تُم دیر تک میری یاد میں چمکنا

یہ تحریر 502 مرتبہ دیکھی گئی

(مُحمد سلیم الرحمٰن کے ساتھ شاعری اور تصویر کشی کے حوالے سے چند باتیں)

کئی برس پہلے ریڈنگز بُک شاپ پر محمود گیلانی نے مُحمد سلیم الرحمٰن کی کتاب “نظمیں” میرے ہاتھ تھمائی تو شاعری پر مُحمد سلیم الرحمٰن کے تعارفی جُملے نے مُجھے کِیل کر رکھ دِیا۔

“شاعری کیا ہے؟ ایک حیرت زدہ اجنبی کی کسی دوسرے حیرت زدہ اجنبی سے ہم کلامی۔” یہ جُملہ پڑھتے ہی اندھیارے ذہن میں روشنی کی تازہ کرن کوند گئی۔ میں یوں بھی چونکا کہ تصویر بھی کسی اجنبی سے اچانک مِلنے کی “حیرت” اور کیمرا لینز کے آرپار لمحاتی “ہم کلامی” کی یاد ہی ہوتی ہے۔ میں نے جانا کہ شاعری میں بات داراصل عکس گری کی ہی ہو رہی ہے۔ پاکستانی شاعر و عکس کار شرجیل انظر پر مضمون Beyond Eye and Ekphrasis میں یونانی اصطلاح Ekphrasis شاعری میں لفظوں کے ذریعے بنائے گئے منظر نامے کے لیے استعمال کیا تھا۔ شاعر اور عکس کار دونوں انسان کو انسانیت کے المیے سے ماوراء و عظیم تر دکھاتے ہیں۔ لیکن مُحمد سلیم الرحمٰن اس سے بھی اگلی بات کر رہے تھے:

شاعری
اک خط کسی کا سب کے نام

خود بخود کُھلتی ہوئی کھڑکی کا طوفانی سلام

شاعری
امکان کا اک بحرِ ناپیدا کنار

آسماں در آسماں در آسماں

دیکھا جائے تو تصویریں بھی “اک خط کسی کا سب کے نام” ہیں جو سمے کی مسافرت میں اچانک کسی حیرت زدہ اجنبی کے ہاتھ لگ جائے۔ مُحمد سلیم الرحمٰن کی 1962 میں لکھی گئی نثری نظم ہے:

“جب ہم جا چُکے ہوں گے تو ہماری دُھندلی سی یاد کسی کے لیے کتاب کے صفحوں میں پنہاں ہو گی اور کسی کے لیے بہار کی ہوا کی سرسراہٹ میں؛ یا شاید کسی البم میں پُرانی بُھوری تصویر جِسے بچے اُلٹ پلٹ رہے ہوں؛ یا شاید یہ بھی نہیں۔”

مُحمد سلیم الرحمٰن کے ساتھ فوٹوگرافی کی مُختلف جہتوں پر گُفتگو نے باقاعدہ مُباحث کی صورت اختیار کی تو میں نے اُن کا اس موضوع پر ویڈیو انٹرویو کیا۔ مُحمد سلیم الرحمٰن نے اپنی تحویل میں پُرانی تصویروں کے حوالے سے عکس گری کے کئی اسرار کھولے۔ سب سے دلچسپ بات اُنھوں نے یہ کہی کہ “تمام فنون میں تصویر کشی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے ناظر کو فوری اُداس یا رنجیدہ کر سکتی ہے، کیونکہ تصویر کا براہِ راست تعلق یاد کے ساتھ ہے اور یاد عموماً اُداس کرتی ہے۔ علاوہ ازیں تصویر کو دیکھنے والا بخوبی جانتا ہے کہ تصویر میں موجود لوگ گُذرتے وقت کے ساتھ ایسے آسودہ حال نہیں رہیں گے جیسے وہ تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں۔” یہ بات ایک شاعر ہی کہہ سکتا تھا۔ اس انٹرویو کے بعد میرے لیے تصویر کشی کے معنی یکسر بدل گئے۔

کُچھ عرصے کے بعد مُحمد سلیم الرحمٰن نے عکس گری پر پاکستان کے پہلے انگریزی شُمارے Pakistan Photography Magazine کے لیے آرکیٹیچرل فوٹوگرافی کے موضوع پر مضمون تحریر کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ عموماً قدیم عمارات کی تصویر کشی کرنے والے عکس گروں کی ذاتی زندگی شدید دُکھ اور حوادث کا شکار ہوتی ہے۔ ایسے جتنے بھی عکس کاروں کو میں جانتا تھا اُن کے ساتھ یہی مُعاملہ درپیش تھا۔

آج میں پچھلے بیس برس کے دوران بنائی تصویروں کو دیکھتا ہوں تو مُحمد سلیم الرحمٰن کی اپنی نظموں کے حوالے سے لِکھی ہوئی تحریر ہی صادق آتی ہے:

“مُجھے نہیں معلوم میں کون ہوں اور یہ نظمیں کس کی آواز میں کیا کہنا چاہتی ہیں۔ یہ کبھی سانچے میں ڈھلی ڈھلائی اور کبھی ابتر حالت میں میرے پاس آئی ہیں اور میں نے ان کا مُنھ دھویا ہے، لباس بدلا ہے اور ان کی بات کو سمجھا ہے، کُچھ نہیں سمجھا۔ انھوں نے میرے کان میں کُچھ کہا ہے اور میں نے اپنے خیال میں، ان کا کہا دُہرایا ہے اور جی چاہا ہے کہ خواب جیسی بے اختیاری میں مُجھے کہیں سے جو ملا ہے، جس نے مُجھے خوش بھی کیا ہے، اُداس بھی، حیران بھی، اس میں دوسروں کو بھی شریک کروں۔”

محمد سلیم لرحمان

تصویریں بھی کبھی ابتر اور کبھی دُھلی دُھلائی اچانک ہمارے ہاتھ لگتی ہیں۔ ان کی بات کو کبھی ہم سمجھ پاتے ہیں اور کبھی نہیں۔ انسانی تمدن کی تشکیل میں روزِ اوّل سے شاعروں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ انھوں نے ہمیں تہذیب کی تاریخ رزمیوں کی شکل میں محفوظ کر کے دی اور انسانی فکر کی ترویج و آبیاری بھی کرتے رہے۔ اب ھن کے ہمراہ یہ کام عکس کار بھی کر رہے ہیں۔ میری دانست میں فنونِ لطیفہ کی تمام اصناف میں شاعری اور عکس گری اس لحاظ سے قریب ترین ہیں کہ دونوں گُزرتے لمحوں کو لفظی اور تصویری عکس اور یاد میں ڈھالتے ہیں۔ عکس کار بھی “پل دو پل کا شاعر” ہے۔ شاعر کی طرح وہ بھی سمے کے بندھن میں “پل دو پل” کی کہانی کھوج کر تصویر کرتا ہے۔