راج ہنس

یہ تحریر 1139 مرتبہ دیکھی گئی

وہ انسانوں میں راج ہنس تھا۔بوٹے سے قدکافضل محمودنہایت واجبی سی شکل کامالک تھا۔اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں ایسے میچی ہوئی تھیں جیسے املی سے بھراہوامنہ،جونہی کٹھاس حلق تک جائے تو آنکھیں ایک لمحے کے لیے پورازورلگاکربندہوجاتی ہیں۔کبھی کبھاراس کی آنکھوں کی یہ سختی نرمی میں بھی بدل جاتی تھی جب وہ باریک سی مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پرسجاتاتھا۔فضل محمودگاؤں بھرمیں حکمت کابادشاہ ماناجاتاتھا،جب وہ نبض پرہاتھ رکھتاتولگتادھڑکن اس کی انگلیوں کی پوروں سے رس رس کراس کے دماغ کی سکرین پرآڑی ترچھی لکیروں میں ابھررہی ہو۔پھروہ ہلکی سی ”ہوں“کرکے آنکھیں میچ لیتا،مریض کو اس کی ہوں کے لمبے اورچھوٹے ہونے سے اپنے مرض کی شدت کااندازہ ہوجاتاتھا۔بیگاں سے اس کی شادی کوپندرہ سال ہوگئے تھے،نوعمری میں ہوئی یہ شادی بھی کچے پھل کی طرح تھی جس میں رس اوررنگ نام کی کوئی بات نہیں رہی تھی۔گاؤں والے کہتے ہیں کہ بیگاں شادی کے وقت اس انارجیسی تھی جوشادی بیاہوں یاشب براتوں پرچلتاہے لیکن پھرروشنیوں سے بھرے ہوئے اس انارکاسارافاسفورس جلدہی ختم ہوگیا۔

درمیانے قدکی بیگاں کے چہرے کی رونق سورج کی کرنوں جیسی تھی۔اس کاسانولارنگ سنارکی بھٹی میں دہکنے والے شعلوں کی طرح چٹختاتھا،کھڑی ناک،چوڑاماتھا،باہرکونکلے ہوئے گال،وہ بھی ہری بھری سبزی ہی تھی جس کے ہرے ہرے پتوں پرچھڑکاجانے والاپانی پسینے کی بوندیں بن کرگرتاتھا۔سولہ کے سن میں شادی کاپیغام اس کے لیے پیپل پرلگے جھولے جیساتھاجس پربیٹھ کروہ جب سینہ آگے نکالے ہلکورے لیتی توآنکھیں بندکئے خودکوآسمان پرچلتاہواپاتی۔سہیلیاں سہاگ کے گیت گانے میں مگن تھیں،کسی نے چٹکی لی،کسی نے کان میں کھسرپھسرکی،کسی کابے شرم قہقہہ بلندہوا،کسی نے ہاتھ پرہاتھ مارااورکسی نے اس کے کندھے کوٹھوکادیا۔بیگاں خودکوشہزادی سمجھ رہی تھی جسے شہزادے کے ساتھ خواب نگرجاناتھاجہاں تن آسانی کے سارے تانے بانے ملتے تھے لیکن فضل محمودادھڑے ہوئے کھیس کی طرح تھا۔وہ راج ہنس تھا،پرندوں کی دنیاکامہاراج،سوامی،صوفی،پارسااوردرویش۔اس کاگھراس کے دل کی طرح خالی تھاجہاں اب دو لوگوں کوآبادہوناتھاجیسے سیلاب کے بعدتعفن اوربدبوکے مارے گھروں میں لوگ بس توجاتے ہیں لیکن گیلے کوٹھے اوردیواریں انھیں گرم نہیں ہونے دیتیں،ویسے ہی بیگاں کوفضل کی سیم نے تھوربنادیاتھا۔

پنواڑی کے پلنگ پردلہن بنی بیگاں بلب کی مدھم روشنی میں گھونگھٹ کے اندرسے کمرے کاجائزہ لے رہی تھی۔راج ہنس کی آہٹ نے اسے چوکناکردیااوروہ سرکومزیداپنی ٹانگوں کے درمیان گھساکرسکڑگئی۔صوفی پرندہ چندھیائی ہوئی آنکھیں لے کر اس کے پاس بیٹھ گیاماحول پرعجیب سی پاکیزگی چھاگئی جیسے مسجد میں صفیں بچھ گئی ہوں۔راج ہنس کے پاس کہنے کوکچھ نہیں تھاسوائے بے چارگی اوردلاسے کے،جواس نے بیگاں کے سرپرہاتھ رکھ کردیا۔سرپرہاتھ کایہ لمس اتناسردتھا کہ بیگاں پاؤں تک برف کی سل بن گئی اور اس کے منہ سے سسکارا نکل گیا۔راج ہنس مراقبے میں تھااسے یہ سسکیاں سنائی کہاں دیتیں کیونکہ وہ توکروٹ بدل کرسوچکاتھا۔بیگاں تانگے پرسوارتوہوگئی لیکن کوچوان کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے وہ پچھلی نشست پرتنہابیٹھی تھی۔

بیگاں کو اپنا وجودجہیزکے برتنوں کی طرح لگنے لگاتھاجوکمرے کی شیلف پرچمکتے دمکتے ہرآنے جانے والے کوخالی نظروں سے تکتے تھے۔وہ جب بھی راج ہنس کے قریب ہونے کی کوشش کرتی،وہ چھپاک سے غائب ہوجاتاجیسے کوئی چھلاوہ ہو۔وہ دیواروں کے سوراخوں سے نکلنے والے کن کھجوروں کی طرح بھاگتاکہ بیگاں ڈنڈاپکڑتے پکڑتے رہ جاتی۔اس کن کھجورے کاپیٹ زہرکی پھوارسے خالی تھاپھروہ کیسے سوتے میں اس کے کان میں گھسنے کی کوشش کرتا۔بیگاں عجیب سی الجھن میں تھی کہ پھرراج ہنس نے ایک دن اس کی یہ مشکل ہاتھ جوڑکرآسان کردی۔”نیک بیبیاں شوہروں کے پردے رکھتی ہیں بیگاں،انھیں ننگانہیں کرتیں۔سداسہاگن رہ۔“

راج ہنس بیگاں کی زندگی میں کلربن کراگاتھااگروہ گھرکے صحن میں لگے سفیدے کی طرح ہوتاتوزمین کاساراپانی پی کراسے ہراکردیتا۔اس پیڑپربھی چڑیاں بیٹھتیں،گھونسلیں بنتے،جھولے ڈالے جاتے،خزاں آتی،بہارمیں بلبلیں گیت گاتیں لیکن وہاں توسیلاب بھی نہیں آتاتھا۔بڑے سے گھرمیں بیگاں اپنادل لگانے کے لیے چاؤچونچلے کرنے لگی،پہلے تو اس نے صحن کے دائیں جانب ایک بڑاساڈربہ بنواکرمرغیاں رکھ لیں۔راج ہنس نے اس کے شوق کودیکھتے ہوئے ایک کتابھی رکھ لیالیکن بیگاں کے لیے سارے کھیل بیکارتھے وہ بلی کی طرح ڈربے کی جالی سے منہ جوڑے بیٹھی تھی اورراج ہنس اندرڈراسہمامرغابنادبکاہواتھا۔بیگاں کوکتے سے انسیت سی ہونے لگی تھی،جوچوں چوں کرتے ہوئے اس کے پاؤں چاٹنے لگتاتووہ آنکھیں بندکرکے ہوکے بھرنے لگتی۔کبھی کبھی تو اس کاجی چاہتاوہ اس کتے کوبھی بھنبھوڑکررکھ دے جواندرہی اندراسے کاٹ کھاتاتھا۔وہ دل ہی دل میں اس کے دانتوں کی چبھن محسوس کرنے لگی۔بیگاں زخمی پرندہ تھی جسے شکاری نے غلیل سے نشانہ بناکردرخت سے گرادیاتھا۔ادھ کھچاتیرآرہوانا پار،بس درمیان میں ہی کہیں کھب گیااوراس کی بچہ دانی زخمی ہوگئی۔راج ہنس ان سب باتوں سے بے خبرتھااسے تالاب میں کلانچیں بھرنے کاشوق تھالیکن سورج کوپکڑنے کے چاؤ میں اس کے پاؤں زمین سے ٹکراجاتے تھے۔

جوں جوں وقت گزررہاتھابیگاں کی جوانی درخت پرچڑھنے والی نئی چھال کی طرح چمک دارہوتی جارہی تھی۔ماں پریشان تھی کہ اس کے بچہ کیوں نہیں ہوتا،وہ جب بھی اسے ڈاکٹرکودکھانے کاکہتی بیگاں کے کانوں پرراج ہنس کاپراناریکارڈبج اٹھتا:”نیک بیبیاں شوہروں کے پردے رکھتی ہیں۔“وہ ماں کی تسلی کے لیے کہہ دیتی:”بے بے!حکیم جی خودمیراعلاج کررہے ہیں۔“گاؤں میں مشہورہوچکاتھاکہ بیگاں بچہ پیدانہیں کرسکتی،جب بھی کوئی ملنے والاراج ہنس سے پوچھتا:”مسئلہ کی اے؟“تواسے لگتامن کاچور پکڑا گیاہے۔صوفی پرندے کی آنکھیں مزیدچندھیاجاتیں اوروہ پانی کے وسط میں ساکت کھڑاہوجاتا۔ملنے والے اسے دلاسے دے کرچلے جاتے۔کچھ توترس کھاتے ہوئے دوسری شادی کابھی مشورہ دیتے لیکن راج ہنس کھلی آنکھوں سے بھی دریاکے پارنہیں دیکھ سکتاتھا۔

شادی کے سولہویں سال بیگاں کودیوانگی کے دورے پڑنے لگے۔وہ اکثرصحن میں بیٹھے بیٹھے گرجاتی تومحلے والیاں دیوارکی دوسری طرف سے شورمچاتی اس کے پاس پہنچ جاتیں۔راج ہنس ان کے سامنے بیگاں کے گال تھپتپانے لگتا،ابھی وہ اس کے ہاتھ پاؤں مل ہی رہاہوتاکہ بیگاں کی آنکھیں کھل جاتیں،اس کے سینے سے لمبی سی آہ نکلتی،ہونٹوں سے جھاگ صاف کرتے ہوئے وہ اسے گودمیں اٹھاکرکمرے میں لے جاتا۔کتنی دیراس کے سرمیں انگلیاں پھیرتارہتا،اونچی آوازمیں تلاوت کرتاتوبیگاں اس کاہاتھ زورسے دباتی جیسے کہہ رہی ہوکہ کچھ ناپڑھوبس یونہی پھونکیں مارتے جاؤ۔وہ اس کی سانسوں کی گرمی کومحسوس کرتے ہوئے بڑے بڑے سانس لیتی تو راج ہنس سمجھتااس کاآخری وقت آگیاہے۔پہلے تو اسے یہ دورے دو تین ماہ بعدپڑتے تھے لیکن پھرآہستہ آہستہ ان میں شدت آنے لگی۔راج ہنس بھی اس ریہرسل کا عادی ہوگیا تھا،بیگاں اب گاہے بگاہے اس کا ہاتھ پکڑنے لگی تھی۔اکثرجاڑوں کی راتوں میں اس کی سڈول ٹانگیں راج ہنس کی بے جان ٹانگوں سے ٹکرانے لگتیں کبھی وہ اس کی پنڈلیوں کواپنے پاؤں کے انگوٹھوں سے ملتی تو کبھی اس کی کمرکے گردبازوؤں کاہالہ تنگ ہونے لگتا۔راج ہنس گہرے پانیوں میں سرنیہوڑائے کھڑارہتا،کچی نینداس کی آنکھوں میں پکے ہوئے میوؤں کی طرح گلنے سڑنے لگتی۔بیگاں کولگتاجیسے وہ کسی کفن میں لپٹی لاش کے ساتھ بغل گیرہے یہ احساس اس کے جسم میں چیونٹیوں کی طرح رینگنے لگاتھا۔وارفتگی کی منزلیں بڑی سادہ اورنفیس تھیں،وہ اس کے ہاتھ کواپنی آنکھوں سے مس کرتی اوران میں تیرنے والے آنسوؤں کی آبشارکومحسوس کروانے کی کوشش میں ہرباراس کاوجودزخمی پرندے کی طرح ریت پرگرجاتا۔راج ہنس کولگتاجیسے اس کے جسم کوگدھ نوچنے کے لیے بے تاب کھڑے ہوں۔وہ خود کونوچ نوچ کرکھائے جانے کے خوف سے رونے لگتاتوبیگاں ماں کی طرح اس کاسرسہلاتی۔راج ہنس چیخ اٹھتا:”میری حکمت وی کس کم دی،بیگاں۔“گھرکی چاردیواری میں چوہے بلی کاکھیل جاری تھابیگاں بلی کی طرح مریل چوہے کودم سے پکڑکرپٹختی،کبھی اپنے پنجوں سے بال بناکرآگے دھکیلتی توچوہاخودکوموت کے سامنے بے بس خیال کرکے آنکھیں موندھ لیتا۔بیگاں راج ہنس کومتوجہ کرنے کے لیے پہلے توہارسنگھارکاسہارالیتی تھی پھراس کی آنکھیں مسکارے سے خالی ہونے لگیں۔کوری کراری آنکھیں وحشت زدہ سی ہوتی جارہی تھیں،کنگھی کے دندے اس کے سوکھے بالوں کے گچھوں سے بھرجاتے۔صحن کے کونے میں پانی سے بھری جھجریں اس کامنہ چڑانے لگی تھیں۔ اس کے لیے راج ہنس بھی مٹی کاکچاگھڑاتھاجس کے اوپروہ پیتل کے گلاس کی طرح دھری ہوئی تھی۔ان دنوں اسے لگتاتھاجیسے اس کے پنڈے پرجالے سے لگ گئے ہوں،مکڑی کے منہ سے لمبی تاریں نکلتی جارہی تھیں اوروہ اس جال میں قیدہوچکی تھی۔

بیگاں سوچوں کے سمندرمیں نمک کی ڈلی بن کرگھلنے لگی اورپانی گہرائی تک نمکین ہونے لگا۔اسے اپناگھراس کوٹھڑی جیسالگتاتھاجس میں وہ اپلوں کی دھونکنی میں تڑکے تڑکے دودھ کی پتیلی رکھتی تھی۔شام کے بعدجب وہ اسے نکالتی تودودھ پک پک کرپتلاہوجاتااور اوپرمکھن کی دبیزتہہ بن جاتی۔پکنے کے اس عمل میں اس کابھی مکھن نکل آیاتھاجسے راج ہنس مزے سے روٹی پرلگاکرکھارہاتھا۔گھرکے سناٹے اورراج ہنس کی خاموشی سے گھبراکروہ اپنے حصے کاجہنم کاٹ کرمرگئی۔اس رات راج ہنس اس کے بالوں میں انگلیاں پھیررہاتھااوروہ اکھڑے اکھڑے سانس لے رہی تھی۔مرتی ہوئی بیگاں نے بڑے گستاخانہ اندازمیں راج ہنس کاہاتھ اپنے لرزتے ہاتھوں میں لے کرہونٹوں سے مس کیا۔اکھڑاہواایک آنسوکان کی طرف بہہ گیااورزندگی میں کروٹیں بدلتی،اجلے بسترکی شکنیں درست کرتی بیگاں کاسردوسری طرف ڈھلک گیا۔ خالی گلاس کی طرح اب راج ہنس گھرمیں بھی تنہاتھا۔پوراگاؤں اس کے اکیلے پن پراداس تھاکسی کوبیگاں کے مرنے کادکھ نہیں تھا، وہ کون سابارآورپیڑتھی جس کی چھاؤں گھرکے لیے ہوتی۔راج ہنس نے تنہائی سے سمجھوتاکرلیاتھالیکن لوگ مصرتھے کہ دوبارہ گھربسایاجائے۔اسے ان باتوں سے خوف آنے لگتاتھاکہ کہیں نئی آنے والی بیگاں جیسی نا ہوئی تووہ پورے گاؤں کے سامنے ننگاہوجائے گا۔دوسری طرف اسے گھرکی دیکھ بھال اورہانڈی روٹی کے لیے کوئی مستقل آسرابھی چاہیے تھااس لیے اس نے فیصلے کی ڈور دوستوں پرچھوڑدی۔

نرگس اس کی زندگی میں آنے والی دوسری عورت تھی۔ راج ہنس زندگی کے چالیس سال جس خاموشی سے گزارچکاتھااب اس دیوار میں کھڑکی کھلنے والی تھی۔نرگس پلنگ پرگاؤتکیے سے ٹیک لگائے آنکھیں بندکیے نیم درازتھی کہ اس کی آہٹ سے سیدھی ہوکربیٹھ گئی۔اس کے پیازی گالوں پرگہری مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی اوراس کی نظریں راج ہنس کاپیچھاکررہی تھیں۔”وہ۔۔میں۔۔کہناچاہتاتھا کہ۔۔۔“تمہیدباندھی جانے لگی۔”حکیم صاب!خیریت تاں ہے ناں۔“نرگس نے فلمی اندازمیں ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔راج ہنس کولگاجیسے اس نے اپنی زندگی کی کوئی سب سے بڑی بھول کرلی ہو۔اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے اورسرکانپنے لگا۔اس سے پہلے کہ نگواس کاہاتھ پکڑتی راج ہنس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا۔ہر عورت میٹھاپان نہیں ہوتی،اس بارراج ہنس تمباکووالاپان چبابیٹھاتھا۔سخت سپاری اس کے کلے کوکاٹ رہی تھی اوروہ تھوک نگلنے پرمجبورتھا۔کمرہ قبر کی طرح ٹھنڈااوراندھیرامحسوس ہورہاتھا،نرگس کی آنکھوں میں کہراآکرٹھہرگیااس کارنگ لٹھے کی طرح سفیدہونے لگا۔”نیک بیبیاں شوہروں کے پردے رکھتی ہیں نرگس،انھیں ننگانہیں کرتیں۔“راج ہنس نے ٹھہرے پانی میں آس کاپتھرپھینکا۔”اونہہ۔“نرگس نے غصے سے سرکوجھٹکااورزورداراندازمیں خوں ں ں ں ں کرکے پلنگ کے نیچے تھوک کرکپڑے بدلنے چلی گئی۔راج ہنس کواس کی بے باکی نے بتادیاکہ اس کی کشتی سمندرکے بیچوں بیچ گرداب میں پھنسنے والی ہے۔راج ہنس کروٹ بدل کرسونے کی کوشش کرنے لگا۔آج اسے محسوس ہواجیسے وہ بیگاں ہے اورنرگس راج ہنس،وہ دیوارپربیٹھے ہوئے بیمارکبوترکی طرح غٹرغوں غٹرغوں کرنے لگا۔نرگس کے گدازکولہے بسترکی سل پرغصے سے دھرے ہوئے تھے اورپائینتی پراس کے ہلتے ہوئے پاؤں راج ہنس کواس کی شدیدخفگی کاسگنل دے رہے تھے۔وہ اپنے لمبے ناخنوں سے سویٹرکے بازوکادھاگامروڑتی رہی اوروہ اچانک گرم سویٹرمیں تبدیل ہو گیالیکن نرگس نے اس سویٹرکی ایک تاربے دردی سے کھینچ کراسے دوبارہ گولا بنادیا۔

راج ہنس ایک ہی وار میں دروازے پرلگے ٹاٹ کی طرح ہوگیاتھا،میلاکچیلااورپھٹاہواٹاٹ جس کے سوراخوں سے گھرکی برہنگی گزرنے والوں کوصاف نظرآتی ہے۔دھواں اڑاتے توے کی طرح جلن اورچبھن اسے کاٹ کھائے دیتی تھی،اس کے جسم میں کیڑیاں رینگنے لگیں،ہاتھ پاؤں سن ہونے لگے،کانوں میں شائیں شائیں ہورہی تھی،وہ نئے دن کاسوچ کرادھ مواہواجاتاتھا۔اس پربیگاں کی دیوانگی کے اسرارکھلنے لگے،اب اسے معلوم ہواکہ وہ راتوں کو ڈرکے مارے اس کے ساتھ کیوں چپکتی تھی اوروہ ٹنڈمنڈدرخت کی طرح ایک ہی جگہ گڑارہتاتھا۔آج وہ ٹھنڈی چیونگم کی طرح قالین کے ریشوں سے چپکاہواتھا، اسے احساس ہورہاتھاکہ کرنٹ لگنے پرجھٹکے کیسے لگتے ہیں،گیلے ہاتھوں سے ننگی تاریں پکڑناکیاہوتاہے۔راج ہنس پانیوں کے بیچیوں بیچ کھڑااونچی چھلانگ لگانے لگاتھاجیسے ابھی وہ سورج کوپکڑلے گاکہ اچانک آسمان پربادل چھاگئے،سورج چھپ گیااورراج ہنس کسی شکاری کی بندوق سے نکلنے والی گولی کی زدمیں آکرماراگیا۔

٭٭٭٭٭٭