بیاد عرفان صدّیقی

یہ تحریر 121 مرتبہ دیکھی گئی

تیرے معیار کو پہنچیں گے کہاں دوسرے لوگ
تجھ سا رکھتے ہیں کہاں سوزِ نہاں دوسرے لوگ

گو اُنھی میں تھا مگر اُن سے جدا تھا یکسر
تو جو گوہر تھا تو تھے آبِ رواں دوسرے لوگ

کس کو ہمّت ہے کہ ہو تیری طرح سینہ سپر
کیا اُٹھائیں گے ترے بعد نشاں دوسرے لوگ

کس کے ہاتھوں پہ کرے کوئی سخن میں بیعت
اب رہیں دست بدستِ دگراں، دوسرے لوگ

ڈھونڈتی ہیں تجھے آنکھیں مگر اب دنیا میں
نظر آتے ہیں کراں تابہ کراں دوسرے لوگ

تُجھ سے ملنے کی اک اُمّید تھی وہ بھی نہ رہی
میری قسمت میں ہیں اب صرف یہاں دوسرے لوگ

تُو کہ تھا شعلہ بجاں دوسرے لوگوں کے لیے
سو ترے غم میں ہیں اب نوحہ کُناں دوسرے لوگ