روایت کا ایک ترجمان: رینے گینوں

یہ تحریر 339 مرتبہ دیکھی گئی

(1)

روایت کا ایک ترجمان: رینے گینوں

گائی ایٹن

زیرِ نظر ترجمہ گائی اٹین کی مشہور کتاب The Richest Vein (گنج گراں مایہ) کے ایک باب کے تقریباً نصف سے متعلق ہے جس میں مصنف نے روایت کے عظیم ترجمان رینے گینوں کے افکار سے بحث کی ہے، بقیہ نصف جوآنند کمار سوامی کے افکار پر مشتمل تھا، سرِدست میں نے چھوڑ دیا ہے۔

گائی اٹین (سدی حسن الشاذلی) سوئٹزر لینڈ میں پیدا ہوئے۔ چارٹر ہاؤس اور کنگز کالج کیمرج میں تعلیم پائی اور برٹش ڈپلومیٹک سروس سے منسلک ہونے سے پہلے انھوں نے بطور معلم اور صحافی جمیکا اور مصر میں کام کیا۔ مصر کے قیام کے دوران انھوں نے اسلام قبول کیا۔ پچپن سال کی عمر میں وہ برٹش سروس سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل اسلامک کواٹرلی لندن کے ادارتی مشیر ہیں اور اسلامک سنٹر لندن میں کام کرتے ہیں۔ وہ ایک براڈ کاسٹر اور اسلامی موضوعات پر کام یاب قلم کار کی حیثیت میں ممتاز ہیں۔

ان کی متذکرہ بالا کتاب The Richest Vein 1949ء میں فیبر اینڈ فیبر نے ایلیٹ کی سفارش پر چھاپی۔

گائی اٹین نے اس کتاب کے دیباچے میں رینے گینوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے جس وضاحت، جامعیت اور اعتماد کامل کے ساتھ معاصر دنیا کے سراب کا پردہ چاک کیا وہ اپنی جگہ بہت قابل قدر ہے۔ دیباچے کے اسی اجمال کی تفصیل Two Traditionalists والے باب میں دی ہے جس کے ایک حصے کا ترجمہ ”روایت کا ایک ترجمان __ رینے گینوں“ کے نام سے پیش کیا جارہا ہے۔ گائی ایٹن کی دیگر تصانیف میں “King of the Castle” اور “Islam & the Destiny of Man” بہت ممتاز ہیں۔ گائی ایٹن ان مغربی لکھنے والوں میں شامل ہیں جنھوں نے اپنے گردو پیش کی تہذیبی صورتِ حال پر بڑی بے اطمینانی ظاہر کرتے ہوئے روایت کے خدو حال اور اس کی عصری معنویت کو واضح کیا ہے۔

روایت کا ایک ترجمان: رینے گینوں

ہم رینے گینوں کو بہ حیثیت ایک مصنف کے درجہ بند نہیں کر سکتے۔ جو خلیج اس کی فتوحات علمی کو اس کے معاصرین کے علمی کارناموں سے جدا کرتی ہے، سمجھوتے کے کسی بھی فارمولے کے تحت پُر نہیں کی جاسکتی۔ جن عقائد کی وہ تشریح کرتا ہے وہ نشاۃ الثانیہ سے لے کر جدید یورپ کے تمام فکری رجحان سے اس قدر مختلف اور متبائن ہیں اور معاصر ذہن کے لیے اس قدر عجیب و غریب ہیں کہ اگر وہ (گینوں) بلیغ استدلالی قوت اور قوی تنقیحی خوبیوں کا حامل نہ ہوتا اور ان کے ابلاغ پر قادر نہ ہوتا تو سوائے گنے چنے چند مداحوں کے اس کا علمی کارنامہ اور سب کے لیے غیر معروف رہتا۔ پھر اس کی تعلیمات کی اکیلی اصلی مشکل صرف اس کی غرابت ہی نہیں جس کا سامنا اس کے قارئین کو کرنا پڑتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسے اپنے صداقت کے مکمل طور پر حامل ہونے کا قوی یقین ہے (اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے اس کی تحریروں کو وہ لہجہ عطا کیا ہے جسے غلطی سے عُجب و نخوت کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے¾ وہ لہجہ جو نہ تو جدید متشککین کے یہاں پایا جاتا ہے اور نہ ہی جدید ”متیقنین“ Believers کے یہاں)، بلکہ یہ بھی کہ وہ ریاضی دان بھی ہے اور فرانسیسی(۱) بھی اور یوں اس کی ذات میں فرانسیسی دانش کی دھار موتراش کی سی تیز دھار میں مبدل ہو گئی ہے۔ ایک اطالوی نقاد نے اس کے اسلوب کی خصوصیات کو ”صراحت اور جلال“ کے نام سے یاد کیا ہے۔ اس کی صراحت تو برف کی سی چمک دمک کا حکم رکھتی ہے اور اس کا جلال کسی قسم کی جذباتیت یا بشری کمزوری کی اجازت نہیں دیتا۔ گینوں کو اپنے پڑھنے والوں کے ردِ عمل کی پروا نہیں، اگر وہ اس کے یقین سے بہرہ ور نہیں ہوتے تو اس میں انھی کا بُرا ہے اور اگر وہ اس  کے بے لچک طریق کے ردعمل کے طور پر اس سے الگ ہو جائیں تو نقصان انھی کا ہے۔ اسے تو حق کو بیان کرنا ہے اور وہ اسے حسبِ خواہش اپنا بھی سکتے ہیں اور چھوڑ بھی  سکتے ہیں۔

یہ امر قابلِ سوال ہے کہ کیا ہمارے دور کے عمومی مزاج اور فکری پس منظر کا حامل کوئی بھی فرد بشر پہلی بار بغیر کسی استکراہ کے گینوں کی فکر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے لیکن (اس کا کیا کیا جائے کہ) اس کے علمی کارنامے میں اتنی رفیع کام یابی مجسم نظر آتی ہے اور وہ اتنی بنیادی ہے کہ ہمارا ان تعلیمات سے جن کا وہ زندہ شارح ہے، واقف ہونا بھی بہت ضروری ہے، اتنا ضروری ہے کہ اس کے مقابلے میں وہ لوگ جو اپنے ابتدائی ردعمل ہی کو خود پر حاوی ہونے کی ڈھیل دے لیتے ہیں اور اس ”حملے“ کا مقابلہ نہیں کر پاتے، فی الاصل اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ خواہ ہم اس کے اصول سے متفق ہوں یا نہ ہوں، ہم اس ذہن کی قوت اور آفاقیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اس لیے کہ اس کا دائرہ فکر و دانش کے تمام انسانی اور ربانی میدانوں تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے علمی کارنامے کے رفیع الشان توازن سے بھی جو ربع صدی میں تعمیر ہوا ہے۔ اگر ہم گینوں کی پہلی کتاب کو جو ۱۹۲۱ء میں طبع ہوئی اس کی حال ہی میں چھپنے والی(۲) (۱۹۴۷ء) کتاب کے دوش بدوش رکھ دیں تو ان کے مندرجات سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جائے گا کہ ان میں سے پہلے کون سی کتاب منصہ شہود پر آئی اور نہ ہی ہمیں شک گزرے گا کہ ان دونوں میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کا فصل پڑتا ہے۔ کیوں کہ ہم تو ایسے مصنّفین کے عادی ہیں جن کی ”فکر“ ”ارتقا“ پاتی ہے اور گینوں کے یہاں ”ارتقا“ کا اس کے معروف و مسلمہ معنوں میں سرے سے سوال ہی نہیں اُٹھتا۔ اس کی جو سولہ کتابیں (۳)  طبع ہوئی ہیں انھیں ایک ہی وسیع علمی کارنامے کے مسلسل ابواب سے تعبیر کیا جاسکتا ہے __ وسیع علمی کارنامہ جس کو روبہ عمل لانے سے پہلے اس پر خوب سوچ بچار کی گئی اور پھر منصوبے کے مطابق اس پر کام شروع کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ ہر علاحدہ کتاب کے مختلف ابواب میں حیرت انگیز ربط ہے بلکہ یہی حیرت انگیز ربط اس سلسلے کی تمام کتب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ جیسے ایک ہی عمارت کی مختلف اینٹیں ¾ اور پھر ایک لمحے کے لیے بھی تو فاتحانہ تیقن کی لے متزلزل محسوس نہیں ہوتی۔

گینوں کو ان کتابوں کا ”مصنف“ قرار دینا قریب قریب ناانصافی کے مترادف ہے، وہ خود اس الزام کی شدت سے مذمت کرے گا کہ ان کتابوں میں شامل کوئی بھی خیال اس کا اپنا ہے۔ ہاں، یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ نوعِ انسانی کی روایتی دانش کی متعدد ایسی مستند تشریحات موجود ہیں جن پر سہولت کی خاطر رینے گینوں کے دست خط موجود ہیں، یہ نام جس شخص کا بھی ہے، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو اور روایتی اعتقاد کی کوئی سی بھی شکل کیوں نہ ہو جس پر وُہ خارج میں عمل کر رہا ہے، لاحاصل سی باتیں ہیں۔ ایک احمق نقاد کے جواب میں، جس نے اس کے متعلق ہندومت کے ذریعے اسلام کی طرف ”منتقل“ ہونے کی بات کی تھی، اس نے اپنے مخصوص اسلوب میں لکھا تھا ”ہم ایک شے سے دوسری شے کی طرف کبھی ”منتقل“ نہیں ہوئے جیسا کہ ہماری تحریریں بہ کثرت اس کی شاہد ہیں اور ہمیں ”حق کی تلاش“ کی قطعی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمیں علم ہے (اور ہمیں اس لفظ علم پر اصرار ہے) کہ حق تمام روایتوں میں یکساں طور پر موجود ہوتا ہے۔“

اب جب کہ انگلستان میں گینوں کی کتب کی طباعت کا سلسلہ شروع ہو چکا (۴) ہے (اب تک چار کتب شایع ہو چکی ہیں یعنی ”مشرق و مغرب۔“ ”دنیاے جدید کا بحران۔“ ”تعارفِ مطالعہ عقائد ہنود“ اور ”انسان اور اس کی تکوین ¾ ویدانت کی روشنی میں“)، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان سطحی مشکلات کا ذکر بھی ہو جائے جو اس کے کارناموں میں ملتی ہیں، خصوصاً ایک انگلستانی یا امریکی قاری کے نقطۂ نظر سے، اور یوں ان کا ذکر کر کے ہم انھیں غیر متعلق سمجھ کر ان سے صرف نظر کر سکتے ہیں اور اپنی توجہ اس سے کہیں زیادہ دشوار سنگِ راہ کی طرف مبذول کر سکتے ہیں جو اُن بہت سے لوگوں کے رستے میں حائل ہے جو اس مشکل کے دور ہو جانے کی صورت میں کھلے ذہن سے گینوں کے علمی کارناموں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

گینوں کی مرکزی فکر وہ قدیمی اور آفاقی روایت ہے جو اس کے دعوے کے مطابق ایسا سرچشمہ تھی جس سے عظیم مذاہب (موجود و قدیم) اور ان میں موجود مابعدالطبیعیاتی عقائد اور ان کے ساتھ ہی ساتھ قدیم وحشی اقوام کی اساطیر و رسوم نے اصلاً صدور کیا۔ اس روایت کی زبان جب بھی علامتیت کی آفاقی زبان تھی اور اب بھی بیش تر صورتوں میں ہے اور اس کی تشریح و توضیح ان قدیم علامتوں کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں جو آج بھی تمام دنیا میں پائی جاتی ہیں، جو ماہر نفسیات ژونگ کے بقول مغربیوں کے خوابوں اور تخیلات میں ظاہر ہوتی ہیں جو اپنی عام زندگیوں میں ان سے بالکل واقف نہیں۔ بدقسمتی سے مغرب میں پچھلے ایک سو یا اس سے کچھ زیادہ برسوں سے یہ مقدس علائم کلیتہً ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جنھیں معاشرے کی جنونی اقلیت Lunatic Fringe ہی کہا جا سکتا ہے۔ وہ پڑھا لکھا مغربی جسے مثلاً آفتاب روح کی سات شعاعوں، جنتِ ارضی کی انہار اربعہ یا سنسار چکر وغیرہ کی علامتیت سے واسطہ پڑا ہے، انھیں جعلی جادوئی علوم، روحانیت پرستی اور ہر قسم کی نامعقول اور عجیب و غریب بے ہودگی کے روپ میں دیکھتا ہے اور وہ اس قسم کے علائم کے بارے میں بہت حد تک جائز طور پر شکوک کا شکار ہے۔

روایتی علامتیت ایک اتنے لمبے عرصے سے سنکی لوگوں کی شکارگاہ رہی ہے کہ گینوں کی سی ذہنی قوت اور کمال کے حامل شخص کو الحاقی عناصر کو الگ کر کے دلدل میں سے انسان کی سب سے قیمتی متاع کو نکالنے کا آغاز کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کام کے آغاز کے لیے جس میں اس نے اپنی عمر کھپا دی، اسے یہ ضروری محسوس ہوا کہ وہ اپنے علمی کارنامے کی دو ضخیم جلدیں تجدیدی کام کے لیے وقف کرے اور اس سلسلے میں پہلے تھیوسوفی (تھیو سوفی۔ کھوٹے دین کی تاریخ) اور پھر (روحانیت پرستی کی غلطی) لکھے۔ صرف اس طریقے ہی سے وہ ان عقائد اور علائم کی صحیح تاویل و توضیح کر سکتا تھا جو ساحروں اور سیمیا کاروں کے گم راہ جوش و خروش کے باعث خوف ناک اور سراب آسا شکلوں میں بدل گئے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔