دن چڑھے دریا چڑھے

یہ تحریر 141 مرتبہ دیکھی گئی

اس جدید اور تقریباً بے روح شہر میں، جو عباس اطہر کی نظموں میں کسی کابوس کی طرح سانس لینے کی کوشش کرتا ہے اور مسلسل بنتابگڑتا نظر آتا ہے، ایک لاوارث معاشرہ آباد ہے۔ یہ بددیانت معاشرہ جن پیش پا افتادہ ڈراموں۔۔۔ عام بدچلنی، بے ربط محبتیں، قتل، جنون، غارت گری اور بے زاری کے آسیب۔۔۔ کو بے دردی اور بدتمیزی سے کھیلنے میں مصروف ہے۔ ان میں روشنی ہے نہ رنگٗ نہ رس۔یہ ایک شاعر ہی کو زیب دیتا ہے کہ وہ ان ڈراموں کو توڑ پھوڑ کر ملبے میں سے ایسے ڈرامے وضع کرے جن کا لہجہ شاعرانہ ہو۔

عباس اطہر کی ان نظموں کا ایک اہم پہلو ڈراما ہے لیکن، ظاہر ہے، ان میں تفصیلات صرف اسی حد تک ہیں جتنی شاعری کو درکار ہیں۔ ان نیم تاریک، ادھوری اسٹیجوں پر طرح طرح کے کردار آتے ہیں اور سچ مچ زہر کا پیالہ پی کر مر جاتے ہیں کہ ہر نظم اپنی جگہ ایک مرثیہ یا کتبہ ہے۔

ان کرداروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے میں شریک ہونے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرنے سے معذور ہو گئے ہیں۔ دوسرے کو اپنے دکھ سکھ میں پل بھر کے لیے، شمہ برابر بھی شریک نہ کرسکنا ایک ایسی تلخ کامی ہے جو دیوانگی اور تخریب پر اکساتی رہتی ہے۔ یہ کردار جدید شہر کی صورتیں ہیں۔

Communication کے اس فقدان کے دو بڑے سمبل عباس اطہر کی ان کھردری نظموں میں ’’دیوار‘‘ اور ’’دروازہ‘‘ ہیں۔ دیوار جو ان نظموں کے کرداروں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے اور یوں حسرت، اسیری اور ایک بے کار تسلسل کی تصویر ہے، اور دروازے جو کھلتے ہیں تو غلط فہمیوں اور نراج اوربدکاری کی طرف، یا کھلتے ہی نہیں اور اشارہ بن جاتے ہیں ایک لادین معاشرے میں اس پیاس اور حبس کا جسے صرف کوئی مذہبی نظام دور کر سکتا ہے۔

ان نظموں کو کامیابی یا ناکامی، نام نہاد شعریت یا شعریت دشمنی سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ تو بس نظمیں ہیں یا شاعر کا بیان کیا ہوا باطنِ حال: ’’میں نئے دنوں کا عذاب سہتا ہوں!‘‘