طبیب نہیں مگر تجربہ کار

یہ تحریر 237 مرتبہ دیکھی گئی

میاں شہباز علی کا اچھا بھلا کاروبار ہے۔ ان جیسے پاکستان میں ہزاروں ہوں گے۔ لیکن جو انفرادیت ان کے حصے میں آئی ہے وہ شاید کسی اور کو نصیب نہ ہوئی ہو۔ شہباز صاحب غالب کے شیدائی ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار عملی طور پر بھی کر چکے ہیں۔ جن ہزاروں کا ذکر کیا ان میں خال خال کو ادب یا فنونِ لطیفہ سے لگاؤ ہوگا۔ اکثریت ان کی ہے جنھیں صرف مال بنانے سے غرض ہے۔ اگر ان ہزاروں میں سے صرف سیکڑوں ہی شہباز صاحب جیسے بہم آ جاتے تو ملک میں علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کی شان ہی کچھ اور ہوتی۔

شہباز صاحب نے پہلے “غالب از غالب” کے عنوان سے کتاب مرتب کی جس کی تین جلدیں ہیں۔ اسے غالب کی خود نوشت سوانح قرار دیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کتاب غالب کے خطوط اور دوسری تحریروں کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ ان کی اس کاوش کو سراہا گیا۔ اس کے بعد انھیں خیال آیا کہ کیوں نہ غالب اور فنِ طب پر الگ سے کتاب تیار کی جائے۔ اتفاق سے ان کے ایک قریبی دوست، مرزا محمد عمران عزیز، طب کے فن سے آگاہ تھے۔ شہباز صاحب نے ان سے درخواست کی کہ کتاب کو تحریر کرنے میں ہاتھ بٹائیں۔ پہلے تو حکیم عمران قدرے متذبذب تھے۔ پھر انھوں نے شہباز صاحب کے اصرار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں یہ کتاب ظہور میں آ گئی۔ اس میں جو معلومات درج ہیں وہ بڑی حد تک مستند ہیں۔ نثر شستہ ہے۔

ناواقفانِ احوال، عجب نہیں، کہیں کہ غالب کو طب سے کیا لینا دینا۔ ان کی شاعرانہ عظمت تسلیم لیکن یہ سمجھنا کہ انھیں حکمت کی بھی سوجھ بوجھ تھی مبالغہ معلوم ہوتا ہے یہ خیال غلط ہے۔ پرانے وقتوں میں تعلیم و تدریس کا جو نظام تھا وہ آج کی طرزِ رائج سے مختلف تھا۔ اس دور میں پڑھے لکھے آدمیوں کو فلسفے، تصوف، ادب، طب اور دوسرے علوم سے تھوڑی بہت واقفیت ضرور ہوتی تھی، خواہ یہ کسی مدرسے میں تحصیلِ علم کا نتیجہ ہو یا عالمانہ صحبتوں میں اٹھنے بیٹھنے کا حاصل ہو۔ مالک رام نے لکھا ہے کہ “مرزا غالب کی تحریروں میں ہیئت، نجوم، منطق، فلسفہ، موسیقی اور تصوف کی اصطلاحیں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان علوم میں سے بعض پر گہری نظر رکھتے تھے۔ “اس کے برعکس اب یہ صورتِ حال ہے کہ بیشتر حضرات ایک ہی موضوع سے شناسا ہیں۔ ستم یہ ہے کہ اسی موضوع کو ٹھیک طرح نہیں سمجھتے۔

فنِ طب سے غالب کی آگاہی کے دو سبب اور ہیں۔ ایک تو کہن سالی کے ساتھ ساتھ انھیں طرح طرح کی بیماریوں سے سابقہ پڑا۔ ایک خط میں لکھتے ہیں: “میں برس دن سے بیمار اور تین مہینے سے صاحب فراش ہوں۔ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت مفقود۔ پھوڑوں سے بدن لالہ زار۔ پوست سے ہڈیاں نمودار۔ پھوڑے ایسے جیسے انگارے سلگتے ہوں۔” ایسی حالت میں آدمی مشوش رہتا ہے کہ بیماری کا سبب معلوم ہو اور ایسے نسخے ہاتھ آ جائیں جو شفا کا باعث ہوں۔ بات صرف اتنی ہی نہیں۔ دہلی کے بعض نامی گرامی حکما سے غالب کے دوستانہ مراسم تھے۔ ان کی صحبتوں میں بہت کچھ سنا اور سیکھا ہوگا۔ خود حکیم نہ سہی لیکن ان کی معلومات مستند تھیں اور بعض نسخے آزمودہ تھے۔ اگر غالب کو اپنی طبی سوجھ بوجھ پر بھروسا نہ ہوتا تو نواب رامپور کو ادویہ اور پرہیز تجویز کرنے کی جرات نہ کرتے۔

کتاب دلچسپ ہے اور عمران صاحب کی طبی شرح نے، جو برمحل بھی ہے اور مستند بھی، اسے مزید خواندنی بنا دیا ہے۔ ابتدا میں ان بلند پایہ حکما کا ذکر بھی آ گیا ہے جو انیسویں صدی میں، بالخصوص صدی کے نصف اول میں، دہلی میں موجود تھے۔ عمران صاحب نے اس پر روشنی نہیں ڈالی کہ غالب کو جو امراض لاحق تھے ان کا ممکنہ سبب کیا تھا۔ احتراقِ خون کیوں اتنا بڑھ گیا تھا۔

ایک دو باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ “ڈاکٹر فاؤسٹس” کو شیکسپیئر کی تصنیف کہا ہے۔ یہ ڈراما شیکسپیئر کے ہم عصر مارلو نے لکھا تھا۔ شہباز صاحب جہاں اتنی محنت کرتے ہیں اور کتاب کو عمدگی سے چھپوانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں وہیں کسی اچھے پروف خواں کی خدمات بھی حاصل کر لیا کریں۔ کتاب میں غلطیاں خاصی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس سلسلے کی اگلی کتاب کون سی ہوگی۔ شہباز صاحب کی ارادت مندی کے پیشِ نظر یہ امید رکھنی چاہی کہ وہ غالبیات میں مزید اضافہ کیے بغیر چین سے نہ بیٹھیں گے۔

غالب اور فن طب: مرتبین؛ میاں شہباز علی، مرزا محمد عمران عزیز

ناشر: شیخ مبارک علی، لاہور

صفحات: 267؛ بارہ سو روپیے