تشدد اور امید کے درمیان

یہ تحریر 232 مرتبہ دیکھی گئی

بلند اقبال کے دو مختصر ناول سامنے ہیں۔ “بکھرے ہوئے صفحات” میں فاطمہ کی کہانی ہے جو کراچی میں رہتی ہے اور کامیاب صحافی ہے۔ اس کی ماں کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ ابھی فاطمہ دو تین سال کی تھی کہ وہ اسے لے کر کراچی چلی آئی۔ وہاں فاطمہ نے پڑھ لکھ کر بطور صحافی اپنی اہمیت منوا لی۔ ناول جب شروع ہوتا ہے تو ماں فوت ہو چکی ہے۔ ماں کی وفات کے بعد ماں کی ڈائری اور چند پرانی تصویریں فاطمہ کے ہاتھ لگیں۔ چند صفحات بھی ملے جن میں بنگالی، انگریزی اور یورپی زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ ایک بچے کا فوٹو بھی تھا جو خدوخال سے یورپی معلوم ہوتا تھا۔ فاطمہ نے بعض یورپی خاندانوں سے رابطہ قائم کیا لیکن بچے کو کوئی نہ پہچان سکا۔ آخر اس کی زوسیہ کاسونوا نامی ایک ضعیف پوش خاتون سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے اس کے پاس جو پرانے فوٹوگراف تھے ان میں اس بچے کی تصویر بھی تھی جو فاطمہ کو اپنی ماں کی ڈائری میں ملی تھی۔
رسم و راہ بڑھی تو زوسیہ نے اپنا ماجرا سنایا۔ وہ پولینڈ کی رہنے والی تھی۔ آٹھ نو برس کی تھی کہ اس کا خاندان دوسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ جنگ میں شہری آبادی کے ساتھ جو بیتی اس کا بھیانک نقشہ زوسیہ نے کھینچا۔ ناول میں صرف ناتسی مظالم کا ذکر ہے حالاں کہ روسیوں نے بھی پولینڈ کے شہریوں پر کم ظلم نہیں ڈھائے تھے۔ ایک اذیت ناک نوجوانی کے بعد زوسیہ کراچی آئی اور یہیں بس گئی۔ یہاں شاعری بھی کی اگرچہ شوہر کے بارے میں ناول میں کوئی معلومات نہیں۔ یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ اس کی آمدنی کے ذرائع کیا تھے۔ جب فاطمہ اس سے ملی تو وہ اکیلی تھی۔ اس کا بیٹا پیٹر پاکستانی فوج میں تھا اور 1971ء میں مشرقی پاکستان گیا تھا۔ پیٹر کو اس نے یہ کہہ کر عاق کر دیا تھا کہ تم نے جو کچھ بنگلہ دیش میں کیا اس کے بعد تم میرے بیٹے ہونے کا حق کھو چکے ہو۔” کراچی میں بیٹھے بیٹھے اس نے کیسے طے کر لیا تھا کہ پیٹر غلط کاموں میں ملوث رہا ہے؟
ماں نے فاطمہ کو کبھی نہیں بتایا تھا کہ اس کا باپ کون تھا۔ فاطمہ پوچھتی بھی تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتی۔ خود فاطمہ کی جرات نہ ہوئی کہ زوسیہ سے پوچھے کہ جو فوٹو اس کے پاس ہے وہ ماں کے پاس کیوں تھا اور فوٹو کس کا تھا۔
اس معمے کو حل کرنے کے لیے فاطمہ نے بنگلہ دیش کا سفر کیا۔ وہاں اس پر انکشاف ہوا کہ اس کی ماں کو پیٹر نے ریپ کیا تھا اور وہ حاملہ ہو گئی تھی۔ بعد میں ماں کی شادی ایک بنگالی سے ہوئی لیکن نباہ نہ ہو سکا۔ طلاق ملنے کے بعد وہ اپنی بچی کو لے کر کراچی چلی آئی۔ فوٹو کا معما تو حل ہو گیا لیکن بنگلہ دیش سے واپس آنے کے بعد فاطمہ کو فوراً اسلام آباد جانا پڑا۔ واپس آ کر اس نے زوسیہ سے ملنا چاہا لیکن وہ اس دوران میں فوت ہو چکی تھی۔
ناول کا پلاٹ کمزور نہیں لیکن اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ کئی طویل اور غیرمتعلق نظموں کی شمولیت بیانیے میں خلل ڈالتی ہے۔ کئی مقامات پر پوش اور جرمن جملے اور اور ان کا ترجمہ درج ہے۔ اس سے بھی زیادہ بے تکی بات بنگلہ دیش میں ایک خاتون سے گفتگو ہے جو انگریزی میں ہوئی تھی۔ انگریزی عبارت بھی درج ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی؛ حالاں کہ صرف اتنا لکھنا کافی تھا کہ دونوں کے درمیان گفتگو انگریزی میں ہوئی تھی۔
دوسرا ناول “ٹوٹی ہوئی دیوار” تین قصوں پر مشتمل ہے جو باری باری پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ایک کا پس منظر کراچی ہے جہاں ادریس نامی ہٹاکٹا نوجوان، جس کی دینی معلومات واجبی سی ہیں، ایک عیسائی کو توہینِ رسالت کا مجرم ٹھیرا کر بری طرح زخمی کر دیتا ہے اور پھر پٹرول چھڑک کر جلا ڈالتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کی بعض دینی علما کو بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ خود تشدد کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے ادریس جیسے افراد کو عزت اور دولت سے نواز کر اپنا آلہء کار بنا لیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ادریس کا بچہ عثمان باپ کے مجرمانہ فعل کا عینی شاہد ہے۔ وہ نفسیاتی مریض بن گیا۔ عثمان کے بے وقوف ماں باپ سمجھتے ہیں کہ اس پر جنوں بھوتوں کا اثر ہے۔ ناول کا یہ حصہ کامیاب ہے اور پاکستان کے ایک طبقے کی ذہنی ابتری کی عکاسی خوب کرتا ہے۔ پتا چلتا ہے کہ مطلبی علما کم عقل نوجوانوں کو کسطرح بہلا پھسلا کر قتل و غارت پر آمادہ کرتے ہیں اور ان کے مجرمانہ افعال کو سراہتے ہیں۔
دوسرے قصے میں امریکہ میں آباد ایک قادیانی لڑکی اور سکھ لڑکے کے معاشقے کا بیان ہے جس میں لڑکی اپنے ماں باپ کی کوئی بات نہیں سنتی اور سکھ لڑکے کے پاس جا کر رہنے لگتی ہے۔ تیسرا قصہ ایک افغانی پروفیسر، واحدلی، سے تعلق ہے جو کابل میں ہے اور پھر امریکہ چلا جاتا ہے۔ اسے مصنف کی alter ego سمجھیے۔ اس کی زبانی بہت سے معاملات پر محاکمے سننے میں آتے ہیں جو خاصے سطحی ہیں۔ کون نہیں چاہے گا کہ دنیا میں امن و امان ہو اور ایک دوسرے سے محبت کی جائے۔ لیکن اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ انسانی حقوق، عالمی ضمیر، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوریت کی طرح یہ خیالی باتیں تو نہیں جنھیں کبھی عملی جامہ نہ پہنایا جا سکے گا۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ “اگر معاشرہ اقتصادی طور پر کمزور ہے اور وہاں پر آباد لوگ جدید علم سے بے بہرہ اور شعوری اعتبار سے صدیوں پیچھے ہیں تو ان کی کمزور اخلاقیات انھیں تشدد پر آمادہ کر دیتی ہیں (کذا)۔” بیسویں صدی میں دو بڑی اور نہایت خوں ریز جنگیں انھیں ملکوں نے لڑیں جو اقتصادی طور پر مضبوط تھے اور جدید علم سے بہرہ ور۔ آیندہ بھی ایسے ہی ملک دنیا میں فساد برپا کریں گے۔ اقتصادی طور پر کمزور ملک کیا لڑیں گے۔ قہرِ درویش بر جانِ درویش۔
بلند اقبال کو میڈیسن کے شعبے میں اچھا بھلا مقام حاصل ہے۔ ان کا فکشن کی طرف مائل ہونا خوش آیند ہے۔ ناولانہ تکنیک پر ان کی گرفت ذرا مضبوط ہونی چاہیے۔
بکھرے ہوئے صفحات از بلند اقبال
ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 166؛ چار سو روپیے
ٹوٹی ہوئی دیوار از بلند اقبال
ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 158؛ چار سو روپیے