رنگ سا اُڑتا ہے

یہ تحریر 272 مرتبہ دیکھی گئی

خرابہ شام کو آباد ہو گا

یہاں آ کر سبھی رسوا ملیں گے

اس آباد خرابے کی ایک شام میں، میں اشفاق عامر سے ملا تھا. اچھا لگا. کوئی تو ہے جسے اپنی رسوائی پر ناز ہے. ایک طرف ہنستا بستا جہان اور ایک طرف چند سر پھرے. کبھی کبھی کوئی آواز اور پھر خامشی. پتا نہیں اس ماحول میں کیا ملا ہوا تھا جہاں ان سر پھروں کی منڈلی جمتی تھی. اشفاق اس مجلس میں زیادہ سنتا کم بولتا تھا. ایسے میں ایک جانب سے آواز آئی “تم نے اشفاق عامر کا وہ شعر سنا ہوا ہے، شام والا.” میں نے لا علمی کا اظہار کیا. ایسے میں سب کی نظریں اشفاق عامر کی طرف اٹھیں. اشفاق بھائی شعر سنائیں. اشفاق نے کچھ لمحے توقف کیا پھر گویا ہوئے :

شام کی دھند میں کرتے ہیں تصور اس کا

اور پھر صرف بھی ہوتے ہیں پذیرائی میں

اس شعر کا سننا تھا کہ جیسے بجلی کا  کوندا لپک گیا ہو. خرابے کا سارا ماحول بدل گیا. احمد فراز کا شعر ایک دم زیادہ سمجھ میں آنے لگا.

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

میں اس شعر کے بعد متصوَر اور متصوِر کی ٹوہ میں لگ گیا. مجلس ختم ہو گئی اور شعر ابھی تک ختم نہیں ہوا. کچھ شعر شاید نہ ختم ہونے کے لیے  ہوتے ہیں . ان کی امیجری لا زوال ہوتی ہے. اس کے بعد یہ خیال زور پکڑنے لگا کہ اس شاعر سے اور شعر سنے جائیں. اشفاق شعر سناتے. ہم ان شعروں سے اپنے اپنے حصے کے غم اور خوشیاں حاصل کرتے اور پھر اگلے خرابے کی آبادی کے انتظار میں مجلس برخاست ہو جاتی.

اب جب “رنگ سا اڑتا ہے” کی صورت میں اس خرابے کے صدف ایک جگہ دیکھے ہیں تو ایسا لگا جیسے انتظار کی فصل پک گئ ہو. کتاب شاعر کی منزلِ مراد ہی تو ہوتی ہے. کتاب کھولی، پڑھی. پڑھتے پڑھتے دھیان کئی ایسی جگہوں پر رک جاتا جہاں سے آگے جانے کو جی نہ چاہتا ہو.

کتاب کے آغاز میں جب اس قبیل کے اشعار پڑھنے  کو ملے تو ایسا لگا جیسے کسی ہم نوا سے ملاقات ہو گئی ہو.

واپسی اب کے نئی عمر طلب کرتی ہے

اس قدر دور چلے آئے ہیں ہم آپ کے ساتھ

یہ ہجر و وصل کی دنیا ہی اپنی دنیا ہے

سوائے اس کے تماشائے بود و ہست ہے کیا

مشکل ہے تصور بھی تیرا اس کارِ غمِ بے کاری میں

جو تجھ کو سوچنے والے تھے اب ایسے دماغ بھی کم کم ہیں

اتنا ڈھونڈا ہے تجھے دنیا میں

اب تو ہر شخص ہے دیکھا دیکھا

ان اشعار کے پڑھنے کے بعد محبت میں گزری ہوئی زندگی کی فضیلت میں اضافہ محسوس ہوا. محبت ہو تو ایسی کہ پلٹنے کے لیے ایک زندگی ناکافی ہو جائے. ایک زندگی، ایک محبت. توحیدی ایسے ہی تو ہوتے ہیں. اشفاق اپنے اشعار میں اپنی روداد کے بیان میں مطاہر رہتا ہے. ایسے جیسے اپنے سے زیادہ دوسرے کی آبرو عزیز ہو.

دوسرے شعر میں اشفاق نے دنیا والوں پر اپنا عقیدہ واضع کر دیا ہے. اپنا پتا بتا دیا ہے . کہ میں بندہ عشق ہوں. میری اقلیم عشق میں ہجر اور فراق ہی دو ایسی مِلک ہیں جن پر میرا روزگار حیات ہے.یہی میری زندگی ہے. اس سے باہر کچھ نہیں. کتنا منفرد احساس ہے. ہجر اور وصل اور بس. باقی سب کو ہوس کہا نہیں وہ خود بخود ہوس بن گئے. شعر کا ایک اعجاز یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت کچھ کہا بھی نہ جائے اور وہ ادا بھی ہو جائے.

“رنگ سا اڑتا ہے” اس نام کو ہی لے لیجیے. یہ رنگ وہ رنگ ہر گز نہیں جسے اڑنے پر رنگساز سے دوبارہ کروا لیا جاتا ہے. یہ رنگ ایک متحیر کی رودادِ حیات ہے. جس نے اس جہان میں نا برابری دیکھی اور اپنے آپ میں ثابت نہیں رہا. وہ جب جب کوئی ظلم ہوتے دیکھتا ہے تو اس ظلم کی کسک اس کے چہرے پر ہویدا ہو جاتی ہے. اس نام میں دُکھ ہے جس کی ٹیس اس کے متن سے ظاہر ہوتی ہے.

رونقِ بزمِ شوق یاد نہیں

ہجر میں مبتلا رہا ہوں میں

خواب بجھنے لگے ہیں آنکھوں میں

رات بھر جاگتا رہا ہوں میں

چراغِ بزمِ تخیل تھی تیری یاد اے دوست

میں رہ گیا ہوں اندھیرے میں ہاتھ ملتا ہوا

ظاہر ہے اس تحریر میں ہر شعر کے بارے میں بات نہیں ہو سکتی. اور ایسا بھی کوئی کلیہ نہیں جس کے بیان کے بعد ہر شعر ہر کسی پر آئینہ ہو جائے. اور دریا کو کوزے میں بند کرنا مجھے آتا نہیں. ایسا ممکن ہوتا تو کوزے کا نام کوزہ نہ ہوتا اور دریا کا دریا. دریا کوزہ نہیں اور کوزہ دریا نہیں. ایسا مابعد جدیدیت میں ہوتا ہو تو ہوتا ہو. شاعری اتنی محدود نہیں ہوئی کہ اسے فارمولوں کی بھینٹ چڑھا دیا جائے. اس قربانی پر قربان ہونے کے لیے ایک دنیا تیار ہے.

“رنگ سا اڑتا ہے” سے  حظ اٹھانے  کے لیے خود کو ان احتجاجیوں میں شامل کرنا ہو گا جن کو رنگوں کے بکھرنے پر ملال ہے. جنہیں عالِم کی چپ مارے دیتی ہے. جو مجنون ہیں اور جنون کو شعور میں بدلتا دیکھ کر حیران.اس کتاب کو سمجھنے کے لیے گلیوں گلیوں ان بے طلب لوگوں کو تلاش کرنا پڑے گا جو رنگ تھے، روشنی تھے، خوشی تھے. اب خاموش ہیں.اس کے برعکس شعر کی منڈی میں لوگ بولتے چلے جاتے ہیں، بولتے چلے جاتے ہیں،. ذرا چپ نہیں کرتے. ایسوں کے لیے شاعری کچھ نہیں کر سکتی. ان کا علاج دنیا ہے اور جس نے خود کو دنیا میں گم کر لیا اس کو یہ ادراک نہیں ہو سکتا :

یہ دورِ اہلِ خرد ہے کسی کو کیا معلوم

مرے جنونِ قبا تار تار میں ہے کیا

ویسے بھی اہلِ خرد پکے رنگوں والے ہوتے ہیں. وہ کیا جانیں اُڑتا سا رنگ کیسا ہوتا ہے.

سلیم سہیل
http://auragesabz.gamecraftpro.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84/