بن باسی دیوی

یہ تحریر 290 مرتبہ دیکھی گئی

(2)

مصنف کا احوال یہاں ختم کرتا ہوں۔ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ ناول اصل میں فرانسیسی میں لکھا گیا تھا مجھے انگریزی ترجمے کا متن تلاش کرنا کچھ غیر ضروری معلوم ہوا۔ نہ جانے انگریزی ترجمہ کیسا تھا، کس نے کیا تھا اور فرانسیسی متن اور اسلوب سے کس حد تک مطابقت رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ خود اشرف صبوحی نے تصرف سے کام لیا تھا اور کہانی کے محلِ وقوع کو فرانس کے کوہستانی علاقے سے اٹھا کر ہمالیہ کی ترائی میں لے آئے تھے۔ اسی مناسبت سے کرداروں کے نام بھی بدل ڈالے تھے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر انگریزی ترجمے کو سامنے رکھنے کی کوئی اہمیت نہ رہی تھی۔
ناول کے اس پہلو پر توجہ دینے کی البتہ ضرورت ہے کہ اس میں قبل از تاریخ انسانی معاشرے کی جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ آیا حقیقت سے کچھ مشابہت رکھتی ہے یا بڑی حد تک خیالی ہے۔ مرزا محمد سعید نے “بن باسی دیوی” پر جو مقدمہ تحریر کیا ہے اس میں کئی پتے کی باتیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ: “تمدن اور معاشرت کے آغازی دور کے متعلق جو تخئیل اس وقت مغربی علما کے ذہن میں ہے اس کا عکس موجودہ افسانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس خاکے میں اشرف صبوحی صاحب نے مشرقی رنگ بھر دیا ہے۔ ممکن ہے اس رنگ آمیزی سے اس کی تاریخی صحت اور واقعیت میں کچھ فرق آ گیا ہو۔”
اشرف صبوحی نے آزادی سے کام تو لیا ہے لیکن بنیادی موضوع میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں کی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں انسانیات اور آثاریات کے مغربی ماہرین نے کہن سنگی اور نوسنگی ادوار کے معاشروں کے بارے میں بعض مفروضے قائم کر رکھے تھے۔ یہ مفروضے بیگواں کے ناول میں جوں کے توں موجود ہیں۔ ایک یہ کہ ابتدائی دور کے انسان وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ بسراوقات کے لیے انھیں شکار کھیلنے پر تکیہ کرنا پڑتا تھا۔ اگر شکار وافر مقدار میں مل گیا تو وقت اچھا گزر گیا۔ شکار نہ ملا تو فاقوں کی نوبت آ گئی۔ اتنے پرانے معاشروں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم اب انسانیات کے ماہرین پرانے آثار کی چھان بین اور ان قبیلوں کی زندگی کا باریکی سے مشاہدہ کرنے کے بعد، جو آج بھی دنیا میں کہیں کہیں موجود ہیں اور اسی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں جیسی ان کے قدیم اجداد ہزاروں سال پہلے گزارتے رہے تھے، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پرانے مفروضوں میں کوئی وزن نہیں۔ ان معاشروں میں، جنھیں شکاری و نبات گیر کہا جاتا ہے، خوراک کا صرف پچیس فی صد حصہ گوشت پر مشتمل ہوتا ہے۔ باقی غذائی ضروریات، بیجوں، بیخوں، بڑے چھوٹے پھلوں اور گری دار میووں کو اکٹھا کرکے پوری کی جاتی ہے۔ جمع آوری کا یہ کام عورتیں انجام دیتی ہیں۔ اوائلی طرز زندگی پر قائم لوگوں میں صرف اسکیمو ایسے ہیں جو شکار پر گزارا کرتے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے۔ جن سرد ترین علاقوں میں وہ آباد ہیں وہاں خوردنی نباتات نہ ہونے کے برابر ہے۔
دوسرا مفروضہ بھی غلط نکلا ہے اور وہ یہ کہ قتل و غارت انسان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور پرانے وقتوں کے لوگ، وحشی ہونے کے باعث، ہر وقت لڑتے جھگڑتے اور خون بہاتے رہتے تھے۔ جن ماہرین کو ایسے قبائل کے درمیان رہنے کا تجربہ ہوا ہے، جنھیں قبل از تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے زیادہ پُرامن اور مطمئن معاشروں کا تصور کرنا ممکن نہیں۔ غالباً اس پرانے اسطورے میں کچھ نہ کچھ صداقت ہے کہ انسانی تاریخ کا ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جو سنہرا کہلاتا تھا۔ قدیم زمانوں کے بھائی چارے اور امن چین کا کوئی افسانوی تصور نسل در نسل لوگوں کے ذہنوں میں منتقل ہوتا رہا ہوگا۔ درحقیقت قتال و جدال کا آغاز اس وقت ہوا جب انسان شہروں اور قصبوں جیسی منظم آبادیوں میں رہنے سہنے لگے اور نجی املاک کو تحسین یا حسد کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے تمدن یا مدنیت اور خوں ریزی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
بیگواں کے ناول میں ایک غلط تصور اور بھی موجود ہے۔ مغربی علما نے انیسویں صدی اور بعد ازاں بھی قدیم انداز کی زندگی بسر کرنے والے قبیلوں میں موجود شادمانوں کو بھی، جنھیں witch doctor جیسے تضحیک آمیز نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، محض ایسے ڈھونگیے سمجھا جو سادہ لوح لوگوں کو اپنی مکاری اور جھوٹ موٹ کے جادو منتر سے بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔ یہ شامان کے کردار کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ حکیم کے جو پرانے معنی ہیں ان کو، بعض تحدیدات کے ساتھ، شامان پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ شامان طبیب بھی ہوتا ہے، اجداد کی روحوں اور دیویوں دیوتاؤں سے مکالمہ بھی کرتا ہے، ماہر نباتات بھی ہوتا ہے، ستارہ شناس اور موسم شناس بھی، اور اپنے قبیلے کی لوک روایتوں، مذہبی رسوم اور اساطیر کا امین بھی۔ بیگواں کے ناول میں جو گرو یعنی شامان سامنے آتے ہیں انھیں بالالتزام فریب کار دکھایا گیا ہے۔
اس طرح کی خامیوں یا غلط فہمیوں کے باوجود، جو بیسویں صدی کے اوائل کے علمی مفروضوں کی وجہ سے پروان چڑھی تھیں، یہ ناول آج بھی دل چسپی سے پڑھا جا سکتا ہے۔