تھکی ہوئی زندگیاں

یہ تحریر 264 مرتبہ دیکھی گئی

خالد سہیل صاحب کے بارے میں زیادہ نہیں معلوم لیکن انتخاب میں شامل بعض افسانوں کے مزاج سے یہ خیال آتا ہے کہ نفسیات داں ہیں اور شاید نفسیاتی معالج۔ البتہ یہ پتا چلا کہ صرف افسانہ نگار نہیں، شاعر بھی ہیں، مضامین اور سفرنامے بھی لکھے ہیں اور مترجم بھی ہیں۔ جو کتاب “دیوتا” پیش نظر ہے اس کے سوا ان کی کوئی نثری یا شعری تحریر نظر سے نہیں گزری۔ اس لیے “دیوتا” سے، جو ان کے منتخب افسانوں پر مشتمل ہے: ان کی فنی استعداد کا مناسب اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ افسانوں کو اگر مصنف نے خود چنا ہو تو دقت بڑھ جاتی ہے۔ مصنف سے توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ صحیح انتخاب کرے گا۔
خالد سہیل کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تخلیقی کاوشیں ایک نقشہ مرتب کریں گی جس کی مدد سے آج اور کل کے قارئین سمجھ سکیں گے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں اور انھوں نے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو کن زاویوں سے دیکھا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ہر اچھے لکھنے والے کے سامنے ایسے ہی مقاصد ہوتے ہیں۔ ہر تحریر، ہر کلام، خود کو اور دنیا کو سمجھنے اور اپنی بساط کے مطابق سمجھانے کی کوشش ہے: کامیاب، ناکام، ادھوری سدھوری۔ ایک انتہائی پیچیدہ اور بالآخر ماورائے فہم کائنات میں ہم اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔
خالد سہیل غالباً مستقل طور پر کسی مغربی ملک میں آباد ہیں۔ اس لحاظ سے ان کے سب سے کامیاب افسانے وہی ہیں جن میں ان الجھنوں کا ذکر ہے جن سے پاکستان یا بھارت سے باہر جا کر دوسرے ملکوں میں آباد ہونے والوں کا واسطہ پڑتا ہے۔ بیشتر الجھنیں ان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں بلکہ انھیں ساتھ لے کر نقل مکانی کرتے ہیں۔ بگاڑ کی جڑ یں جب اپنے ہی اندر ہوں تو کہیں بھی چلے جائیں، خوش یا مطمئن نہیں رہ سکتے۔ اس کی نشان دہی بعض افسانوں، مثلاً “جڑیں “، شاخیں، پھل” “دو کشتییوں میں سوار” “پاکی” اور “بحران” میں عمدگی سے کی گئی ہے۔ “پاکی” خاص طور پر توجہ کے قابل ہے۔ اس میں بڑوں کی ابلہی اور بچوں کی معصومیت کُھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ یہی بچے جب بڑے ہوں گے تو معاشرے میں جاری و ساری تعصبات کے یا تو ہتھیار ڈال دیں گے یا ان کی نفسیات میں ایسی دراڑیں پڑ جائیں گی جن کی اصلاح ممکن نہیں۔ “بحران” میں ایک شخص کی کہانی اس کی بیوی کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ شوہر کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے اور آخر میں تصوف میں پناہ لیتا ہے۔ اس کی قیمت اپنی بیوی اور بیٹے بیٹی سے بے اعتنائی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ اس طرح کا طرزِ عمل خودغرضی کی ایک کیفیت معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بیوی صحیح کہتی ہے۔ “تم تو اگلی دنیا میں جنت کے خواہش مند ہو اور ہم اس دنیا میں جہنم میں جل رہے ہیں۔”
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہر جانے والوں کے دو خاص مسائل ہیں۔ ایک تو بہتر زندگی کی خواہش جس کی تہ میں عموماً حرص کارفرما ہوتی ہے۔ وہاں رہ کر زیادہ کما سکیں گے۔ دوسرا مسئلہ ایک بالکل مختلف معاشرے میں پوری طرح جذب ہونے کی کشمکش ہے۔ اس میں معدودے چندہ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ دنیا میں اتھل پتھل رہتی ہی ہے۔ بس بیسویں صدی کے نصف آخر اور اکیسویں صدی میں اس اتھل پتھل میں قابلِ رحم اضافہ ہو گیا ہے۔
بعض افسانے مضمون نما اظہارِ خیال کے نمونے معلوم ہوتے ہیں۔ مصنف کی رائے میں وہ افسانے ہیں تو افسانے ہی سہی۔ “بحران” میں ایک جگہ چھوٹی سی تکنیکی خامی ہے۔ راوی چوں کہ بیوی ہے اس لیے وہ یہ نہیں بتا سکتی کہ اس کا شوہر خواب میں کیا دیکھ رہا تھا یا کیا سوچ رہا تھا۔ ایک اور جگہ ہٹلر کا ذکر ہے کہ اس نے جرمنی میں کرکٹ پر پابندی لگا دی تھی۔ اگر اس بات سے کہنے والے کی لاعلمی مراد ہے تو ٹھیک ہے۔ اگر یہ خیال خالد سہیل کا ہے تو غلط ہے۔
دیوتا از ڈاکٹر خالد سہیل
ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 240؛ چھ سو روپیے