روایت کا ایک ترجمان: رینے گینوں

یہ تحریر 199 مرتبہ دیکھی گئی

(۳)

گینوں کہتا ہے: ”حق ایک ہے اور یہ ان تمام اشخاص سے اپنے آپ کو منواتا ہے جو اسے جانتے ہیں بشرطے کہ یہ لوگ واقعتہً تیقن کے ساتھ اسے جان لیں __ اس اقلیم میں ہم مخصوص نقطہ ہائے نظر سے بیروں اور برتر ہوتے ہیں کیوں کہ اختلافات تو کم و بیش سوائے خارجی ہئیتوں کے کہیں اور نہیں ہوتے۔“ لیکن روایت جو بیک وقت اس علم کی ذخیرہ گاہ بھی ہوتی ہے اور اس کے حصول کی ہیئتِ حاکمہ بھی، ان تمام پہلوؤں کو تسلیم کرتی ہے جن میں حقیقت واحدہ ہماری اس دنیا میں خود کو منعکس کرتی ہے۔ ”یہ کسی بھی جائز تصرف کے خلاف محاذ آرائی نہیں کرتی __ یہ عقل کے لیے ان امکانات کے در وا کرتی ہے جو خود صداقت کی طرح لامحدود ہوتے ہیں۔“ وہ لوگ جو ایک روایتی اصول کے نام پر اظہار رائے کرنے کے اہل ہیں، انھیں مناظروں میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ انھیں تو اپنی لیاقت کو حتی الوسع کام میں لا کر ان اصحاب کے لیے اصول و عقائد کی توضیح کرنا ہے جو ان کو سمجھ سکتے ہیں اور باطل کی مذمت کرنا ہے جب وہ سر اٹھائے (گینوں کا خیال ہے کہ عملی رواداری، جہاں تک اس کے افراد پر اطلاق کا تعلق ہے، ایک نہایت عمدہ خوبی ہے لیکن ایسی نظریاتی رواداری جو ہر قسم کے اعتقادات کے لیے یکساں حقوق کا مطالبہ شروع کر دے، گہری تشکیک ہی سے جنم لے سکتی ہے)۔ ان کا فرض اختلافات میں حصہ لے کر اصول پر سمجھوتہ کرنا نہیں بلکہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرنا ہے جس کے اعلان کا انھیں حق حاصل ہے۔ گینوں کے بقول علم عمل کو، اس کے نشیب و فراز میں پڑے بغیر منور کرتا ہے۔ روحانی، مادی کی رہنمائی کرتا ہے (بغیر اس میں گڈمڈ ہوئے) اور یوں ہر شے اپنے صحیح مرتبہء وجود میں رہتی ہے۔ کم از کم اسے یوں ہونا چاہیے لیکن دور حاضر میں دنیوی(۶) لوگ اس شے پر بحث کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جو مقدس ہو اور یوں اس کے کردار بلکہ اس کے وجود تک میں کلام کرتے ہیں، گھٹیا بڑھیا پر حکم لگاتا ہے، جہالت دانش کو اسیر کرتی ہے، جھوٹ سچ پر حاوی ہوتا ہے، خاکی افلاکی کو منسوخ کرتا ہے، زمین آسمان کو مات کرتی ہے، فرد ہر شے کو ناپتا آنکتا پھرتا ہے اور کائنات کو وہ قوانین پڑھانے سکھانے کا دعویٰ کرتا ہے جو سرتا سر اس کی اپنی اعتباری اور خطا پذیر عقل سے ماخوذ ہوتے ہیں۔“

اب تک یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ گینوں اپنے پیش کردہ دعوے کا ثبوت کیوں مہیا نہیں کرتا؟ ”ثبوت اور شہادت کا دائمی مطالبہ اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے جو اپنے دل میں مطلق صداقت کے وجود کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتی ہے اور یوں یہ سوال داغ دیتی ہے کہ کیا کسی بھی فرد بشر کو کبھی اس کی صداقت کا وقوف رہا بھی ہے؟ لیکن اس فرد کے لیے جسے اپنے یقین پر کوئی شک نہ ہو، ثبوت کا مطالبہ واقعی ایک سطحی مطالبے کے سوا کچھ نہیں ہوتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتا کہ وہ کس معجزاتی طریق پر اپنے علم اور ذہانت کو، کسی دوسرے شخص میں، اسے بحث مباحثے میں شکست دے کر، منتقل کر سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اپنے ہم جنسوں کے لیے جو کچھ کر سکنے کی وہ زیادہ سے زیادہ امید کر سکتا ہے یہ ہے کہ انھیں وہ راستہ دکھا دے جس کے ذریعے وہ اللہ کی توفیق اور اپنی غیر متزلزل کاوش کے فیض سے اس جگہ تک پہنچ جائیں جہاں یہ خود کھڑا ہے اور وہ کچھ دیکھ سکیں جو یہ دیکھتا ہے۔ گینوں کہتا ہے کہ یہ بات کتنی عجیب و غریب ہے کہ لوگ باگ اُس علم کی صداقت کا ثبوت مانگتے پھرتے ہیں جسے ضروری ریاضت کے بعد وہ خود جاننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

یہاں بے شک و شبہ وہی سینٹ آگسٹائن والی ضروری ہدایت دی گئی ہے کہ ”مان لو تاکہ تم جان سکو“۔ کوئی شخص بھی ایسی جگہ پر پہنچنے کے لیے قصدِ سفر نہیں کر سکتا جس کے وجود کے بارے میں اسے پختہ یقین نہ ہو، جہاں تک پہنچنے کی اسے پختہ امید نہ ہو۔ اعتقاد فی ذاتہٖ اسے زیادہ دور تک تو نہیں لے جا سکتا لیکن یہ اس کے سفر کو ممکن ضرور بنادے گا اور اس کے قدم صحیح رُخ پر ضرور ڈال دے گا۔ آج کے دور میں یہ منظر جو عام دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک متشکک اپنے بدن کو اینڈے اور گردن اکڑائے عقلی دلائل کے زور پر قائل ہونے کے لیے ڈٹا بیٹھا ہے، کتنا عجیب لگتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک پرندہ ایک شاخ پر بیٹھا بجائے اپنے پر پھیلانے کے، اس بات کا ثبوت مانگنے لگے کہ آیا وہ اُڑ سکتا ہے یا نہیں؟

لیکن عقلی مباحث کی عملی تاثیر کو معرضِ سوال میں لانے کا مطلب فکر Reason کا مذاق اُڑانا نہیں ہے۔ ہر سچا علم (جس کی ایک صورت فکر بھی ہے) کم و بیش اس علم ارفع کی نوعیت میں مشارکت کرتا ہے جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں، لیکن بالواسطہ علم کی قدر و قیمت اس علم کی نسبت جو براہِ راست اشیا کی فطرت میں نفوذ کر جائے، صرف اعتباری ہے۔ عقل  جزوی یا تو یقین کی روشنی میں حقیقی طور پر اپنا کام انجام دے سکتی ہے یا علم ارفع کی ہدایت میں __ اندھیرے میں یہ اپنا رستہ نہیں پاسکتی۔ لیکن اس کے رول کی اعتباری ماتحتی سے اس کے شرف میں کمی واقع نہیں ہوتی اس لیے کہ مرتبہء عقل انسانی میں الوہی توازن اور مرتبے کا عکس بھی کسی حد تک جھلکتا ہے۔ گینوں کا ایک معاون کار ٹیٹس بُرک ہارٹ اسلامی فن کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے ایک مضمون میں لکھتا ہے ”عقل کا رول روحِ مسلمانی کو محدود کرنے کے برعکس اسے لامحدود امکانات کا رستہ سجھائے گا جن سے تمام ناسٹلجیا اور تخیل کے منابع صادر ہوتے ہیں —“ وہ بڑی خلیج جو فوق الفکری شے کو غیر فکری شے سے جدا کرتی ہے (اور بہ قول گینوں عقلی وجدان کو وجدانِ مرتبہء حسی سے) عقل کے دائرۂ کار کی پیمائش ہے۔ مکمل نظمِ آسمانی اور بحرِ ظلمات کے انتشار کے مابین یہ مرتبہء انسانی پھیلا ہوا ہے۔ بادشاہتِ عقل __ لیکن مرتبہئ انسانی کی طرح عقل بھی زیادہ دیر تک خود مکتفی نہیں ہوتی۔ دونوں کا وجود اور اپنے فرائض کی تکمیل صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اپنے سے برتر حقیقت کے آگے سر جھکا لیں۔

لیکن عقل سے عقل پرستی تک (اس عقل سے جو الوہی دانش کی خانہ زاد ہوتی ہے، اس عقل تک جو اپنی ہی دُم کو کاٹتی کٹکٹاتی پھرتی ہے) ایک طویل فاصلہ ہے اور گینوں کو جدید عقل پرستی اور جدید انفعالیت Sentimentalism میں ایک گہرا ربط دکھائی دیتا ہے، وہ اسے ایک ہی سکے کے دو رُخ کہتا ہے ”جذبات پرستی کی مذمت کا مطلب جذبات کی نفی کرنا نہیں بلکہ اس طرح جیسے عقل پرستی کی مذمت کا مطلب عقل کی نفی کرنا نہیں ہوتا۔ جذبات پرستی اور عقل پرستی دونوں مبالغہ آرائیوں اور مداخلت بے جا کے نتیجے کے سوا کچھ نہیں۔ اگرچہ جدید مغرب ان دونوں کی اس متبادل کو دو شقیں خیال کرتا ہے جس سے وہ بھاگ نہیں سکتا۔“ (یہ صورتِ حال اس وجہ سے ہے کہ جدید ذہن محض اور محض خارج کو پیش نگاہ رکھتا ہے__ اس خارج کو جسے دنیائے حسیات سے تعبیر کیا جاتا ہے، چناں چہ اُسے جذبہ داخلی اور موضوعی نظر آتا ہے) واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف حسیات بلکہ عقل اور جذبہ بھی بمقابلہ رُوح کے خارج کی اشیا لگتی ہیں جو انفرادیت کا مرکز ہوتی ہے اور ماہر نفسیات کی تفتیش نفسی فی ذاتہٖ سوائے مظاہر کے اور کسی شے کو گرفت میں نہیں لاتی یا بالفاظ دیگر شخصیت کے صرف خارجی اور شخصی تبدّلات کو۔

گینوں جدید فلاسفہ کے ایک اور محبوب امتیاز سے بھی یکساں متنفر ہے جو عقل پر اپنے عقائد کی بنیاد رکھنے والوں اور وجدان (وجدان حسی)، قوت، جبلت یا قوت حیات پر زور دینے والوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ گینوں اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ فکر اور ”حیات“ دونوں عالم حسی سے مخصوص ہیں اور ”جدید مغرب“ سوائے چند استثنائی صورتوں کے عالم حسی ہی کو علم کا مقصد وحید سمجھ بیٹھا ہے۔ اب خواہ مغرب اس دنیا کی دونوں حالتوں میں سے کسی ایک سے اپنے آپ کو وابستہ کرنے کو ترجیح دے یا دوسری کے ساتھ اور خواہ وہ کسی بھی نقطۂ نظر سے اس کا مطالعہ کرے، خواہ وہ اس کا کسی بھی سمت میں تعاقب کرے، اس کا ذہن جس دائرۂ کار میں برسر پیکار ہے، بلاریب و شک ہمیشہ وہی رہتا ہے۔ نام نہاد متحارب نظریے ایک دوسرے سے بے حد مماثل ہیں، عام اس سے کہ اس کے طرفدار اس بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں، اور یوں نہ تو عقل پرستوں کا میکانکی نظریہ اور نہ قوت پرستوں کا فلسفہء حیات ایک لمحے کے لیے بھی ”شدن“ Becoming کے تنگ دائرے سے نکل سکتا ہے جس میں آج ہم اپنے آپ کو محبوس پاتے ہیں۔

لیکن جب یہ دونوں نظریات بعض موقعوں پر حسی حقیقت کے دائرے سے پرے کی کسی شے کے وجود کو تسلیم کر لیتے ہیں تو یہ مذہب کی جگہ جھوٹی مذہبیت کے متبادل کی طرف اور ایک ایسی مبہم روحانیت میں یقین کی طرف سمت نمائی کرتے ہیں جس کو سوائے جذباتی آرزو طرازی کے کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ بہرحال گینوں کا خیال ہے کہ مذہب لا محالہ اسی لمحے جھوٹی مذہبیت کے قعر میں گر پڑتا ہے جب اس کے اندر اعتقادی یا مابعدالطبیعیاتی عنصر پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ گینوں جائز طور پر مابعدالطبیعیات اور مذہب کے امتیاز کو ہندو عقیدے کے دو طریقوں ”جنانا“ اور ”بھگتی“ کے امتیاز کے مساوی قرار دیتا ہے اور جس طرح راہِ محبت سچے روایتی اعتقاد کے نافذ کردہ ضابطے کے فقدان کی صورت میں بڑی آسانی سے گمراہی اور غلو کا شکار ہو جاتی ہے اسی طرح مذہب اعتقاد سے جُدا ہو کر ہر قسم کی شخصی تخیل آرائی اور نیو راتی جذباتیت کا شکار ہو جاتا ہے۔

لیکن اگر گینوں طریق عبادت کو یعنی ایک الٰہِ شخصی کی پرستش کو، ایک زاویے سے، اس مسلک کے تابع گردانتا ہے جو عقلی تفہیم کے ذریعے اصول اعظم (Supreme Principle) کے مکمل وقوف تک رہنمائی کرتا ہے ___ ایسا اصول اعظم جو وجود Being سے بھی مقدم ہے (جس طرح الوہیت الٰہ پر مقدم ہے) تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طرح مذہب کی اہمیت کم کر رہا ہے، وہ کسی بھی ایسی شے کی نفی نہیں کرتا جو اپنے دائرے میں مؤثر طور پر (اور جب تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے) انسان کی اس کی آخری سچی منزل تک رہنمائی کرتی ہے۔ فی الاصل وہ مذہب ہی کو ایسا راستہ قرار دیتا ہے جو مکمل طور پر انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے جیسے کہ ہم اسے (فطرت کو) اس دور کے اکثر لوگوں میں پاتے ہیں۔ جاری ہے۔۔۔۔۔