تنہائی بالجبر

یہ تحریر 293 مرتبہ دیکھی گئی

“ہر شے کا حساب کتاب ہو سکتا ہے
تنہائی کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔” ص86
اگر کوئی آدمی ملنا جلنا بہت کم یا ترک کر دے، الگ تھلگ زندگی گزارے تو اس کا یہ رویہ اخلاقی یا معاشرتی طور پر قابلِ گفت یا قابلِ مذمت نہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے مردم بیزار ہونے کا طعنہ دیں گے۔ باایں ہمہ، اس شخص کے دل میں بااختیار ہونے کا احساس برقرار رہے گا۔ اس کے برعکس اگر کسی کو مجبور کر دیا جائے یا مجبور ہو جائے کہ وہ گھر میں اکیلا پڑا رہے یا باہر نکلے تو دوسروں سے دور رہے اور کم سے کم گفتگو کرے تو اسے محسوس ہو سکتا ہے کہ اس سے اختیار چھین لیا گیا ہے اور زندہ رہنے کا جواز کمزور پڑ گیا ہے۔
دنیا کا یہی حال کورونا نے کر دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بڑی بڑی وبائیں پھیلیں اور قہر ڈھاتی رہیں۔ برصغیر میں ہر برس ہیضہ اور چیچک اپنی چوتھ وصول کرنے کے بہانے غضب ڈھاتے۔ تقریباً چالیس برس تک یہاں طاعون پھیلا رہا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ سب پرانی باتیں ہیں جب علاج معالجے کی اتنی سہولتیں نہ تھیں۔ نئے امراض میں سرطان اور ایڈز کو گنا جا سکتا ہے لیکن یہ متعدی نہیں۔ کورونا نے آ کر جتایا کہ دنیا اتنی محفوظ نہیں جتنی، سائنسی ترقی کے زعم میں، ہم اسے سمجھے بیٹھے تھے۔
مستنصر حسین تارڑ بعض اوقات سامنے کے واقعات کو فوری طور پر فکشن کا جامہ پہنانے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ اس کی ایک مثال “قلعہ جنگی” ہے۔ تاہم “شہر خالی، کوچہ خالی” ایک سطح پر نہ صرف آپ بیتی ہے بلکہ جو کچھ اس ناول میں کہا گیا ہے وہ بہت سے پڑھنے والوں کو اپنی بیتی ہی معلوم ہوگی۔
ناول کا راوی اس وبا کی ستم گاری کا چشم دید گواہ ہے۔ گھر میں بھی وہ شناسا اجنبی بن چکا ہے۔ بیٹا، بہو، پوتے پوتیاں دور سے اسے سلام کرتے ہیں، پاس آنے کے روادار نہیں، جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔ گھر میں بھی سناٹا ہے اور باہر بھی۔ وہ طیارے بھی جو دن رات آٹھ دس مرتبہ گھر کے اوپر سے گزرتے تھے غائب ہو چکے ہیں۔ دنیا سانس روکے کسی محشر کی منتظر ہے۔
“میں روزانہ انہی راستوں سے گزرتا تھا جن پر ان دنوں میں صبح سویرے سیر کے لیے چلتا تھا لیکن تب یہ آباد ہوا کرتے تھے اور اب سنسان پڑے ہوتے ہیں تو ان کی ہیئت ہی بدل چکی ہوتی ہے ۔۔۔۔ جو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہ پہلے دیکھا ہوا نہیں ہوتا۔ آنکھ کچھ اور دیکھتی ہے ۔۔۔۔ منظر اجنبی نظر آتے ہیں اور ان کی اجنبیت میں سے عجیب معنویت جنم لیتی ہے۔” 34
آدمی ان چیزوں کو بھی غور سے دیکھنے لگتا ہے جن پر عام دنوں کی مصروفیت میں اس کی نظر نہیں جاتی تھی۔ یہ جبری تنہائی آدمی کو دنیا سے ازسرِ نو روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس روشناسی میں حیرت کا دخل تو ہے، انبساط کا نہیں کہ اس توجہ کی تہ میں خوف کارفرما ہے۔ بالکل اکیلے رہ جانے کا خوف، ناکارہ ہونے کا خوف۔
راوی دیکھتا ہے کہ اس سنسانی میں پرندے لوٹ آئے ہیں اور اس منڈیر پر بیٹھ کر، جو کمرے سے نظر آتی ہے، مزے کر رہے ہیں۔ اس سناٹے سے جو چار سو پھیلا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ انسان شاید رخصت ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ اب دنیا ان کی ہے اور وہ آزاد ہیں۔ راوی کو واہمے میں ایک ہرن لان میں گھاس چرتا نظر آتا ہے۔ پہلے اکیلا، دوسری مرتبہ اپنے بچوں کے ساتھ۔ ہرن کہتا ہے کہ یہ میرا آبائی ویرانہ ہے جہاں مدتوں پہلے میں رہا کرتا تھا اور تم جیسے خود غرض انسانوں نے مجھے یہاں سے بے دخل کر دیا۔ اب کہ دنیا اجڑ چلی ہے میں واپس آ گیا ہوں۔” یہ ہرن واہمہ ہے اور اس بے چینی کا غماز جو ہر آدمی اس وقت محسوس کرتا ہے جب ابتلا میں گرفتار ہو کر سوچتا ہے کہ یہ ہست و بود فریب ہے۔
راوی گھر والوں سے چھپ کر داتا دربار بھی جاتا ہے جو آدمی اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر داتا دربار چھوڑ آتا ہے طنزاً کہتا ہے: “65ء کی جنگ میں کہتے تھے کہ داتا صاحب لاہور پر پھینکے جانے والے دشمن کے بموں کو ادھر ادھر کر دیتے تھے۔ اب اس وبا کو بھی دبوچ کر ادھر ادھر کریں تو جانیں۔” منشائے الٰہی کے سامنے دم مارنے کی مجال کہاں۔
آخر میں راوی خود بھی کورونا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے ہر وقت منڈیر پر چیل بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ بالکل ساکت۔ بظاہر موت کا سندیسہ۔ شاید یہ چیل بھی وہم کی تخلیق ہو۔ راوی کی حالت دگرگوں دیکھ کر بیٹا اسے ہسپتال لے جاتا ہے۔ اس کے صحت یاب ہونے کی امید بہت کم ہے۔
اسی بیانیے سے ایک اور بیانیہ نتھی ہے۔ اس فاختہ کی کہانی جسے یہ دیکھنے کے لیے کشتی سے بھیجا گیا تھا کہ ہمہ گیر سیلاب میں کہیں چپہ بھر خشکی نظر آتی ہے یا نہیں۔ وہ اڑتی پھرتی ہے۔ اسے ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے اور جب وہ یہ اطلاع دینے لوٹتی ہے تو کشتی بھی موجود نہیں ہوتی۔ وہ دوبارہ اڑان بھرتی ہے اور بالآخر راوی کے گھر کی منڈیر پر جا اترتی ہے۔ بقول راوی، جو غرض سے آزاد ہو کر خود میں زندگی کو نئے سرے سے پھلتے پھولتے دیکھتا ہے، فاختہ “نسلِ انسانی کی بقا کی نوید لے کر آئی تھی۔” شاید ہرن اور چیل کی طرح یہ بھی واہمہ ہو۔
دل کو چھو لینے والا واقعہ وہ ہے جہاں راوی صبح سویرے پارک میں ایک غریب بچی کو خوشی خوشی جھولا چھولتے اور سلائیڈ پر پھسلتے دیکھتا ہے۔ عام حالات میں کوئی اسے پارک میں قدم بھی نہ رکھنے دیتا۔ اب وہ بھی ہرن اور پرندوں کی طرح آزاد ہے۔ راوی سوچتا ہے: “کورونا اگر ایک بچی کی خوشی کا باعث بن سکتا ہے تو بے شک یہ کچھ مدت کے لیے ٹھیر جائے۔”
شہر خالی، کوچہ خالی از مستنصر حسین تارڑ
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 316؛ آٹھ سو روپیے