شاہنامے کی معیّت میں

یہ تحریر 130 مرتبہ دیکھی گئی

(1)

  شاہنامۂ فردوسی سے میرا پہلا تعارف لڑکپن میں ہوا۔ میری عمر یہی کوئی بارہ تیرہ برس کی ہو گی کہ میں نے گھر میں ایک کتاب دیکھی جو یقینا میرے چھوٹے ماموں ، شمیم رضوی صاحب، لائے ہوں گے۔ وہ اُس زمانے میں گورنمنٹ کالج منٹگمری (اب ساہیوال) میں پڑھتے تھے اور اپنی علمی و ادبی دل چسپی کے سبب اکثر کالج کی لائبریری سے کتابیں لاتے رہتے تھے۔ مگر یہ کتاب شاید لائبریری کی نہیں تھی کیونکہ ’ اول و آخر ایں کُہنہ کتاب افتادہ ست“ کے مصداق پھٹی ہوئی تھی تاہم ہنوز خاصی ضخامت کے ساتھ باقی تھی۔ اچھے درجے کا سفید کاغذ اور اُس پر اُجلی طباعت میں درج دلچسپ کہانیاں۔ جابجا آرٹ پیپر پر کسی اچھے آرٹسٹ کی بنائی ہوئی سیاہ و سفید تصویریں جن میں کہیں ضحاک کے کندھوں پر اُگے ہوئے سانپ نظر آ رہے ہیں، کہیں رستم دیوِ سپید کو قتل کر رہا ہے اور کہیں اُس کا رخش شیر پر حملہ آور ہے۔ پڑھناشروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ ضخاک، فریدوں، رستم، سہراب، کیکائوس، ہجیر جیسے نام پہلی بار سامنے آئے۔ رستم کے ہفت خواں پڑھے تو وہ ایک ہیرو بن کر ذہن میں جم گیا۔

مگر شاہنامے سے یہ پہلا تعارف ادھورا رہا کیونکہ آغاز کے صفحات پھٹے ہوئے ہونے کے سبب مجھے کتاب اور مصنّف کا نام معلوم ہی نہ ہو سکا۔ بعد میں رستم و سہراب کا حوالہ جا بجا سامنے آتا رہا۔ میتھیو آ رنلڈ کی نظم اور آغا حشر کے ڈرامے کا بھی علم ہوا۔ یہ بھی پتا چل گیا کہ یہ قصہ شاہنامۂ فردوسی کا حصّہ ہے جو ایک مشہور عالم رزمیہ ہے اور فارسی زبان میں نظم کیا گیا ہے۔

1969-70 کا زمانہ ہو گا کہ مجھے اصل فارسی متن پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ میں اُس وقت گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرار تھا۔ کالج کا کتب خانہ بہت اچھا تھا۔ میں وہاں سے لمبوتری تقطیع میں سفید کاغذ پر خوبصورت نسخ کے ٹائپ میں چھپا ہوا ایک دیدہ زیب نسخہ لے آیا اور اُس کے مطالعے سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ کلام کی روانی، تمثالوں کے شکوہ اور بیان کے زور نے مجھے بہت سرشار کیا۔ اس بار توجہ کہانیوں سے زیادہ کلام کے محاسن پر مرکوز رہی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک برجستہ تاثر جو میرے دل میں پیدا ہوا تھا، یہ تھا کہ شاہنامے میں چمک اور روشنی کی کیفیت بہت فراواں ہے۔ ”خورشید“ کا لفظ کثرت سے ملتاہے یا، جابجا، کسی اور پیرائے میں جگمگاہٹ اور روشنی کا پرتو دکھائی دے جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے بعد زال رودابہ سے ملنے آتا ہے تو وہ خود بھی اُس کے انتظار میں چھت پر کھڑی ہوتی ہے اورشام کے جھٹپٹے میں اُس کے رُخِ تاباں کی چھوٹ گرد و پیش پر پڑ رہی ہوتی ہے۔ یہاں یہ شعر مجھ پر دیر تک چھایا رہا اور اب تک یاد ہے۔

شدہ بام ازو گوہرِ تابناک     ز تابِ رُخش سُرخ یاقوت خاک

بام اُس کے ہونے سے

گوہرِ تابناک بن گیا

اور اُس کے چہرے کی تابانی سے

مٹی سُرخ یاقوت ہو گئی

”تابناک“، ”تاب“، ”سُرخ“، ”یاقوت“ جیسے الفاظ نے اس منظر کو کس قدر درخشاں اور رنگین بنا دیا ہے۔

انہی دنوں ناظر حسن زیدی صاحب ایک تقریب میں گورنمنٹ کالج سرگودھا، تشریف لائے۔ ڈنر کے بعد اُن کے ساتھ کالج کی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے شاہنامہ زیرِ بحث رہا۔اثنائے گفتگو میں اُنہوں نے کہا، ہمارے اُستاد سید وزیر الحسن عابدی صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ ”غالب تو چھوٹی اینٹ کا شاعر ہے۔ فردوسی چٹانوں کا شاعر ہے۔“ مجموعی تناظر میں تو غالب اور فردوسی کے اس موازنے پر مجھے کچھ تامُّل ہے مگر خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ تمثال کاری (Imagery) میں فردوسی بہت کلاں گیر ہے۔ اکثر بڑے کینوس پر بڑی تصویریں بناتا ہے۔ رُستم پیدا ہوتا ہے تو غیر معمولی تن و توش رکھتا ہے۔ اس بڑے ڈیل ڈول کے سرخ و سپید بچے کی تصویر فردوسی نے کس اختصار اور جامعیت سے کھینچ دی ہے جس سے اُس کی کلانی اور تابانی دونوں بھرپور طریقے سے سامنے آ جاتی ہیں:

بیک روزہ گفتی کہ یک سالہ بود    یکے تودۂ سوسن ولالہ بود

ایک روز کا تھا

تو یوں لگتا تھا جیسے ایک سال کا ہے

اُس کا وجود سوسن ولالہ کا ایک انبار معلوم ہوتا تھا

زال کے بارے میں مہراب کی زبانی فردوسی نے یہ کہلوایا ہے:

دل شیرِ نردارد و ز ورِ پیل دو دستش بکردارِ دریائے نیل

اُس کے پاس شیرِ نر کا دل

اور ہاتھی کا زور ہے

اور اُس کے دونوں ہاتھ

دریائے نیل کا کردار رکھتے ہیں

دریائے نیل کہہ کر فردوسی نے زال کے ہاتھوں کو تاحدِّ نظر وسعت دے دی ہے، جس سے بے پایاں سخاوت اور لامنتہی داد و دہش کا نقش استوار ہوتا ہے۔ اور اس بڑے میورل کو بنانے میں صرف ایک مصرع صرف ہوا ہے۔

فردوسی کے ہاں انسانی نفسیات کی باریک عکاسی نے بھی متاثر کیا۔ فریدوں جوان ہوا تو ماں سے یہ سُن کر کہ اُس کے باپ کا مغز ضحّاک کے کاندھوں پر اُگے ہوئے سانپوں کو کھِلا دیا گیا تھا، سخت غصّے میں آ گیا اور کہا:

بپویم بفرمانِ یزدانِ پاک برآرم زایوانِ ضحّاک خاک

میں ابھی خدا کے حکم سے نکلتا ہوں

اور ضحّاک کے محل کی دُھول اُڑائے دیتا ہوں

اس موقع پر ماں اُسے جوش کے بجائے، ہوش کی تلقین کرتے ہوئے کہتی ہے:

بدو گفت مادر کہ ایں رائے نیست

تُرا باجہاں سر بسر پائے نیست

دِگر باشد آئینِ پیوند و کیں  جہاں را بچشم جوانے مبیں

کہ ہر کو نبیدِ جوانی چشید  بگیتی جُز از خویشتن را ندید

ماں نے اُس سے کہا کہ یہ رائے مناسب نہیں

تیرے تو دنیا میں سربسر کہیں پائوں جمے ہوئے نہیں ہیں

دوستی اور دشمنی کا سلیقہ کچھ اور ہوتا ہے

دنیا کو ایک نوجوان کی نظر سے نہ دیکھ

کہ جو کوئی بھی جوانی کی شراب چکھ لیتا ہے

اُسے دنیا میں اپنے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا

زال اور رودابہ کی پہلی بار کی یکجائی میں جذبے کی فراوانی اور ازخود رفتگی کی جو کیفیت تھی اُس کا بیان کیسی سادگی اور اختصار سے اور کیسے موثر انداز میں کیا گیا ہے:

ہمی مہرِ شاں ہر زماں بیش بود  خرد دور بود آرزو پیش بود

اُ ن کی محبّت یونہی ہر لحظہ بیش از بیش تھی

عقل و خرد کہیں دور اور آرزو روبرو موجود تھی

آخر وداع کی گھڑی آتی ہے تو بہم پیوستگی کا کیسا انوکھا نقشہ کھینچا ہے۔

پس آں ماہ را شاہ پدرود کرد تنِ خویش تار و برش پود کرد

پھر شاہ نے ماہ کو الوداع کہا

اپنے جسم کو تانا اور اُس کی آغوش کو بانا بنا ڈالا

زال ہی کے قصّے میں ایک جگہ مے نوشی کی ایک محفل کا ذکر آتا ہے جس میں مے گساروں کی خارجی اور داخلی کیفیت کی عکاسی دو مصرعوں میں یوں کر دی گئی ہے:

کشیدند مے تا جہاں تیرہ شد سرِ میگساراں ز مے خیرہ شد

انہوں نے مسلسل مے کشی کی

تاآنکہ دنیا اندھیر ہو گئی

اور مے گُساروں کا سر

کثرتِ مے سے خیرہ ہو گیا

دنیا کا اندھیر ہو جانا نشے میں چُور ہو جانے کی طرف اشارہ ہے جس میں آنکھوں سے کچھ دکھائی نہ دیتا ہو۔ شغلِ بادہ و ساغر باہرسے نظر آنے والی اور گرد و پیش میں تیرگی کا چھا جانا اندر سے دکھائی دینے والی چیز ہے۔

یہ اور ایسی ہی کچھ اور لطافتوں کا لطف لیتے ہوئے کچھ عرصہ عجیب سرخوشی میں گزرا جس کی کیفیت، نرگس کے ان پھولوں کی طرح جو ورڈز ورتھ نے دیکھے تھے، آج بھی ایک سرشاری پیدا کرتی ہے۔ اندر کی یہ ثروت ہی ادب کی سب سے بڑی دین ہے۔ مگر پھر جیسا کہ سیلِ وقت میں ناگزیر ہے، شاہنامے کا مطالعہ موقوف ہو گیا اور بہت سی اور مصروفیات نے اس کی جگہ لے لی۔ پھر کم و بیش، پچاس برس تک یہ دل چسپی موقوف اور معلّق ہی رہی۔ ہاں بیس بائیس برس پہلے، لاتعلقی کے اس تسلسل کو میرے شفیق کرم فرما، محمد شفیق صاحب مرحوم کی عنایت نے توڑا۔ وہ اپنی پرانی کتابوں میں سے شاہنامے کا ایک آٹھ جلدی ایڈیشن جو جیبی سائز میں تھا میرے لیے اُٹھا لائے۔

یہ ژول  مول کا مدوّن کردہ ایڈیشن تھا جو شاہنامےکے متعبر متون میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے فارسی متن کو الگ کرکے سازمانِ کتابہای جیبی نے آفسٹ میں تہران سے شائع کیا تھا۔ مگر اس ہدیہء گراں مایہ کو میں نے اُس وقت بس سرسری سا دیکھ کر رکھ دیا اور پھر یہ کتاب طاق پر دھری کی دھری رہ گئی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

خورشید رضوی کی دیگر تحریریں