خوابیدہ نظم/ نظمیہ خواب

یہ تحریر 133 مرتبہ دیکھی گئی

وہ پرانے کلچر کی نئی دکان پر
گھنٹوں ایک ہینڈ بیگ چننےمیں صرف کرتی ہے
وہ جیسا بھی پوز بناتی ہے
ہر اینگل سے آئینے میں دیکھ نہیں پاتی
چکور شکل کے اڑتے ہوئے پیپرز پر
اس کے ہر پوز کا سکیچ بن جاتا ہے
چھوٹے سرخ پھولوں والی سفید قمیض پر
سمندری ہرے رنگ کا پرس کیسا لگتا ہے؟؟
ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں چار
ہاں چار!!
سرو کے جمگھٹے میں، چوٹیوں کو چھوتا ہوا
چار منزلوں والا لکڑی کا ایک جھونپڑا ہے
چوتھی منزل کی داہنی طرف کی کھڑکی سے
وہ نیچے کہیں دور تم کو دیکھتی ہے
تمہارے ہاتھ میں اسکے سکیچز ہیں
تمہارے ہونے کا احساس ہے اسے
مگر لفظوں کی دوری پر
اسکی سوچ کے سکیچز بن کر
تمہاری جانب بڑھ جاتے ہیں
اس سے آگے لفظ مگر
قدموں کی مانند رک جاتے ہیں
جیسے کہ
م ممممممممممممں۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ایک حرف کا ایک ایک قدم ہے
گویا تم اس سے کسی جملے کے فاصلے پر ہو
وہ تم کو اور تم اسکو دیکھ رہے ہو
لیکن یہ سب کسی اور زبان میں ہے
اسکو لفظ نہیں حرف یاد ہیں
م ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ر ۔ ۔ ۔ ۔ ک ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی فل سٹاپ یا کوما بھی نہیں
فاصلہ بہت مسلسل ہے
بنا کسی پاز کے۔ ۔ ۔
اماں کی آواز آئی:
“نماز پڑھ لو”
فرض پڑھے یا سنت
نیت اسے یاد نہیں
خواب سارا یاد ہے!!!

Pic:The German Romantic Museum!