خامشی

یہ تحریر 86 مرتبہ دیکھی گئی

کہیں پہ دور افتادہ
کسی چھوٹے سے قصبے کے
بہت سنسان اسٹیشن پہ رک جانا
بہت رومانی لگتا ہے
اُسی سنسان اسٹیشن کے
ویراں اور تنہا گارڈ ہاؤس میں کھڑے ہو کر
کبھی چاروں طرف دیکھو
وہاں تم کو لگے گا خامشی بھی بات کرتی ہے
وہاں تنہائی کی صورت
تمھاری ذات جیسی ہے
ہوا کی دھیمی سرگوشی
تمھاری بات جیسی ہے
وہاں شیشے کی کھڑکی سے
نظر حدِ نظر تک دیکھ لیتی ہے
تو پھر واپس نہیں آتی
پھر ایسے میں میرا دل بھی
وہاں رہ جانے کو ایسے مچلتا ہے
کہ جیسے خواب میں بچہ
لیے مٹھی میں اپنی ماں کے آنچل کو
نہ جانے کن جگہوں کی سیر کرتا ہے
مگر جب آنکھ کھلتی ہے
تو آنچل یوں سرکتا ہے
کہ کچھ باقی نہیں رہتا
نہ اسٹیشن، نہ کھڑکی
نہ ہوا، نہ تم
مگر اک خامشی چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے