جیم کی کہانی

یہ تحریر 263 مرتبہ دیکھی گئی

طویل آمرانہ دورمیں جب نظام شریعت کے نفاذ کا غوغا ہماری زیادہ تر آبادی کے ذہنوں پر محیط تھا، سکولوں میں پڑھائی جانے والی عربی زبان کی کلاسوں میں طالب علموں پر ہونے والے دہشت ناک مظالم کا میں عینی شاہد اورغازی (سروائیور) ہوں۔بعدکے دنوں میں ناظرہ پڑھنے کے لیے مدرسے جانے کی روایت بھی مجھ پر بیتی ہے,جہاں حافظ یا عالم بنتے ہوے طالب علموں کی مکتبی زندگی کونسبتاً قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ بڑے شہروں میں توماحول کسی قدرکروٹ لے چکامگر حالیہ دنوں میں جب کبھی سندھ کے دیہی علاقوں میں سفر کا اتفاق ہوا, مساجدسے آنے والی صدائیں ان علاقوں میں بہت زیادہ تبدیلی کی عدم پذیری پرشاہد تھیں۔ اب اگر کوئی مدرسوں میں بسنے والی زندگی پربات کرتے ہوے مبالغہ آرائی سے کام لے توبآسانی اختلاف کیا جاسکتاہے۔بات کا آغاز اس زاویے سے کرنے کی وجہ کہانیوں کی کتاب  ”زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں“ہے۔ باندھی گئی تمہید اس کتاب میں موجود”زرد ہتھیلی“کے عنوان سے لکھی گئی کہانی کے تناظرمیں سمجھیے۔جیم عباسی سے یہ کہانیاں پہلا تعارف نہیں۔ کتاب میں موجود ایک طویل کہانی”مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی“ رسالے “آج”  میں شائع ہوچکی ہے۔اس کہانی کے پڑھنے کے بعد مصنف کی اورکہانیاں پڑھنے کی خواہش جاگی تھی۔ “مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی” کو یہاں دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔اس بار یہ کہانی زیادہ بہتر اور زیادہ عجب انداز میں کھلی ۔میرے لیے کہانیاں ہی مختلف معاشروں، ان میں بسنے والے انسانوں اور ان کی رہتل کے وہاں بستے انسانوں کی اندرونی دنیاؤں پر اثرات سے تعارف کا سبب بنتی ہیں۔ ایک کہانی کار اپنی مٹی اور معاشرت کی جس گہرائی سے تصویر کشی کرسکتاہے, کسی اور صنف کے جثے میں کم کم سما سکتی ہے۔میں اندرون سندھ کے علاقوں میں بہت مرتبہ سفر کر چکاہوں مگر گاڑی میں بیٹھ کر لوگوں کو اپنے جوتے سروں پر رکھ کرسڑک پر چلتے دیکھ کر یا وہاں سانس لیتی ویرانی محسوس کرتے ہوے بس چچ چچ کے علاوہ کچھ نہیں کیاجاسکتا۔وہاں موجودگی کے دوران ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہمیشہ ایک دوسیاسی جماعتوں پر لعن طعن کرکے سر جھٹکتے ہوے واپس اپنی دنیا میں آگیااور سندھ کے دیہی علاقوں کی پسماندگی پر اس سے زیادہ تصویر نہ بن سکی۔اس کے علاوہ عرصہ دراز ادھر, پی ٹی وی پر چلنے والے“ماروی”یا اس طرح کے دوسرے ڈراموں سے وڈیروں کے مظالم کی ایک تصویراور وہاں مستعمل زبان کا لہجہ اور ان فنکاروں کی اداکاری ذہن پر نقش تھی جو گزرتے وقت کے ساتھ کچھ مانند پڑچکی تھی۔
‘‘مونچھ میں اٹکے ایک قطرے کی کہانی’’کے اچھوتے عنوان سے بھی کہانی پڑھنے کی تحریک کو بڑھوتری ملی۔ جیم عباسی کے قلم نے ماماپیرل کے گاوں کا بیان شروع کیا تو عمدہ بیانیے نے مناظرآنکھوں کے سامنے دوڑانے شروع کردیے۔ سہل اندار سے چلتاہوا، مقامی محاوروں پر تعمیر شدہ یہ پراثربیانیہ جوں جوں کہانی کے اندر گھستاچلاگیا, ہم بھی کلو موالی کے قول کے مطابق “بھنگ پی کر جوان ہوے جٹادار برگد“کے گردگھومے ہوے چبوترے پرجابیٹھے اور گھڑونچی پر دھرے تین مٹکوں میں ایک سے پانی پی کر’ترخان‘ ماماپیرل کی زندگی کا مشاہدہ کرنے لگے۔ وہاں پھیلی معاشرت اپنی تاریخی گہرائیوں اور بڑے بڑے پنجوں کے ساتھ سامنے آکرناچنے لگی۔ پھر تقریباًاسی صفحات میں اس رہتل میں بیتتی کہانیوں میں سے بُنی ایک کہانی وقوع پذیر ہوتے ہوے دکھائی دینے لگی۔گاوں، ماماپیرل کاچھپراور اس کی تفاصیل،اس کی سائیکل،گاؤں کا باہری میدان اور اس میں کھڑاجٹاداربرگد،بچوں کے ساتھ مامے کا طرزعمل،ماماپیرل کے داغے ہوے پاد،پورادن برگد کے نیچے لوگوں کی آمدورفت،گفتگو، ہنسی مذاق، آپسی تعلقات یعنی ظاہری طورپراس برگد کے نیچے ایک کھلی ڈلی زندگی بستی تھی۔یہیں سے کہانی کار نے ماماپیرل کی کہانی بُنی ہے۔مقامی لہجے میں گاوں کے تعارف سے ابتدا کرتی ہوئی کہانی آہستہ آہستہ کرداروں کو کھولتی ہے اور متن اپنے اندرایک تہہ داری سموئے ماماپیرل کی دوسری بیوی سے محبت بیان کرنے لگتاہے۔یہاں مصنف انسان کی اندرونی دنیاؤں میں گھس جاتاہے۔جس میں جنس مخالف سے محبت اورمحبت کے اظہار سے لے کراس پر بیرونی عناصرکے اثرات کا ایک جال بنتاچلاجاتاہے۔
 بیانیے میں روزمرہ مقامی اور اس میں تسلسل ہے۔قاری کی آسانی کے لیے‘مڑس، پنڈی، پنجاری، گتھو، وڑو،توتری، گیبات،تکڑ، لکھ تورے،زال، پوتی’جیسے الفاظ کے معانی حاشیے میں موجودہیں۔یہاں پوری کہانی کھولنایا اس کا بیان مقصود نہیں بل کہ صرف یہ کہنا ضروری ہے کہ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے، سندھ کی دیہی زندگی کی تصویرمزید واضح ہونے لگتی ہے۔مقامی لوگوں کے مذہبی (قسم یا واسطہ سرخ قران کا۔قسم دستگیرکاوغیرہ) اور معاشرتی تصورات، معاشی صورتحال، کھانے، لباس، میل جول، شادی بیاہ کی رسومات، عورتوں کی معاشرے میں حالت، قوم قبیلے سے باہر شادی کرنے سے خاندانوں اورقبیلوں میں موجود متنوع روایات کا ٹکراو اور ان کے بھیانک نتائج، وڈیروں اور گاوں کے سرکردہ لوگوں اور رشتہ داروں کابالخصوص کمزور لوگوں کی ذاتی زندگیوں کی فیصلہ سازی میں اثراندازہونا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر طویل ناراضیاں، الزام تراشیاں اور پھرانسانیت سوزاوربھیانک اختتامیہ۔ تکنیکی طور پرکہانی کے چند واقعات کہانی کوآہستہ آہستہ آگے بڑھاتے ہیں باقی بیانیہ وہاں کی رہتل کی تفاصیل کے متعلق ہے۔ان واقعات میں برگد کے نیچے حیدرعلی (روایات کا پرچارکرنے والایک بدلحاظ بزرگ) اور قادربخش(پیرل کی بیوی کا باپ) کا جھگڑا جس کا آغاز حیدرعلی کی طرف سے قادربخش کو بیٹی کے گھر آنے پر دیے جانے والے طعنے سے ہوتاہے۔ اس جھگڑے کے نتیجے میں قادر بخش کی ناراضی۔قادر بخش کی بیماری اور موت جس پر پیرل کی بیوی کا اپنے میکے جانااورپھر باپ کی موت کے بعد اس کے بیٹے کا سلیمت کو زبردستی اپنے پاس روک لینا۔ پیرل کا اس صورتحال میں میاں فضل کو درمیان میں ڈالنا۔ رئیس علن کی عدالت اورپیرل کے حق میں فیصلہ۔بیوی کی گھر واپسی۔اولاد کے لیے سائیں بخشٹ شاہ بادشاہ کے دربار تک کا سفراور اولاد کا اشارہ ملنا۔واپسی پر کشتی کا الٹنا۔سلیمت کا ڈوبنااور علوکا اس کو بچالینا۔علواور سلیمت پرلوگوں کا شک کرنا۔علوکاخوف زدہ ہوکر گوٹھ سے بھاگ جانا۔ حیدرعلی کا پیرل کو بیوی کے خراب ہونے کا طعنہ دینااورمجمع لگنا۔سارے مجمعے کا پیرل پر لعن طعن کرنا اور پیرل کا لوگوں کی باتوں میں آنااور غیرت میں آکر بیوی کو مارکر ہیرو بن جانا۔ کہانی کا انجام ایک سطر پر ہوتاہے‘‘پیرل کے دائیں بائیں چاچا علی حیدراور میاں محمد فضل اور پیچھے پورا مجمع تھا۔ اس کی مونچھ کے بالوں میں اٹکاایک خون کا قطرہ لرزے جارہا تھا۔’’
یہاں کہانی کے کرداروں پربات بھی ضروری ہے: پیرل کے کردار کے ذریعے کہانی کار نے اندرون سندھ کی گوٹھوں میں بستے عام آدمی کی زندگی کو ہر زاویے سے بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔دوسراکردار سلیمت کا ہے جو پیرل کی دوسری بیوی ہے۔اس کا تعلق دوسرے قبیلے سے ہے۔اس کردارکے ذریعے وہاں کی گھریلوزندگی کی عکاسی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے جو قاری کے لیے وہاں کی گھریلوعورت کے روزوشب سامنے لے کر آتی ہے۔ گوٹھ کے سب سے شرانگیزاور روایات کے جھوٹے علمبردارعلی حیدر کا کردارجس سے رسم و رواج کے نام پرہوا جھگڑا کہانی کے پہلے موڑ کا باعث بھی بنتاہے۔ فضل محمدکاکردار جوسلیمت اور ماماپیرل کا رشتہ کرواتاہے اور کہانی کے اختتام کے قریب پیرل کی بیوی کو واپس لانیکی کامیاب کوششوں کا حصہ ہوتاہے۔یہ کردار گوٹھوں میں سرکردہ مقامی لوگوں کی سیاسی اور معاشرتی حیثیت کی حقیقتوں کو سامنے لے کرآتاہے۔ قادر بخش سلیمت کا والد، جو کہانی کے چندبڑے موڑوں کا اہم مہرہ ہے اسی کی بیماری اور موت کہانی کے دوسرے اہم موڑ کی وجہ بنتی ہے۔ یہ کردارغیر قبیلے کا ہونے کے باوجود،اس معاشرے میں بستے مختلف قبائل میں عمومی روایات کے تضادات کے باوجودان میں موجود یکسانیت کے زاویے سامنے لانے کا باعث بنتاہے۔پیرل کا سالاسرو راپنے والد کے کردارکو آگے بڑھاتاہے اور اپنی اناکو روایات کی آڑ لے کرپیرل کی بیوی کو روک لیتاہے۔چنگا مڑس حبیب اللہ کا کردار فضل محمد کی طرح کاایک کردارہے اور رئیس علن وہاں کے بااثروڈیروں کی زندگی اور سندھ کی دیہی زندگی میں ان کے مقام کو سامنے لے کر آتاہے۔ باقی ضمنی یا خاموش کردارہیں جن کی غیرمحسوس طریقے سے آمد و معدومیت بیانیے کی مددکے لیے ہے۔
اب اگر ہم کتاب میں موجود باقی سات کہانیوں کو دیکھیں تو وہ تمام کہانیاں بھی اسی طرح دیہی سندھ کے پس منظرمیں بنی گئی ہیں لیکن ان کے موضوع الگ الگ ہیں؛ گو کہیں کہیں وہ ایک سے بھی ہیں۔ کتاب کی کہانیوں میں نوری، مفتی، اس وقت تو یوں لگتاہے، ایک غیرمختتم یکایک کے آغاز کا معما، زردہتھیلی، گمشدہ گلو، پانچ من گلاب کے پھول شامل ہیں۔کتاب کا آغاز نوری سے ہوتاہے۔نوری کہانی کے آغاز میں کہانی کار دفترسے واپسی پر کچراکنڈی کے پاس ایک نظارہ دیکھتاہے جس سے اس کے محسوسات پر ضرب پڑتی ہے۔ وہ اس نظارے کو جلدی سے کاغذ پر اتارنا چاہتاہے اور لکھتے وقت خیال اسے ماضی کی دنیا میں دھکیل دیتاہے۔جہاں وہ ایک افطاری میں اپنے ننھیال میں موجودہے اور نانا نانی کی نوک جھونک، دسترخوان پر پھیلے کھانے اور نوری(ایک بکری) ہے گھر میں اس کی حیثیت پر نانانانی کے مکالمات ہیں۔نوری جو کہ کھانے میں بھی نانی سے اپنا حصہ پہلے وصول کرتی ہے۔ اس بکری کو باندھا نہیں جاتاہے۔ وہ ہروقت نانی کے آس پاس پھرتی رہتی ہے۔کہانی کار جو لکھنے بیٹھا ہے آخری پیرے تک اس کا کوئی ذکر نہیں ہے اور پھروہ کھڑکی سے باہر دیکھتاہے جہاں چڑیا اپنا گھونسلہ مکمل کرچکی ہے۔آخری سطرمیں وہ نظارہ بیان ہوتاہے جہاں سے کہانی کا آغاز ہوتاہے “ایک لاغربکری کچراکنڈی پر کھڑی پلاسٹک کی تھیلی چبائے جارہی تھی”۔ اور کہانی کا اختتام ہوجاتاہے۔ اچھوتے انداز میں اتنے حساس اور بڑ ے موضوع کوفنکارانہ مہارت کے ساتھ، اس کی وسعت کو معدوم کیے بغیر ایک سطر میں بیان کردیناکہانی کی کامیابی کی دلیل ہے۔
دوسری کہانی مفتی سجاد حسین کی ہے جوکہ ایک عالمِ دین کے اندر کے حساس انسان کے گرد گھومتی ہے۔ وہ انسان جو اپنے معاشرے میں بنے بنائے جھوٹے سچے مذہبی تصورات کے جال میں آکر نوجوانی میں اپناگھربارتیاگ کر دین کے نام پر زندگی وقف کردیتاہے۔وہ انسانی ضروریات کو امتحان و آزمائش کا نام دے کر ان سے کنارہ کش ہوجاتاہے۔ پھر کسی ایک دن وہ زندگی کے دام میں آجاتاہے۔ عورت کی زندگی میں آمد اور بعد میں ہونے والے واقعات،مساجد و مدارس کا احوال، ان کے اوپر معاشرے کے خوشحال افراد کا اثر اور پھر ایک بہت ہی حیرت انگیز اور بھیانک اختتام۔ اس بیانیہ انداز کی کہانی کا دوسرا حصہ بہت غیرمتوقع طورپر سامنے آتاہے اورقاری کو مذہب اورانسانی تصورات و جبلت و نفسیات کی گھمن گھیریوں میں الجھا دیتاہے۔ کہانی کا اختتاام بہت اچھا اور مختلف ہے۔ اگلی کہانی بھی اسی رہتل کی کہانی ہے ”اس وقت تو یوں لگتاہے“اپنے اندرایک المیہ لیے ہوے ہے۔بنیادی کردارجو کہ واحد متکلم ہے،کے سوالات، جو بچپن میں اس کے والدین کی زندگی اور اپنی پرورش کے حوالے سے تھے، کا جواب ایک المیے کی صورت سامنے آتاہے۔
                ”ایک نامختتم یکایک کے آغاز کا معما“ اچھوتا موضوع کی حامل ہے جس میں معذور موتی جو کہ ایک فقیر ہے، کا دوست نذو لنگڑا اچانک غائب ہوگیا ہے۔وہ اس کی تلاش میں مختلف وسوسوں کا شکار ہے۔ایک کردار آخوند صاحب کا ہے جو کہ ہندوہیں۔ مختلف اسلوب اور غیر روایتی طریقے سے بُنی گئی اس کہانی کے کردار تاریخی سندھی تہذیب میں صدیوں سے آباد ہندووں پر ایک دم سے آنے والی مصیبت کا شکار ہیں جس میں وہ اس دھرتی پر اچانک سے اجنبی ہوگئے ہیں۔ یکایک یہ کیسے ہوا یہی ایک معماہے۔
          عنوانی کہانی  ‘‘زرد ہتھیلی”ایسے بچے اسداللہ کے بارے میں ہے جس کا باپ، بچے اور اس کی ماں کی خواہش کے برعکس زبردستی اس کوحفظِ قران کے لیے مدرسے میں چھوڑآتاہے۔وہاں پر معصوم بچے کو جس انسانیت سوز سلوک کا سامنا کرنا پڑتاہے یہ کہانی اس کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔کہانی پڑھتے ہوے قاری جذباتیت کا شکاربھی ہوجاتا ہے۔کہانی کار ایک لاتعلق سے انداز میں روانی کے ساتھ یہ المیہ بیان کرتاچلاجاتاہے۔ قاری گل شیر کا کرداراورصدر مدرس مولاناعبدالوحید جیسے کردارآج بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔اسد اللہ اور اس کے ماں باپ کاآپسی تعلق بھی اس دیہی معاشرت میں عورت کی حیثیت اور اس پر ہونے والے ظلم کو بیان کرتاہے۔ مدرسوں کے بارے میں ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں مگر ان پر بوجوہ زیادہ لکھاجاناکبھی بھی ممکن نہیں رہااور شاید اب بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ جیسا کہ آغاز میں میں نے خود یہ بیان کیاتھا کہ کچھ دہایاں قبل تو یہ بات محاورے کی طرح تھی‘‘گوشت تمھارااور ہڈیاں ہماری’’۔ ماں باپ یہ کام بخوشی کیا کرتے تھے۔یہ تو کہانی کی پہلی سطح ہے۔بچے کی حساسیت کی سطح پر اسد اللہ کے کردار کے ذریعے اس کے اندر کے معصوم اور سہمے ہوے بچے کے جذبات و نفسیات کو بہت احسن طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔دینی مدارس میں موجود بچوں کے جذبات کو جس بری طرح اور سفاکانہ طریقے سے تباہ کیا جاتاہے باہر کی دنیا اس سے کلی طور پر لاعلم ہے۔یہ سب کوئی واقف راز ہی اتنا مفصل اندازسے بیان کرسکتاہے۔ بغاوت کا تصوراس معاشرت اور مدرسے میں کیسے مفقود ہے اس پر بھی جیم عباسی تفصیل سے لکھتے ہیں۔کہانی کا اختتام بھی عمدہ طریقے سے کیا گیا ہے۔ اسی طرح باقی دو کہانیاں گمشدہ گلواور پانچ من گلاب کے پھول بھی اسی رہتل میں لکھی گئی ہیں لیکن موضوعات اور تکنیک میں مختلف ہیں۔خصوصاً گمشدہ گلو مبہم انداز میں بیان کی گئی بہت خوبصوت کہانی ہے۔ پانچ من گلاب کے پھول ایک مناسب کہانی ہے۔
                 ‘‘زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں’’ خود میں میرے لیے ایک اوپرا پن لیے ہوے ہیں اوریہی میرے لیے ان کو پڑھنے کا سبب بنا۔مصنف کے مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے مدرسوں میں گزرے وقت کی بدولت بیشترکہانیوں میں اس ماحول کاحقیقی عکس نظرآتاہے۔خصوصاً”زردہتھیلی“ اور ”مفتی“ تو اسی ماحول سے متعلق ہیں اور ان کی تفاصیل میں نقائص بعیدازقیاس ہیں۔ سندھ مصنف کا وطن ہے توساری کہانیوں میں اسی مٹی کی خوشبورچی بسی ہوئی ہے۔ان کا انداز غیرمبہم اور آسان ہے۔ محاورہ اور روزمرہ اسی رہتل کاہے۔ کہانیاں، کردار اور موضوعات حقیقی ہیں۔کہانیوں میں تہہ داری ہے۔ عمومی سطح پر کہانی سہل انداز میں چلتی نظرآتی ہے مگر ہرکہانی مختلف سطحوں پر کوئی نہ کوئی بڑا المیہ بیان کرتی ہے۔ان کے ہاں عورت مظلوم ہے اور مرد عمومی طور پر دونوں طرف مگر غالب حیثیت میں کھڑا نظرآتاہے۔مذہب اورسندھی دیہی معاشرت کی موجودگی کی یکسانیت کے باوجود ہر کہانی مختلف انداز سے بُنی گئی ہے اور موضوع کے اعتبارسے بھی جدااور مکمل تاثرقائم کرتی ہے۔ کہانیوں کی یہ کتاب تو بلاشبہ بہترین ہے مگر آنے والی کتابوں میں مصنف کوشاید کسی سطح پر کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی ضرورت پڑے کہ کہیں کسی ایک سطح پر چلتی یکسانیت قاری کی توجہ کو اکتاہٹ کے حوالے نہ کردے۔