زخمِ بہار

یہ تحریر 259 مرتبہ دیکھی گئی

“زخمِ بہار” باقی صدیقی کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس شاعری کا تذکرہ اردو غزل کی روایت میں کم ملتا ہے۔ اگر کوئی ذکر کہیں آتا بھی ہے تو حاشیے تک محدود ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ہمارے ہاں شاعری کے معاملے میں تعینِ قدر کا معاملہ بڑا حساس ہے۔ لوگ پہلے پہل کسی کی تعریف کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ یہ ڈر رہتا ہے کہ جو خصائص ہم اس شاعر میں بتائیں گے اگر دوسرے ان سے متفق نہ ہوئے تو پتا نہیں کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس لیے ہم انتظار کرتے ہیں۔ جب تک لکھنے والوں کا جید طبقہ اس کلام کی گواہی نہیں دیتا اس وقت تک ہم اپنی رائے روکے رکھتے ہیں۔ جب چند مضامین چھپ جاتے ہیں پھر چل سو چل۔ القابات کے مترادفات تلاش کیے جاتے ہیں اور ایک نئی ستائشی لغت مرتب ہو جاتی ہے۔

باقی صدیقی کے بارے میں ایسا نہیں ہوا۔ مستند گواہیاں میسر نہ ہو سکیں اور ہوتیں بھی کیسے۔ ادبی اشرافیہ کا اعتماد حاصل کرنا کون سی آسان بات ہے۔ انا کی قربانی دینا پڑتی ہے اور وہ شاعر ہی کیا جو خراج کی گدائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے۔ پھر خیال آتا ہے کہ باقی صدیقی کے پاس کوئی بڑا منصب نہیں ہوگا۔ ورنہ تو اس کی زندگی میں درجنوں مقالات لکھے جا چکے ہوتے۔ اور آج وارثینِ باقی صدیقی، باقی صدیقی فاؤنڈیشن بنا کر یافت کے جدید طریقوں سے اپنی معیشت کو دگنا تگنا کر رہے ہوتے۔ کانفرنسیں، سیمینار ہو رہے ہوتے۔

شاعر کی خوش بختی کہ ایسا نہیں ہوا۔ اور “زخمِ بہار” انہی قالبوں کے حصے میں آئے جو ان کی چبھن اور کسک کو محسوس کر سکتے تھے۔ اس کتاب میں کتنے ہی ایسے اشعار ہیں جو غزل کی روایت میں باوقار انداز میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ان اشعار میں کس حسن کے ساتھ جذبہ لفظ بنا اور اس لفظ میں کتنا لبھانے والا تاثر موجود ہے۔ یہ شعر ایک محسوس کرنے والا دل ہی کہہ سکتا ہے۔ اس لیے یہ واردات ایک دل تک محدود نہیں رہتی بلکہ کئی دلوں کی آواز بن جاتی ہے۔ ایک طرح کی بے خودی ان اشعار کے حصے میں آئی ہے۔ جیسے کوئی دلِ درد مند دل کی کتاب کی قرأت کر رہا ہو۔

باقی صدیقی کے لہجے کا دھیماپن اسے شاعروں کے اس قبیلے سے جوڑتا ہے جو شعر کہتے ہوئے کسی وقتی کیفیت میں بپھرتے نہیں بلکہ ایک آہستہ چلتی ہوئی آب جو کی طرح رواں رہتے ہیں۔

تم زمانے کی راہ سے آئے

ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

یہ وہ شعر ہے جو ہر دل کی آواز بنا۔ شعر کا معاملہ عجیب ہے۔ اس میں دعویٰ نہیں چلتا۔ اور ہنر میں یکتائی کا دعویٰ دار سب کچھ ہو سکتا ہے شاعر نہیں ہو سکتا۔ یہ عجز کا کام ہے۔ اس شاعر کے حصے میں ہر وہ کیفیت آئی جس سے کوئی بھی اہلِ دل گزرتا ہے۔ اس نے اس کیفیت کی آواز میں آواز ملائی ہے اور ملاپ سے ایسی آواز نے جنم لیا جس میں حسن ہے۔ سبھاؤ ہے۔ زندگی کی کلفتوں کا بیان ہے۔ اور حیرت اس وقت ہوتی ہے جب تکلیف کے اس بیان میں شاعر اپنے اعصاب کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنے ردِّعمل میں تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتا۔

زندگی اس کی ہے جو دنیا کو

زندگی دے کے نظر لے آئے

کتنا دلفریب سودا ہے۔ اس لین دین میں کتنا حسن ہے۔ زندگی دی جا رہی ہے اور نظر لی جا رہی ہے۔ دنیا سے کیا جانے والا یہ سودا آخر کتنے لوگ کر سکتے ہیں۔ اور دنیا انسان سے اس کی نظرکی بقا کے بدلے میں کم از کم قیمت زندگی کی صورت میں وصول کرتی ہے۔ اور شاعر کے پاس نظر ہی تو ہوتی ہے جو اسے زندگی کی بساط پر موت کا کھیل کھیلنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اپنی شرطوں زندگی جینا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔

کس کس سے بچائے کوئی دل کو

ہر گام پہ ایک مہرباں ہے

باقی صدیقی نے ان مہربانوں سے بڑے جتن کرکے اپنے دل کو بچایا ہے اور اس دل کو محبت جیسے مقدس جذبے کی امان میں دیے رکھنے میں ہی عافیت جانی ہے۔

زمانہ گم، زمیں گم، آسماں گم

خیالِ دوست میں سارا جہاں گم

تغیر آشنا ہے سطحِ دریا

کبھی کشتی کبھی موجِ رواں گم

نظر اٹھی ہی تھی سوئے زمانہ

ہوا اتنے میں تیرا آستاں گم

اس شاعر کے سروکار تو دیکھیں جو محبوب کی یاد سے ایک پل غفلت بھی گوارا نہیں کر رہا۔ اس کے نزدیک اگر زمانے کو معاملاتِ دل میں شامل کیا تو یاد کی مالا ٹوٹ سکتی ہے۔ بھلا دل کے سامنے دنیا کی بساط ہی کیا ہے۔ مگر اس کیفیت کا ادراک کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ دنیا کی پروا کرنے والوں کی کیفیت اور انجام زندگی سے بے لطف ہو جانے کے علاوہ اور کیا ہے۔

موت اپنی نہ زندگی اپنی

کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ

اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقی

زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم

آخر انسان کتنے لوگوں کو خوش رکھ سکتا ہے۔ “زخمِ بہار” کے حصے میں کتنی عجیب و غریب کیفیات آئی ہیں۔ متصادم احساسات کا بیان قاری کے زخموں کو ہرا کرتا نظر آتا ہے۔ غم، خوشی، قرار، بے قراری، نفی، اثبات، روشنی، اندھیرا ایک جھٹپٹے کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ یہ کتابی مشاہدے کی حامل شاعری ہرگز نہیں۔ اس شاعری میں دل کا صرفہ نظر آتا ہے۔

بن سکے سرخیِ رودادِ حیات

خونِ دل اتنا پس انداز تو ہے

شاعر کے نزدیک غمِ دنیا کا مداوا جذبہئ محبت میں ہے اور محبت ہی ایسی حرکی طاقت ہے جو دہشت کے سامنے دریا دل لوگوں کا مہذب ترین احتجاج رہا ہے۔ ایک شاعر کے دل ہی میں یہ جذبہ سما سکتا ہے اور پھر ایک زمانہ اس کا ہم آواز بن جا تا ہے۔

یہی جہاں تھا یہی گردشِ جہاں تھی کبھی

تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی

دنیا والو یہ ماجرا عجب ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک گردشِ جہاں کسی کے ابرو کا اشارہ ہی تو ہوتا ہے۔ جب اپنا آپ کسی کے سپرد کر دیا تو پھر کیسی فنا اور کیسی بقا۔ بقا اور فنا کے جذبے محدود ہو جاتے ہیں۔ دماغ دل کی بیعت میں آ جاتے ہیں۔ سرکشی فرماں برداری میں بدل جاتی ہے۔ محبت احساس کی صورت دل میں داخل ہوتی ہے اور دل سنہرے ہو جاتے ہیں۔ باقی صدیقی کی شاعری مشکل مشکل تشبیہات و استعارات کا پشتارا ہرگز نہیں بلکہ ایک آسانی اور سہولت اس شاعری کا وصف ہے۔ اس آسانی کی تلاش میں شاعر کو بہت مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔ اور پھر اپنے اوپر بیتے لمحے لمحے کا ادراک حاصل ہو جاتا ہے۔

دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں

گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید

یہ کیسے سائے ہیں، یہ کیسا عجب مرحلہ ہے۔ ایسے اشعار کو محبت کا فیضان نہ کہیں تو اور کیا نام دیں۔

سلیم سہیل
http://auragesabz.gamecraftpro.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84/