تاوان

یہ تحریر 94 مرتبہ دیکھی گئی

ہم نے اس دن کتنی بہت سی باتیں کی تھیں

یاد ہے تم نے مجھ سے کہا تھا

ہنستے ہوئے تم کتنی سندر لگتی ہو

پر کم ہنستی ہو

میں یہ سن کر چونک اٹھی تھی

تم نے کہا تھا اب یہ ہنسی میں کھونے نہ دوں گا

اور یہ سن کر میری آنکھیں جل اٹھی تھی

ناداں تھی میں

ہنستی رہی اور جان نہ پائی

خوشیاں اپنی قیمت مانگتی رہتی ہیں

ہنسنے پر تاوان بھی بھرنا پڑتا ہے

تم تو کہہ کر بھول گئے اور آج اچانک

ہنستے ہنستے میری آنکھں

پھر سے جلنے لگی ہیں

جانے کب تک اپنی ہنسی کا مول چکانا

ان آنکھوں کی قسمت ٹھہرے