خاکی نہ کہ افلاکی

یہ تحریر 318 مرتبہ دیکھی گئی

حالات کسی کو شاعر نہیں بناتے نہ بنا سکتے ہیں۔ شعر موزوں کرنے کی صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ اب آدمی کی مرضی ہے کہ وہ اس صلاحیت سے کس طرح انصاف کرے۔ تھوڑی سی تعریف سے مطمئن ہو کر بیٹھ رہے یا کسی بھی تعریف کو خاطر میں نہ لائے اور جو کہنا چاہتا ہے کہتا چلا جائے۔


تنویر سپرا کو ترقی پسندوں کے زمرے میں شامل کرنا ٹھیک نہیں۔ ترقی پسند شاعروں میں سے بیشتر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور چند ایک متمول گھرانوں کے چشم و چراغ تھے۔ انھیں کے بارے میں مجاز نے فقرہ چست کیا تھا کہ “بہت سے لوگ جھونپڑوں میں رہ کر محلوں کے خواب دیکھتے ہیں جب کہ ترقی پسند محلوں میں رہ کر جھونپڑوں کے خواب دیکھتے ہیں۔”
یہ کہنے میں بھی ہرج نہیں کہ تنویر سپرا بیشتر ترقی پسند شاعروں سے کھرا دکھائی دیا۔ اس نے سخت زندگی گزاری اور بڑھتی ہوئی امیری اور بڑھتی ہوئی غریبی کے خلاف اس کا احتجاج فیشنی احتجاج نہیں بلکہ اپنے میں کھری اور کھردری قوت رکھتا ہے۔ طیش سے بھری ہوئی ان غزلوں پر، جو کہیں للکار ہیں اور کہیں غمگین، ترقی پسندی کا گمان ہو سکتا ہے لیکن ان کی عمومی سطح ترقی پسندانہ لفظیات اور شعری میلان سے ذرا الگ اور بلند ہے۔
یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ تنویر سپرا نے سیاست میں حصہ بھی لیا اور اس کا جھکاؤ تمام تر بائیں بازو کی طرف تھا۔ یہ بات صحیح ہے۔ اعتراض کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ شاعر ہمہ وقت شاعر نہیں ہوتا۔ وہ معاشرے کا فرد بھی ہوتا ہے اور باپ یا بھائی یا بیٹا یا شوہر بھی اور بطور فرد معاشرے پر مسلط ناانصافیوں کے خلاف ڈٹے رہنے کا حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہاں، شاعر کے طور پر وہ نہ دائیں طرف ہوتا ہے نہ بائیں طرف۔ وہ شاعری کی طرف ہوتا ہے۔ اس کی بصیرت اور شعری صلاحیت اپنے گرد و پیش کو اور ہی زاویے سے دکھاتی ہے اور یہ زاویہ موزوں لفظوں کے ذریعے سے ٹوٹے پھوٹے جذبوں کو صف آرا کرنے کا عمل ہے۔
اس سے پہلے تنویر سپرا کا کلام بالاستیعاب پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ اس کی ہنرمندی پر حیرت ہوتی ہے۔ اس نے ایسی غزلیں کیسے کہیں اور ایسے لفظ ان میں کس طرح کھپا دیے جنھیں کوئی معمولی صلاحیت کا شاعر برتتا تو غزل کے تانے بانے میں مضحک معلوم ہونے لگتے۔
دولت کی اس درجہ غیر منصفانہ تقسیم پر اس کی ناراضی بجا ہے۔ اب معاملات دائیں بائیں سے بہت آگے جا چکے ہیں اور دنیا کی بیشتر دولت چند افراد یا چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جو بڑی بے رحمی سے، کبھی کھلم کھلا اور کبھی گول مول انداز میں، اربوں انسانوں کو مار کر دنیا کی آبادی کم کرنے کے ایجنڈے کا ذکر کرتے ہیں۔
ان غزلوں کے لہجے کو کھردرا بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کی اصل طاقت کڑواہٹ میں ہے۔ انھیں پڑھتے ہوئے شاد عارفی کی غزلیں اور نظمیں یاد آتی ہیں۔ تاہم دونوں کے مزاج میں خاصا فرق ہے۔ شاد عارفی نے معاشرے کی ناہمواریوں کا، خواہ وہ معاشی ہوں یا سیاسی، معاشرتی ہوں یا نفسیاتی، مذاق اڑایا ہے۔ ان کے طنز میں طنطنہ ہے۔ تنویر کے طنز اور طیش میں کاٹ زیادہ ہے۔ اس کے ہاں آنے والے دنوں کی جھلک بھی ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیا
قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی
یہ سامنے کی بات ہے۔ ہم شیخ چلی کی طرح زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا بنا کر اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر ہم بیٹھے ہیں۔ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو قحط کے دن دور نہیں۔
تیری تو شان بڑھ گئی مجھ کو نواز کر
لیکن مرا وقار یہ امداد کھا گئی
صرف وقار ہی نہیں، ہماری معیشت بھی امریکی سود خوروں کی بھینٹ چڑھ چکی ہے:
قد تو پھلوں کا بڑھ گیا دورِ جدید میں
سپرا مگر اثر کو نئی کھاد کھا گئی
یعنی پھلوں کا سائز بڑا، پیداوار زیادہ اور ذائقہ ندارد۔ اس طرح کے بہت سے شعر کتاب میں مل جائیں گے۔ اس کی غزلوں کی تحسین کی جا سکتی ہے مگر جو چند نظمیں اس کلیات میں شامل ہیں اور آج سے ساٹھ ستر سال پہلے کی ترقی پسندانہ نظموں کی طرح پھیکی اور بے لطف ہیں اور ایک نظم “وہ وقت یقینا آئے گا” ساحر لدھیانوی کی نظم یا گیت “وہ صبح کبھی تو آئے گی” کی تکرار معلوم ہوتی ہے۔
کتاب میں نو غزلیں پنجابی میں بھی ہیں۔ پچھلے پچاس ساٹھ سال میں پنجابی میں جو غزل کہی گئی ہے اس سے سرسری واقفیت کی بنا پر میں تنویر کی غزلوں پر رائے نہیں دے سکتا یعنی یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ وہ دوسرے غزل گو حضرات کے کلام سے کس حد تک مختلف ہیں۔ پڑھنے میں تو اچھی لگتی ہیں:
ظاہر ویکھن والیے جھاتی باطن وچ وی مار
باہروں جیہڑے لوگ سموچے اندروں چکنا چور
کلیات کو جس عمدگی سے شائع کیا گیا ہے اس کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ بہت سے معروف شعرا کا کلام بھی اتنی خوبصورتی سے شائع نہیں ہوا۔ تنویر سپرا کا تعلق جہلم سے تھا اور ناشر، بک کارنر، بھی جہلم سے ہیں، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقے کے شاعر کو نفاست سے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آخر میں تنویر کا ایک اور شعر جو قارئین کو برمحل معلوم ہوگا:
تنویر اس کو اپنی لغت سے نکال دے
اب لفظ احتساب سے ہر شخص تنگ ہے
لفظ کھردرے از تنویر سپرا
ناشر: بک کارنر، جہلم
صفحات: 200؛ پانچ سو روپیے