بہت بھٹکے ہوئے آدمی کی کہانی

یہ تحریر 218 مرتبہ دیکھی گئی

اگر یہ مختصر ناول “کئی چاند تھے سرِ آسماں” سے پہلے لکھا جاتا اور شائع ہو جاتا تو اس کا خاصا چرچا ہوتا۔ فاروقی صاحب کے بے نظیر ناول کے سامنے یہ ہلکا معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کے ٹو کے بالمقابل کوئی پہاڑی لاکر رکھ دی گئی ہو۔ یہ نہیں کہ “قبضِ زماں” کی نثر کم زور ہو یا طرزِ بیان پر فاروقی صاحب کی چھاپ نہ لگی ہو۔ احساس، بہرحال، یہی ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی کسر رہ گئی ہے۔
ناول میں ایک قصے، یا حقیقی واقعے، کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ قصہ میں نے لڑکپن میں پڑھا تھا۔ مولانا حامد حسن قادری کی کتاب، جس کا حوالہ فاروقی صاحب نے دیا ہے، نظر سے نہ گزری تھی۔ کسی اور کتاب میں دیکھا ہوگا۔ جزئیات میں فرق تھا اور انجام بھی مختلف تھا۔ جزئیات کے فرق ہونے میں ہرج نہیں۔ یہ مصنف کا حق ہے کہ کسی پرانی کہانی کو لے کر بطرزِ نو بیان کرے اور واقعات اور جزئیات کو بدل دے۔ جو قصہ میں نے پڑھا تھا وہ یوں تھا۔ کوئی آدمی تلاشِ روزگار میں وطن سے نکلا۔ اسے بہت مصیبت زرہ دیکھ کر ایک طوائف نے رحم کھایا اور مدد کی. اس نے کہیں جا کر ملازمت کی یا کاروبار کیا۔ کامیاب رہا اور وطن واپس آتے ہوئے سوچا کہ طوائف کا قرض اتارتا جائے۔ اس سرائے میں پہنچا جہاں طوائف سے ملاقات ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ اس کا کچھ دیر پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اس آدمی نے تجہیز و تکفین میں حصہ لیا اور میت کو خود قبر میں اتارا۔ سرائے واپس آ کر پتا چلا کہ بٹوا گم ہے۔ سوچا کہ وہیں کہیں قبر میں گر گیا ہوگا۔ چند برسوں میں جو کمایا تھا سب اسی بٹوے میں تھا۔ مجبوراً رات کو جا کر قبر کھودی۔ بٹوا وہیں پڑا تھا۔ اٹھا کر پلٹنے کو تھا کہ ایک طرف کھڑکی نظر آئی جس میں سے روشنی اور سرسبزی کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ متجسس ہو کر ادھر گیا۔ دیکھا تو ایک باغ ہے۔ وہیں ایک طرف وہ طوائف، سجی سجائی، ایک تخت پر بیٹھی ہے۔ اس آدمی کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی اور کہا کہ “یہاں سے فوراً چلے جاؤ” وہ آدمی وہاں چند منٹ ہی رہا ہوگا۔ باہر آ کر اس نے سرائے کی راہ لی دیکھتا کیا ہے کہ سرائے کھنڈر ہو چکی۔ ادھر ادھر گھوما پھرا تو پتا چلا کہ یہ کوئی اور ہی زمانہ ہے اور دو تین سو سال گزر چکے ہیں۔ بہت پریشان ہوا۔ لوگ اس کی بات پر یقین نہ کرتے اور اسے دیوانہ سمجھتے۔ آخر کسی نے کہا کہ شاہ عبدالعزیزؒ سے جا کر ملو۔ وہی اس معمے پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ وہ آدمی شاہ صاحب کے پاس پہنچا۔ انھوں نے واقعہ سن کر فرمایا: “ایسا بھی ہوتا ہے۔ اب تمھارا یہاں رہنا بے سود ہے۔ بیوی بچے فوت ہو چکے ہوں گے۔ اخلاف میں سے کوئی مل بھی گیا تو نہ تمھیں پہچانے گا نہ تم پر یقین لائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ مکہ معظمہ چلے جاؤ اور باقی زندگی وہیں گزارو ۔”
فاروقی صاحب نے اسی قصے کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ انجام بدل دیا ہے جس میں راوی، جس کا پیشہ سپاہ گری ہے، روہیلوں سے لڑتا ہوا مارا جاتا ہے۔
قصے کے راوی دو ہیں اور دونوں کے لیے صیغہ واحد متکلم استعمال کیا گیا ہے۔ پہلا راوی اپنے آبائی گانؤ دادا کی زمین پر نوتعمیر سکول کا افتتاح کرنے آیا ہے۔ خوب تعلیم یافتہ ہے۔ گرمیوں کے دن ہیں۔ رات کو کھلی جگہ پر سونے کی کوشش کر رہا ہے مگر نیند نہیں آ رہی۔ وہ بچپن اور لڑکپن کے ان دنوں کو یاد کرتا ہے جو اس نے گانؤ میں گزارے تھے۔ یہ حصہ خاصا دل چسپ ہے اور دوبارہ خیال آتا ہے کہ اگر فاروقی صاحب اپنے زمانے کے بارے میں کوئی ناول لکھتے تو اس کی شان ہی اور ہوتی۔
سونے کی ناکام کوشش میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں۔ یہاں سے دوسرے آدمی کی کہانی شروع ہوتی ہے جو پلنگ کی پائینتی آ کر کھڑا ہو گیا ہے اور آپ بیتی سنانے لگتا ہے۔ کیا پہلا راوی اسے خواب میں دیکھ رہا ہے؟ یہ بات واضح نہیں۔ خوابوں میں بالعموم عجیب سی بے ربطی پائی جاتی ہے. وہ یہاں سرے سے موجود نہیں. اس سایہ آسا شخص کا بیان بہت سلجھا ہوا ہے۔ یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ تصدق حسین کی داستان “نو شیرواں نامہ” سے وہ اقتباسات آپ بیتی کا حصہ کیوں ہیں۔ جب یہی واضح نہیں کہ یہ خواب ہے یا کسی آسیب سے واسطہ پڑا ہے یا قصہ گوئی کا ایک جداگانہ انداز ہے تو اعتراض کس زاویے سے کیا جائے؟ ناول میں نے پہلے نہیں پڑھا تھا۔ اگر پڑھا ہوتا تو فاروقی صاحب سے پوچھتا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ بلاشبہ وہ کوئی جواز فراہم کر سکتے تھے۔
اس سائے نما آدمی نے اپنا قصہ اول تا آخر بیان کیا ہے۔ یہ وہی ہے جسے تبصرے کے آغاز میں درج کیا گیا۔ واقعات میں جا بجا فرق ہے۔ اس آدمی کی حیرت اور پریشانی خوب بیان ہوئی ہے جسے اپنے زمانے سے دو سو سال آگے پہنچا دیا گیا تھا۔ جو کچھ بھی ہوا وہ اس کے اختیار اور فہم سے باہر ہے۔ اس لیے وہ کسی طور پرانے وقتوں میں واپس نہیں جا سکتا۔ اٹھارویں صدی کے ماحول اور ملبوسات سے فاروقی صاحب کو جو شغف تھا وہ اس ناول میں بھی نمایاں ہے۔ بعض تکنیکی الجھنوں کے باوجود اسے پڑھنا لطف سے خالی نہیں۔
یہ خیال کہ اس دنیا کے وقت اور کسی مافوق الفطری یا پرستانی جہت کے وقت میں بڑا فرق آ سکتا ہے بہت پرانا ہے۔ پری کہانیوں میں ایسے واقعات کا بارہا ذکر آتا ہے کہ کوئی شخص پریوں کے جال میں پھنس کر پرستان جا پہنچا اور وہاں دو تین ماہ گزار کر واپس آیا تو دنیا میں دو تین سال گزر چکے تھے۔ اس کا الٹ بھی ہے یعنی پرستان میں کئی دن رنگ رلیاں منا کر پلٹا تو دنیا میں چند منٹ ہی گزرے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ زمانے کا یہ قبض و بسط انسانوں کی خوش فہمی یا خیال آرائی ہے یا واقعی کسی کسی کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
بک کارنر، جہلم، نے کتابوں کو نہایت سلیقے سے شائع کرنا شروع کیا ہے۔ فارووقی صاحب کے دونوں ناولوں کی طباعت نہایت عمدہ ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنا یہ نیا معیار برقرار رکھیں گے۔
قبضِ زماں از شمس الرحمن فاروقی
ناشر : بک کارنر، جہلم
صفحات : 168؛ چار سو روپے