تعریفوں کا تصادم

یہ تحریر 86 مرتبہ دیکھی گئی

[4]

(۷)

ایک سو، چو مصرعی نظموں کے مجموعے میں، جواپنی کم و بیش معصومانہ سادگی کے جلو میں نہایت سنگین اور نہایت پیچیدہ گہرائیوں کو آئینہ کرتی ہیں، عظیم چیک شاعر (ژاں سکیسل) کہتا ہے:

شاعر نظموں کو ایجاد نہیں کرتے ہیں

نظم تو پیچھے دور کہیں اک لمبے عرصے سے

منتظر اور موجود ہوا کرتی ہے

شاعر تو کرتے ہیں فقط دریافت اسے!

گویا شاعر کے لیے شعر گوئی دیوار میں شگاف کرنے کے مترادف ہے جس کے پیچھے ایک غیر متغیر شے (نظم) اندھیرے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ (اس اچانک حیران کن نقاب کشائی کے باعث) نظم پہلے پہل ہماری نگاہوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔

میں نے ”دی کاسل“ کا مطالعہ چودہ برس کی عمر(۱۲) میں کیا۔ یہ ”نظم“ مجھے دوبارہ اس شدت سے مسحور نہ کرے گی اگرچہ اس کے اندر جو گہرے انکشافات پائے جاتے ہیں (جو دراصل کافکائیت کی صحیح منشاء ہے) وہ اُس عمر میں میرے لیے ناقابل فہم تھے۔ تب میں حیرت سے ُسن ہو گیا تھا!

بعد ازاں میری نگاہیں اس”نظم“ (دی کاسل) کی تجلی سے مانوس ہوگئیں اور میں اس شے میں، جس نے مجھے خیرہ کردیا تھا، خود پر بیتے تجربے کو دیکھنے کے قابل ہوگیا تھا لیکن وہ تجلی اب بھی وہیں تھی!

ژاں سکیسل کہتا ہے کہ نظم ایک مدت تک غیر متغیر حالت میں منتظر رہتی ہے لیکن ایک لمحہ بہ لمحہ متغیر ہونے والی دنیا میں ایک غیر متغیر شے کیا سراب محض نہیں؟

نہیں! ہر صور ت حال انسان کی ساختہ ہے اور اس کے اندر وہی کچھ ہوتا ہے جو انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ چناں چہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک مخصوص صورت حال (مع اپنے تمام تر مابعد الطبیعیاتی مضمرات کے) انسانی امکان کے طور پر ایک لمبے عرصے سے موجود ہے۔

لیکن اس صورت میں تاریخ(جو ایک متغیر حقیقت ہے) شاعر کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟ اگرچہ یہ بات عجیب محسوس ہوگی مگر واقعہ یہی ہے کہ شاعر کی نگاہ میں تاریخ کی حیثیت شاعر کی اپنی صورت حال سے مماثل ہوتی ہے۔ تاریخ ایجاد نہیں کرتی دریافت کرتی ہے۔ نئے احوال و ظروف کی وساطت سے تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کیا ہے، اس کے باطن میں ایک لمبے عرصے سے کیا شے موجود ہے، اس کے امکانات کیا ہیں؟

اگر نظم کہیں اوٹ میں پہلے ہی سے موجود ہوتی ہے تو پھر بصیرت کے انعام کو کسی شاعر سے منسوب کرنا غیر منطقی ہوگا۔ نہیں! شاعر اس انسانی امکان کو (اس ”نظم“ کو جو ایک لمبے عرصے سے اس کی منتظر ہوتی ہے) صرف نئے سرے سے دریافت کرتا ہے جسے تاریخ اپنی باری آنے پر کہیں بعد میں دریافت کرے گی۔

کافکا نے پیش گوئی نہ کی۔ اس نے جو کیا وہ صرف یہ تھا کہ اس نے عقب میں موجود شے کا ادراک کر لیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا یہ دیکھنا پیش بینی بھی ہے۔ وہ کسی سماجی نظام کی نقاب کشائی کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس نے تو ان طریقہ ہاے کار کو نمایاں کیا جو نجی اور  خرد عمرانی انسانی اعمال کے مطالعے سے اس کو معلوم ہوئے تھے۔ اسے سان گمان بھی نہ تھا کہ بعد کے حالات ان طریقہ ہاے کار کو تاریخ کی اسٹیج پر ایک ایکشن کی صورت میں ظاہر کردیں گے۔

اقتدار کی سحر فن نگاہ، اپنے جرم کی تلاش کی جاں گسل کاوش، جبری اخراج (ملک بدری)، نکال باہر کر دیے جانے کا کرب، موافقت اختیار کرنے پر اصرار۔ حقیقت کی سراب آثار نوعیت اور فائل کی جادوئی حقیقت، نجی زندگی کی مسلسل بے حرمتی اور پامالی__ یہ سب تجربات جو تاریخ نے اپنی وسیع و عریض ٹیسٹ ٹیوبوں میں آدم زاد پر کیے ہیں، کافکا نے یہ سب تجربات (چند برس پہلے) اپنے ناولوں میں کردکھائے۔

مطلق العنان ریاستوں کی حقیقی دنیا کا کافکا کی ”نظم“ (تخلیقی ناول) کے ساتھ اتصالِ باہم ہمیشہ کسی قدر پراسرار رہے گا اور یہ ہمیشہ اس بات کی شہادت دے گا کہ اپنے جوہر میں شاعر کا عمل ناقابل اندازہ اور بظاہر متضاد ہوتا ہے۔ چناں چہ کافکا کے ناولوں کی وسیع سیاسی، سماجی اور پیغمبرانہ معنویت دراصل ان کی آزادی میں مضمر ہے۔ مطلب یہ کہ ان ناولوں کاطرّہئ امتیاز سیاسی پروگراموں، نظریاتی تصورات اور مستقبل کی پیش قیاسیوں سے کاملاً آزاد ہونا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر شاعر اوٹ میں کہیں چھپی ہوئی نظم کا کھوج لگانے کے بجائے ایک ایسی صداقت کا، جو آغاز ہی میں جانی بوجھی ہو، غلام ہوجائے (ایسی صورت جو خود آگے بڑھ کر ظاہر ہو جائے) تو ایسی صورت میں اس نے گویا شاعر کے مشن کو خیرباد کہہ دیا نیز اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ پہلے سے معلوم صداقت کو انقلاب کہا جائے یا اختلاف،عیسوی مذہب کہا جائے یا دہریت، خواہ اس کا زیادہ جواز ہو یا کم۔ ہر وہ شاعر جو کسی ایسی صداقت کا غلام ہوجائے جو اس صداقت کی جگہ ہو جسے ابھی دریافت کیا جانا ہے (یعنی پاجانے کی خیرگی)، دراصل جھوٹا شاعر ہے۔

اگر میں کافکا کی فکر ی وراثت کے ساتھ شدت سے وابستہ ہوں، اگر میں اس کا اپنا ذاتی ورثے کی حیثیت سے دفاع کرتا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کسی ایسے شخص کی تقلید کو جائز اور موزوں سمجھتا ہوں جو ناقابل تقلید ہو۔ (اور کافکائیت کی دریافت نو کروں) بلکہ اس لیے کہ یہ ورثہ ناول کی (یعنی اس شاعری کی جس کا نام ناول ہے) اساسی آزادی کی نہایت عظیم مثال ہے۔ اس آزادی اور خود مختاری نے فرانز کافکا کو ہماری انسانی صورت حال (جو جیسی ہماری صدی میں منکشف ہو رہی ہے) ایک ایسے اسلوب میں بیان کرنے کے قابل بنایا جو کسی سماجی یا سیاسی فکر کے بس سے باہر تھا۔

حواشی (از مترجم):

۱۔            میلان کندیرا نے اپنی اسی کتاب میں (جس میں کافکا پر زیرِ نظر مضمون شامل ہے) ”ناول کے فن پر مکالمہ“ نامی تحریر میں کافکائیت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”کافکائی عالم، کسی معلوم حقیقت سے مماثل نہیں۔ یہ انسانی دنیا کی انتہا اور ان جانے امکان کا نام ہے“۔ ص ۴۳

۲۔           یہاں میلان کندیرا کا اشارہ افلاطون کے اس تصور کی جانب ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات دراصل اعیان ثابتہ کا ظل ہے۔ اپنے اس تصور کو اس نے ایک جگہ اپنی مشہور تمثیل غار ”ALLEGORY OF CAVE“ کے ذریعے بیان کیا ہے۔ اس تمثیل کے مطابق ایک غار میں چند پا بہ زنجیر افراد ہمیشہ سے مقیم ہیں جہاں صرف سائے ہی نظر آسکتے ہیں اور منبع نور کا علم نہیں۔ غار کے سامنے کی دیوار پر چوں کہ صرف سائے ہی نظر آتے ہیں جنھیں یہ پابہ زنجیر افراد دیکھ سکتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک ان سایوں کی حیثیت حقیقی اور واقعی ہے اور اس غار سے باہر حقیقی اشیاء کا کہیں وجود نہیں۔ اقبال نے افلاطون کے اسی تصور کے پیش نظر اسے ”راہب دیرینہ“ قرار دے کر لکھا تھا:

آنچناں افسونِ نامحسوس خورد

اعتبار از دست و چشم و گوش برد

۳۔           یہ ترکیب، انگریزی ترکیب ”AUTOCULPABILIZATION MACHINE“ کے اردو مترادف / متبادل فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

۴۔           اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ مغرب جدید ایک غیر روایتی بلکہ بہت حد تک روایت دشمن سماج کا روپ دھار چکا ہے۔ تفصیل کے لیے گینوں GUENON اور گائی ایٹن وغیرہ کی تحریریں کفایت کریں گی۔

۵۔           ۴۸۸۱ء میں پراگ میں پیدا ہوا۔ چیکو سلوویکیہ کا مشہور ناول نگار، نقاد اور فلسفی اور متعدد کتب کا مصنف۔ اپنے ناولوں میں اس نے کافکا کے باب میں حقیقت اور افسانے کو آمیز کیاہے۔ اس کے بعض دیگر ناولوں میں آسٹریا کی اونچی سوسائٹی کے نقشے ہیں۔

۶۔           پراگ میں ۱۸۹۰ء میں پیدا ہوا۔ شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نگار۔ اپنے عہد کا بہت مقبول شاعر تھا۔ اس کی تحریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام نوع انسانی ایک وحدت ہے۔

۷۔           (۱۸۸۵ء۔ ۱۹۴۸ء)یہودی جرمن ناول نگار اورصحافی۔ صحافی ہونے کے ناتے وہ تمام دنیا میں گھومتا پھرا۔ ۱۹۳۹ء میں وہ امریکہ چلا گیا مگر وفات سے ایک برس پہلے پراگ لوٹ آیا۔ کئی کتب کا مصنف تھا۔

۸۔           (۱۹۰۵ء۔ ۱۹۸۰ء) ولادت پیرس میں ہوئی۔ مشہورِ عالم فرانسیسی فلسفی، ناول نگار، ڈرامہ نگار اور نقاد۔ فرانس میں دہریت پر مبنی موجودیت کا بڑا علم بردار۔ اپنے عہد کی سیاسی اور فکری زندگی میں اس کا رول نہایت اہم رہا۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ حریت فکر اور انفرادی آزادی کا بڑا مؤ ّید تھا۔ اس کی فکر نے دنیا بھر کے لکھنے والوں کو متاثرکیا۔ بہت سی ہنگامہ خیز کتابوں کا مصنف تھا جن میں ”BEING AND NOTHINGNESS“ اور ”NAUSEA“ نے بڑی شہرت پائی۔ اس کے ڈراموں میں “MEN WITHOUT SHADOWS” اور ”THE FLIES“ بہت معروف ہیں۔ اس کے مضامین کے متعدد مجموعوں میں ”SITUATIONS“ اور ”LITERARY ESSAYS“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

۹۔           اصلاً تو یہ یونانی دیو مالا کا ایک مشہور کردار ہے جس نے اپنے مقتول باپ ایغا میمنن (آغا ممنون؟) کا بدلہ لینے کے لیے اپنی ماں کلائٹم نسترا اور اس کے عاشق کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ چوں کہ سارتر یونانی دیو مالا سے بہت متاثر تھا اس لیے بدلے ہوئے احوال و ظروف میں اس نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ چناں چہ اپنے مشہور ڈرامے ”The Flies“ میں اس نے اس کردار کو اپنے عہد کی صورت حال کے تناظر میں متعارف کرایا ہے۔ یہ ایک طرح سے Electra Myth کی نئی توضیح ہے۔ اس ڈرامے کو فرانس پر جرمن قبضے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

۱۰۔         اس اصطلاح کی وضاحت کندیرا نے اپنے ایک مضمون ”Sixty Three Words“ میں کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے ”The Art of the Novel“ کے ص ۱۳۷۔۱۳۸

۱۱۔          کافکا کی مشہور کہانی ”METAMORPHOSIS“ کا معروف اور مرکزی کردار جو ایک صبح اپنے آپ کو ایک بڑے لال بیگ کی صورت میں پاتا ہے۔ اس صورت حال میں اس کا اور اس کے خاندان کا کیا ردعمل ہوتا ہے، اس کی نہایت گہری اور چشم کشا تصویر اس فنکارانہ طریقے سے کھینچی گئی ہے کہ مصنف کی یہ کہانی کلاسِک کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ اس کہانی نے اردو کے افسانہ نگاروں کو بھی شدت سے متاثر کیا ہے۔ اس ضمن میں انتظار حسین کی ”کایا کلپ“ کا مطالعہ بہت معنی خیز ہو سکتا ہے۔

۱۲۔         کندیرا نے جب اولاً یہ مضمون لکھا تو اس میں ”دی کاسل“ کے پہلی دفعہ مطالعے کے وقت اپنی عمر پندرہ برس بتائی تھی۔ ملاحظہ کیجیے ”آج“ (دوسری کتاب) ص ۴۵۔