سانولی

یہ تحریر 161 مرتبہ دیکھی گئی

سانولی کون ہے
کوئی نہیں جانتا کہ سانولی کون ہے
مگر شاعری کے دربار میں
سانولی کے بوسے کی بڑی اہمیت ہے
اور استعاروں اور کنایوں کے محلے میں
سب سے مقبول کوٹھی بھی سانولی ہی کی ہے
جس کے باہر ایک دھوپ گلی ہے
جہاں ہر روز ایک نئے سویرے کا خواب دیکھنے کے عوض سانولی
چاندی کا کشکول لیے اپنی رات بیچتی ہے
روز کا مال روز ہی بِک جاتا ہے
مگر دھوپ گلی میں کبھی کسی نے سورج چڑھتے نہیں دیکھا
کہ سارا دن تو سورج چڑھنے کا خواب دیکھنے میں گزر جاتا ہے
اور شام ڈھلتے ہی ایک اور رات بکنے کے لیے تیار کھڑی ہوتی ہے
سانولی اس کاروبار میں کیسے پڑی
کوئی نہیں جانتا
سانولی ہے کون یہ بھی کوئی نہیں جانتا
مگر شاعری کے دربار میں سانولی کے بوسے کی بڑی اہمیت ہے
اور استعاروں، کنایوں کے محلے میں سب سے مقبول کوٹھی بھی اسی کی ہے