دربارِ دُربار: ریاست حید رآباد دکن کے آخری دربار کا قصہ

یہ تحریر 673 مرتبہ دیکھی گئی

     نپی تلی ، جچی رچی نثر کی پڑھت کا لطف صرف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ بلند خیالی اور ارفع زبان و بیان سے کشید کردہ جمالیاتی حظ کو الفاظ و تراکیب میں کھپانا اتنا ہی دشوار ہے جتنا خود اس کو معرضِ تحریر میں لانا۔ کیا شبہ اس میں کہ ہر عہد میں سنجیدہ لیکھک تعداد میں کم رہے ہیں۔ادب کیا ، علم کے ہر شعبہ میں عمدگی اور معیارہی اہلِ ادب و دانش کے قلوب و اذہان پہ قرن تا بہ قرن بادشاہت فرماتا رہا ہے۔

جہانِ نثرِ اردوپہ البتہ خدائے فن کا خاص کرم رہا کہ اسے ایک ایک وقت میں کئی کئی زر خیز دماغ میسر آتے رہے۔ارد و نثر پہلے پہل انشاء اللہ خان انشاء ، غالب، میر امن ، ڈپٹی نذیر،سرشار، محمد حسین آزاد، مرزا فرحت بیگ، راشد الخیری اور خواجہ حسن نظامی کے ہاتھوں میں پلی بڑی، پھلی پھولی ۔ پھر اسے سید رفیق حسین، شاہد احمد دہلوی،اشرف صبوحی، اسلم فرخی جیسے جید فن کار دست یاب رہے۔مرزا تصدق حسین معروف بہ لقب صدق جائسی کا تعلق اسی دوسرے گروہ سے ہے۔

چودہ اپریل انیس صد اکسٹھ میں، کوٹھی شاہ زادے صاحب، رائے بریلی، اتر پردیش کے ایک کنجِ خاص میں بیٹھ کرصدق جائسی ایک کتاب لکھتے ہیں۔نام اس کتا ب کا ’’دربارِ دُربار‘‘ _ موتی بکھیرنے والا دربار_رکھا جاتا ہے۔قریب ڈیڑھ سو صفحوں پہ مشتمل یہ کتاب بیسویں صدی کے اوایل میں شمالی ہند سے جنوبی ہند کے دارالسلطنت عروس البلاد حیدر آباد دکن میں آنے اور آکر ٹھیرنے والے ان چند شعراء ( یعنی فانی بدایونی،جوش ملیح آبادی، ماہر القادری، نجم آفندی اور زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنف صدق جائسی ) کا تذکرہ کرتی ہے جنھیں ریاست حیدر آباد دکنٍ کے پرنس جونیر شاہ زادہ معظم جاہ کی ہم نشینی کا شرف اور اعزازی مصاحبت کی عزت نصیب ہوئی۔مگریہ کتاب کا محض ظاہری موضوع ہے: فی الاصل ’دربار دُربار‘ ریاست حیدر آباد دکن کے آخری دربار کے شاہ زادے کے صبح و شام کے معمولات، اس کی عادات و اطوار، وہاں کے امراء و اہلِ ریاست کا کھانا پینا، رہنا سہنا، سونا جاگنا، ان کی مسرت و غم، ان کے کھیل کود،ان کی بخششیں، ان کے شوق ، ان کی دل چسپیاں، ان کے ظلم و ستم اور جلادیاں اور ان کی عباتوں کا آئنہ ہے۔اور یہ ساری تصویریں، اور چلتے پھرتے جیتے جاگتے کردارو واقعات ایسی دل کش و پر کار نثر میں بیاں ہوے ہیں کہ پڑھنے والا کہیں کہیں غیر معمولی واقعات پہ تو کہیں کہیں غیر معمولی بیانیے پہ حیرت کی حالت میں اللہ اللہ سبحان اللہ ، واہ واہ کرتا جاتا ہے ۔

آیے، اب اس کتا ب کو شروع سے دیکھتے ،پرکھتے ہیں:

کتاب کھلتے ساتھ ہی ،فہرستِ مضامین کے بعد، مولوی عبد الحق کا گرامی نامہ قاری کا استقبال کرتا ہے۔یہ مختصر نامہ نہ صرف صدق جائسی کی جاں فزا نثر کا مداح ہے، بل کہ کتاب میں مذکور آخری دربار کے آخری ہونے کا ایک متصدقہ بھی ۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں:

’’ اب نہ ایسے شاہ زادے ہوں گے اور نہ ایسے دربار، اور نہ آپ( صدق جائسی) جیسے لکھنے والے‘‘

اور تاریخ مولوی عبد الحق کے اس لکھے کو پتھر پہ لکیر کا درجہ عطا کرتی ہے!

بعد اس کے ، منیر احمد منیر کا لکھا پیش لفظ ہے جو اپنی طرح میں انوکھا، لاڈلا اور پر لطف انشایہ ہے۔یہ کتاب کا تعارفیہ جمع چنیدہ مقتبسوں کا کل ہے۔پھر آدمکتا ہے ہے مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی توجہ کش نثر میں پرویا پیش نامہ۔ یہ انھوں نے انیس سو ساٹھ میں بارہ بنکی میں بیٹھ کر قلم بند کیا تھا۔مولانا پیش نامہ میں ایک جگہ بہت اہم تجویز پیش کرتے ہیں جو ،جوں کی توں یوں ہے:

’’ دو شرطیں ایسے اہلِ قلم (یعنی واقعہ نگار) کے لیے لازمی ہیں۔ایک یہ کہ اسے اپنے موضوع پہ عبور حاصل ہو۔ اور وہ صحیح معنی میں گھر کا بھیدی ہو، محض اٹکل پچو، سنی سنائی باتوں پر عمارت کھڑی کر دینے ولا نہ ہو۔ دوسری یہ کہ جو کچھ بھی لکھے اپنے علم و یقین کے مطابق سچ ہی سچ لکھے ۔ مبالغہ نہ مدح میں کرے، نہ قدح میں، مقصد محض واقعہ نگاری ہو، نہ کہ ہجو یا تحسین۔‘‘

بعد اس کے باری آتی ہے خود مصنف کی۔صدق جائسی اب مقدمہء کتاب لکھتے ہیں۔ یہاں کتابِ مذکورہ کو تحریر میں لانے کی واضح وجہ بتائی جاتی ہے۔ حیدر آباد دکن میں عمر کے چھبیس سال گزار چکنے کے بعد وہاں سے نکلنے پہ مصنف مجبور کر دیے گئے ہیں۔ اور یوں سن انیس سو تریپن میں اپنے مقامی علاقے جائس واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ اس بالجبر واپسی کو وہ اشارہء مشیت گردانتے ہیں کہ یوں وہ تنہائی میں ’’دربارِ دربار‘ ‘ لکھ سکنے کی مہلت پانے میں کامران ہوے ہیں۔کتاب کے مشمولات پہ روشنی ڈالتے ہوے لکھتے ہیں:

’’ دربارمیں جن لوگوں کے نام آئے ہیں وہ اصلی ہیں۔ صرف امک جنگ اور ڈھمک جنگ دو فرضی کردار ہیں۔ان سے مراد وہ ہیں جو۔۔نہ شاعر تھے نہ سخن فہم، دنیا جانتی تھی کہ دوسروں کا کہا ہوا سناتے ہیں۔ شعر کو بے سمجھے ، شور تحسین سے آسمان سرپر اٹھالیتے ہیں، مگر انھیں حضور ی کی چاٹ میں سارے ننگ گوارا تھے۔‘‘

مقدمہ کے بعد آنے والے کل تیرہ ابواب دربارِ دربار کامتنِ اصلی کہلوانے کے سزا وار ہیں۔ یہاں ہم آخری دربار کی شاہی زندگی کے رات دن کے اشغال اپنی آنکھوں سے دیکھنے، وہاں برپا محافل کا مرتب غل کانوں سے سننے اور وہاں کے بے مثال کھانوں کے بہشتی ذائقوں کو اپنی زبانوں پہ محسوس کر سکنے پہ قادر ہوتے ہیں۔ اب ذرا صدق جائسی کے شان دار اسلوبِ بیان میں شاہی دربار کی ضیافتوں کا نقشہ ملاحظہ ہو:

’’۔۔۔ایک ایک ڈش کی تفصیل کہاں تک بیان کروں۔ آخری ڈش بالائی اور لوز کی تھی۔بالائی کے چھوٹے چھوٹے تھال جن میں کم و بیش تین تین سیر بالائی سجی تھی، ہر شخص کے سامنے آتے تھے۔۔دوسری ڈش لوز کی ہوتی تھی جس میں بادام اور پستے کے لوز ہوتے تھے۔ انھی لوزوں کے ساتھ بالائی کھانے کا دستور تھا۔بالائی کا دل کم از کم چار انگل ہوتا تھا۔ اس کے لطف و لذت کا اندازہ اس انکشاف سے ہوسکتا ہے کہ جن بھینسوں کے دودھ سے وہ بالائی جمائی جاتی تھی ان کو صبح اور شام بادام اور پستے کھلائے جاتے تھے۔‘‘

یہ محض ایک ننھا سا مقتبس ہے۔ کھانوں کی مفصل داستانیں اس کتاب میں بار بار در آئی ہیں۔ان داستانوں کی پڑھت بڑے لطیف پیرائے میں بتاتی اور سمجھاتی ہے کہ باقی اسباب کے ساتھ ساتھ یہ ریاست کے والیان، امراء و روساء کی شہ خرچیاں،ریاستی ذرائع کا بے دریغ استعمال اور عوامی فلاح سے غفلت اوراپنے راحت و مسرت میں استغراق ایسے وہ عوامل تھے جن نے حیدر آباد ایسی پوری طرح پھلی پھولی ریاست کو رو بہ زوال کیا۔شاہزادگان کے دو وقتی کھانے فقط شکم سیری کو نہ چنے جاتے،ان سے شہوت انگیزی اور دکھاوے کا کام بھی لیا جاتا۔ کیوں کہ جب ایسے بھاری اور توانائی و لذت سے بھرپور کھانے اڑائے جاتے تو ان سے پیدا شدہ بدنی طاقت کوبروئے کار لانے کے لیے سامانِ عیش کا بھی انصرام بھی کیا جاتا۔صدق جائسی کہیں لفظوں میں تو کہیں کنایوں میں اس بدنی عیش کا تذکرہ کرکر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

جائسی نہ صرف دربار کے کھانوں ، وہاں رات رات بھر ہونے والے مشاعروں اور محافلِ موسیقی کے احوال کو اس کتا ب میں کھپاتے ہیں۔ بل کہ جا بہ جا ان سب حالات پہ ایسا بلیغ اور بعضے ملیح طنزیہ تبصرہ بھی فرماتے چلے جاتے ہیں کہ قاری چونکتا ہے، مگر اتنا ہی جتنا کوئی سچے کھرے بیان کی شنوائی پہ چونک سکتا ہو۔ اکیسویں صدی میں بیٹھ کر اس کتاب کی پڑھت پر چونکنے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اس میں بیان کی گئی شاہ زادوں کی رنگ رلیاں، امورِ سلطنت سے تغافل اور عیش پرستیوں پہ ہمہ دم توجہ جیسے اطوار اور حرکات ہمیں ملکِ پاکستان کے جمہوری شاہ زادوں کے محلوں، کلبوں اور فلیٹوں میں بھی نظر آتی ہیں۔آ ج بھی شہ کے مصاحب شہ کی ہر بات پہ بلا سوچے پرکھے آمنا و صدقنا کہتے سنے جاتے ہیں۔کتاب میں موجود دو عدد فرضی کردار امک جنگ اورڈھمک جنگ اپنی تمام تر نالائقیوں ، بے ایمانیوں، منافقتوں کے باوجود شاہ زادہ معظم جاہ کے دربارِ عالی شان میں مستقل جگہ بنائے رکھنے میں کامران رہتے ہیں۔کیا اس طرح کے کردار ہمارے آج کے سماجی، سیاسی یا ادبی حلقوں میں موجود نہیں بھلا!

یہاں تک تو تھی ’’ دربار دربار‘‘ کی موضوعی جانچ پرکھ۔ جہاں تک صدق جائسی کے اسلوب کا تعلق ہے تو یہ نکتہ پانی کے بہتے چشمے کی طرح شفاف اور اجلا ہے کہ صدق جائسی ایک صاحبِ اسلوب واقعہ نگار ہیں۔ان کی نثر نہ صرف دلچسپ اور خواندنی ہے بل کہ قایل کن بھی ہے۔ وہ سادہ بات کو مثال دے کر ایسا دل کش بنائے دیتے ہیں کہ قاری کے چہرے پہ مسکان پھیل جاتی ہے۔ اردو محاورہ ان کا یوپی کے دیگر نابغوں کی طرح پکا اور بہاو والاہے۔ کہیں کہیں فارسی مصرعوں کا تڑکہ نثر کو زیادہ مزے دار بنا جاتا ہے۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’۔۔کاش فانی کی درد ناک کہانی سے دوسرے ناتجربہ کار لوگ فائدہ اٹھائیں اور امیروں اور عہدہ داروں کے ظاہری اختلاط سے دھوکا نہ کھائیں۔ کسی حکیم کا یہ مقولہ آبِ زر سے لکھوا کر پاس رکھنے کے قابل ہے:۔’بے چارہ کسے کہ در صحبتِ جباراں درماند‘۔۔‘‘

فارسی کے تو بس چند ایک مصرعے اور چار ایک اشعار پوری کتاب میں ہوں مگر یہ اردو اشعار ہیں جو صدق جائسی کی نثر کا خاص حصہ بن گئے ہیں۔ اس کی واضح وجہ تو یہی ہے کہ جائسی خود ایک پختہ و تازہ کار شاعر تھے اور اتنے ہی اہم بھی جتنے خود ان کے ہم عصر، فانی و جوش و ماہر تھے۔دوسرے، کتاب میں زیادہ تر اشعار ان حصوں میں در آئے ہیں جہاں محافلِ مشاعرہ کا ذکر مذکور ، منظور ہوا ہے۔کتاب کے دل چسپ ترین حصوں میں سے ایک ’’دربار کی آخری رات‘‘ ہے۔ یہ اس کتاب کا آخری باب ہے۔ یہاں مصنف ، فانی بدایونی کی ہمرہی میں شاہ زادہ معظم جاہ کو ریلوے سٹیشن پہ وداعی سلام کہنے کے واسطے آتے ہیں۔ صدق جائسی کی پر کشش نثر یہاں اپنے لطف و لطافت میں درجہء کمال تک پہنچتی ہے۔فاضل مصنف شاہ زادے سے آخری ملاقات پہ جذباتی نظر آتے ہیں۔ پرنس معظم جاہ سے آخری مکالمہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

ٓ ’’آرام و سکون کی ہم خانہ زادوں کو اتنی پروا نہیں، جتنا یہ غم کھائے جاتا ہے کہ پورے نوے دن شب بیداری کے ثواب سے محروم رہیں گے۔ اور پھرانجن سیاہ دھواں منھ سے چھوڑتا ہوا چشمِ زدن میں ٹرین کو کھینچ کر لے گیا!‘‘

’’دربارِ دربار‘‘ اکیسویں صدی کے کتاب دوست کے لیے اہم اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ ایسوں کے لیے بھی جو محض شگفتہ نثر سے جمالیاتی حظ اچکنا چاہتے ہوں، اور ایسوں کے لیے بھی جنھیں برصغیر پاک و ہند کی شاہی و نیم شاہی تاریخ میں دل چسپی ہو۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ انیس صد بائیس تئیس کے برصغیر کے شاہی و سیاسی کلچر پہ بالعموم اور ریاست حیدر آباد دکن کے اندرون و بیرون کلچر پہ بالخصوص، اس وقت قلم اٹھا تی ہے جس سمے دوسری جانب قائد اعظم محمد علی جناح اپنے رفیقوں کے ہمراہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے سامراجی قوتوں سے بر سرِ پیکار تھے۔