روشنی کی لکیریں

یہ تحریر 167 مرتبہ دیکھی گئی

یونس جاوید کے سامنے ایک پرانا بڑا سا رجسٹر رکھا ہے۔ وہ ورق الٹتا جاتا ہے۔

پھر وہ کہتا ہے: “منیر نیازی”۔ جواب ندارد۔ ظاہر ہے، غیر حاضر۔

وہ کہتا ہے: “اسرار زیدی”۔ جواب ندارد۔ ظاہر ہے، غیر حاضر۔

وہ کہتا ہے: “یوسف کامران”۔ جواب ندارد۔ ظاہر ہے، غیر حاضر

وہ افسردگی کے ساتھ رجسٹر بند کر دیتا ہے۔ اسے معلوم ہو چکا ہے کہ جتنے بھی نام لے گا، جواب کہیں سے نہیں آئے گا۔ قلم کے سہارے انھیں خود ہی یاد کرنا پڑے گا۔ “ذکر اس پری وش کا” خاکوں کا مجموعہ  ہے جس پر نوحوں کے مجموعے کا گمان بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ نوحے نہیں ہیں۔ ان خاکوں میں جن لوگوں کا ذکر ہے اور جن میں سے اکثر کو محبت سے یاد کیا گیا ہے وہ سب اپنی ذات میں، درجہ بدرجہ، لاہور کی رونق تھے اور ان کی صلاحیت اور گرم جوشی، ان کی خفگی اور محرومی، فوٹوگرافانہ صفائی کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ان گم گشتگان کو تو سراہنا ہی چاہیے کہ وہ جاتے جاتے اپنے ہمراہ لاہور کی رنگارنگی  کو بھی لے گئےلیکن داد یونس جاوید کو بھی ملے گی کہ اس نے ان کی تصویرکشی میں اپنا زورِ قلم صرف کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ “میں تھوڑا سا سچ چھپا لوں گا مگر جھوٹ نہیں لکھوں گا۔” بعض باتوں کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے کہ وہ “راستیِ فتنہ انگیز” کے زمرے میں آتی ہیں۔

اصل میں یہاں صرف ادیبوں کا تذکرہ ہی نہیں، لاہور کے ادبی اور ثقافتی پہلوؤں کا بیان بھی ہے۔ شہر کسی پس منظر کی طرح ہر شخصیت کے ساتھ گھومتا نظر آتا ہے۔ لاہور اب بہت بڑا اور شور آلودہ شہر تو بن گیا ہے لیکن اچھا اور پُرسکون شہر نہیں رہا۔ جب پوری دنیا میں تبدیلی کے جھکڑ چل رہے ہوں تو لاہور خود کو کہاں تک سنبھال سکتا ہے؟ روشنیاں بہت ہیں، دن اور  رات میں امتیاز کرنا مشکل ہو گیا ہے مگر رگوں میں اندھیرا ہے۔

یونس جاوید نے لکھا ہے: “اہلِ لاہور کے نصیب میں تو اب شاید یہی رہ گیا ہے کہ وہ جانے والوں کے لیے جمع ہوتے رہیں، انھیں یاد کرتے اور سوگ مناتے  رہیں اور پھر گھروں کو لوٹ جائیں۔ شہر لاہور جو اہل علم و فن سے لبالب اور شعرا سے چھلکتا اور ادبا سے مہکتا تھا کچھ برسوں سے سونا سونا دکھائی دینے لگا ہے۔”

“ذکر اس پری وش کا” میں معروف ادیبوں کے خاکے تو ہیں ہی، جیسے اشفاق احمد، منیرنیازی، انتظار حسین، سید وقار عظیم، اسرار زیدی، یوسف کامران، سلیم شاہد، قتیل شفائی، حبیب جالب، اظہر جاوید اور سہیل احمد خاں  لیکن اور بہت سے لوگوں اور مقامات کا ذکر بھی آ گیا ہے جن کو شاید ادبی تاریخ میں جگہ نہ ملے لیکن اس مجموعے کے تانے بانے میں سہولت سے کھپ گئے ہیں، جیسے ممتاز شانتی، جعفر عباس، آتش لدھیانوی، سید تفضل ضیا، نواب ناطق، واحد ملک، ساحر صدیقی، افتخار چودھری، سلیم واحد سلیم، الٰہی بخش، سید نثار حسین یا نگینہ بیکری، میڑو، مرزا ٹی سٹال، ایڈل جی۔

سب سے اچھا اور سب سے طویل خاکہ یوسف کامران کا ہے۔ اس میں کسی عمدہ افسانے کی سی جازبیت ہے۔ دوستوں کے بارے میں جو لکھا ہے اس سے سلیقہ ظاہر ہے۔ کہیں کہیں جذباتیت کا پلا ذرا بھاری ہو گیا ہے لیکن سیاق و سباق میں وہ غیرموزوں معلوم نہیں ہوتی۔ یونس جاوید کو شہرت ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے حاصل ہوئی لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس کے افسانے اور خاکے بھی خاصے جان دار ہیں۔ جھکاؤ حقیقت پسندی اور بائیں بازو کی طرف ہے۔

ذکر اس پری وش کا از یونس جاوید

ناشر: جمہوری پبلی کیشنز، لاہور

صفحات: 400؛ 950 روپیے