سلیم سہیل تحیّر و تخیّل کی جادوئی دُنیا میں

یہ تحریر 166 مرتبہ دیکھی گئی

  (“اُر دو داستان میں تخیّل اور تحیّر” کا تعارف)

            دادا ابّو ، نانا ابّو   ۔۔۔  دادی امّاں ، نانی امّاں  سے سُنی ہوئی   پریوں، چڑیلوں، دیووں اور جنّوں کی کہانیاں ہمارے بچپن کی سہانی گھڑیوں کے مضبوط حوالے ہیں۔ بچپن کی انھی طلسماتی کہانیوں نے ہمیں قصّہ و داستان کے مطالعے اور داستان و قصّہ شناسی کا ذوق ودیعت کیا۔ ہماری بچپن کی حیرت ناکیوں اور کائنات کے سربستہ رازوں کو جاننے کی ہماری جبلّی خواہشوں کی تسکین جس خوبی اور سلیقے سے ان جادوئی کہانیوں نے کی، اس نے ہمیں شخصیاتی بھول بھلیّوں کے بہت سے نہاں خانوں میں بھٹکنے سے بچا لیا ہے۔ کہانیوں، اور پھر جادوئی کہانیوں کے طلسم نے غیر محسوس طور پر ہمارے ذوق کی بڑے سلیقے و طریقے سے آب یاری کی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے اپنی پرورش و پرداخت کے ساتھ ساتھ شخصی اوصاف اور فن کارانہ صفات کو متشکّل کرنےمیں کہانی کےناگزیر کردار کو تسلیم کرتے ہی بنتی ہے۔

            طلسمی کہانیوں کےطلسماتی پہلوؤں کا مطالعہ کرنا بجاے خود دل چسپ ہے۔طلسمی اورطلسماتی کہانیوں پرمشتمل اُردو قصّوں اور داستانوں پر ہمارے ہاں تواتر سے لکھا جا رہا ہے۔ ایسی تنقیدی و تجزیاتی اور علمی تحریروں کی روایت کچھ بہت پرانی نہیں۔ بظاہربیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں  کلیم الدین احمد سے شروع ہونے والی یہ روایت گیان چند، وقار عظیم، راز یزدانی ، سہیل بخاری، سہیل احمد خاں، شمس الرحمٰن فاروقی،  قمرالہدیٰ فریدی، وغیرہ سے ہوتی ہوئی    سلیم سہیل تک پہنچی ہے، بل کہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سلیم سہیل نے اس روایت کا حصّہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سلیم سہیل کے متعدد کام منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں دو قصّوں :  ” جادہ تسخیر” اور ” فسانہ دل فریب” کی ترتیبِ جدید بھی شامل ہے لیکن یہاں سرِ دست اُن کے ڈاکٹریٹ کے اُس تحقیقی مقالے کو موضوعِ بحث بنانا مقصود ہے جو ”اُردو داستان میں تحیّر و تخیّل” کے عنوان سے 2017ء میں شائع ہوا ہے۔  

            سلیم سہیل کا یہ مقالہ اُردو قصّوں اور داستانوں کے ایک لازمی اور اہم پہلو طلسمانہ، یعنی فینٹسی (fantasy)سے بحث کرتا ہے۔ یاد رہے کہ داستانوں کے طلسمانے اور قصّوں کے طلسمانے میں فرق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب داستانوں اور قصّوں میں فرق کرنے والے کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں، اَور تو اَور اعلا درجوں کے اَدب کا نصاب بنانے والے بھی اس تفریق اور تقسیم سے آگاہ نہیں۔ اسی لیے ہر جگہ ‘داستان’ کے نام پر ”باغ و بہار” اور ”فسانہ عجائب” ہی داخلِ نصاب نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اُردو نثر کی آن، بان اور شان ”داستانِ امیر حمزہ”، اور خاص کر اس کا ایک اہم حصّہ ”طِلِسمِ ہوش رُبا” ہمارے نصاب سے عام طور پر بُری طرح نظر انداز ہوتا آ رہا ہے۔ ”بوستانِ خیال” کے متعلّق تو ہمارے پڑھے لکھے جانتے ہی بہت کم ہیں، اس طرح  کے دُکھڑے کون کہے اور کون سُنے !

سلیم سہیل کی اس کتاب میں پانچ باب ہیں۔ پہلا باب کتاب کے ‘تعارف’، دوسرا ‘طلسمانہ’ (fantasy) کی اصطلاح کے تعارف اور آخری ‘نتائجِ تحقیق’ سے متعلّق ہے۔ تیسرے باب میں ‘طلسمانہ’ کے جدید رُجحانات و صورتِ حال اور مستقبل میں اس کے امکانات پر سیر حاصل گُفت گُو کی گئی ہے۔ چوتھا باب کتاب کے کلیدی مباحث پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنّف نے اکّیس (21) داستانوں، قصّوں اور کہانیوں میں طلسمانوی عناصر کا جائزہ لیا ہے۔ ان میں چارداستانیں، پندرہ قصّے، انشاؔ کی کہانی اور قدیم اساطیری “گل گامیش کی داستان”  شامل ہیں۔ سلیم سہیل نے اپنے اس اہم موضوع کے لیے داستانوی اَدب کی جن کتابوں کا انتخاب کیا ہے، وہ بھی قابلِ داد ہے۔ ذرا ان کے نام ملاحظہ کیجیے:

داستانیں:  بوستانِ خیال، طِلِسمِ گوہر بار، داستانِ امیر حمزہ (طویل و مختصر)، طِلِسمِ ہوش رُبا۔

قِصّے:   قِصّہ مہر افروز و دِل بر، عجائب القصص، باغ و بہار، آرائشِ محفل، مذہبِ عشق، سِلگِ گوہر، گُل زارِ چیں، افسانہ عشق،

             قِصّہ رنگیں گُفتار، فسانہ عجائب، گُلشنِ جاں فِزا، سروشِ سخن، طِلِسمِ حیرت، طِلِسمِ فصاحت۔

کہانی:     کہانی رانی کیتکی اور کُنور اَودھے بان کی۔

قدیم عالمی اساطیری کہانی :   گل گامیش کی داستان۔

چوتھا باب اگرچہ کتاب کا مرکزی اور اہم ترین باب ہے لیکن باقی کے ابواب بھی اپنے مباحث  اور پیش کردہ مواد کی وجہ سے اہم تر ہیں۔ پہلے تین ابواب میں ‘طلسمانہ’ کی تعریف سے لے کر اُردو کے تخلیقی اَدب میں اس کے استعمال کی صورتیں جس تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، وہ پڑھنے سے تعلّق رکھتا ہے  اور استفادہ کرنے کے قابل ہے۔ مصنّف نے بتایا ہے کہ ‘طلسمانہ’ کی اصطلاح  اُردو کے لیے نئی ہے اور اُردو میں غالباً پہلی باراپنے صحیح معنوں میں پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔ اُردو میں عام طور پر اس کی جگہ انگریزی کی اِصطلاح فینٹسی استعمال کی جاتی رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اُردو داستانوں اور قصّوں کی طلسماتی فضا فینٹسی کے حیطہ خیال میں آ ہی نہیں سکتی۔ اس کے لیے ‘طِلسمانہ’ کی اِصطلاح جامع  اور حسبِ حال ہے۔”طلسمانہ” کی وضاحت کے دوران مصنّف نے قدیم و جدید مشرقی و مغربی تصوّرات اور تعریفوں کو سامنے رکھ کر پہلے تو ان کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے، پھر اسی تجزیاتی مطالعے کی روشنی میں”طلسمانہ” کی حدود اور دائرہ کار کی وضاحت کی ہے۔

 قصّوں اور داستانوں میں طِلسمانوی عناصر کی وضاحت کے لیے مصنّف نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ قصّے یا داستان کا تعارف و خلاصہ بیان کرنے کےبعد اس کے بارے میں محقّقین و ناقدین کی آرا درج کی ہیں، پھر اس قصّے یا داستان کے متعلّق اب تک کی تحریری صورتِ حال بیان کی ہے اور پھر آخر میں موضوعِ بحث کی ضرورت کے مطابق متعلّقہ قصّے یا داستان کا اور اس سے متعلّق مختلف آرا کا تجزیہ کر کے بحث کو سمیٹنےکی کوشش کی ہے۔ بہ حیثیّتِ مجموعی مصنّف کا طرزِ استدلال اور تجزیے کا انداز علمی رنگ لیے ہوئے ہے۔ وہ بڑے ناموں سے مرعوب نہیں ہوتے، بل کہ مطالعے اور تجزیے کے ذریعے اپنی آزادانہ راے قائم کرتے ہیں۔ یہ اس کتاب کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی ہے۔

اس مقالے میں کئی جگہ سلیم سہیل کی تنقیدی و تجزیاتی صلاحیّتیں کُھل کر قاری کے سامنے آتی ہیں۔ دقیق تنقیدی مباحث کو بعض اوقات وہ اتنی سہل بیانی، تحریری تیقّن اور تنقیدی سچّائی کی رمز کے ساتھ بیان کر جاتے ہیں کہ اِبلاغ کی شرطیں بھی پوری ہوجاتی ہیں اور سہلِ ممتنع کا مزا بھی آجاتا ہے۔ اس پر اُسلوب ایسا ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ تنقیدی بیان پڑھا جا رہا ہے یا کسی افسانوی تخلیق کا کوئی ٹکڑا گوش گزار ہو رہا ہے۔ میں اپنی پسند سےایسی کچھ مثالیں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ “باغ و بہار” کے تجزیے میں لکھتے ہیں:  “اگرچہ اس داستان میں مافوق الفطرت عناصر کی اتنی بہتات نہیں کہ ہم “باغ و بہار” پر طلسمانہ فکشن کی چِٹ چسپاں کر دیں لیکن اگر غور سے قصّے کا مطالعہ کیا جائے تو ہم قصّے میں طلسمانہ کی پرچھائیاں محسوس کر سکتے ہیں جو بعض جگہوں پر حقیقت کے پردے میں اتنے نامعلوم طریقے سے چھپی ہوتی ہیں کہ فرد پہلی نظر میں محسوس نہیں کر سکتا۔” ( صفحہ96)

ہماری روایتی تنقید میں عام طور پر یہ  باور کرایا جاتا ہے کہ گذشتہ سو ڈیڑھ سوسال کا دور جدید سائنسی تعقّل کا ہے جس میں داستان اور قصّے جیسی خالص تخیّلاتی اور مافوق الفطرت عناصر کی حامل اصناف نہیں پنپ سکتیں اوران تخیّلاتی کہانیوں کا زمانہ اب لَد چکا ہے۔ اس پرسلیم سہیل نے کیا خوب تبصراتی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں : “اس تمام معاملے کا سب سے دل چسپ پہلو یہ ہے کہ مغرب کے ترقّی یافتہ ممالک میں اور ریاست ہائے متحدّہ امریکہ میں بالخصوص، جو سُپر پاور بھی ہے اور جہاں سائنس اور اقلیّت کا دور دورہ ہے، پچھلے پچاس برسوں میں طلسمانہ کو زبردست عروج حاصل ہوا ہے اور متعدد طلسمانہ نگاروں نے، اُردو داستانوں کی طرح، کئی کئی ضخیم جلدوں میں ناول لکھے ہیں۔ ان ناولوں کی فضا اُردو داستانوں کے طلسمات سے کچھ نہ کچھ مشابہت رکھتی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ جدید اور سائنسی دور میں بھی طلسمانہ انسانوں کی کوئی اہم نفسیانی ضرورت پوری کرتا ہے۔” (صفحہ 17،18)۔  

اس کے ساتھ عام طور پر یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ داستانوی اَدب کا حقیقت سے کوئی تعلّق نہیں، اس لیے طلسمانہ اور حقیقت میں ضد یا معکوسی تعلّق ہے، چناں چہ اسی وجہ سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے سے اُردو میں داستانوی اَدب رُو بہ زوال ہونا شروع ہوا  اور پھر آہستہ آہستہ معدوم ہوتا گیا۔ اس بے بنیاد خیال کی تکذیب میں تجریدی افسانے سمیت کئی چیزوں کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن موضوع کی مناسبت سے اس طرزِ عمل کی توجیہ پر سلیم سہیل کا یہ بر محل تجزیہ دیکھنا اور پڑھنا زیادہ مفید ہو گا:  “طلسمانہ کو حقیقت کا دشمن قرار دیا گیا، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جتنی بھی ایجادات و اختراعات سامنے آئی ہیں، اپنی پہلی اور خام صورت میں ایک مفروضے یا واہمے سے زیادہ نہیں تھیں۔ حقیقت کا چہرہ کہیں بعد میں دیکھنا نصیب ہوا۔ حقیقت میں قباحت اُس وقت در آتی ہے جب اتنی پھیلی اور منتشر دنیا میں سے کوئی لکھنے والا اپنے پسند کے عناصر سے،  ہٹ کر ایک طرح سے،  مہرِ تصدیق ثبت کر دیتا ہے کہ اس سے باہر جو کچھ بھی ہے، وہ سچائی کے دائرہ کار سے باہر ہے۔” (صفحہ 44)

سلیم سہیل نے ایک سچے اسکالر کی طرح اُن مصنّفین کی خدمات کو سراہا ہے جو اُن سے پہلےداستانوں، قصّوں اور ان میں طلسمانہ کی کارفرمائی کے سلسلے میں تنقیدی اور تحریری سرمایہ ہمیں سونپ چکے ہیں۔ وہ ان میں سے شمس الرحمٰن فاروقی اور ڈاکٹر سہیل احمد خاں کے زیادہ معترف ہیں اور بجا طور پر ان کے تحقیقی و تنقیدی کام اور نتائج کو  نسبتاً اہم تر جانتے ہیں۔ کتاب کا موضوع ایک طویل اور تفصیل طلب تجزیاتی مطالعے کا متقاضی ہے جو ظاہر ہے کہ ایک مختصر سَندی مقالے میں ممکن نہیں، اسی وجہ سے قصّوں اور داستانوں کے تجزیاتی مطالعوں میں جگہ جگہ تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے باوجود مصنّف نے  جامعیّت کی خوبی کو کام میں لاتے ہوئے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُن کی اس کوشش سے موضوعِ بحث کے بنیادی نکتے قاری کی سمجھ میں بخوبی آجاتے ہیں۔ اُمید کرنی چاہیے کہ کتاب کی آئندہ اشاعت میں مصنّف اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

258 صفحات کی یہ کتاب22 x 14  س م تقطیع یا سائز پر طبع ہوئی ہے،  قیمت 450 روپےہے جوکتاب کی ضخامت اورموجودہ دور کی مہنگائی و کساد بازاری کو دیکھتے ہوئےنہایت مناسب ہے۔ ایک اہم موضوع پر یہ قابلِ قدر کتاب شائع کرنے پر القمر انٹر پرائزز اور مکتبہ تعمیرِ انسانیّت، لاہور کے روحِ رواں شیخ سعید اللہ صدّیق مبارک باد کےمستحق ہیں۔