روشنی اور ڈارک رُوم

یہ تحریر 428 مرتبہ دیکھی گئی

اردو میں کیمرے کی ساخت اور اس کے طریقہ استعمال کے بارے میں شاید کوئی کتاب موجود ہو ۔ یہ اس وجہ سے کہنا پڑتا ہے کہ 1857ء سے ذرا پہلے کیمرا برصغیر میں پہنچ چکا تھا۔ 1857 کے دوران میں کشید کیے گئے بعض فوٹو موجود ہیں۔ البتہ اس کا امکان کم ہے کہ کسی نے تفصیل سے یہ لکھا ہو کہ فوٹو گرافر کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں، کیا سوچتے ہیں اور اپنے گرد و پیش کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
جس کتاب کا جائزہ لینا مقصود ہے وہ عمیر غنی کے بعض مضامین پر مشتمل ہے۔ عمیر غنی خود بھی ماہر فوٹوگرافر ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے کام کو سراہا گیا ہے۔ کتاب میں تصویریں نہیں ہیں۔ کچھ آپ بیتی ہے، کچھ ان ماہر فوٹوگرافروں کا ذکر ہے جن کا نام اور کام شاید محفوظ نہ رہ سکے۔ بطور قوم ہمارا حافظہ کمزور ہے بلکہ کمزور نہیں مرضی کا مالک ہے۔ جن باتوں کو ہم غلطی سے اہم نہیں سمجھتے انھیں بڑی آسانی سے بھلا دیتے ہیں۔
بعض مضامین پاکستان کے شمالی علاقوں سے متعلق ہیں کہ ان کے مناظر، اپنے شکوہ اور جلال اور دل فریبی کی بنا پر، نہایت فوٹو زیب ہیں۔ قدم قدم پر منظر بدلتا جاتا ہے اور فوٹو اتارنے والے کو یہی لگتا ہے کہ “جا ایں جاست”۔ اس وسیع و عریض اور بلند و بالا لینڈ سکیپ میں خوب صورتی اور خوف ناکی ہم بستہ ہیں۔ یہ کوہی سلسلے غزل کے معشوق سے مشابہ ہیں۔ اپنی طرف بلاتے بھی ہیں اور بہت کچھ دکھاتے بھی ہیں لیکن پلک جھپکنے میں گھائل بھی کر دیتے ہیں، مرگِ ناگہاں سے دوچار بھی کر سکتے ہیں۔ دل چھین لیتے ہیں اور واپس نہیں کرتے۔ ان پہاڑوں پر بسنے والوں کی زندگیاں آسان نہیں ہوتیں۔ جو بلندیوں پر رہتے ہیں انھیں ہر قدم احتیاط سے اٹھانا پڑتا ہے۔
کتاب، بہرحال، صرف شمالی علاقوں تک محدود نہیں۔ اس میں لاہور کا بھی ذکر ہے۔ اس لاہور کا جو رفتہ رفتہ داستانِ پارینہ بنتا جا رہا ہے؛ جس کے پرانے نقوش مٹ رہے ہیں، نئے نقوش ابھر رہے ہیں لیکن اس تبدیلی کے دوران میں کچھ گم ہو گیا ہے جسے ہم یادوں کے سوا کہیں دیکھ سکیں گے تو کیمرے سے بنی تصویروں میں۔ کچھ تذکرہ لائلپور اور سمندری کا بھی ہے۔
عمیر غنی لکھتے ہیں: “اس کتاب میں شامل واقعات ایسے کرداروں کے گرد گھومتے ہیں جو کسی نہ کسی طور میری تصویر کشی کا محور رہے۔” جن فوٹو گرافروں کو محبت سے یاد کیا گیا ہے ان کا احوال پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ ہر فن کی طرح یہاں بھی جنون کے بغیر کوئی مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔ عمیر غنی اپنے مفلوج بھائی کے کمرے کی کھڑکی سے تصویریں کھینچتے رہے اور بھائی کو وہ منظر دکھاتے رہے جو وہ خود اٹھ کر دیکھنے سے قاصر ہو چکا تھا۔ آمنہ یاسین موتی مینشن اور لکشمی چوک میں گزارے ہوئے بچپن کو یاد کرتی ہیں۔ اورنج ٹرین نے اس علاقے کا حلیہ بدل ڈالا۔ اس کی پرانی صورت اب فوٹوز ہی میں باقی رہے گی۔
جاوید شمالی علاقوں کا دل دادہ تھا۔ اسے گردوں کا کینسر ہوا۔ زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے لیکن بیماری کو خاطر میں لائے بغیر، آخری کوشش کے طور پر، کیمرا لے کر سوات چلا گیا۔ بقول عمیر غنی: “اسے سوات کے چپے چپے سے عشق تھا۔ برف سے ڈھکے سوات کی جاوید سے عمدہ تصویر کشی ہمارے ہم عصروں میں سے کسی اور نے نہیں کی تھی۔” اسی مضمون میں جاوید کا یہ گلہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے کہ حالت خراب دیکھ کر بعض عزیزوں نے اس کی بہت سی سلائیڈز ضائع کر دیں۔ ہم گڑھی شاہو کے شیر خاں سے متعارف ہوتے ہیں جنھیں جگر کا سرطان تھا لیکن اس خبر سے دوستوں کو آگاہ نہ کیا۔ یامین مارکیٹ، گلبرگ، کے اقبال صاحب جن کا فوٹو سٹوڈیو تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوی نے تمام تصاویر اور نیگیٹوز تھیلوں میں بھر کر گندے نالے میں یہ کہہ کر پھنکوا دیے کہ تصویریں بنانا اور انھیں گھر میں رکھنا حرام ہے۔ موصوفہ کو ازدواجی زندگی میں یہ خیال نہیں آیا کہ گھر بار کی تمام ضرورتیں فوٹو گرافی سے ہونے والی آمدنی سے پوری ہوتی ہیں؛ پتا نہیں ہمیں پرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کے بجائے تباہ کرنے میں کیا مزہ آتا ہے۔
عمیر غنی کے ہاتھ میں اب کیمرا ہی نہیں قلم بھی آ گیا ہے اور ان کی نثر بھی ارغوانی پیوندوں سے خالی نہیں ہوتی۔ یہ اقتباس دیکھیے: “تصویر کشی کے اِس ادھورے پن کا ادراک مجھے بھی تھا۔ عکس گر جو دیکھ رہا ہوتا ہے وہ کسی فرد یا مقام سے مکمل شناسائی نہیں ہوتی۔ جو پردہء نگاہ پر آتا ہے محض ایک وقتی نقش ہوتا ہے۔ تو پھر جو کچھ اس سمے آنکھ میں اترا وہ کیا تھا؟ حقیقت آشنائی یا سراب کا طلسم؟ کیمرے ہاتھ میں تھامے، نظارے سے مرعوب ذہن، اس نقطے کی کھوج میں تھے جہاں پہنچ کر عکس اور حقیقت ایک ہو جاتے ہیں۔”
فوٹو گرافی کا ایک عجیب پہلو ہے یا تھا۔ فوٹو یونانی لفظ فوتوس سے مشتق ہے۔ فوتوس کا مطلب روشنی ہے۔ روشنی نہ ہو تو کیمرا کام کیسے کرے؟ لیکن جب فوٹو اتار لیے جاتے تو انھیں ڈیولپ کرنے کے لیے ڈارک روم کی ضرورت پڑتی تھی۔ روشنی اور تاریکی کا یہ امتزاج خوب ہے۔ کیا موت بھی کوئی ڈارک روم ہے جہاں سے ہم کسی اور روپ میں ڈیولپ ہوں گے؟ واللہ اعلم۔
اس تبصرے کو کریم آباد کے عبادت شاہ کےان الفاظ پر ختم کیا جاتا ہے: “زندگی بھی پہاڑ جیسی سخت ہے، سر۔ ابی کیا کرے، سر۔ پہاڑ کے ساتھ پہاڑ تو ہونا پڑتا ہے۔”
زندگی اور موت کے درمیان چند تصویریں از عمیر غنی
ناشر: فوٹو گرافک سوسائٹی آف پاکستان، لاہور
صفحات: 116؛ تین سو پچاس روپیے