سالانہ خطبہِ صدارت

یہ تحریر 259 مرتبہ دیکھی گئی

(1)

خواتین و حضرات! سب سے پہلے تو مجھے حلقہِ اربابِ ذوق کے اربابِ بست و کشاد کا شکریہ ادا کرنا ہے جنھوں نے مجھے حلقے کے سالانہ خطبے کے لیے عزّت بخشی۔ ایک ایسا ادارہ، جس نے پچھلی پون صدی سے اُردو کلچر کا علم بلند کر رکھا ہے اور جس نے اُردو ادیبوں کی کئی نسلوں کی فکری و فنّی تربیت کی، اس کی دعوت پر لبّیک کہنا اور اس کے اربابِ دانش سے خطاب کرنا یقینا ایک بڑا اعزاز ہے۔

خواتین و حضرات! کیا یہ ایک دلچسپ اتفاق نہیں کہ حلقہِ اربابِ ذوق کا یہ سالانہ جلسہ ایک ایسے مرحلے پر منعقد ہو رہا ہے جب دُنیا کے ایک نہایت عظیم شاعر اور ڈراما نگار کی وفات پر پورے چار سو سال بیت گئے ہیں۔ میری مراد شیکسپیئر سے ہے جو ۱۶۱۶ء میں فوت ہوا۔ ایک ایسا نابغہ تخلیق کار جس نے تمام عمر اہلِ وطن اور اہلِ عالم کے لیے روشنی اور گرمی کا اہتمام کیا —- ایسی روشنی اور گرمی جس سے عالمی سطح پر قلوب کو حرارت اور ذہنوں کو جلا ملی۔ جس کا قول تھا کہ ہر غلام اپنے اندر اتنی قوّت رکھتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے اپنی غلامی اور ذلّت کا پروانہ چاک کر دے (بہ حوالہ جولیس سیزر)۔ جس کا مؤقف تھا کہ دیانت سے بڑی کوئی وراثت نہیں۔ جس کا خیال تھا کہ مجنوں، عاشق اور شاعر —- ایک ہی تخیّلاتی قبیلے کے فرد ہیں۔ شاعر کی آنکھ زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور جب شاعر کا تخیل حرکت میں آتا ہے تو نامعلوم ہئیتیں متشکّل ہوجاتی ہیں اور وہ خیالی معدومات کو نام اور مقام عطا کرتا ہے۔

شیکسپیئر انگلستان کی نشأۃِ ثانیہ کا فرزند تھا مگر ایسا فرزند جس کی ابتداء ً نہ صحیح تعلیم ہو سکی نہ تربیت۔ وہ اپنے قصبے سے بھاگ کر ایک بڑے شہر میں پہنچا اور رفتہ رفتہ وہاں کے لوگوں کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ دراصل فطرت نے خود اس کی حنا بندی کر دی تھی جس کے نتیجے میں اپنے عہد کی —- اور ہر عہد کی —- بہترین غنائی شاعری اور ”میکبتھ“، ”ہیملٹ“ اور ”کنگ لیئر“ جیسے لافانی المیہ ڈرامے وجود میں آئے۔ شیکسپیئر کے معاصر شاعر اور سیاستدان والٹر ریلے کا قول کس قدر سچا تھا کہ وہ پورا آدمی تھا، ایک نادر الوجود نابغہ:

“Shakespeare was the rarest of all things, a whole man!”

اس نے اپنے کرداروں کو، جو گویا اس کے بچے تھے، اپنی بہترین تخلیقی وراثت منتقل کی۔ ”دردمندی میں گئی ساری جوانی اپنی“، جتنی میر کے بارے میں سچ ہے اتنی ہی شیکسپیئر کے بارے میں بھی درست۔ اور خواتین و حضرات! یہی وہ دردمندی ہے جس کا ہمارے پُرآشوب عہد میں شدید فقدان ہے اور جس کے باعث آج پوری نوعِ انسانی ایک دو راہے پر کھڑی ہے، شیکسپیئر کے اس ہراساں خرگوش کی طرح، (بحوالہ نظم: ”وینس اینڈ ایڈونس“) جو اپنے پچھلے پنجوں پر سیدھا کھڑا ہے اور شکاری کتّوں کی دور سے آتی آوازیں اس کے دل میں ہول اور دہشت پیدا کر رہی ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ اُردو میں شہر آشوب لکھے جاتے تھے، اب وقت آ گیا ہے کہ ”عالم آشوب“ لکھے جائیں۔ یہ کیسا عالمِ اضداد ہے جس میں ایک طرف حیران کن جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ٹرانس ہیومنزم کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور تھری ڈی ٹکنالوجی کی کرشمہ کاریاں متعارف ہو رہی ہیں اور دوسری طرف یہ بنیاد رکھنے والے اپنے ہی بھائی بندوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کی بربادی کے بعد اب شام کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف نظامِ شمسی کے نئے سیّارے دریافت ہو رہے ہیں، بیسیوں نئی کہکشائیں منکشف ہو رہی ہیں اور دوسری جانب اس نیم جاں ارضی سیّارے کے باشندوں کو بربادی اور ہلاکت کے دیوتا، بغیر کسی احساسِ جرم کے، اور بغیر کسی ذہنی خلش کے، موت سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ معاً ”کنگ لیئر“ کا ضرب المثل مکالمہ یاد آتا ہے:

“As flies to wanton boys are we to the gods

They kill us for their sport!”

نامور پرتگالی ادیب ہوزے ساراماگو (۱۹۹۸ء کا نوبیل انعام یافتہ) نے ایک جگہ معاصر عالمی آشوب کو اندھے پن کی وبا سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے خیال میں یہ اندھاپن ہمیں اس بات کی رخصت دیتا ہے کہ ہم مریخ پر راکٹ بھیج کر وہاں کی چٹانوں کی تشکیلی ساخت کو جانچیں پرکھیں مگر اس کرّہئ ارضی پر کروڑوں انسانوں کو بھوک سے مار دیں۔ سارا ماگو کی دانست میں یا تو ہم اندھے ہیں یا پاگل۔ سعدیؒ نے یہی بات صدیوں پہلے برنگِ دیگر کہی تھی:

تو کارِ زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی؟

مارچ ۲۰۱۰ء میں معروف انگلستانی اخبار ”ڈیلی میل“ میں ایک جاذب عنوان کے تحت ایک خبر چھپی: “Slaughter of the Swans.” خلاصہ یہ تھا کہ مشرقی یورپ کے مہاجروں کے ہاتھوں خوبصورت ہنسوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے جو باعثِ تشویش ہے۔ پرندوں کے شکار کیے جانے پر اخبار نویس کی یہ تشویش قابلِ داد سہی لیکن خود اس کا ملک دیگر استعماری طاقتوں کے دوش بدوش خود انسان اور اس کی پُرارزش تہذیب کی بربادی کی جو تاریخ رقم کرتا رہا ہے، اور اب بھی بہت حد تک کر رہا ہے، اس کا حساب کون لے گا؟ مگر اہلِ مغرب اور امریکہ کو تو یہ زعم ہے کہ وہ تہذیب کُش نہیں ”خالقِ تہذیب“ ہیں۔ امریکہ اپنے عوام کو باور کراتا ہے کہ دُنیا کی برائیوں کی اصلاح ہمارا منصب ہے۔ یہ وہی نعرہ ہے جس کا علمبردار ایک زمانے میں انگلستان تھا اور جسے وہ “Whiteman’s Burden” کی لغو ترکیب سے ظاہر کرتا تھا۔ امریکہ کو، بقول ایڈورڈ سعید، یہ زعم ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں دُنیا بھی وہی چاہتی ہے۔ ”ہم“ اور ”وہ“ کی اس ثنویت نے نوعِ انسانی کے مابین ایک بظاہر ناقابلِ عبور خلیج حایل کر دی ہے۔ فلسفے اور تہذیبوں کی تاریخ رقم کرنے والے دردمند اور نامور صاحبِ اسلوب امریکی ادیب و دانشور ول ڈیورنٹ (۱۸۸۵-۱۹۸۱ء) نے اپنی کتاب ”برگہائے اُفتادہ“ یعنی “Fallen Leaves” میں، جو اس کی وفات کے تینتیس برس بعد ۴۱۰۲ء میں شایع ہوئی، ایک جگہ لکھا ہے:

”پینٹیگون کا دعویٰ ہے کہ ہمیں خود کو حملے اور تخریب کاری اور کھلے اور خفی خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے اپنی صنعت، سائنس، دانشگاہوں کو اور ٹیکسوں کا آدھا حصّہ تازہ ترین اور مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے وقف کرنا ہے اور قریباً ایک کروڑ نوجوانوں کو اس امر پر تیار کرنا ہے کہ اُنھیں بغیر کسی اخلاقی یا مذہبی خلش کے حریف کو قتل اور غارت کرنا ہے۔“     (ص۱۷۲)

بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب عزائم یہ ہوں تو دُنیا میں پائیدار امن دیوانے کے ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور جب دمشق میں موجود پہلی عالمی جنگ کا فرانسیسی جرنیل صلاح الدّین ایّوبی کے مزار پر دستک دے کر یہ کہہ رہا ہو کہ “Saladin, we are back.” تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نئی صلیبی جنگوں کا ڈول ڈالا جا رہا ہے!

اب جب وِل ڈیورنٹ کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو بے محل نہ ہوگا کہ اس کی مذکورہ کتاب کے بعض فکر افروز خیالات کا یہاں اجمالاً ذکر ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وسیع النّظر دانشور کو معاصر اور ماضی کی تہذیبوں کا تجزیہ کرنے اور اپنے عہد کے احوال و ظروف کی تحلیل میں غیرمعمولی بصیرت حاصل تھی۔ اس کی بعض آراء اور تعبیرات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور خود مجھے بھی ہے، مگر بحیثیّتِ مجموعی اس کے تجزیے بڑے چشم کشا ہیں۔ ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ ۱۸۸۳ء میں جرمن فلسفی فریڈرک نٹشے نے زوال آمادہ عیسائیت کے تناظر میں اعلان کیا تھا کہ خدا مر گیا۔ اس نے جمہوریت پر بھی شدید اعتراضات وارد کیے تھے۔ وِل ڈیورنٹ دُکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ آج آدھی عیسوی دُنیا سرکاری طور پر عیسائیت ترک کر چکی ہے۔ اسی طرح آدھی عیسوی دُنیا کے نزدیک جمہوریت محض فریبِ نظر ہے، Window-dressing ہے۔ یہ دولت والوں کی، سادہ دل دُنیا پر، حاکمیت ہے۔ تمام یورپ اور امریکہ نے حضرتِ مسیحؑ کی اخلاقیات کو خیرباد کہہ دیا ہے کیونکہ زبردست فوجی قوّت اور نئے عسکری عزائم کے ساتھ اس کی کوئی موافقت نہیں۔ دو عالمی جنگوں کے ہاتھوں عیسائیت شدید طور پر مجروح ہے۔ (ص۵۳)

ان عالمی جنگوں میں انسانوں کی جتنی بڑی تعداد موت کے گھاٹ اُتر گئی تھی اس کا تصوّر ہی ہولناک ہے۔ دراصل جغرافیائی قومیت اور وطنیت کے تصوّر کو پوری انیسویں صدی کے یورپ میں بڑے تواتر سے تقویت پہنچائی گئی تھی اور اس میں، قدامت پسند اور آزاد خیال، دونوں کا حصّہ تھا۔ رچرڈ کوچ اور کِرس اسمتھ اپنی ہنگامہ خیز کتاب (2007ء) Suicide of the West میں لکھتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے پہلے چار مہینوں ہی میں محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ جنگ سب متحارب قوموں کے لیے ہولناک ثابت ہوگی لیکن نام نہاد قومی شناخت کے احساسِ فخر نے اسے ختم نہ ہونے دیا۔ اس جنگ میں پچاسی لاکھ افراد کام آئے۔ دوسری عالمی جنگ اس سے بھی زیادہ ہولناک ثابت ہوئی جس نے چار کروڑ ستّر لاکھ انسانوں کی بھینٹ لی۔ اُدھر دوسری طرف اشتمالیت کے علمبرداروں نے پانچ کروڑ چالیس لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ میرے نزدیک ”مرگِ خدا“ اور دُنیائے عیسائیت کے پڑھے لکھے طبقوں میں عیسائیت کا زوال مغربی تاریخ کا عمیق ترین المیہ ہے —- عالمی جنگوں اور اشتراکیت کی آویزش سے بھی بڑا المیہ! ایک متوازن دانشور کی طرح ڈیورنٹ ماضی کے ارتباط اور انسلاک کو بھی ضروری گردانتا ہے۔ اس کے خیال میں حال مر جاتا ہے، ماضی نہیں۔ پھر اپنی معاصر صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوے لکھتا ہے کہ ہم اہلِ مغرب اپنے وقت کا بڑا حصّہ خبروں میں صرف کر دیتے ہیں جو لمحہِ گزراں سے تعلّق رکھتی ہیں اور جن کا زندہ ماضی سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا۔ شاید ہمارے عہد کی یہ نہایت المناک سچائی ہے کہ خبروں نے ہمارا گلا گھونٹ دیا ہے اور ہم تاریخ سے کورے ہیں:

“We are choked with news and starved of history.” (p.158)

میرے نزدیک ڈیورنٹ کا مقصود یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ افراد و اقوام کے لیے حیاتِ تازہ کا باعث ہو سکتا ہے، خصوصاً جب حال کے احوال آپ کو شدید اضطراب اور احتباسِ دم سے دو چار کریں۔ وِل ڈیورنٹ اگر آج ۲۰۱۶ء میں زندہ ہوتا اور مغربی اور خصوصاً ہمارے ذرائع ابلاغ پر بھانت بھانت کی غُرّاتی جھپٹتی آوازیں سنتا تو اس دُنیا کو فوراً خیرباد کہہ دیتا۔ اقبالؒ کی طرح ڈیورنٹ بھی آزادی کو اس کی حدود کے اندر رکھنا چاہتا ہے اور بے لگام آزادی کو ”طفلانہ خواب“ سے تعبیر کرتا ہے۔ سقراط کا قول یاد آتا ہے جس نے کہا تھا کہ افراد یا ریاستوں میں حد سے بڑھی ہوئی آزادی، غلامی کے مترادف ہے۔ ظلم کی سب سے بڑھی ہوئی قسم انتہا تک پہنچی ہوئی آزادی سے جنم لیتی ہے۔ ذرا اقبالؒ کو بھی یاد کر لیجیے:

ہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی

کہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری

ڈیورنٹ نے ایک پتے کی بات یہ بھی کہی ہے کہ تعلیم کا مقصود صرف عقل کی آبیاری نہیں۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ اس نے کردار سازی خاندان اور کلیسا کے کندھوں پر ڈال دی لیکن چونکہ یہ دونوں ادارے کمزور ہو رہے تھے لہٰذا طالب علم عقل میں تیز اور کردار میں ڈھیلا ہوتا چلا گیا۔ اکبر الہ آبادی کی بصیرت کی داد دینی پڑتی ہے جنھوں نے، تقریباً ایک صدی سے زیادہ عرصہ پہلے برملا کہہ دیا تھا:

علومِ مغربی کے بحر میں غوطے لگانے سے

زباں گو تیز ہو جاتی ہے، دل طاہر نہیں ہوتا

یہ بات معلوم ہے کہ ہر تہذیب اپنے مخصوص تصوّرِ حقیقت کے تابع اور اس کی مظہر ہوتی ہے۔ مغربی تہذیب کے بارے میں اشپنگلر نے کم و بیش ایک صدی قبل جو بات کہہ دی تھی وہ بہت حد تک آج بھی اتنی ہی سچ ہے جتنی اس وقت تھی۔ اس نے کہا تھا کہ مغربی تہذیب اپنی نہاد میں فاؤسٹ کے زاویہِ حیات کی تابع ہے یعنی Faustian (فاؤسٹی اَن) ہے۔ عہدِ وسطیٰ کی کئی داستانوں کا ہیرو فاؤسٹ اس لحاظ سے بڑا بدقسمت واقع ہوا کہ اس نے علم اور قوّت کے حصول کے لیے ابلیس سے اپنی روح کا سودا کیا۔ اوّل تو علم کے الوہی منبع سے صرفِ نظر کرنا اور اسے ابلیس سے طلب کرنا ہی کب صائب تھا، اُوپر سے اس سے قوّت اور اقتدار کی بھیک بھی مانگ لی اور یہ سب کچھ اس نے اپنی روح کی قیمت پر کیا۔ لہٰذا نتیجہ معلوم۔ اوّل اوّل تو اس سے التفات برتا گیا مگر رفتہ رفتہ فاؤسٹ لذّات کی دلدل میں پھنستا گیا اور ابلیس نے اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا۔ مغرب کے اس فاؤسٹی مزاج کا تجزیہ کرتے ہوے ”مغرب کی خودکشی“ کے مصنّفین لکھتے ہیں کہ مغربی تہذیب کا مقصود بھی حصولِ قوّت ہے اور یہ مسلّمہ اتھارٹی، ثقافتوں، روایتوں، نظامِ عقاید، قبل از صنعتی انقلاب کے طرزِ حیات اور اس سیّارے کے ماحولیاتی نظام کو تہس نہس کرنے والا ہے۔ (ص۲۲) اس کے بعد کا ایک جملہ ایسا ہے جسے اصل انگریزی زبان ہی میں قوٹ کرنا مناسب ہوگا۔ لکھتے ہیں:

“They (the Westerners) always want to do something, when often the best thing is to do nothing. (p.22)

جب ہر شے کو چیلنج کرنا اور اس کے وجود کی نفی ہی مطمحِ نظر ٹھیرا اور مقصودِ نہائی حصولِ قوّت، تو اس کا نتیجہ مثبت اقدارِ حیات اور مسلّمات کے ردّ کے سوا کیا نکلتا۔ مصنف کی موت، تاریخ کا اختتام، مرکز کی نفی، ریاست کا اختتام اور صداقتِ نہائی کی موت اور اس طرح کے شاخسانے اسی طرزِ فکر سے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔

اب اس کے برعکس، ثبات اور دستورِ حیات، ابنِ آدم کی نفسی اور روحانی ضرورت ہے۔ جب نظامِ عقاید کی نفی اور خدا کی موت کے مظاہر اور اعلانات ہونے لگیں تو تہذیبیں اپنے برگ و بار کھونے لگتی ہیں۔ نفعِ عاجل کی طلب، ہوسِ ملک گیری، کبھی نچلّا نہ بیٹھنے والا تجسّس ایسے ہی طرزِ احساس کے زائیدہ ہوتے ہیں۔ اسی کی کوکھ سے تیل کی دولت پر قبضے اور معدنی وسایل کی لوٹ کھسوٹ کے مظاہر جنم لیتے ہیں۔ اس لوٹ کھسوٹ کا کیسا زندہ اور توانا اظہار اٹھارویں صدی کے شاعر مصحفیؔ کے ہاں نظر آتا ہے:

ہندوستاں کی دولت و حشمت، جو کچھ کہ تھی

ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی!

اب اس اکیسویں صدی میں تو لوٹ کھسوٹ کا یہ دائرۃ السُّو اس قدر پھیل چکا ہے کہ اس میں کئی بڑے بڑے آسمانی سیّارے سما جائیں! اس لوٹ کھسوٹ کو کوچ اور کِرس “The Insane Age of Imperialism” سے تعبیر کرتے ہیں جس کا زمانہ ۱۸۷۰ء سے ۱۹۱۴ء تک پھیلا ہوا ہے۔ دوستووفسکی کے کردار آئیون کرامازوف (Ivan Karamazov) نے ناول کے محضر پر کتنا بڑا سچ اُگل دیا تھا:

“If there is no God, everything is permitted.”

درحقیقت یہ وہ نفی ہے جو اپنے اگلے مرحلے ”اثبات“ سے محروم ہے اور ”نفیِ بے اثبات“ کے بارے میں غالب جیسے بے مثل حکیم نے بہت کھل کر کہہ رکھا ہے:

نفیِ بے اثبات نَبُوَد جز ضلال

(اِثبات سے محروم نفی سوائے گمراہی کے اور کیا ہے؟)

معاصر عالمی صورتِ حال یہ ہے کہ اس پر یک قطبی نظام تیزی سے مسلّط ہو رہا ہے۔ غریب اور کمزور قومیں غریب تر اور کمزور تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے اقتدارِ اعلیٰ پر حملے ہو رہے ہیں۔ اپنا مطلب نکالنے کے لیے جمہوریت بھی جائز ہے اور آمریت بھی۔ اس ارضی سیّارے کی ہواؤں، پانیوں اور خوراک  —- سب میں زہر گھل رہا ہے۔ آبی ذخیروں میں مچھلیاں مر رہی ہیں اور آبی حیات مسلسل مسموم ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ٹمبر مافیاؤں کے ہاتھوں جنگلوں کے جنگل صاف ہو رہے ہیں۔ ماحولیات کی موت (Ecocide) ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ گلیشیئر پگھلنا شروع ہو گئے ہیں کیوں کہ عالمی حرارت آفرینی (Global Warming) میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے حیاتِ انسانی، حیوانی اور نباتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پوچھا جا رہا ہے کہ انسانی دماغ کا مستقبل کیا ہے؟ حال آں کہ اصل سوال یہ ہے کہ خود انسان کا مستقبل کیا ہے؟ اقبالؒ نے ۱۹۰۹ء میں کیسی بصیرت افروز بات کی تھی:

“Fight not for the interpretation of truth when the truth itself is in danger.”

دولت کی نامساوی تقسیم کے ضمن میں وِل ڈیورنٹ لکھتا ہے کہ تاریخ میں پہلے بھی ارتکازِ دولت کے شواہد موجود رہے ہیں جس سے مریضانہ بلکہ سرطانی صورتِ حال پیدا ہوتی رہی ہے۔ معاصر صورتِ حال یہ ہے کہ اب پھر انقلاب کی فریاد امریکہ، فرانس اور اٹلی میں بلند ہو رہی ہے۔ یہ فریاد روس اور چین کی صدائے بازگشت ہی نہیں بلکہ تلخ کام و تلخ ایّام غربت و افلاس کا احتجاج ہے جو متکبّر دولت کے دوش بدوش زندگی گزار رہی ہے۔ طالب علم صاحبانِ اقتدار کا تختہ اُلٹنے کے لیے ہفتہِ جدوجہد منانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ (ص۱۷۰)

ڈیورنٹ نے تو یہ بات آج سے کم و بیش چالیس بیالیس برس پہلے کہی تھی، تازہ ترین صورتِ احوال معاشیات کے نوبیل انعام یافتہ جوزف ای اِسٹِگلٹز (Stiglitz) کی زبانی سنیے، جس کی کتاب “The Great Divide” (وسیع خلیج) پڑھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔ یہ کتاب ابھی پچھلے برس شایع ہوئی ہے۔ مصنف کے خیال میں آج کا امریکی خاندان پچیس برس پہلے کے مقابلے میں بدتر حالت میں ہے۔ وہ امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا ذکر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ امریکہ میں نہایت دولتمند افراد کا تناسب محض ایک فیصد ہے۔ باقی ننانوے فیصد وہ مخلوق ہیں جو معاشی ناآسودگی کا شکار، حال سے بے حال اور مستقبل کے باب میں شدید بے یقینی اور بے اطمینانی کا شکار ہیں۔ اب یہ شعور اس ایک فیصد اقلیت کو بھی ہونے لگا ہے جو دبے لفظوں میں ۱۷۸۹ء کے انقلابِ فرانس میں کثرت سے استعمال ہونے والے گلا کاٹ ہتھیار گلوٹین کا ذکر کرنے لگے ہیں۔ دُنیا کے ان ایک فیصد لوگوں کے پاس باقی دُنیا کی دولت کا آدھا حصّہ ہے! اِسٹِگلٹز نے جمہوریت کے بارے میں مشہور قول: “By the people, of the people, for the people” کا مضحکہ اُڑاتے ہوے ۲۰۱۱ء میں اپنے ایک مقالے کا عنوان جمایا تھا، جو نہایت بلیغ تھا اور امریکی جمہوریت پر ایک لطیف طنز: “Of the one percent, by the

one percent, for the one percent.”

آپ کو یاد ہوگا کہ معاشی ناآسودگی کے شکار ننانوے فیصد غریب امریکی شہری پچھلے چند برسوں میں وال اسٹریٹ میں کئی بڑے بڑے جلوس نکال چکے ہیں اور ان کا نعرہ یہ رہا ہے: “We are ninety nine percent!”۔ یہ نعرہ بذاتِ خود بڑا بلیغ اور معنی خیز ہے۔

ابھی اوپر میں نے دوستووفسکی کا قول نقل کیا تھا کہ اگر خدا مر گیا تو پھر ہر شے کی اجازت ہے۔ دراصل ذاتِ حق کے وجود کے ساتھ بہت سے تصوّرات وابستہ ہیں۔ سزا و جزا اور عاقبت کے تصوّر اُسی کے ساتھ جڑے ہوے ہیں۔ خود کائنات کی تخلیق بھی اسی کے وجود سے وابستہ ہے۔ ماضی اور حال کے متعدّد عقل پرست ذاتِ حق کے وجود سے برسرِپیکار رہے ہیں اور یوں صریح انکار یا تشکیک کے متعدّد پیرایے اظہار پاتے رہے ہیں۔ زمانہِ حال کے ممتاز اور عالمی شہرت کے حامل ماہرِ ریاضیات و طبیعیات و فلکیات اسٹیفن ہاکنگ نے متعدّد دلچسپ اور فکر انگیز کتابیں لکھی ہیں جن میں ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ نے غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی۔ اُس کی دو اور کتابیں: ”بلیک ہولز اینڈ بے بی یونیورسز“ اور ”دی گرینڈ ڈیزائن“ بھی کچھ برس پہلے شایع ہوئیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کی ان کتابوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ موصوف کی ساری کوشش یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ یہ کائنات ابدی طبیعی اُصولوں کی بنیاد پر وجود میں آئی اور اس کے لیے کسی خالقِ کائنات کا وجود ضروری نہیں۔ ہاکنگ کا کہنا ہے کہ حقیقت کی نوعیّت کیا ہے؟ کائنات کا طرزِعمل کیا ہے؟ کیا کائنات کے لیے کسی خالق کی ضرورت ہے؟ وعلیٰ ہذا القیاس! یہ سب بنیادی طور پر فلسفے کے سوالات ہیں مگر فلسفہ مرچکا ہے کیونکہ فلسفہ سائنس کے جدید اکتشافات، خصوصاً طبیعیات، کے قدم بہ قدم نہیں چل سکا۔ اس کا خیال ہے کہ حقیقت کا سادہ تصوّر جدید طبیعیات سے ہم آہنگ نہیں۔ حقیقت کا کلاسیکی تصوّر یہ تھا کہ ہر شے کی محض واحد تاریخ ہے جبکہ کوانٹم مکینکس کا تصوّر یہ ہے کہ کسی شے کی واحد تاریخ نہیں متعدّد امکانی تاریخیں ہو سکتی ہیں۔ ایسی تاریخیں ایک دوسری کی معاون ہو سکتی ہیں۔ شاید تنقید اور عمرانیات میں تکثیریت کا تصوّر یہیں سے پیدا ہوا ہو مگر ادبی اور تخلیقی سطح پر یہ تصوّر نیا نہیں۔ جب اُستاد ذوق نے یہ شعر کہا تھا تو وہ تکثیریت ہی کی تحسین اور اثبات تو کر رہا تھا:

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن

اے ذوق، اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

بہرحال ہاکنگ کے نزدیک سائنس کے فلسفیوں کو طبیعیات کے نئے محاذوں کا علم نہیں۔ وہ اب تک بیسویں صدی کے سائنسی تصوّرات یعنی نظریہِ اضافیت اور کوانٹم مکینکس کی لکیر پیٹ رہے ہیں۔ کوانٹم مکینکس سے طبیعیات کا اگلا سنگِ میل اب ایم تھیوری (M.Theory) ہے جو، بقول ہاکنگ، پُرامید ہے کہ یہ ہر شے کی تھیوری ثابت ہوگی۔ ایم تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری کائنات ہی سب کچھ نہیں۔ اس تھیوری کا مفروضہ یہ ہے کہ متعدّد کائناتیں عدمِ محض سے وجود میں آئیں۔ ہاکنگ کے نزدیک ان کے وجود میں آنے کے لیے کسی مافوق الفطرت ذات یا خدا کی مداخلت کی ضرورت نہ تھی بلکہ یہ متعدّد کائناتیں طبیعی اُصول کے تحت وجود میں آئیں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قوانینِ طبیعی کیسے اور کہاں سے وجود میں آئے؟ کیا یہ بھی عدمِ محض سے وجود میں آئے یا ان کے پسِ پشت کسی ایسی ذات کی کارفرمائی تھی جو علۃ العلل ہے یا جسے واجب الوجود کہا جاتا ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب اسٹیفن ہاکنگ کے پاس نہیں —- اسٹیفن ہاکنگ کیا —- کسی بھی تعقّل پرست کے پاس نہیں۔ ہاکنگ یہ تو کہتا ہے کہ اب شاید یہ بتایا جا سکے گا کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا؟ لیکن یہ اس کے علم میں بھی نہیں کہ اس کا آغاز کیوں ہوا؟ بات وہی ہے جس کا اظہار اقبالؒ نے مدتوں پہلے کر دیا تھا:

زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل

بیا کہ عشق مسلمان و عقل زناریست

دیکھا جائے تو فلسفے کی ساری تاریخ ”زماں زماں شکند“ کی تاریخ ہے، گو کہ یہ تاریخ ہے بہت مزے کی!

جاری ہے۔۔۔۔۔