ترجمے میں پوری ادبی شان موجود ہے ۔

آخر میں مجھے یہی کہنا ہے کہ شائقین ادب کو یہ کتاب مایوس نہیں کرے گی اور ان کے بک شیلف کو ثروت مند بنانے میں ممد و معاون ثابت ہو گی نیز یہ کتاب جس کا نام “لکھتے رہنا”ہے پڑھتے رہنے کا مکمل جواز فراہم کرتی ہے۔

کتاب کا انتساب شاعرہ کی اماں جان شاہدہ صدف اور پیش گوئندگان میں ڈاکڻر امجد طفیل اور حماد نیازی کے اسما شامل ہیں۔ کتاب : لکھتے رہنا

 اسڻاکسٹ: سانجھ پبلیکیشنز ،مزنگ لاہور

قیمت: 400 روپئے