رمزیہ اشارہ

یہ تحریر 137 مرتبہ دیکھی گئی

”چھوڑ دو اس سرزمین کو یا موت کو خوشی سے گلے لگانے کے لئے تیار ہو جاؤ!“ گدھ مٹیالے آسمان کی وسعت، جو بادل کے آنگن میں آکر سمیٹ گئی تھی، چکر لگا رہے تھے اور کالے بادلوں سے جھانکتی سورج کی روشنی ان کا سایہ دیوار پر یوں پینکھ رہی تھی جیسے ردی کی ٹوکری میں کاغز پھینکا جاتا ہے۔ آسمان کی سمٹی ہوئی وسعت کے نیچے خار دار جنگلی پودوں سے مزین راستے پر ستمگر کھڑا بار بار ”چھوڑ دو اس سرزمین کو یا موت کو خوشی سے گلے لگانے کے لئے تیار ہو جاؤ!“ جیسے الفاظ دُہرا رہا تھا اور ساتھ ساتھ قہقہے کی سینہ چیر دینے والی آواز بلند ہو رہی تھی۔ ستمکش سامنے کھڑا حق حق کی صدا لگا رہا تھا۔ الفاظ دلائل کی رم جھم کے ساتھ انصاف انصاف کا مفہوم الاپ رہے تھے، مگر ستمگر پر کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بار بار موت کی صدا بن کر گونج رہا تھا اور دعویٰ کر رہا تھا ”یہ سرزمین ہمارے آباؤاجداد کی تھی مگر تمہارے لٹیرے آباؤاجداد نے اُس وقت ہم سے چھین لی جب ہم کمزور اور تم شہ زور تھے۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ اب ہم پرزور اور تم کمزور بن چکے ہو۔ وقت تاریخ کے پنوں کو نئے واقعات کے ساتھ دُہراتا رہتا ہے اور اپنی مسند کا فیض کبھی کس تو کبھی کس قوم کو بخشتا رہتا ہے۔ آج وقت ہماری چوکھٹ کا نگہبان ہے اور ہم اپنی سرزمین کو واپس حاصل کرنے کی طاقت اور ہمت رکھتے ہیں۔“اتنے میں فریادرس، سفید رنگ کے لباس میں ملبوس، کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے جب ستمگر کو ہاتھ میں بندوق، جو خون کی طالب تھی، اور ستمکش کو ستون کی مانند سامنے کھڑا اور حق حق کی صدا بلند کرتے پایا تو ان کے درمیان آ کھڑا ہوا اور ستمگر سے محبت بھرے انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کو چہرے پر سجائے سوال کیا، ”ستمگر، اتنے غصے میں کیوں ہو تم؟“ ستمگر نے جابرانہ انداز میں بندوق کی نالی کو ستمکش کے سینہ کے مزید قریب کرتے ہوئے کہا، ”کبھی یہ سرزمین جس پر آج یہ ، اس نے ستمکش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، اپنا حق جمائے بیٹھے ہیں ہمارے آباؤاجداد کی تھی مگر ان کے جابر آباؤاجداد نے ہماری نسلوں پر ظلم ڈھاتے ہوئے ہم سے چھین لی تھی۔ اور آج جب ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ اپنی ملکیت کو واپس حاصل کر سکیں تو یہ اپنے آباؤاجداد کی روش پر چلتے ہوئے ہم کو ہمارا جائزحق دینے سے انکاری ہیں۔ اب آپ ہی ہمارا فیصلہ کریں اور ہمارا حق ہمارے دامن میں ڈال دیں“۔ فریادرس ستمکش کی طرف پلٹا اور آنکھوں میں خون اور چہرے پر غصہ نمایاں کیے بیک وقت کئی سوال داغ دئیے، ”تم لوگ کیوں غاصب بنے بیٹھے ہو؟ لوگوں کا حق مارنے کی روش کو تم کب چھوڑو گے؟ تمہارے آباؤاجداد نے بھی لوگوں کو مارنے کو اپنا مقصدِ عظیم قرار دیا تھا اور اب تم بھی ان کی روش اور اسی راستے پر چلتے ہوئے دنیا کا امن تباہ کرنے پر آمادہ ہو اور لوگوں کا وہ حق، جو تمہارے آباؤاجداد نے غصب کیا تھا، دینے سے انکاری ہو؟“ستمکش، ستمگر کی بندوق کی نالی کو پیچھے جھٹکتے ہوئے، فریادرس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوا۔ ”عالمِ فانی گواہ ہے کہ ہمارے آباؤاجداد نے صرف اور صرف امنِ عالم کی خاطر ان لوگوں کی مخالفت کی جو امن کو تباہ کرنے کے در پے تھے۔ اور جب وہ لوگ توبہ کرلیتے تھے کہ وہ ظلم اور ظالم کی حمایت نہیں کریں گے، ہمارے آباؤاجداد انہیں تمام حقوق عزت کی رحل میں سجا کر عطا کرتے اور انہیں وہ مقام دیتے جس کی مثال آج کی دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ رہی بات اس سرزمین کی تو یہ سرزمین ہمارے آباؤاجداد کی تھی۔ انہوں نے نہ کسی سے چھینی تھی اور نہ ظلم کی حمایت کے صلے میں حاصل کی تھی۔ یہ ہماری تھی، ہے اور انشاءاللہ کل بھی ہماری ہی ہوگی۔“ستمکش کے یہ الفاظ سن کر ستمگر بھڑک اٹھا اور کہا، ”جھوٹ جھوٹ! تم غاصب تھے اور ہمارے حقوق کو تم نے غصب کیا تھا ، اب ہم تم جیسے غاصب لوگوں کو یہاں نہیں رہنے دیں گے، بلکہ اپنی سرزمین کو بمع تمام حقوق حاصل کرکے ہی رہیں گے۔ چھوڑ دو اس زمین کو اور چلے جاؤ اُسی جگہ جہاں کے تم باشندے تھے اور اگر ہمارا یہ فیصلہ تمہیں منظور نہیں ہے تو پھر!“”تو پھر؟“”موت کو ایسے گلے لگاؤ جیسے تپتی ریت پر ننگے پاؤں چلنے والا جوتے کو۔“ستمکش سے چپ نہ رہا گیا اور دلائل کے لمس کو سلگائے کہنے لگا، ”یہ سر زمین ہمارے لیے ماں کی گود کی مانند ہے اور دنیا کا کوئی بے وقوف بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ماں کی محبت بھری گود کو چھوڑ کر یتیم ہو جائے۔ ہم بھی یتیم نہیں ہونا چاہتے۔ یہ سرزمین، وہ سرزمین ہے جس کی مٹی ہماری جڑوں کی چوکیدار ہے۔ اگر ہم اس کو چھوڑ کر یہاں سے نکل گئے تو ہم زندہ نہ رہ سکیں گے۔“ستمگر یہ الفاظ سن کر طنزیہ مسکراتے ہوئے چلایا، ”یہاں تمہیں زندہ رہنے کا حق کون دے گا۔ تمہیں مرنا ہوگا، موت تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تمہارے لیے اب اس سے راہ فرار ہرگز ہرگز ممکن نہیں۔“ ستمکش نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے جواب دیا، ”ہم نہیں ڈرتے اس موت سے جو تمہاری اِس بندوق سے نکلی ہوئی اُس گولی سے ہوگی جو اس بات کی عینی شاہد ہو گی کہ ایک آزادی کا خواہشمند ماں کی گود ایسی سرزمین کو حاصل کرنے کی خواہش دل میں اور آنکھوں میں سرزمین سے محبت کا شعلہ بلند کیے خوشی سے فانی دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر آزادی کا شعلہ کیئں پروانوں کے دامن میں ڈال گیا۔ لیکن ہم ڈرتے ہیں اُس موت سے جو اِس ماں کو چھوڑ کر ہمیں آ پکڑے گی۔ وہ موت موت نہیں بلکہ ذلت کا تمغہ ہوگی اور وہ تمغہ ہماری روح کی موت کا باعث بنتے ہوئے ہمیں زندہ لاش کا لقب عطا کرے گا۔“ستمکش اور ستمگر کے تمام جملوں پر غور کرتے فریادرس نے محسوس کیا کہ ستمکش اِس سرزمین کو چھوڑنے پر کبھی بھی رضامند نہیں ہوگا اور یہاں میری دال گلنے والی نہیں تو وہ ستمگر کو دائیں ہاتھ سے ایک اشارہ کرتے ہوئے اپنے راستے پر ہو لیا، ستمگر نے اِشارم اِشارہ کرتے ہوئے سر کو جنبش دی اورستمکش کھڑا یہ سوچتا رہ گیا کہ اس اشارہ بازی کا کیا مطلب تھا۔