بات چیت

یہ تحریر 94 مرتبہ دیکھی گئی

درختوں کے سبز پتے، اوراق تھے جن پر معرفت کی حکائتیں رقم تھیں، نمو کی علامتیں، شادابیوں کے استعارے۔ اب بڑی شہر کی مصروف شاہراہ کا ایک تماشا بھی دیکھئے: گاڑیاں دھواں اگلتی ہوئیں۔ ایک گاڑی کے پیچھے شیشے پر سبز پتے کا اسٹکر جس پر لکھا ہے: ”مستقبل کو بچائیں“۔ گاڑیاں مسلسل دھواں اگل رہی ہیں، اسٹکر والی گاڑی بھی۔ پھربھی ایک امکان جاگ اُٹھتا ہے۔ ادھر ہزاروں میل کے فاصلے پر میکسیکو سٹی کے بچوں کو، جو اسکول جانے کے لیے نکلے ہیں، واپس گھروں کو بھیجا جا رہا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ شہر کی فضا میں اتنی آلودگی ہے کہ بچوں کا گھر سے نکلنا مناسب نہیں۔ جنگل کٹ رہے ہیں۔ زمین کو خود سانس لینا دشوار ہو رہا ہے، زمین پر رہنے والوں کا بھی۔ پس منظر سے بلیک، ورڈز ورتھ، لارنس جیسی کتنی ہی آوازیں اُبھرتی ہیں۔ ساتھ ہی مذاق اڑاتی ہوئی بلند آوازیں، یہ رومانی ہیں۔ ترقی نہیں چاہتے۔ خوبصورتی کے دیوانے ہیں۔ دور کی بات کیا کیجئے ساٹھ کی دہائی تک یہ عالم تھا کہ راشیل کارسن کی کتاب Silent Spring کی اشاعت پر یہ کہا گیا کہ اس طرح کی کتابیں کارخانوں کی پیداوار کو کم کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ سائنس پرستی خود ایک مذہب بن چلی تھی جس کے بعض عقائد سے انحراف کفر تھا۔ سرمایہ دار ملکوں میں ترقی اور تجارتی اغراض کے نام پر اور سوشلسٹ ملکوں میں انسانی عظمت کے تصور کے نام پر فطرت کو تہ و بالا کرنے کی کوشش کی گئی اور اب نوبل انعام یافتہ سائنس دان ملک ملک لیکچر دے رہے ہیں۔ ہم سے زیادہ نتائج کا اندازہ بھی انہی کو ہے۔ عالمی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ مگر کیا پیچھے جانا ممکن ہے؟ جو ملک صنعتی اعتبار سے پچھڑے ہوئے ہیں وہ صنعتیں لگانا بند کر دیں؟ ٹیکنالوجی حاصل نہ کریں؟ جواب واضح سہی مگر کیا دوسروں کی سب غلطیوں کو بھی اپناتے جائیں۔ رومانی احساس سادہ ٹھہرا مگر کوئی گہرا جواب ممکن نہیں جب تک بیسویں صدی کے بعض تعصّبات سے اوپر نہ اٹھا جائے۔ یہ نہ سائنس کی مخالفت سے ممکن ہے نہ بڑھی ہوئی سائنس پرستی ہے۔ انسان انفس و آفاق میں کوئی نیا ربط تلاش کر سکے گا یا نہیں؟ اس کے بارے میں جو بھی کہیں ایک بات یقینی ہے، نظریوں کا فلسفوں کا جائزہ لینا ہو گا۔ خود احتسابی کا مرحلہ آ پہنچا ہے۔
میری شیلے کی کتاب ”فرینکنسٹائن“ 1818ءمیں لکھی گئی۔ اسے اب تک جدید سائنس فکشن کی پیش رو کے طور پر کچھ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ بائرن، شیلے اور کچھ دوستوں نے طے کیا کہ کوئی بھوت پریت کی کہانی لکھنی چاہیے۔ رات گئی بات گئی ، مگر میری شیلے نے ”فرینکنسٹائن“ لکھ ڈالی جس میں وکٹر فرینکنسٹائن کیمسٹری کے علم اور بجلی سے مدد لے کر بے جان نامیاتی مادے سے ایک نئی نوع تخلیق کرتا ہے۔ جو بلا وجود میں آتی ہے وہ بنانے والے کے تابع نہیں رہتی۔ اس کتاب کی نفسیاتی شرحیں بھی ہوئی ہیں مار کسی بھی مگر حال ہی میں این میلور نے میری شیلے پر اپنی کتاب میں اس کی ایک فیمنسٹ تشریح کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ فطرت پر سائنس کی یلغار Female پر فتح کی کوشش ہے۔ فرانسیس بیکن اور رابرٹ بوئل کے زمانے سے فطرت کا مادرانہ، مشفقانہ کردار ختم ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے فطرت کے بارے میں جو استعارے، کنائے استعمال کیے ہیں ان میں جنسی اشاریت بھی موجود ہے: ”فطرت کو باندھ لو“ ”فطرت میں گھس جاو¿“، ”اسے کنیز بنا لو“۔ فطرت کو اب اکیلی بے بس عورت سمجھا گیا جس پر سائنس دان، فلسفی، نظریہ ساز، حکومتی ادارے ٹوٹ پڑے۔ اس فضا سے متاثر ادیب بھی نعرے لگانے میں پیچھے نہ رہے۔ مگر فن ہر زہر کو پینے کا بھی حوصلہ رکھتا ہے۔ کہیں دستاویزیت کے انداز میں کہیں اندیشہ ہائے دور دراز کے بیان میں یہ مسائل فنکاروں کے ہاں آئے ہیں۔ مگر ان فلسفوں کی سرشاری میں انہیں ٹھیک طرح سمجھا نہیں گیا۔ قرة العین حیدر کی تحریروں میں فطرت کا بیان ہو یا انتظار حسین کے ہاں فطرت کے گم ہونے کا ماتم، مجید امجد کا درخت کٹنے کا نوحہ ہو یا ناصر کاظمی کا چڑیوں اور درختوں کو سلام یا منیر نیازی کی کھوئی ہوئی جنت…. کیا انہیں سمجھنے کے لیے بھی ایک اور زاویے کی ضرورت نہیں؟ اب تو حکومتیں اور سائنس دان بھی کھوکھلی رجائیت سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئی ترقی پسندی بھی عورتوں کی ہم درد ہے اور ماحولیاتی تحریکوں سے رشتہ جوڑ رہی ہے (یہاہں پھر عورت اور فطرت ساتھ ساتھ ہیں)۔ سائنس کی فراہم کی ہوئی آسائشوں سے انکار کس کو ہے۔ مسئلہ طرز احساس کی تبدیلی کا ہے، روشن خیالی اور خرد افروزی کے مفہوم کو انیسویں صدی کے سیاق و سباق سے الگ کر کے وسیع تر پس منظر میں سمجھنے کا ہے۔ بہرحال فنکار تو اپنے اندیشوں کو چھپا کر نہیں رکھتے۔ کچھ سال پہلے ”دستاویز“ راولپنڈی میں بھوپال میں گیس کے المیے پر اختر جمال کی ایک کہانی میں موثر دستاویزیت تھی (حال ہی میں ”ایک اشاعتی ادارے ”مشعل“ نے ایک جاپانی ناول کا ترجمہ ”کالی بارش“ شائع کیا ہے۔ مترجم ہیں اجمل کمال۔ جاپانی شہر پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد کا حال اس میں موثر دستاویزیت کے انداز میں ہے) مگر حسن منظر کی کہانی ”زمین کا نوحہ“ بھی ضرور دیکھئے جس میں عورتیں دنیا سے غائب ہونے لگتی ہیں۔ تخلیق کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ زمین کی آخری عورت بھی تخلیق کے لیے آمادہ نہیں ہوتی اور مر جاتی ہے۔ اسے دھرتی میں دفنا دیا جاتا ہے۔ دھرتی جو عورت ہی کی علامت ہے۔ حسن منظر نے دستاویزیت کے بجائے سائنس کفشن سے کچھ اثر لے کر ایک کابوسی ماحول اور تمثیلی سی فضا کے ذریعے زمین کا نوحہ سنایا ہے۔ حسن منظر نے ایک جگہ اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس کہانی کو سائنس کے خلاف سمجھا گیا اور انہیں طعنے دیے گئے حالانکہ کہانی میں جو کچھ کہا گیا ہے کیا وہ خود سائنس دانوں کے اندیشوں کا ایک روپ نہیں۔ اب کچھ سائنس دان یہ تسلی ضرور دے رہے ہیں کہ فطرت کئی بار پہلے بھی طرح طرح کے توازن حاصل کر چکی ہے، اس مرتبہ بھی خودبخود نیا توازن قائم کر لے گی۔ یہ تسلی اپنی جگہ مگر انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ چیزوں کو خود سے جاننا چاہتا ہے، یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ جو نوح ےابھر رہے ہیں ان سے کان تو بند نہیں کئے جا سکتے۔
ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے
٭٭٭