زماں نوردی کے ہیر پھیر

یہ تحریر 1188 مرتبہ دیکھی گئی

پہلے ہم بہت دور افتادہ ماضی کی طرف سفر کرتے ہیں جس کے بارے میں ہمیں بہت کم معلوم ہے اور اسی تناسب سے اس زمانے کے احوال کو کم سمجھ پاتے ہیں اور پھر مختلف ادوار میں سیر کناں مستقبل میں جا نکلتے ہیں۔ اس مستقبل کے متعلق بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ وہ پریشان کن اور آمرانہ یا نامنصفانہ نظر آتا ہے۔ اسامہ صدیق کا پینگیں لیتا ناول، جو تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے، عزم اور ادعا سے بھی عبارت ہے اور ولولہ خیز بھی ہے۔ ناول کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصہ کسی نہ کسی مختلف زمانی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ پہلے ہمارا گزر موہنجوداڑو سے ہوتا ہے۔ واقعات 2084ق م میں پیش آتے ہیں جب وادیِ سندھ کا یہ عظیم شہر روبہ زوال تھا۔ اس کے بعد ٹکشاسیلا کی درس گاہ جا پہنچتے ہیں۔ پھر شہنشاہ جہانگیر کے دور سے دو چار ہوتے ہیں۔ 1857ء کے خونیں ایام کی جھلکیاں دیکھتے ہیں۔ 2009ء کے لاہور سے یعنی اپنے دیکھے بھالے زمانے سے واسطہ پڑتا ہے اور مستقبل کی راہ لیتے ہیں جس میں 2084ء کا ذکر ہے۔ اس دائرہ وار سیر و سفر سے بڑی چابک دستی سے نمٹا گیا ہے۔ بیانیے کے دونوں سروں پرانتشار ہے۔ موہنجوداڑو کا سنہرا دور بیت چکا ہے، شکوک کی پرچھائیاں لمبی ہو چلی ہیں اور دوسری طرف آج سے ساٹھ برس بعد کا زمانہ ہے جب پانی کی قلت نزاع اور جھڑپوں کا باعث بنتی رہتی ہے۔ دنیا دو طبقوں میں بٹ چکی ہے۔ حکمراں طبقہ تمام جدید ترین سائنسی آلات سے لیس ہے اور جن لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے وہ جنگلوں میں رہتے ہیں اور مزاج دار اور پُررعونت بالاتر طبقے کی زبان میں “پچھلے” کہلاتے ہیں۔
ناول کا کوئی مرکز نہیں اور نہ کوئی مرکزی کردار ہے۔ بس مسلسل بہاؤ ہے جو قاری کو ادھر اُدھر لیے جاتا ہے۔ ناول کو جس طرح مرتب کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر کوئی مرکزی کردار ہونا ضروری بھی نہیں تھا۔ تاریخ بجائے خود ایک گدلا بہاؤ ہے جس میں کردار بلبلوں کے مانند ہیں۔ ایک بحرِ ذخار سے نمودار ہوتے ہیں اور ذرا دیر کو اپنی چھب دکھا کر اسی تموج میں ناپید ہو جاتے ہیں جہاں سے انھیں سر ابھارنے کا موقع ملا تھا۔ خود تاریخ بھی کیا ہے۔ ایک نوع کا فکشن ہی تو ہے جسے ہمیشہ فاتحین قلم بند کرتے ہیں اور مظلومین کے احساسات اور وقائع کی ترجمانی شاذ ہی ہوتی ہے۔ یہ صرف ادب ہے جس میں عادلانہ طور پر ہم فاتحین اور شکست خوردگان دونوں کی آوازیں صراحت سے سن سکتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ ادب اور فنونِ لطیفہ ہی وہ وسائط ہیں جن کے ذریعے جمہوری اقدار کے فطری انداز میں پنپنے کے امکانات روشن رہتے ہیں۔ ورنہ اصل دنیا میں تو جمہوریت محض فریب ہے جس کی مدد سے بالا دست طبقے اپنے اقتدار پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
یہ ناول دنیا کو اس طرح پیش کرتا ہے جیسے وہ ماضیِ بعید میں کبھی تھی یا ماضیِ قریب میں کبھی تھی، جیسی آج ہے یا آیندہ کبھی ہوگی۔ جو تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ خوش آیند یا رجائی نہیں۔ تاریخ کے اس نیرنگ وش وژن کو جس شے نے جکڑ رکھا ہے وہ قنوطیت کا جال ہے، ایسا جال جو کسی آئس برگ کی طرح تھوڑا سا ظاہر اور بیشتر نہاں ہے۔ اس جال کو توڑ کر آزاد ہونے کے خواہاں بساط بھر پھڑکتے تو ہیں لیکن آخر میں اپنے بے دست و پا ہونے کے احساس کے سامنے سپر انداز ہو جاتے ہیں۔ فطانت سے بہرہ ور کوئی بھی ناول نگار تاریخ کو رنگین ملمع میں لپیٹ کر پیش نہیں کرے گا۔ اسامہ صدیق نے بھی، بغیر کسی لحاظ کے، حقائق پر، جو تلخ ہی سہی، نظر جمائے رکھی ہے۔
موہنجوداڑو میں چند افراد مہنتوں اور پجاریوں کی آمرانہ حاکمیت کو، جو فریب پر استوار ہے، للکارتے ہیں، ناکام رہتے ہیں اور اس امید پر،اپنے وطن کو چھوڑ کر ہڑپہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں کہ شاید وہاں کہیں زندگی کو آزادانہ طور پر، اپنی شرطوں کے مطابق، گزارنے کا موقع مل جائے گا۔ یہی فریبِ نظر ہے جو سمجھوتا نہ کرنے والوں کی ہمت کو سدا سہارا دیتا آیا ہے۔
ٹکشا سیلا کی درس گاہ بھی سیلِ حوادث کی زد میں آنے والی ہے۔ سفید ہنوں کا ایک لشکر علاقے کو تاراج کرنے کے لیے بڑھا آ رہا ہے۔ بعد کے زمانے میں آنے والے منگولوں کی طرح ان حملہ آوروں کے لیے بھی علوم، فلسفے اور درس گاہیں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ انھیں غارت گری مرغوب ہے۔ درس گاہ سے عالموں کی ایک ٹولی عافیت کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔ موہنجوداڑو چھوڑنے والوں اور اس گروہ میں یہ جلاوطنی قدرِ مشترک ہے۔
بعدازاں جہانگیر کے دور میں ہم دو واہیات ڈھونگیوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو اس امید پر مارے مارے پھر رہے ہیں کہ کبھی نہ کبھی دھوکا دھڑی سے ان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ یہ ناول کا کم دلچسپ حصہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دونوں گاؤوں جو کچھ کرتے اور کہتے ہیں وہ بے لطفی کا باعث ہے۔ وہ نہ مسخرے ہیں نہ دانا احمق۔ ان کے گھٹیا عزائم اور احمقانہ گفتگو کی تاب لانا مشکل ہے۔ تاہم ان میں سے ایک پھانسی چڑھتے وقت جس بے خوفی اور راضی برضا ہونے کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اثر سے خالی نہیں۔ شاید آخری لمحات میں اس کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ زندگی کی نوازشات سے محرومی اس کا مقدر ہے اور موت کو گلے لگانا ایک طرح کا چھٹکارا۔
پھر 1857ء میں لاہور میں تعینات مقامی فوج کی بے بسی سامنے آتی ہے۔ وہ نہ لڑ سکتے ہیں نہ فرار ہو سکتے ہیں۔ لڑنا بھی چاہتے تو کتنی دیر لڑ پاتے؟ توپ خانہ ان کے پاس تھا نہیں۔ صرف بندوقیں تھیں۔ ایمونیشن ختم ہو جانے کی صورت میں ہار ماننی ہی پڑتی۔ انگریز فوجی اور ان کے مقامی پٹھو انھیں چن چن کر مار ڈالتے ہیں۔ ایک اور شکست۔ 1857ء ہی سے متعلق میر صاحب داستان گو کا قصہ ہے جنھوں نے اپنے ہم وطنوں کو انگریزوں کے دغل و فریب سے خبردار کرنے کی کوشش کی، کامیاب نہ ہو سکے اور آخر لاہور سے اس طرح رخصت ہوئے کہ ان کے سامنے نہ کوئی منزل تھی نہ کوئی مقصد۔ ایک اور بے وطنی۔
اس کے بعد ہم 2009ء کے لاہور میں جا پہنچتے ہیں جہاں ایک ضعیف اور بے یار و مددگار عورت انصاف کی تلاش میں عدالتوں کے چکر لگاتی رہتی ہے اور جسے وکیل بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔ اس روداد کے متوازی ایک ڈکیت کا احوال ہے جو اپنی مجرمانہ زندگی کے علی الرغم ہم دردی اور انسانیت سے لاتعلق نہیں۔ بچ وہ بھی نہیں سکتا اور مارا جاتا ہے۔ ضعیف عورت کو بالآخر پناہ ملتی ہے تو میانی صاحب کے قبرستان میں۔ 2009ء سے متعلق ابواب سب سے دلچسپ اور تر و تازہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ یہی وہ دور ہے مصنف جس کی رگ رگ سے واقف ہے اور قربت کی یہ کیفیت بیانیے کو نمکین بنا دیتی ہے۔ پرانے وقتوں کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمیں تخیل پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آج سے پانچ ہزار یا دو ہزار یا چند سو برس پہلے لوگ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے تھے اور ان کے مسائل کیا تھے۔ تاریخ صرف ادھوری اور یک طرفہ تصویر پیش کر سکتی ہے۔ تخیل کے زور سے ہم اپنی قیاس آرائیوں میں جان ڈال سکتے ہیں۔ یہاں پر یہ کہا جانا چاہیے کہ اسامہ صدیق کا تخیل خاصا زرخیر ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ اس ناول کی پیچیدگی اور اتار چڑھاؤ سے نباہ نہ کر سکتے۔
مستقبل کی بات رہ گئی۔ تبدیلیوں کی لہر روزبروز تیز ہوتی جا رہی ہے۔ آج سے ساٹھ سال بعد کی دنیا کیسی ہوگی اس کا اندازہ صحیح طور پر تو لگایا نہیں جا سکتا لیکن کہیں آس پاس پہنچنا ممکن ہے۔ بیانیے میں جس سرزمین کا ذکر ہے وہ پاکستان میں واقع ہے۔ آبی وسائل کے لیے جھگڑے ہیں، جھڑپیں اور جنگیں ہیں۔ برسراقتدار طبقہ بہت میکانکی، متکبر اور غیر انسانی ہو گیا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر دور میں بعض لوگ اقتدار کی آمریت سے ٹکر لیتے ہیں۔ اگر لڑ نہیں سکتے تو قطع تعلق پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہاں بھی ایک کردار، پرشنتو آدم فاروقی، جابرانہ ماحول سے بیزارہو کر ان لوگوں کے پاس چلا جاتا ہے جنھیں “پچھلے” یا فروتر انسان یا جنگلی سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں نیا نایاب نامی خاتون بھی فاروقی کی تقلید کرتی ہے۔ ایک لحاظ سے نیا آدم اور نئی حوا۔ لیکن جس جنت میں انھوں نے قدم رکھا ہے وہ پہلے ہی سے آباد ہے۔ یہ ہبوط نہیں، اپنی پرانی اقدار کی طرف مراجعت کی جدوجہد ہے۔
ناول میں جن حقائق کی پاس داری کی گئی ہے ان کی موزونیت اور سنگینی سے انکار ممکن نہیں۔ شکستوں سے چُور بیانیہ جہاں یہ دکھاتا ہے کہ برسر اقتدار طبقات سے ٹکر لینا بڑی حد تک عبث ہے وہیں ان افراد کے حق میں خراجِ تحسین بھی ہے جو ہار نہیں مانتے۔ یہ استقلال ظلم سے اندھیری دنیا میں جا بجا چراغ روشن کرتا ہے جنھیں طوفانی ہواؤں کا استبداد بجھا نہیں سکتا۔ جب تک یہ دنیا اور اس میں رچی ہوئی ناانصافی قائم ہے کوئی نہ کوئی اس سے پنجہ آزمائی کے لیے آتا رہے گا۔ یہ زاویہ ہائے نظر ہیں جن میں ہارنے والے جیتتے اور جیتنے والے ہارتے دکھائی دیتے ہیں۔ صرف اس ضعیفہ کا کردار حیران کرنے والا ہے جس نے زندوں کے ساتھ رہنے کے بجائے رفتگاں کی قربت اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ وہ جان گئی تھی کہ دنیا کے پاس اس کے لیے کچھ نہیں۔ اس لیے “دلِ بے مدعا” سے بڑی نعمت کہاں مل سکتی تھی۔ شاید اس کے لیے ابدیت کا آغاز ہو چکا۔ یہ سعادت ناول میں کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ امید رکھنی چاہیے کہ اسامہ صدیق کا قلم رکے گا نہیں۔ نہ جانے ابھی کتنی کہانیاں ان کے تعاقب میں ہوں گی۔
ناول انگریزی میں لکھا گیا تھا اور پنگوئن بکس نے شائع کیا تھا۔ اردو میں اسے عاصم بخشی نے منتقل کیا ہے جن کا شمار ہمارے اچھے مترجموں میں ہوتا ہے۔ ان کی جچی تلی اور جان دار نثر اردو کی بہت سی طبع زاد تحریروں پر فوقیت رکھتی ہے۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک کردار کا نام پہلے سکندر ثانی تھا۔ بعد میں اسکندر ثانی ہو گیا۔ یہ غلطی اسامہ صدیق کی نہیں ہو سکتی اور نہ عاصم بخشی سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کمپوزنگ یا پروف خوانی کے دوران میں چوک ہوئی ہے۔
کتاب کو بک کارنر، جہلم، نے حسبِ معمولی نہایت سلیقے سے شائع کیا ہے۔
چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں از اسامہ صدیق
ناشر: بک کارنر، جہلم
صفحات: 480؛ بارہ سو روپیے