سوالوں کا طلسم

یہ تحریر 259 مرتبہ دیکھی گئی

غائر عالم کی طویل نظم “اسفار” پر غور کرنے سے پہلے ان کی ایک اور کتاب “الاسما” پر، جو شاید انھوں نے ہی عنایت کی تھی، توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ “الاسما” ان کی نظموں پر مشتمل ہے اور اس میں طرفگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ پرانی نظمیں آخر میں اور نئی نظمیں شروع میں ہیں۔ گویا توقیت کو الٹ دیا ہے۔ یہ چونکانے کی کوشش نہیں بلکہ ایک طرح کی ارضیاتی ترتیب ہے جس میں پرانی چٹانیں بالعموم سب سے نیچے ہوتی ہیں۔ گو بعض اوقات زمینی خلفشار کے باعث نیچے کی پرتیں اوپر اور اوپر کی پرتیں نیچے ہو جاتی ہیں۔

پرانی نظموں میں کلاسیکی رویوں کی پیروی ہے۔ قوافی ہیں اور مصرعے برابر اور ہم وزن ہیں۔ تاہم فکر اور لفظیات پر نظر ڈالی جائے تو وہ کلاسیکیت سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ اردو شاعری میں مروج رویوں سے غائر عالم مطمئن نہیں۔ یہ کلاسیکی نظمیں، مانوس ہیئت کے باوجود، بڑی توجہ کا تقاضا کرتی ہیں۔ آگے چل کر غائر عالم نے اپنی شاعری سے کلاسیکی چھاپ اتار پھینکی ہے اور اس کے لیے نیا پیرہن تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔ “اسفار” اسی، شاید ختم نہ ہونے والی، تلاش کا ایک مرحلہ ہے۔

غائر عالم کی غزلیات پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ غزل میں بات دو مصرعوں میں مکمل کرنی ہوتی ہے۔ یہ شاعر کے لیے بڑی آزمائش ہے۔ شعر میں فنی طور پر Exactness ہونی چاہیے۔ اگر نہیں ہوگی تو کلام غیر سنجیدہ ہو کر رہ جائے گا۔ اردو میں ہزارہا غزل گو محض غیر سنجیدہ ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کا دیوان اگر اتفاق سے مطبوعہ ہو تو بھی اسے کوئی نہیں پڑھتا۔ غائر عالم کو غیر سنجیدہ تو کسی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض قارئین شاید مشکل پسند کہیں۔

“اسفار” بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ کیا اس تقسیم کا بارہ بروج سے بھی کوئی تعلق ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سفر، جو میرجی (میری رہنے والی روح) نے کیا ہے اور جن کو ایسا آدمِ نو تصور کیا جا سکتا ہے جو حقیقت کی گتھیاں سلجھانے پر تُلا ہوا ہے، ایک ہی ہے لیکن بارہ مختلف مراحل سے گزر کر ایک عالم نو کی تعمیر کی خبر دیتا ہے۔ مناظر بدلتے ہیں، مشکلات نئے نئے روپ میں سامنے آتی ہیں لیکن ایسے ہر مسافر کی طرح، جس کا عزم مستحکم اور جلیل ہوتا ہے۔ تائید غیبی اور مدد ِ غیبی راہِ راست سے بھٹکنے نہیں دیتی اور اسے اپنے سوالات کے جواب ملتے چلے جاتے ہیں۔ بقول غائر عالم “یہ جدید دنیا میں ایسی تلاش ہے جو سائنسی حقائق اور انسانی سروکاروں کے مابین آویزش کو ختم کرکے ہم دمی کی فضا قائم کرنے کی خواہاں ہے۔” غائر عالم نے بیانیے کو کسی قدر سائنس فکشن کی طرف جھکا ہوا کہا لیکن یہ معاملہ غالباً سائنس فکشن کے بجائے کشفی ہے۔

یہاں خیالات اور لفظیات کی حد تک کسی قسم کی مصالحت روا نہیں رکھی گئی۔ غائر عالم اپنے وژن اور اس کی تہ داری اور مضمر پیغام کے زیادہ وفادار ہیں اور قاری کو کوئی سہولت فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس پر کوئی اعتراض ہو بھی نہیں سکتا۔ جس شاعر کو اپنی سوچ کی صحت اور سمت کی درستگی پر یقینِ محکم ہو وہ کسی نوع کے سمجھوتے پر رضامند نہیں ہوگا۔

غائر عالم لکھتے ہیں کہ “یہ کتاب آیندہ نسلوں کے امکانات کو مدنظر رکھ کر تصنیف کی گئی ہے، اس شوق و سعی کے ساتھ کہ اصلاح و پرورش کا عمل جاری ہے۔” فی الحال تو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر انسان دنیا کو اس طرح برباد کرتے رہے تو اصلاح کے لیے کچھ باقی نہ رہے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نظم کو کتنے لوگ پڑھیں گے؟ شاعری پڑھنے والے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ایسی شاعری سے دو دو ہاتھ کرنے کو کوئی کوئی تیار ہوگا جو ان سے، رائدانہ وضع میں، فلسفیانہ، سائنسی اور شعری سطح پر اتنے متنوع اور پر پیچ تقاضے کرتی ہو۔ اس موضوع پر شاید کسی طویل ناول کو زیادہ قارئین بہم آ سکتے تھے۔ خیر، یہ ہدایت کیوں دی جائے کہ کون کیا لکھے اور کیسے لکھے۔

غائر عالم اسفار کا دوسرا حصہ اور ایک اور طویل نظم لکھ چکے ہیں۔ یہ دیکھنا خاصا دل چسپ ہوگا کہ وہ اپنے اسلوب اور فکر میں کتنی نئی جہتوں کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ وہ ان شاعروں میں سے ہیں جن سے طرح طرح کی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔

اسفار از غائر عالم

ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد

صفحات: 174؛ تین سو روپیے