طرحی غزل

یہ تحریر 167 مرتبہ دیکھی گئی

کون سے نُور کی زد پر ہے کہ شب کٹتی ہے
تیری آمد کے قرینے ہیں کہ پو پھٹتی ہے

ڈھونڈنے جاتی ہے صحرا میں نہ جانے کس کو
گرد میں روز نسیمِ سحری اَٹتی ہے

یہ جہانِ گزراں بھی ہے عجب ایک طلسم
آدمی بڑھتا ہے اور عمرِ رواں گھٹتی ہے

پردہء غیب سے ملتا ہے کبھی اِذنِ سخن
روز یہ دولتِ بیدار کہاں بٹتی ہے

آپ آئیں تو مری رات منوّر ہو جائے
تیرگی چاند ستاروں سے کہاں چھٹتی ہے

بوالہوس خاک ترے نام کی لذت پائے
دل نہیں مانتا، ہر چند زباں رٹتی ہے

مجھ کو خورشید ملے سایہ دیوار کہاں
”میری پرچھائیں سے دیوار پرے ہٹتی ہے“