“شذراتِ تفنّن” کا تعارفی مطالعہ

یہ تحریر 230 مرتبہ دیکھی گئی

مُحمّد شکیل ملک نے سکول کے زمانے میں  اَدَبی کتب کا مطالعہ اور لکھنے کا جو کام شروع  کیا تھا، وہ آج بھی جاری ہے۔اُن کی دو تصانیف “بے  احتیاطیاں” اور”مذیدبےاحتیاطیاں” کے نام سے چھپ چکی ہیں۔مارچ 2024 ء میں اُن کی تیسری کتاب “شذراتِ تفنن” کے نام سے نیشنل بُک فاونڈیشن ،اسلام آباد نے شائع کی ہے۔یہ کتاب 223صفحات پر مشتمل ہے جس میں 27 مضامین اور کچھ متفرق شذرات اورچند نہایت مختصر تحریریں شامل ہیں۔

کتاب کا دیباچہ معروف شاعر جمیل یوسف نے لکھاہے۔اُنھوں نے کتاب کے نام” شذراتِ تفنّن” کو مصنف کا  ایک کارنامہ قرار  دیا ہے۔میرے خیال میں  کتاب کا یہ ایک منفرد نام ضرور ہےجو کتاب کے موادکی کسی حد تک نشان دہی کرتا ہے، لیکن ایک ثقیل نام ہونے کی وجہ سے عام قاری کے لیے یہ نام پڑھنا اور اس کا مطلب سمجھنا شاید اتنا آسان  نہیں ہوگا۔نام تو ایسا ہونا چاہیے جسےعام قاری بھی با آسانی سمجھ سکے۔بہ ہرحال اِس بات کا   درست فیصلہ کرنا قارئین کا کام ہے کہ مصنف  کواپنی اِس کوشش میں کس قدر کامیابی ملی ہے؟

مُحمّدشکیل ملک شگفتہ اُسلوب میں سماجی معاملات کو اچھے طریقے سے پیش کیا ہے۔اِس میں شک بھی نہیں کہ شگفتہ مزاجی اُن کی شخصیت کا ایک توانا پہلو ہے، لیکن اُنھوں نے جن موضوعات کو چُنا ہے،وہ   غور و فکر کے متقاضی اوراِس دَورکے سُلگتے ہوئے مسائل سے جُڑے ہوئے ہیں۔

یہ کتاب مصنف کی تقریبًا چار دہاہیوں پر مشتمل  عملی زندگی کے  تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے۔محمّدشکیل ملک ایک نیک نام سی ایس پی آفیسرہیں، جواِس وقت وفاقی سیکرٹری ہیں، بنیادی طور پر کتاب دوست اور دردمند انسان ہیں۔اُن کی تحریروں کا مرکزی نُکتہ بھی یہ ہی ہے۔اُردو میں بیوروکریٹس کی تحریروں کا طویل کثیر جہتی سلسلہ محتار مسعود، قدرت اللہ شہاب ، شیخ منظور اِلٰہی سے ہوتاہُواسلمان فاروقی  کی  کتاب تک پھیلا ہوا ہے۔

مُحمّد شکیل ملکنے اپنی اِس کتاب میں  بیورو کریسی اور دفتری امور کے حوالے سےجومضامین شامل کیے ہیں۔ اُن میں”بیوروکریسی”،”باس” ،”یادداشت ہی گُم ہے”، کلرک بادشاہ” اور” اسلام آباد کی محفلیں” سب لائقِ توجہ ہیں ۔اِن مضامین میں پاکستان کےسرکاری دفاتر اور بیورو کریسی کے بعض پہلوؤں کو فن کارانہ مہارت سےپیش کیا گیاہے ۔ پاکستان کے دفتری امورسے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے اِن مضامین میں  سوچنے سمجھنے کا وافر سامان دست یاب ہے۔ایسا لگتا ہے ان تحریروں کی بُنیاد  محض سنی سنائی باتوں پر نہیں، بل کہ  یہ ایک ذمے دار واقفِ حال کادیانت دارانہ بیانیہ ہے۔پاکستان کا دفتری نظام عصری تقاضوں سے کسی طرح بھی ہم آہنگ نہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آزادی کے بعد دفتری نظام  کی اصلاح اور افسران کی  ذہنی وفکری تربیت  کا اہتمام کیا جاتا،تاکہ ہمارے افسران خوش دِلی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں نبھا سکتے اور قومی خدمت کا حق ادا ہو جاتا، لیکن اِس پہلو کی طرف  کبھی توجّہ نہیں دی گئی۔اِس تناظر میں مُحمّد شکیل ملک‏ نے اپنے مضمون “بیورو کریسی” میں قاری کو باور کرایا ہے کہ بیورو کریسی پیچیدہ اور غیر ضروری قواعد و ضوابط کا ایک جال ہے، جو اہم امور کو سست اور مشکل بنا دیتا ہے۔مضمون میں افسران کی سات اقسام کا ذکربہت دل چسپ ہے۔مضمون نگارنے اِس موضوع پرقاری  کو یہ بات سُجھائی ہے:

                             “بیورو کریسی میں افسران کی یہ سات اقسام مجموعی طور پر ایک ہی کام کر رہی ہوتی ہیں، یعنی ایک باقاعدہ نظم کے تحت

 زوال پذیری کے لیے کوشاں ہیں۔”

سرکاری اداروں کے سربراہوں کو باس کہا جاتا ہے جو انتظامی امور کو چلانے کا بڑا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ  جب ماتحت  کی حیثیت  سے کام کر رہے ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کا کسی کو ادراک نہیں ہوتا ،مگر جوں ہی وہ باس کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں، ان کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔مصنف نے بتایا ہے کہ جب وہ  وزراتِ تعلیم میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے،توایک دن اُن کے باس نے اُن سے کہا کہ یہ بتاوکہ یہ کاونٹر سائن کیا ہوتا ہے؟یہ ایک آفیسر لاہور سے آیا ہے اور مطالبہ کر رہا ہے کہ چند کاغذات جو اس نے میرے سامنے رکھے  ہیں، ان پر  کاونٹر سائن کر دوں۔گویا بعض افسران اِسی قدرقابلیت کے مالک ہوتے ہیں اور حادثاتی طور پراعلٰی مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔

مزید براں کرپشن صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں کرتے، بل کہ بعض اوقات قانون کے رکھوالے  بھی کرپشن کرتے نظر آتے  ہیں۔جیسے بدعنوانی کرنے والا پولیس آفیسر  تفتیشی  مرحلے یہ کہنا شروع کردیتا ہے کہ مجھے کچھ یاد نہیں۔جرم ثابت ہونے پر اُسے نوکری سے فارغ کر دیاجاتا ہے، مگروہ  وزیر اعظم سے رحم کی اپیل کرکے  نہ صرف اپنی سزا کو ختم کرالیتا ہے،بل کہ  دوبارہ نوکری پر بحال  بھی ہوجاتاہے۔

اسلام آباد شہرجو وطنِ عزیزکا دارالحکومت ہے،جس کا ایک مؤثّر  حوالہ یہاں کی بیورو کریسی  ہے،جو یہاں کی سرکاری اور نجی محفلوں کو آباد کرنے کا فریضہ بطریقِ احسن  سر انجام  دے رہی ہے۔مصنف کے خیال میں  اس شہر کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہےکہ یہاں سب ہی اپنے ہیں  اور کوئی بھی بے گانہ نہیں، لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر اس شہر میں کسی پر مشکل وقت آجائےتو  سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے ۔گویایہاں سب اپنے ہیں اور کوئی کسی کا نہیں۔سب اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مضمون” اسلام آباد کی محفلیں” میں بیورو کریٹس کی ایک شام کا ذکر بڑے شگفتہ  انداز میں کیاگیا ہے، جہاں مصنف کو بھی کھانے کا دعوت نامہ ملا۔متکلم وہاں پہنچے تو وہاں بیٹھے ہُوئے مختلف افراد کے بیٹھنے کے انداز سے معلوم  ہورہا تھا کہ کون کس گریڈکا افسر ہے۔ سب لوگ خاموش تھے ۔یہ بھی وہاں جا کر خاموشی سے بیٹھ  گئے۔نہ کسی نے اُن سے کچھ پوچھا  اور نہ انھوں نے بتانے کی کوشش کی کہ وہ کون ہیں، لیکن جب یہ پُراَسرار خاموشی حد سے بڑھ گئی، تو مصنف ہّمت کا مظاہرہ کرتے ہُوئے اُٹھ کھڑے ہُوئے اور با آوازِ بلندکہا کہ سب فاتحہ پڑھیں۔لوگوں کے پوچھنے پر  جب سبب بتایا گیا تو پھر سب کے قہقہے بلند ہُوئے۔ پھر کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ کون سینئر ہے اور کون جونیئر۔مصنف کا یہ جملہ خاصا معنی خیز ہے:

” ہر انسان میں ایک بچّہ  موجود ہے ،جس کا کوئی پروٹو کول نہیں ہوتا۔”

سرکاری افسران کو بعض اوقات ایسی مشکل اور پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ روایتی  طریقہء کار سے مسئلے کاحل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ چناں چہ ذہین اور با اعتماد افسران روایت سے ہٹ کر ایک منفرد راستہ اختیار کرتے ہیں اور اکثر کامیاب ہوتے ہیں۔اس حوالے سے شکیل ملک نے اپنے ایک مضمون “آوٹ آف باکس” میں اپنی ایک کہانی دل چسپ انداز میں بیان کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے  ایک کیس میں تین صفحات پر مشتمل نوٹ لکھا جو سیکریٹری  صاحب سے ہوتا ہوا متعلقہ وزیر تک پہنچا جو  عمر رسیدہ تھے اور انھیں بھولنے کی عادت  بھی تھی وہ ایک ورق  کو پلٹتےتو پچھلے  ورق کی بات بھول جاتے۔ وزیر صاحب  کی سمجھ میں جب بات نہ آئی تو انھوں نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نوٹ  تضادات کا مجموعہ ہے، اسے دوبارہ لکھا جائے۔معمولی  سے ردّوبدل کے بعد جب یہ  نوٹ دوبارہ  وزیرصاحب تک پہنچا تو وہ آگ بگولا  ہو گئے اور سخت ایکشن لینے کا حکم دیا۔ مصنف نے سیکریٹری صاحب کو سارے معاملے کے بارے میں اعتماد میں لیا اوربتایااس  مسئلے کےحل کاایک آوٹ آف  باکس   طریقہ سے میرے پاس ہے۔سیکریٹری صاحب کی رضا مندی سےمصنف نے  تین صفحات کے نوٹ کو  ایک بڑے سائز کے پیپر پر ٹائپ کرایا اور دوبارہ وزیر صاحب کو بھجوا دیا۔ جب وزیر تک نوٹ پہنچا توانھوں نے فائل پر لکھاکہ اس نئے نوٹ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پہلے والے بریفس میں غلط  بیانی کی گئی اور متصاد باتیں لکھی گئیں لہٰذا متعلقہ آفیسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اِس کتاب سے قارئین کو پتہ چلتا ہے کہ کچھ سرکاری افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو اکثر غصّے میں نظر آتے ہیں۔وہ اپنے کسی ماتحت سے بھی  سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔ اِس لیے  دفتری حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔پھر یہ غصّہ اُن افسران کی شخصیت کی ایک پہچان بن جاتا ہے ۔

مصنف اِس بات سے بخوبی آگاہ ہیں  کہ پاکستانی سرکاری دفاتر میں کلرکوں کا کردار نہایت اہم اور مؤثّر ہوتا ہے۔اگر ان لوگوں کو خوش رکھا جائے تو یہ ہمارے مشکل،پیچیدہ اور قانونی سقم سے بھرپور معاملات کو اتنا سہل اور آسان بنا دیتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ۔اس کہ برعکس ان کی ناراضی مول لے کر ہم اپنا معمولی سا جائز  کام بھی  ان سے نہیں کرا سکتے۔اِسی لیے اُن کو کلرک بادشاہ بھی کہاجاتا ہے۔زیرِ مطالعہ کتاب میں کلرکوں سے  متعلق  دو مضامین”‘کلرک بادشاہ” اور “پانچ ہزار روپے دیں” شامل ہیں۔ اِن مضامین میں کلرکوں کی  صلاحیتوں کا اعتراف کچھ اس انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری کو اُن مُنشیوں کی قسمت پر رشک آسکتاہے۔

بیورو کریٹس اور سیاست دانوں  میں نہایت گہرا تعلّق ہوتا ہے۔تاہم  جب سیاست دان الیکشن ہار جاتے ہیں  یا پھر زیرِ عتاب آتے ہیں تو پھر یہ بیورو کریٹ اُن کے لیے بالکل ہی اجنبی بن جاتے ہیں۔مصنف کو متنوع ذمے داریوں کے باعث مُلک کے نامی گرامی سیاست دانوں کے ساتھ کام کا موقع ملا ہے۔ اپنے ایک مضمون ”مختیارا” میں پاکستان کے سیاسی کلچر کی خوب صورت تصویر کشی کی گئی ہے۔مختیارا ایک علامت ہے  ۔ ہر سیاسی لیڈر کو ایک  ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف اُس کے لیے کام کرے۔وہ لوگوں کو باور کرائے کہ  یہ سیاسی لیڈر نہ صرف  عوام کے مسائل سے آگاہ ہیں، بل کہ اُن کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت اور  قدرت بھی  رکھتا ہے۔ دوسری  طرف مختیارا اِس خدمت کے عوض سیاسی لیڈر کے اثر رسوخ سے بےشمار مالی فوائد حاصل کرتا ہے۔

تیزی سے بدلتی دُنیا  میں سوشل میڈیا نے جس برق رفتاری سے لوگوں کو متاثر کرنا شروع کیا ہے، بعض سطحوں پر شعور یا بےداری کی لہر پیدا کی ہے، اُسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،مگراِس کی بعض منفی جہات بھی ہیں۔محمّد شکیل ملک کا مضمون”پاور آف سوشل میڈیا” اِس باب میں  لائق ِمطالعہ ہے۔جہاں علامتی انداز میں بات کی گئی ہے۔ راجا فہیم کی بیٹی نے اعلٰی قسم کی بِلّیاں پال رکھی تھیں۔ایک دن  ایک بِلّا ایک دوسرے گھر کی چھت  سے شرارت  کے موڈ میں اُن کی چھت پر آگیا ،مگر وہاں کی بلیوں نےکوئی لفٹ نہ کرائی کیوں کہ اُن کا اپنابِلّا موجود تھا۔چناچہ یہ بیرونی بِلّابلیوں کے غیر مناسب رویّے سے سخت دل برداشتہ ہُوا ۔غم اور غصے کے عالم میں سیڑھیوں سے اُترتے ہوئےاُس کے گلے میں پڑا ہوا پَٹا ایک سیڑھی میں پھنس گیا ۔اِس حادثاتی لٹک کی وجہ سے بِلّے کو  جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔پڑوس کے ایک شرارتی لڑکے نے بِلّے کی لٹکتی ہوئی لاش  اور اس کے ساتھ راجا فہیم  سے منسوب یہ خبر سوشل میڈیا پر  شئیر کر دی کہ اس نے بلے پر ظلم کے پہاڑ ڈھا دیے۔۔جس پر سوشل میڈیا پر غم و غصّےکا اظہار کرتے ہوئے مجرم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔حال آں کہ  خبر میں کوئی صداقت نہیں تھی۔

  مُحمّدشکیل ملک نے اپنے بچپن کی بعض یادوں کو بھی سلیقے اور قرینے سےموضوعِ تحریر بنایا ہے۔ان کے خیال میں یہ یادیں انسان کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا اثاثہ ہوتا ہے جس سے اپنا تعلق مضبوط بنا کرہم اپنی زندگی کو بامقصد اور بامعنی بنا سکتے ہیں۔  بچپن کی تلخ و شریں یادیں عملی زندگی کو فعال اور مؤثّر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔”گھر کی اشیا” میں  بتایا گیا ہے کہ  اُن کے بچپن میں لوگوں کے پاس روپیہ پیسہ وافر مقدار میں نہیں ہوتا تھا،بڑی مشکل سے ضروری اشیا تک رسائی ہوتی تھی

“ڈاکٹر سے کیسے بچیں؟”نامی مضمون میں اِس بات کا اعتراف کیاگیا ہے کہ مصنف نے زندگی میں ٹریفک ایکسیڈنٹ اور ڈاکٹر سے علاج معالجے سے بچنے کی بہت کوشش کی ۔ٹریفک حادثات سے تو وہ محفوظ رہے، لیکن ڈاکٹروں سے اُن کا  بچناممکن نہ رہا۔بچپن میں خواہش کے باوجوداُن کا مختلف ڈاکٹروں سے واسطہ پڑتا رہا۔ اکثر ڈاکٹروں سے ہونے والی  ملاقاتیں  مایوس کن  رہیں۔ مصنف نے  اِن ناخوش گوار ملاقاتوں  کا ذکر سلیقے سے کیا ہے۔

ایک زمانے میں ہمارے یہاں شہروں میں سینماؤں میں جا کر فلم دیکھنے کاخاصا رجحان پایا جاتا تھا۔بچے، بوڑھے،نوجوان، یہاں تک کہ بعض خواتین بھی بڑے شوق سے  سینما ہاؤس  گھر جا کر فلمیں دیکھتی تھیں۔اچھی اور نئی فلم کی ٹکٹ بلیک میں خریدی جاتی تھی۔بلیک میں ٹکٹ فروخت کرنے  والا ایک پورا  مافیا ہوتا تھا۔فلم دیکھنے والوں کی اکثریت کے پاس اتنے ہی پیسے ہوتے تھے کہ وہ لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ  خریدیں۔ لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لینا ایک مشکل کام ہوتا تھا،کیوں کہ اِس کوشش میں لڑائی جھگڑے اور کپڑے پھٹنے کا امکان رہتا تھا۔مصنف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ  فلم  دیکھنے کا اصل مزہ اُس وقت آتا تھا، جب لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لیا جائے،بےشک جسم پر کپڑے رہیں یا نہ رہیں۔یہ گزرےزمانے میں تفریح کا بہت بڑا ذریعہ  تھا۔پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ سب کچھ بدل گیا۔ سینما گھر  ویران ہوئے۔اُن کی جگہ بڑے بڑے کمرشل پلازے  بن گئے۔اِس کتاب میں پاکستانی سماج  کا یہ پہلو جیتے جاگتے اندز میں قارئین کے سامنے آتاہے۔ جس کی داد دینا ضروری ہے۔مصنف نے  اپنے دوست مشکور ،جو بعد میں  پروفیسر بنے، اُن کا مزے لے لے کر ذکر کیا ہے، جواکثر مصنف کو بھی فلم دیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ایک دن  مشکور صاحب نے مصنف کو سیروز سنیما، راول پنڈی میں نمایش کے لیے پیش کی جانے والی فلم”وَن مِلین ایئرز بی سی” دیکھنے کی تجویز پیش کی ۔دراصل وہ فلم میں یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ اُس دور کےننگ دھڑنگ انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر شرماتے تو نہیں تھے؟مصنف کواندازہ تھا کہ جنرل ضیاء کے دور میں فلم میں وہ سب کچھ نہیں دِکھایا جا سکتا ہے،جس کی مشکور صاحب طلب رکھتے ہیں۔مشکورصاحب کی پر اُمیدگفتگو نے صاحب مضمون کوقائل کر ہی لیا ۔یوں دونوں نے مل کر فلم دیکھی۔فلم میں وہ سب کچھ نہیں تھا جس کی توقع لے کریہ لوگ سنیما گھر گئے تھے۔دونوں شام چھے سے نو بجے کا شو دیکھنے کے بعد واپسی پر پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔پاکستانی پولیس سے کیسے گلوخلاصی ہوئی ، اَس کی تفصیل کے لیے کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

مصنف نے کتاب کو تین حصّوں میں تقسیم کیا  ہے پہلے حصّے میں  مضامین  ہیں دوسرے حصّےمیں کچھ “شذرات” ہیں ، جن میں مصنف نے اپنی زندگی میں آنے والے بعض واقعات کوشستہ اور شگفتہ انداز میں پیش کیاہے۔ تیسرےحصّے میں شامل”اختصاریے” چند سطری  تحریریں ہیں، جنھیں پڑھتے وقت منٹو صاحب کی کتاب “سیاہ حاشیے” کی طرف ذہن جاتاہے۔اُردو ادب میں ایسے  تجربات کم کم ہی ہُوئے ہیں۔موبائل فون اور سوشل میڈیا  کی یلغار نے دُنیا کو جس تیزی سے بدلا ہے، اُس میں شاید طویل تحریریں  پڑھنے کا وقت نہیں رہا۔ البتہ اگر کسی تحریر میں دریا کو کوزے میں بند کرکے پیش کیا جائے تو قاری  اُسے آسانی سے پڑھ سکتا ہے۔

انسان کے اندر بھولنے  کی عادت  نہ ہوتی تو  یہ زندگی اوردشوار گزار ہوجاتی۔بعض اوقات انسان نہ چاہتے ہوئے بہت کچھ  بھول جاتا ہے ۔یاد رکھنے کا  کیا طریقہ ہو سکتا ہےاس حوالے سےمحمّد شکیل ملک ‏ ‏ ‏ نے “اختصاریے” میں عمدہ نکتہ سنجی کی ہے:

” اگر آپ اپنی وائف یا محبوب  کی سالگرہ کی تاریخ یاد رکھنا چاہتے ہیں، توایک بار بھول جائیں پھر کبھی نہیں بھول پائیں گے۔”

کیا ذہین لوگ اپنی مرضی بے وقوف بنتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں؟یہ سوال بہت پرانا ہے، مگر اِس کتاب میں درج جواب  بہت دل چسپ ہے:

“اہلِ ذہانت کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے بےوقوف بنتے ہیں۔تمام ذہین لوگ یہ جملہ پسند کریں گے۔”

اِس کتاب کا موضوعاتی تنوّع متاثر کُن ہے:

” وطن عزیز میں آپ سے اُدھار لینے والا صرف ایک وجہ بتاتا ہے، لیکن آپ کو پیسے واپس لینے کے لئے کئی

وجوہات گھڑنا پڑتی ہیں اور متعدد وضاحتیں پیش کرنی پڑتی ہیں کہ وہ پیسے آپ کے لیے کیوں ضروری ہیں؟”

“وطن عزیز گلوبل وارمنگ سے متاثر ہونے والے ملکوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔اس کا اثر عوام الناس

 پر اتنا زیادہ ہے کہ سبھی کا دماغی درجہءحرارت بڑھ گیاہے۔ لہٰذا لڑائی جھگرے،چیخ پکار،گالی گلوچ

 روزمرہ کا معمول ہیں۔”

“مرد عورت سے کبھی بحث نہ کرے اور عورت مرد کے سامنے خاموشی اختیار کرے توتعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔” اِس کتاب کا اُسلوب  سادہ اور باوقار ہے۔مزاح  کی چاشنی ضرور نمایاں ہے، مگر  طنز کا تیکھاپَن  نہیں ہے۔سماجی معاملات کو سمجھنے میں قاری  خوش گوار حیرت  سے بہرہ یاب ہوتا ہے۔الفاظ کا انتخاب محتاط اور مناسب ہے۔بغض اور تعصّب سے پاک یہ تحریریں اُردو قارئین کے لیے لائقِ تحسین  بھی ہیں اور غورطلب بھی۔