سیبوں کے ساتھ صبح

یہ تحریر 144 مرتبہ دیکھی گئی

یہ کس نے لا رکھے میرے سرہانے
ڈھیر خوشبو کے؟
میں سمجھا کہ ابھی شاید نہیں جاگا،
کس مہکے ہوے سپنے سے ہم آغوش ہوں گویا۔

یہ سرخ اور سبز سیبوں سے بھری سِینی؛
یہ چکنائی، یہ گولائی پھلوں کی
اور اِن سے پھوٹتی خوشبو۔
مہک رونق بھی ہوتی ہے نہیں معلوم تھا مجھ کو۔
یہ خوشبو جو اُترتی ہی چلی جاتی ہے
میری جان میں جیسے
مجھے جنّت کے دَر تک چھوڑنے آئی ہو چپکے سے۔

بسی ہے اِن پھلوں میں ماورائی ایسی مخموری
جسے محسوس کر کے یہ خیال آتا ہے ہر لمحے
کہ دنیا اور جنّت میں نہیں باقی رہی دُوری۔

یہ ہم ہوں یا ثمر ہوں، سب ہیں مٹّی کی کراماتیں۔
قرابت داریاں ایسی جنھیں تسلیم کرنا خُو نہیں اپنی۔
نہیں یہ ہوش کہ دنیا کی ہر شے میں ہیں شامل ہم۔
بہت ہی کُند ہوتی جارہی ہیں سب حِسیں اپنی۔ ۲۰۱۶ء