بمیرید بمیرید در این عشق بمیرید

یہ تحریر 302 مرتبہ دیکھی گئی

ربی سنکربال (1962۔2017) بنگلہ کے معروف فکشن نگار، مترجم اور صحافی خوب آدمی تھے۔ صرف پچپن برس کی عمرمیں پندرہ ناول لکھ ڈالے۔ افسانوں کے پانچ مجموعے ان کے علاوہ ہیں۔ ایک کتاب شاعری کی بھی ہے۔ ادبی مضامین بھی لکھے۔ ایک جلد ان پر مشتمل ہے۔ منٹو کے افسانوں کے ترجمے بھی کیے۔ ان کے دو ناول انگریزی اور ہندی میں ترجمہ ہوئے اور معروف شاعر، انعام ندیم، کی وساطت سے پاکستان میں اردو قارئین تک پہنچے۔

پہلا ناول جو پڑھنے کو ملا وہ “دوزخ نامہ” تھا جس میں مرزا غالب اور منٹو کو ہم کلام ہوتے دکھایا ہے۔ بڑی ہنرمندی سے بُنا یہ ناول قاری کو گرفت میں لیے رکھتا ہے۔ دوسرا ناول “آئینہ سی زندگی” ہے جو مولانا روم اور شمس تبریز سے متعلق ہے۔ معلوم ہوتا کہ فکشن میں جوڑوں کو بالمقابل لا کر کہانی مرتب کرنے میں ربی سنکر بال کو لطف آتا تھا۔ یہ روش بہت پرانی ہے اور گل گامیش اور انکیدو سے سرشار کے آزاد اور خوجی اور داستانوں میں امیرحمزہ اور عمرو عیار تک سامنے آئی ہے۔ ربی سنکر بال کے ان دو ناولوں میں مذکورہ شخصیتوں کے تصادم یا تانس سے جو دلچسپی ظہور میں آتی ہے وہ دل پذیر ہے۔ کچھ کمال اس میں اردو مترجم کا بھی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جن موضوعات سے ان ناولوں میں نباہ کیا گیا ہے ان سے اردو ترجمے ہی میں انصاف کیا جا سکتا تھا۔ ہندی میں بھی شاید کچھ مزہ برقرار رہا ہو لیکن انگریزی میں ناولوں کے مندرجات سے کس طرح نمٹا گیا ہوگا وہ سمجھ میں نہیں آتا۔

افسوس کہ ربی سنکر بال کے باقی ناول نہ کسی نے ہندی میں ترجمہ کیے نہ انگریزی میں اور یہ بتانا ممکن نہیں کہ جب وہ اردو اور فارسی ادب اور ماحول کی باریکیوں کو اس عمدگی سے ادا کر سکتے ہیں تو دوسرے ناولوں میں، جو شاید بنگالی کے موجودہ یا گزرے ہوئے حالات کے عکاس ہوں، کیا کیا رنگا رنگی موجود ہوگی۔

مولانا روم 1207ء میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ نو برس کے ہوئے تھے کہ والد نے بلخ کو خیرباد کہہ کر پہلے بغداد اور پھر قونیہ کا رخ کیا۔ شاید والد کو ازروئے کشف معلوم ہو گیا ہو کہ چند برس بعد منگول بلخ کو تباہ و برباد اور شہر والوں کو شہید کر دیں گے۔ ممکن ہے انھیں اپنی پروا نہ ہو لیکن یہ معلوم ہو گیا ہو کہ رومی کا بخت بہت بلند ہے اور ان کا نام کہیں اور جا کر دنیا بھر میں روشن ہوگا۔

چناں چہ مولانا کے والد، شیخ بہاء الدین، بلخ کو چھوڑ کر چل دیے اور بغداد ہوتے ہوئے قونیہ جا پہنچے اور درس و تدریس کے سلسلے کا دوبارہ آغاز کیا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا مسند مولانا روم نے سنبھالا لیکن انھیں معلوم تھا کہ کوئی آنے والا ہے جو ان کی زندگی کو بدل ڈالے گا۔

مولانا روم اور شمس تبریز نامی مجذوب کی ملاقات اور گہرے تعلق کے بارے میں طرح طرح کے قصے مشہور ہیں۔ افسانہ طراز اور معتقدین واقعات کی سادہ چادریں رنگ بھرنے کی خاطر اسے گل بوٹوں سے آراستہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ پتا نہیں چلتا کہ کیا سچ ہے اور کیا عقیدت مندانہ مبالغہ۔ ایک حکایت جو زیادہ مشہور ہے یہ ہے کہ مولانا حوض کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ کتابیں آس پاس بکھری ہوئی تھیں۔ اتنے میں ایک جنونی ساختہ حال درویش وہاں آیا اور پوچھا کہ “ان کتابوں میں کیا ہے؟” مولانا نے کہا: “وہ جو تم نہیں جانتے۔” درویش نے کتابیں اٹھا کر حوض میں پھینک دیں۔ مولانا نے کہا: “یہ کیا غضب کیا! ایسی کتابیں ضائع کر دیں جو اب کسی صورت نہیں مل سکتیں۔” درویش نے، جو شمس تھے، ذرا توقف کیا اور پھر کتابیں حوض سے نکال کر سامنے رکھ دیں۔ کوئی کتاب ذرا بھی گیلی نہ ہوئی تھی۔ مولانا نے حیران ہو کر پوچھا: “یہ کیا؟”شمس نے کہا: “یہ وہ علم ہے جو تم نہیں جانتے۔”

مولانا اور شمس بہت دن چلہ کش رہے۔ لوگوں کو، بالخصوص مولانا کے ایک بیٹے کو، بڑا ناگوار گزرا کہ ایک خستہ ہال درویش سے اتنا التفات کہ مولانا، درس و تدریس تو ایک طرف لوگوں سے ملنے سے بھی کنارہ کش ہو گئے۔ روایت ہے کہ بعدازاں شمس مولانا کہ چھوڑ کر چلے گئے۔ پتا چلا کہ وہ دمشق میں ہیں اور محنت مزدوری کرتے ہیں۔ مولانا انھیں قونیہ واپس لے آئے ۔ اس دوران میں شمس کے دشمنوں میں اضافہ ہو چکا تھا اور انھوں نے، کہتے ہیں، شمس کو شہید کر دیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوبارہ غائب ہو گئے ہوں کہ جو کچھ وہ مولانا کو عطا کرنا چاہتے تھے کر چکے تھے۔ قونیہ میں ان کا مزید قیام بے سود تھا۔ مولانا کی مثنوی اور غزلیات کا دیوان، جو دیوانِ شمس تبریز کے نام سے مشہور ہے، اسی جاں گداز فراق کی دین ہے۔

            یہ تمام احوال، نہایت دل فریب انداز میں، بقول مصنف، مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بیان کیا ہے۔ وہ مولانا کی وفات کے بعد قونیہ پہنچا تھا اور جو نہ دیکھا تھا دوسروں کی نظر سے دیکھا، جو نہ سنا تھا دوسروں کی زبانی سنا۔ اس طرح افسانے کا لطف دوبالا ہو گیا۔ کسی صاحبِ نظر کا قول ہے: “کہانی کوئی سی ہو، اگر اس کی زیبائش نہیں کرو گے، گل بوٹے نہیں لگاؤ گے تو وہ ناقابل یقین اور مصنوعی معلوم ہوگی۔ اس کی زیبائش پر توجہ دو (بڑھا ہی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کے لیے) تو وہ زندگی سے زیادہ حقیقی معلوم ہونے لگے گی۔” اس ناول میں بھی “کچھ خواب ہے، کچھ اصل ہے، کچھ طرزِ ادا ہے” اور یہی ملاپ سے اسے خواندنی بنا دیتا ہے۔

ایک بات سمجھ میں نہ آ سکی۔ ناول کے شروع میں “باغ و بہار” کے پہلے درویش کا قصہ نقل کر دیا ہے۔ اس کا باقی ناول سے کیا علاقہ ہے، یہ معما حل کرنے سے قاصر رہا۔ انعام ندیم صاحب سے بھی پوچھا۔ تسلی بخش جواز ان کے ذہن میں بھی نہ تھا۔

آئینہ سی زندگی از ربی سنکر بال؛ ترجمہ: انعام ندیم

ناشر: عکس پبلی کیشنز، لاہور صفحات: 223؛ 500 روپے