ظالم بادشاہوں کے لیے نظم

یہ تحریر 443 مرتبہ دیکھی گئی

کُشتگاں سے پُرکنؤوں
اور مسلخوں کے سامنے اِترا کے چلتے،
تم کسی ڈھائی ہوئی لنکا میں میلے ناخنوں تک
سنگ اور بارود کے جوہر میں ڈھلتے۔

چاقوؤں کی جس شفق میں
تم کسی چقماق کی مانند چٹخے
وہ تمھاری آستینوں اور تمھاری کھیتیوں میں
آگ بن کر لہلہائی۔

کٹکھنے کابوس والی رات میں بُوگیر کُتّے
ساتھ لے کر ہر کسی کی نیند میں کانٹے بچھاتے،
قحط فرما اور ٹرّے بوچڑوں کے پیر و مرشد،
لال دیواروں پہ کجلائے نوشتے۔

اس تمھارے ایندھنوں اور پھانسیوں کے
شہرِ ناپرساں میں نو مولود چہرے،
جن کے کانوں میں اذانوں کے بجائے
کولھوؤں کی چرچراہٹ۔

مقتلوں میں کس اَگھوری دیوتا کا روپ دھارے
اپنی ممیاتی رعیّت کو مسلسل
کرگسی آنکھوں سے بیٹھے گھورتے ہو؟
ایک پتھرائے ہوے انزال کی حالت میں القط!

مسخ لاشوں اور جلّادوں پہ سارا
روغنی جوشِ خطابت صرف کرکے
رات کو سونے سے پہلے نیم بالغ
نازنینانِ حرم پَر خُوں چکاں چابک سواری۔

آئے دن تم کو سلامی دینے والی
خارشی شہ سرخیوں میں نشتروں کی نیک نامی۔
سائرن اور سیٹیاں، نس بندیاں
درسی کتب کے ہر صفحے پر۔

روز داغی نیند میں تم خواب کی اصلیّتوں میں
اپنی ماں سے مختلط ہونے پہ جزبز
یا غسل خانے میں فوّارے کی ٹونٹی کھولتے ہی
جوئے خوں پانی کے بدلے۔
تم جو اپنی خرس مُوچھاتی پُھلائے
رات دن مردہ شماری پر اُتارو،
گر زمانے کی ہوا اُلٹی چلی تو
اُس میں گھس جائے گی یہ ساری تمھاری کُس پناہی، پائے گاہی۔

آج زیبِ داستاں ہم،
استخواں دَر استخواں تاریخ کے پہیّوں کے نیچے
اور مرفوع القلم تم۔
کل کو ٹھونگیں اور بھنبھوڑیں گے تمھیں بھی چیل کوّے اور کُتّے۔
۱۹۷۹ء