سفر ابھی باقی ہے

یہ تحریر 129 مرتبہ دیکھی گئی

چاندنی رات میں دریا کی لہروں پر کشتی کھلتے ہوئے اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ، آنکھوں کی چمک اور بازوؤں کی حرکت میں عجیب سی ترنگ آجاتی تھی۔ دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ یا اس کے مخالف کشتی میں سفر کرتے، اسے بالکل احساس نہ ہوتا ہے اس کے بازوؤں کا کتنا زور پانی کی لہروں کو پیچھے دھکیلنے میں استعمال ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں مسافر تو کم ہی آتے تھے کہ لوگ کسی نہ کسی وجہ یا مقصد سے سفر کرتے، دریا کو پار کرنے کے لیے یا دریا کے ساتھ ساتھ دور، نزدیک جانے آنے کے لیے وہ کشتی کا سہارا ضرور لیتے لیکن ایسا تو دن کے اجالے میں ہوتا تھا۔ رات کی تاریکی میں وہ گھاٹ پر بنی کوٹھڑی میں پڑا سویا رہتا۔ مگر چاندنی راتوں میں اس کی جوانی سب سے الگ ہوتی۔

یوں تو اس گھاٹ پر کئی کشتیاں اور کئی کشتی بان تھے مگر سب اپنے کام سے کام رکھتے۔ آپس میں ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرلیتے۔ کبھی کبھی سواریوں کی وجہ سے آپس میں بک بک جھک جھک بھی ہو جاتی لیکن وہ ان سب سے بے نیاز اپنی کشتی میں اطمینان سے بیٹھا رہتا۔ اس کا ستواں جسم، متجسس آنکھیں، کھلتی رنگت اور چہرے کے دلکش نقوش، دیکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے۔ اس کا سلجھا ہوا لب و لہجہ بات کرنے کا سلیقہ اور کشتی میں سوار مسافروں کو خیال رکھنے کا قرینہ، اس کی کشتی میں ایک بار سوار ہو جاتا پھر وہ کم ہی کسی دوسرے کے ساتھ سفر کرنا پسند کرتا۔ اس بات کو اس کے ساتھ کشتی بان زیادہ پسند نہ کرتے لیکن چوں کہ وہ کسی دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ اس لیے اس کے ساتھ والے اسے برداشت کرلیتے تھے۔

اسے اپنی کشتی سے بہت محبت تھی۔ اس کی صفائی ستھرائی اور مرمت کا بہت خیال رکھتا۔ ایسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا صرف ایک ہی محور ہے اور وہ ہے اس کی کشتی۔ اس کی کشتی ویسے بھی بہت مضبوط اور پائیدار تھی اور مناسب دیکھ بھال کی بدولت وہ ہمیشہ سواروں کو دریا میں سفر کروانے کے لیے تیار رہتی تھی۔ سواریاں بھی اس میں بیٹھنا پسند کرتیں۔ اگرچہ نشستوں کے اعتبار سے اس کی کشتی دوسری کشتیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔

”لوگ تمہاری کشتی میں بیٹھنا زیادہ کیوں پسند کرتے ہیں“۔

جب بھی اس سے پوچھا جاتا تو وہ ایک ہی جواب دیتا۔

”یہ کشتی نہیں کشتی بان ہے۔ جس کے لیے لوگ میری کشتی میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کا جواب سننے والوں میں ملے جلے جذبات پیدا کرتا۔ مگر اسے کسی کی زیادہ پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا مگر ایک مسئلہ تھا کہ اس کی کشتی رفتہ رفتہ چیزو ں سے بھرتی جا رہی تھی اور اس میں بیٹھنے کی جگہ دن بہ دن کم ہوتی جا رہی تھی۔ اس سے کہا بھی جاتا تھاکہ ”یہ کیا تم کاٹھ کباڑ اپنی کشتی میں جمع کئے جا رہے ہو۔ وہ اس بات کا کوئی جواب نہ دیتا۔ بس مسکراتا رہتا۔ دل میں کہتا جاتا۔ ”جاتے ہوئے لوگ اگر اپنی چیزیں چھوڑ جاتے ہیں تو اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے؟ اب چھوڑی ہوئی چیزوں کو اٹھا کر دریا میں تو نہیں ڈال سکتا۔ اس دریا میں تو پہلے ہی لوگوں نے جانے کیسا کیسا گند بلا ڈال رکھا ہے۔ بس وہ ہر مسافر کی چھوڑی ہوئی چیز کو اسی جگہ رہنے دیا۔ اگر کبھی کوئی اسے ادھر ادھر کرنے کی کوشش بھی کرتا تو اسے یہ ناگوار گزرتا۔ وہ مسافر کے جانے کے بعد اس چیز کو اس کی اصل جگہ جما دیتا۔

یہ بات شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ صرف لوگ ہی جاتے ہوئے اپنی چیزیں نہیں بھول جایا کرتے تھے۔ اکثر تو اسے مسافروں کی چیزوں میں جو کچھ پسند آجاتا تو اس کی خواہش ہوتی کہ وہ یہیں رہ جائے اور پھر کوئی نہ کوئی ایسا بہانہ بنتا کہ یہ سامان اس کی کشتی میں رہ جاتا۔

اس بات کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا۔ دو آنکھیں تھیں۔ نہایت سحر انگیز بڑی بڑی سرمگیں آنکھیں، سیاہ نقاب نے ان کے حسن اور دلکشی میں خوب اضافہ کیا تھا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ وہ اس کے بالکل سامنے والی نشست پر موجود تھی بس وہ ان کا اسیر ہوگیا اور ایسا اسیر کے اس نے زندان کو مقید کرلیا۔ اب کشتی میں وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا تھا۔ ہر وقت آنکھوں کی حضوری اور اس حضوری میں بسر ہوتے دن رات، تب ایک دن اسے ایک پیشانی دکھائی دی۔ تابناک اور کشادہ اسے لگا جو آنکھیں اب تک اسے حصار میں لیے تھیں یہ انھیں پر ایستادہ پیشانی ہے۔ پیشانی مل گئی تو خد و خال کچھ کچھ نمایاں ہونے لگے۔ لیکن اگلی چیز جس نے اسے اپنی طرمف متوجہ کیا وہ کان تھے۔ نہ بڑے نہ چھوٹے بس آنکھوں اور پیشانی کے لیے نہایت مناسب انداز میں تراشے ہوئے کان، جیسے جیسے چہرے کے خد و خال مکمل ہوتے جاتے تھے اس کا جوش و جذبہ بڑھتا جاتا تھا۔ دل تو اس کا چاہتا تھا کہ آج کا سورج نہ ڈوبے اور چمہرہ اپنے خد و خال مکمل کرے لیکن اب کی بار اسے لمبا انتظار کرنا پڑا۔

ایسا نہیں کہ اس دوران اس نے خوبصورت ہونٹ، رخسار یا تھوڑی نہ دیکھی ہو۔ بہت دیکھیں مگر کوئی بھی چہرے کے اوپر والے حصے کی مناسبت میں نہ تھی۔ اسے بھی کوئی ایسی جلدی نہیں تھی۔ ساری زندگی پڑی تھی۔ جیسے یہ سب اسے بیٹھے بٹھائے مل گیا تھا۔ باقی چیزوں کا ملنا ابھی اٹل تھا اور پھر ایک دن جب وہ تقریباً اپنی تلاش ترک کرچکا تھا اس نے دو ہونٹ دیکھے۔ زندگی کی حرارت اور رس سے بھرپور سرخی عنابی رنگ۔ نیچے کا ہونٹ باریک اوپر والا بھرپور اور دونوں مل کر ایسا جوڑ بناتے جو ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ لے۔ بس اس نے فوراً یہ ہونٹ سنبھالے اور انھیں مناسب جگہ پر لگا دیا لیکن آنکھوں اور ہونٹوں کے درمیان خلا اسے بری طرح کھلنے لگا۔ ناک، تھوڑی اور رخسار مل جاتے تو چہرہ مکمل ہو جاتا۔

اب اسے اتفاق کہئے یا کچھ اور کہ ناک اور رخسار تلاش کرنے میں اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ یہ اسے ایک ہی دن مل گئے۔ ایک ہی پیرے میں اگرچہ وہ چہرے الگ الگ تھے۔ جہاں سے انھیں چرانا پڑا تھا۔ چہرہ تو اب قریب قریب مکمل تھا۔ وہ ایک لائن لگا کر تھوڑی کی جگہ کو پر کرسکتا تھا لیکن اس کے اندر کہیں یہ بات موجود تھی کہ ایک تھوڑی اس دنیا میں ایسی ہے کہ جو اس چہرے کو ایسے مکمل کرے گی کہ اس زمین پر کسی نے ایسا چہرہ نہ دیکھا ہوگا۔ وہ انتظار کرنے کے فن سے واقف تھا۔

چہرے کو ٹکڑے ٹکڑے جوڑنے کے اس عمل نے اور بھی بہت کچھ بدل دیا تھا اس کے اردگرد والے محسوس کرتے تھے کہ وہ اب اپنے آپ میں زیادہ مگن رہنے لگا ہے اور خود اس کے ہونٹوں پر دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ کھلتی رہتی تھی۔ اس کی کشتی میں کئی فالتو چیزیں جمع ہوگئی تھیں۔ جنہیں عام حالات میں وہ کبھی کا اٹھا کر پھینک چکا ہوتا۔

”یار اس کاٹھ کباڑ کا کیا کرو گے“

”گھر بناؤں گا“ وہ پوری سنجیدگی سے جواب دیتا تو اس کے سامنے والا چونک کر اسے دیکھتا۔ اکثر کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوتا۔ مگر اکثر لوگ خاموش رہتے اگر کوئی زیادہ بات بڑھانا چاہتا تو وہ اپنی خاموشی سے معاملے کو ختم کردیتا۔ پھر ایک دن تھوڑی بھی مل ہی گئی۔ اس پر زیادہ وقت لگا نہ کم۔ بس ایسے جیسے کسی تخلیق کار نے ایک چہرے کے مختلف حصوں کو بنا کر مختلف جگہ رکھ دیا تھا اس نے انھیں یکجا کرکے تخلیق کار کے مقصد کی تکمیل کردی ہو۔ اس دن اسے ایسی طمانیت محسوس ہوئی جیسی اس نے زندگی بھر محسوس نہ کی تھی۔ اتفاق سے وہ بھرپور چاندنی راتوں میں سے ایک تھی۔ وہ ساری رات دریا پر کھلنڈرے بچے کی طرح کشتی کھیلتا رہا وہ دریاکے رخ کے مخالف لمبے فاصلے تک جاتا پھر پتوار چھوڑ کر کشتی میں لیٹ جاتا اور اطمینان سے کشتی کو پانی کے بہاؤ پر بہنے دیتا۔ ایسے میں کوئی دور سے دیکھتا تو یقینا اسے پانی کی بہاؤ پر بہتی خالی کشتی عجیب لگتی۔

اگلے دن صبح جب دوسرے کشتی والے گھاٹ پر آئے تو انھوں نے اسے اپنی کشتی میں بے خبر سوتے دیکھا۔ انھوں نے اسے جگانے کی کوشش نہیں کی وہ صبح دیر تک سوتا رہا جو اس کے معمول کے خلاف تھا جب دھوپ اچھی طرح نکل آئی اور دھوپ کی تمازت نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔ تب بھی وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ اپنی کوٹھڑی میں گیا۔ شام تک سوتا رہا۔ شام کو اٹھا۔ بھوک کی چمک نے اسے کچھ کھانے پر مجبور کیا۔ اس سے فارغ ہو کر وہ اپنی کشتی میں آیا جب دوسرے ملاح اپنی کشتیاں گھاٹ پر باندھ رہے تھے اس نے اپنی کشتی کھولی اور پانی پر رواں ہوگیا لیکن اس دن وہ صف رات سے پہلے پہلے کشتی گھاٹ پر باندھ کر اپنی کوٹھڑی میں چلا گیا۔

چہرہ مکمل ہونے کے چند دن بعد اسے پھر بے چینی نے ستانا شروع کردیا۔ چہرہ ہو بدن بھی ہونا چاہیے۔ کوئی چہرہ بدن کے بغیر نہیں ہوتا۔ اب اس نے خود چہرہ تراشا تھا تو اسے ایک جسم کی ضرورت تھی۔ اس بات کا احساس کرتے ہی اس کے منہ سے ٹھنڈی سانس نکلی۔ سفر ابھی باقی ہے۔

جیسا چہرہ تھا، قد بت بھی ویسا ہی ہونا چاہیے۔ اگر اسے جلدی ہوتی تو وہ کسی بھی جسم پر یہ چہرہ لگا دیتا۔ یہ چہرہ اتنا مکمل اور دلکش تھا کہ یقینا ہر جسم پر سج جاتا اور کسی کو بھی کمی کا احساس نہ ہوتا۔ مگر اسے تو ایسے جسم کی تلاش تھی جو اس چہرے کی مانند دلکش اور مکمل ہو اور وہ جانتا تھا کہ یہ اسے کسی ایک جگہ نہیں ملے گا۔ اس بات تک کا البتہ اسے مکمل یقین تھا کہ تخلیق کار نے اس چہرے کی مناسبت سے جسم بھی بنا رکھا ہوگا۔ بات وہی ہے کہ اسے مختلف حصوں میں بٹے ہوئے جسم کو ڈھونڈھنا ہے اور پھر انھیں ترتیب سے لگاتے جانے سے جیسے معمہ حل کرنے والے بکھرے ٹکڑوں کو جوڑ کر مکمل تصویر بناتے ہیں۔

چہرے کے مقابلے میں جسم کی تلاش ایک اور طرح کا سفر تھا۔ اس سفر میں اس کا سامنا سب سے پہلے ہاتھوں سے ہوا۔ انگلیاں، ہتھیلی اور کلائی کی مناسب ساخت نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا، مناسب رہ گئے۔ اسے اب یہ خیال آیا کہ اگر اس نے چہرے اور جسم کی تلاش ایک ساتھ کی ہوتی تو شاید اس کا سفر اب تک مکمل ہوگیا ہوتا۔ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ اس کام کو اب اسی انداز سے جاری رہنا تھا۔ انگلیوں کے ناخنوں پر اس کی خصوصی توجہ رہتی تھی۔ اگرچہ ہاتھ کا یہ حصہ کچھ زیادہ اہم نہیں لیکن اسے ابتدا ہی سے ناخن اپنی طرف متوجہ کرلیتے تھے۔ ایک آدھ بار تو اس کی نظر سے ایسا ہاتھ بھی گزرا تھا جسے بدھے ناخنوں نے بدصورت بنا دیا تھا ورنہ دیگر باتوں میں اس نے اپنی زندگی میں اس سے بہتر ہاتھ نہیں دیکھا تھا۔

ہاتھ ملا تو اسے یاد آیا کہ اس نے اپنی زندگی میں کئی بازو ایسے دیکھے تھے جنہیں دیکھ کر اس وقت خیال آیا تھا کہ انھیں کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کرلینا چاہیے۔ مگر وہ تب کی بات تھی۔ اب جب ضرورت پڑی تھی تو اسے اپنی پسند کا بازو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ بازو سے پہلے اسے ٹانگیں ملیں وہ بھی بس اتفاقاً۔ اس دن وہ اپنی کشتی میں نہیں تھا۔ دل کچھ کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا تو اس نے آہستہ خرامی شروع کردی۔ چلتے چلتے دریا سے کچھ دور نکل گیا تو درختوں کے درمیان اسے گمان گزرا کہ اس نے نہایت سڈول توانا نسوانی ٹانگیں دیکھیں۔ وہ ایک دم چونکا۔ ارے ان ہی کی تو تلاش تھی۔ مگر جب واپس کشتی میں جا کر اس نے ان ٹانگوں کو دوسرے اسباب کے ساتھ رکھا تو اسے بے اختیار ہنسی آگئی کیسا کڈھب ڈھانچہ بنا تھا۔ اس نے تو ایک بار چہرے کی خوب صورتی کو بھی گہنا دیا تھا۔

بس اسی وقت اس نے مکمل اور دلکش چہرے کو ہاتھ اور ٹانگوں سے الگ کردیا۔ چہرے کو نہایت حفاظت اور احتیاط سے اپنے اسباب میں رکھ دیا اور ہاتھ اور ٹانگیں باہر رہنے دیں تاکہ باقی حصوں کی تلاش کے عمل میں مشکل پیش نا آئے۔ جیسے جیسے جسم کے حصے ملتے جا رہے تھے اس کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اسے ایسی گردن پسند تھی جو نا تو زیادہ لمبی اور نہ بالکل چھوٹی۔ درمیانی سی گردن جو جب کندھوں سے بلند ہو تو خوب صورت خم بنائے۔ اس گردن کو تلاش کرنے میں اسے زیادہ وقت نہیں لگا۔ جس جسم کے ساتھ یہ گردن لگی تھی وہ عمر میں اگرچہ کچھ زیادہ تھا مگر عمر کا اس نے کیا کرنا تھا۔ گردن کا ماس اور خم بہرحال عمر کے چغلی نہیں کھاتے تھے۔ کام بن گیا۔ اس کے ذہن کے نقشے پر ابھرا۔

اب صرف ہاتھ اور دھڑ باقی رہ گئے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ دھڑ کا معاملہ سب سے نازک ہے اور اس کی تلاش میں زیادہ وقت کھینچے گا۔ مگر ہاتھ تو اب تک مل جانا چاہیے تھے۔ وہ جس ہاتھ کو دیکھتا وہ یا تو بہت باریک ہوتا یا موٹا تازہ اسے تو ایسے ہاتھ کی تلاش تھی جو متناسب ہو۔ کلائی سے اوپر اٹھتی جلد کے شفافیت دیکھنے والے کو بیہوش کردے۔ تب اسے وہ ہاتھ دکھائی دیا اور اس کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ یہ ہاتھ تو پہلے بھی ایک بار دیکھ چکا ہے لیکن تب اسے اس کی تلاش نہیں تھی۔ چلو خیر اب مل تو گیا ہے۔

اب جبکہ وہ قریب قریب اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔ اسے یکلخت یاد آیا کہ جو ٹانگیں اس نے جنگل سے اٹھائی تھیں ان کے ساتھ جڑے پاؤں تو وہیں چھوڑ آیا تھا۔ شاید جلدی میں یاد نہ رہا یا اس وقت یہ بات دھیان ہی میں نہ آئی کہ ٹانگوں کے ساتھ پاؤں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ چلو کوئی بات نہیں۔ بس کام تھوڑا سا بڑھ گیا ہے۔

دھڑ کی تلاش میں مشکل یہ تھی کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کا اچھی طرح جائزہ لینا چاہتا تھا کہ دھڑ کی اس کی توقعات کے مطابق ہے یا نہیں۔ یہ کافی مشکل بات تھی مگر اسے یقین تھا کہ وہ اس مشکل کو بھی کسی نہ کسی طرح حل کرے گا۔ اس کی اس مشکل کو بارش نے حل کردیا۔ برسات کا موسم تھا ایک دن جب وہ کشتی کو دریا کے رخ پر کافی لمبے فاصلے تک لے جا رہا تھا۔ یک دم بارش شروع ہوئی اور اتنی تیزی سے برسی کہ جل تھل ہوگیا۔ اس کی کشتی میں کئی مرد و زن تھے مگر ان میں وہ واحد تھی جو اپنے اردگرد سے بے پرواہ بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ کشتی میں شاید وہ اکیلی سوار ہوئی تھی یا اس کے ساتھ والے بے پرواہ قسم کے لوگ تھے۔ اسے دھڑ کو بہت اچھی طرح تو نہیں مگر پھر بھی کافی حد تک دیکھنے کا موقع مل گیا۔ تب اس نے سوچا اب اس سے بہتر کیا ملے گا۔

رات اپنی کوٹھڑی میں اس نے الگ الگ جگہوں پر رکھے مختلف جسمانی اعضاء نکالے اور انھیں ملا کر ایک جسم بنایا اور اپنے انتخاب پر اسے ایک بار خود رشک آگیا۔ واقعی وہ بہترین جسم تراشنے میں کامیاب ہوگیا تھا اسے پکا یقین تھا جو چہرہ اس نے پہلے مکمل کیا تھا یہ اس کے لیے مکمل متناسب جسم تھا اور بالاخر وہ اپنی پسند کے چہرے کے بعد اپنی پسند کا جسم بنانے میں بھی کامیاب ہوگیا تھا۔ بے پناہ خوشی کی لہر اس کے جسم میں سرایت کرگئی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا بنایا ہوا چہرہ نکالا۔ ایک نر چہرے پر اور ایک نر جسم پر ڈالی۔ اس کی خوشی دوبالا ہوگئی۔ آخر میں نے وہ کام کردیا ہے جو آج تک کوئی نہیں کر پایا تھا۔

ہاں بس ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی تھی یہ پاؤں کی تھی۔ جب اتنا سب کچھ مل گیا ہے تو پاؤں ملنے میں کتنی دیر لگے گی۔ بس سمجھو یہ کام اب مکمل ہوا کہ ہوا۔ واقعی پاؤں ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ اور اس نے اپنی پسند کے جسم کو مکمل کرلیا۔ واہ کیا جسم ہے آج تک ایسا جسم کسی کے نصیب میں کب ہوا ہوگا۔ اور چہرہ دلکش اور مکمل متناسب اور سڈول جسم کے ساتھ سب کچھ اک دم میں خواب سے حقیقت میں ڈھلنے والا تھا۔ اس نے جلدی سے چہرے کو نکالا اور اسے دھڑ پر جمانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

اچانک ایک وہم نے اس کے بڑھتے ہاتھ روک دیئے۔ اگر میرے خیال کے برعکس یہ چہرہ اس جسم کے لیے نہ ہوا تو۔ ابس اس کے اندر ایک نئی کش مکش شروع ہوگئی۔ ایک خیال یہ آتا کہ وہ چہرے کو فوراً دھڑ کے ساتھ لگا دے اور کسی تردید میں نہ پڑے۔ اس نے چہرے کے بہترین خد و خال کو ملا کر دلکش اور مکمل چہرہ تراشا تھا۔ اس نے متناسب اعضا تلاش کرکے جسم کی تخلیق کی تھی۔ بس اس ان دونوں کو ملانا تھا اور ایک لافانی شاہکار موجود میں آجاتا۔ یہ خیال جیسے ہی اسے کام کی تکمیل کے لیے اکساتا۔ اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا اندیشہ اس کے باطن میں پرورش پا رہا ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ چہرہ اور جسم اپنی اپنی جگہ مکمل ہو لیکن ان دونوں کو ملانے سے جو وجود تخلیق ہو وہ کاملیت سے محروم رہ جائے۔ ایک لمحے میں اسے اپنا تعمیر کردہ محل مسمار ہوتا دکھائی دیا۔