رنگ سا اڑتا ہے

یہ تحریر 218 مرتبہ دیکھی گئی

اشفاق عامر کا پہلا شعری مجموعہ رنگ سا اڑتا ہے آپ کے سامنے ہے۔ اس مجموعے میں شامل ان کی غزلیں اور نظمیں آپ کو کیسی لگتی ہیں، اس کا فیصلہ تو آپ اپنے ذوقِ شعر کی بنیاد پر کریں گے ہی، البتہ عامر کا ایک دیرینہ دوست ہونے کے ناطے میں آپ کو پیشگی یہ بتا سکتا ہوں کہ چونکہ یہ شاعری آج کل کی داد طلب شاعری سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ تہہ دار بھی ہے، لہٰذا آپ سے قدرے گہری توجہ کی متقاضی بھی ہو گی۔ کیوں کہ یہاں آپ کو سطحی اور عامیانہ جذبات سے سستے انداز میں کھیل کر داد وصول کرنے کی کوئی کوشش تو درکنار ہلکی سی خواہش بھی نظر نہیں آے گی، دراں حالیکہ یہی بازاری پن آج کل ایک عمومی روش ٹھہرا۔
لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ منفرد شاعر محبوب خزاں نے کہا تھا:

دیکھو! دنیا ہے، دل ہے
اپنی اپنی منزل ہے!

تو یہاں منزل دنیا نہیں دل ہے۔ اشفاق عامر جانتے ہیں کہ شعر کے معاملے میں منزل اگر دنیا کو بنا لیا جاۓ تو ناپختہ اور کمتر درجے کا شعری ذوق رکھنے والے ہجوم سے واہ واہ وصول کرنا آسان ہے۔(اور اس سلسے میں سامنے کی مثالیں بے شمار ہیں)۔ مشکل تو تب پڑتی ہے جب مسئلہ دل ہو۔ اپنا ہی دل، جو مان کے ہی نہ دے جب تک ہر پہلو سے اس کی اپنی تسکین نہ ہو جاۓ۔ عامر نے اسی کٹھن راستے کا انتخاب کیا ہے جو بذاتِ خود ایک منزل ہے، ایک اعزاز ہے۔
عامر کا شعری سفر اڑھائی دہائیوں سے زائد عرصے کو محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف شعر کہے بلکہ اردو کی جدید و قدیم شاعری کا مطالعہ بھی خوب کیا، جس سے ان کے ذوقِ شعر میں غیر معمولی پختگی آئی، لیکن جسے انہوں نے اپنی ریاضت کی بدولت ایک سادگی میں ڈھالا، جس کی کئی پرتیں، کئی رنگ ہیں، اور جو ان کے ٹھہرے ٹھہرے لہجے اور دھیمے اسلوب میں جا بہ جا جھلکتی ہے۔ کئی اشعار پر تو وہ محبوب خزاں جیسے شعر کے کڑے پارکھ اور بے لاگ نقاد سے بھی داد سمیٹ چکے ہیں، جس کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ حالانکہ خزاں صاحب کو شعر کے معاملے میں ہمیشہ “تنقیص نقد، تحسین ادھار” کے خود وضع کردہ اصول پر سختی سے عمل پیرا دیکھا ۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ ان کا شعر و ادب کا مطالعہ تھا ہی اتنا وسیع و عمیق اور ذوقِ شعر تھا ہی اتنا اعلیٰ!

بہر حال،توصیف تبسم صاحب جیسے شفیق بزرگوں اور اختر عثمان جیسے مخلص دوستوں کے پیہم اصرار اور یاد دہانی کا نتیجہ ہے کہ بالآخر اشفاق عامر کی شاعری کتابی شکل میں ہمارے سامنے آ ہی گئی۔ دھیرے دھیرے اس کا مطالعہ کیجے اور مدھر چاندنی کے جیسا لطف اٹھائیے!
اشفاق عامر کو دلی مبارک باد، نیک تمنائیں اور مستقبل میں مزید کامرانیوں کیلیۓ ڈھیروں دعائیں!