دیریاب

یہ تحریر 198 مرتبہ دیکھی گئی

دیریاب
قیمت: 395 روپے
ناشر: القا پبلی کیشنز، گلبرگ2، لاہور
دیریاب خورشید رضوی کا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے شاعری کے چار مجموعے “شاخ تنہا” ، “سرابوں کے صدف” ، “رائیگاں” اور “امکان” کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ انہی شعری مجموعوں کو بعد میں “یکجا” کی صورت میں ایک جلد میں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔
خورشید رضوی شاعر، محقق، نقاد اور عربی ادب کے شناور۔ ایک شخصیت اور اس کے اتنے عکس۔ اور ہر جہت کے اپنے الگ تقاضے۔
دیریاب، کتنا مختلف نام، دیر سے ملنے والی چیزیں دیرپا ہوتی ہیں۔ ان پھل دار درختوں کی طرح جو پھلنے میں وقت لیتے ہیں۔ شاعری پھل ہی تو ہوتی ہے۔ عمر کی شاخ پر لگنے والا پھل جسے شاعر اپنے ودیعت کردہ ہنر سے سینچتا رہتا ہے اور صبر اور قناعت سے پھل پکنے کا انتظار کرتا ہے۔ اس امر میں تھوڑی سی عجلت نقصان دیتی ہے۔ پھل کچا اور کھٹا رہ جاتا ہے۔ کچے اور کھٹے پھل کا انجام آپ سوچ سکتے ہیں۔
صبر اور قناعت خورشید رضوی کو ہاتف سے ودیعت کردہ وہ انعام ہیں جس پر ان کے فن کی بنیاد استوار ہے۔ ان کے یہاں سمجھوتا نام کی کوئی چیز نہیں اور پھر فن پر سمجھوتا۔ ایک گناہ کبیرہ۔ انھوں نے اپنے فن کی آبیاری اپنے باطنی سچ سے کی ہے۔
گزرا کرے سفید و سیہ سیل روز و شب
اک کنج دیریاب میں سوئے ہوئے ہیں ہم
اور یہ نیند کتنی ثمر آور ہے۔ کنج دیریاب کی ترکیب میں کتنا نیا پن ہے۔ کنج دیریاب جو سیل روز و شب میں سفید و سیہ کی پروا نہیں کرتا۔ اسے تو باطنی صداقت پر اعتماد ہے۔ وہ مظاہر کی تہذیب اپنی ذات کی سان پر رکھ کر کرتا ہے۔ اس کنج دیریاب نے اسے توکل اور تیقن عطا کیا ہے۔ سیل روز و شب سے بچنے کے لیے کنج دیریاب کی امان کتنی منفرد؟ کتنی خوبصورت؟ کتنا نیا تلازمہ؟
غزل کی اتنی توانا روایت ہے کہ اس میں جگہ بنانا کسی بھی شاعر کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ مانوس ڈکشن۔ تراکیب اور تلازمات میں انسیت۔ بحر، قافیے اور ردیف کی پابندی۔ تلمیح، تشبیہہ، استعارہ، مطلع اور مقطع کا نظام۔ شاعر کے پاس بات کرنا اور خاص طور پر بیان کردہ موضوعات کو کوئی نئی کروٹ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر خورشید رضوی جیسے شاعر ان مشکلات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی موج، اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اپنے معروض سے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی ہمدردی اپنے لوگوں سے ہوتی ہے۔ وہ اپنے لوگوں کی خوشی اور غم کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں۔ اپنے وطن سے محبت اپنا ایمان سمجھتے ہیں اور وطن میں پلنے والے ناسوروں کی سمت نمائی اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
جو عیاں تھا اسے مستور کہا جانے لگا
دل کی دھڑکن کو بہت دور کہا جانے لگا
زرد جو چیز ہوئی لوگ اسے زر سمجھے
سنگ چمکا تو اسے طور کہا جانے لگا
یہ اشعار معاشرے کے دہرے معیارات کے خلاف ایک مہذب احتجاج ہیں۔ خورشید رضوی کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ظلم، محبت، نفرت، احتجاج، گریہ، انبساط کا اظہار اس حسن، دھیرج اور متانت سے بھی کہا جا سکتا ہے؟ اظہار کی یہ صورتیں دیریاب میں موجود ہے۔

سلیم سہیل
http://auragesabz.gamecraftpro.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84/