روز مرَہ کی زندگی!

یہ تحریر 114 مرتبہ دیکھی گئی

روز مَرہ کی زندگی میں
کھینچاؤ، الجھاؤ ہونے سے
کوئی بدلاؤ کیوں نہیں آتا؟
جبکہ روز مَرہ کی زندگی میں
کھینچاؤ، الجھاؤ ہونے سے
جزبے تو بدل جاتے ہیں،
پھر معاملات اور معمولات کیوں نہیں بدلتے؟
میں نے دوستوں کو کھویا ہے
روز مَرہ کی بک بک میں
مگر بھوک وقت پر لگتی ہے
اورسویرے آنکھ بھی نہیں کھلتی،
میں نے محبتوں کو پامال ہوتے دیکھا ہے
روز مَرہ کی ضروریات میں
مگر دفتر وقت پر پہنچنا ہے
اور کپڑے ہمیشہ استری ہوں،
میں نے قربتوں کو دوریوں کے سپرد کیا ہے
روز مَرہ کی پلینڈ ترجیحات میں
مگر آنکھوں کے گرد کوئی حلقے نہیں
کہ فیَس کی بڑی ویلیو ہے مارکٹ میں،
میں نے محبت میں کی جانے والی
کئی سیوسایئڈ اٹیمپٹس کامیاب ہوتے دیکھی ہیں
روز مَرہ کے شعبہ حادثات میں
مگر شادیاں برابر ہوتی ہیں
اور جوڑائے عروسی کے معا ملے میں
برینڈ پر کمپرومائز نہیں،
میں نے سورج غروبتے سمے
کئی دل دکھ میں ڈوبتے دیکھے ہیں
روز مرَہ کی بھیڑ میں
مگر ہررات آن لائن بھی ہونا ہے
کہ سوشلائیزیشن بہر حال نیڈ آف آور ہے!