جمال کہانیاں

یہ تحریر 935 مرتبہ دیکھی گئی

ترجمہ و ترتیب : (ڈاکٹر) محمد اطہر مسعود

جمال میرصادقی(پیدائش ۱۹۳۳ء، تہران)  جدید دور میں ایران اور فارسی کے معروف افسانہ نگار ہیں۔ اُنھیں ایران کے جدید فارسی افسانہ نگاروں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔اُنھیں بسیار نویس بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ ۱۹۶۲ء سے ۲۰۰۹ء  تک اُن کے ۱۴ افسانوی مجموعے اور ۸ ناول شائع ہوئے۔ایران کی جدید فارسی افسانہ نگاری میں اُن کے نمایاں مقام کے پیشِ نظر پاکستان میں فارسی کے معروف اُستاد اور اَدب شناس ڈاکٹر محمد اطہر مسعود نےاُن کے منتخب افسانوں کا اُردو ترجمہکیا جو ۲۰۱۲ء میں کتابی صورت میںاِلقا   پبلی کیشنز ، لاہور سےْ جمال کہانیاںٗ کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کے ایک سال بعد فکشن ہاؤس،  لاہور سے صادقی کے افسانوی تراجم کا ایک اَور مجموعہ ْدیوارٗ کے نام سے شائع ہوا جس میں متعدد فارسی و اُردو دانوں کے مترجمہ افسانے شامل تھے۔ڈاکٹر محمد اطہر مسعود کا مصنف یعنی جمال میر صادقی سے رابطہ رہتا تھا اور وہ تہران میں اُن سے ملاقات بھی کر کے آئے تھے۔ اسی ملاقات میں صادقی نے جس خواہش کا اظہار کیا، اُسکے مطابق محمد اطہر مسعود نے دونوں مجموعوں کو یکجا کر کے ترتیب دیا اور اب ۲۰۲۱ء میں یہ مجموعہ ْجمال کہانیاںٗ ہی کے عنوان سے فکشن ہاؤس، لاہور کے روحِ رواں ظہور احمد خاں کے اہتمام سے شائع ہوا ہے۔

اِس جامع مجموعے میں جمال میر صادقی کے کل ۲۸افسانوں کے تراجم شامل ہیں۔ ان میں سے ۱۲کا ترجمہ محمد اطہر مسعود کا کیا ہوا ہے، جبکہ ۱۵کے ترجمے درجِ ذیل مترجمین کی کاوشیں ہیں:  بصیرہ عنبرین(۳)،  رشید احمد قیصرانی (۱)،  شعیب احمد (۳)، عظمٰی عزیز خاں (۲)، فلیحہ زَہرا کاظمی (۳)،  معین نظامی (۳)۔اٹّھائیسواں افسانہ پیشِ نظر مجموعے میں اضافے کی حیثیّت رکھتا ہے اور معروف افسانہ نگار اور محقّق نیّر مسعود کے فنِّ  ترجمہ نگاری کی یادگار ہے۔ یوں ایک جانب اس مجموعے کے ذریعے سے جمال میر صادقی کے بہترین افسانوں کے اُردو تراجم ایک جگہ مل جاتے ہیں جو ان کی فنی چابکدستی کامشاہدہ کرنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں تو دوسری جانب یہ مجموعہ ایران کے ایک سرکردہ  افسانہ نگار سے جامع تعارف کا ذریعہ بنتا ہے۔افسانوی تراجم کے بعد کتابکے آخر میںتیناضافے اَور ہیں جو محمد اطہر مسعود کے زائیدۂقلم ہیں۔ اِن میں سے ایک اُن کا مفید مقالہ ْجمال میر صادقی —شخصیت افسانہ نگاری پر ایک نظرٗ ہے جس میں صادقی کی حیات اور تصانیف کے ساتھ ساتھ ان کے فکر و فن پر اچھا تجزیہ پیش کیا گیا ہے، دوسرے میں صادقی کی تصانیف و تالیفات کی مکمل فہرست ہے، جب کہ تیسری تحریر ْکچھ افسانہ نگاری کے بارے مٗیں ہے جو صادقی کے افسانوی مجموعے ْروشنانٗ کے دیباچے کا ترجمہ ہے۔

محمداطہر مسعود نےافسانہ نگاری میں جمال میر صادقی کے جن فنی خصائص کو واضح کیا گیا ہے، اُن میں طنز کی گہری کاٹ، مناسب و برمحل الفاظ کا استعمال، پُر اَثر منظر نگاری، جزیات نگاری اور اختصار شامل ہیں۔ علاوہ ازیںاُنھوں نے صادقی کے افسانوی موضوعات میں شہری زندگی کی گہما گہمی،نچلے طبقے کی شہری آبادی کے مختلف مسائل اور قدیم وجدید ادوار کی ذہنی و اخلاقی کش مکشکو اہم گردانا ہے، جب کہ ذاتی تجربات کو افسانوں میں سمونا، شہر کی پس ماندہ آبادی کے مسائل کا ادراک اور ان کی نمائندگی، محروم طبقے کے مسائل کی عکاسی، رہن سہن کےانداز اور افراد کے باہمی روابط کی تصویر کشی کو اُن کے افسانوں کی خوبیاں قراردیا ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ نقّادوں نےوسعتِ مطالعہ اور باز نویسی کو بطورِ افسانہ نگار اُن کی کامیابی کی کلید قرار دیا ہے۔ باز نویسی سے مراد بار بار کی نظر ثانی ہے۔ خود صاقی کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اُنھوں نے اپنے چند صفحات کے افسانے پر۲۰, ۲۰بار نظر ثانی کی۔

محمد اطہر مسعود کی بیان کردہ تفصیلات کے مطابق جمال میر صادقی کا تعلّق غریب گھرانے سے تھا۔ اُن کے والد مزدور تھے اور واجبی سی تعلیم کے حامل تھے۔ اُنھیں اپنے بیٹے کی اَدبی زندگی اور اِس کی فتوحات سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔گریجوایشن کرنے کے بعد صادقی نے مختلف اوقات میں زیادہ تر تدریس کو اپنا پیشہ بنایا جس میں افسانہ نویسی کا تربیتی کورس بھی شامل ہے جو وہ آخر عُمر تک پڑھاتے رہے۔ اسکول کے زمانے ہی سے اُنھیں کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا جو بعد ازاں ان کے کامیاب افسانہ نگار بننے میں معاون ثابت ہوا۔اُنھیں فلمیں دیکھنے کا بھی جنون کی حد تک شوق تھا، یہاں تک کہ بعض اوقات وہ اچھی فلمیں دیکھنے اور کتابیں خریدنے کی غرض سے رقم پس انداز کرکےایک ماہ کی چھٹیاں لے کر بیرونِ ملک چلے جاتے۔یہ جنون اُس وقت ختم ہوا جب ان کے ایک المیّہ ناول کا تیا پانچا کر کے ایران میں طربیہ (کامیڈی)  فلم بنا ڈالی گئی۔ اس تکلیف دہ تجربے نے ایرانی فلموں کی طرف سے اُن کا دل اُچاٹ کر دیا۔

جمال میر صادقی نےافسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ عالمی افسانوں کے تراجم بھی کیے جن کا ایک مجموعہ ْجہان داستانٗ کے نام سے ۱۹۹۳ء میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ معاصر ایرانی منتخب افسانوں کے دو مجموعے بھی اُنھوں نے مرتّب کیے۔ خود اُن کے منتخب افسانوں کے بھی دو مجموعے شائع ہوئے۔ بچوں کے لیے ایک طویل کہانی اور افسانہ نگاری میں مستعمل الفاظ و اِصطلاحات کی ایک فرہنگ بھی اُنھوں نے تحریر کی۔ان کے علاوہ افسانہ نگاری کے فنی لوازم اور نوجوانوں افسانہ نگاروں کی راہنمائی کے لیے دو کتابیں اور ایک نصاب کے ساتھ ساتھ مختلف افسانوی موضوعات پر تحقیقی و تجزیاتی مضامین کے چھہ مجموعے بھی اُن سے یادگار ہیں۔

افسانہ نگاری کے حوالے سے اتنے متنوّعاور کثیر کاموں کے نتیجےمیں جمال میر صادقی فنِّ افسانہ نویسی و افسانہ شناسی میں بلند مقام پر فائزنظر آتے ہیں۔وہ افسانہ نویسی کے رموز و نکات کو فن کی جس بلندی پر جا کر دیکھتے ہیں، اُس کا اندازہ اِس کتاب میں شاملتیسری غیر افسانوی تحریر ْکچھ افسانہ نگاری کے بارے مٗیں سے بخوبی ہوتا ہے۔ اس میں صادقی نے افسانہ نگاری کے فکری و فنی پہلوؤں پر جو اظہارِ خیال کیا ہے،وہ اُردو کے افسانہ نویسوں کی راہ نمائی اور افادے کے لیے بھی یک ساں مفید ہے۔ صادقی کے یہ خیالات اس لیے بھی اہم ٹھہرتے ہیں کہ وہ افسانے کی مغربی روایت کا گہرا مطالعہ کر چکے ہیں اور ولیم فاکنر اور ہمینگوے کے فن سے متاثّر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں چینچوف، گورکی اور ٹالسٹائی اُن کے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں جن کی بعض کتابیں اُنھوں نے  ایک سے زائد بار پڑھ رکھی ہیں۔ پیشِ نظر مجموعے میں شامل جمال میر صادقی کے افسانوی تراجم اس حوالے سے مزید اہم گردانے جا سکتے ہیں کہ ان کے مترجمین نے انھیں کمال مہارت کے ساتھ اُردو زبان میں منتقل  کیا ہے۔ اچھے ترجمے کی خوبی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ترجمہ بھی لگے اور جس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہو، اُس کے مزاج میں ڈھلا ہوا بھی محسوس ہو۔ یہ دونوں خوبیاں سب سے پہلے دونوں زبانوں پر عبور کا تقاضا کرتی ہیں،  ترجمے کی زبان کا فطری پن اور بیان کی شُستگی و چابکدستی باقی کی کسر پوری کردیتی ہے۔بِلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ درجِ بالا  تمام خوبیاں پیشِ نظر مجموعے کے تراجم میں بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں۔جمال میر صادقی کے افسانے پُر اَثر ہیں اور فنّی و موضوعاتی اعتبار سے اعلا مقام کے حامل ہیں۔ ان تک رسائی ہونا  یقینی طور پر اُردو داں طبقے کے لیے اعلا اَدب کا اچھا لوازمہ مہیّا کرتا ہے۔اس تناظر میں ایران کے ایک اہم اور معاصر افسانہ نگار کے بہترین افسانوی تراجم پر مشتملیہ مجموعہ اُردو دانوں کے لیے نعمتِ غیر مترقّبہ سے کم نہیں۔ اس خدمت کے لیے ڈاکٹر محمد اطہر مسعود  اور فکشن ہاؤس، لاہور ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔