ایک یادگار دور کی جھلکیاں

یہ تحریر 517 مرتبہ دیکھی گئی

(آخر شمس الرحمٰن فاروقی بھی اس وبائی سال کے دوران میں عالمِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اردو ادب کے دل دادگان مدتوں ان کی کمی محسوس کریں گے۔ ان کی ہمہ گیر تخلیقی صلاحیت سے انصاف کرنے کے لیے ایک طویل مضمون بلکہ پوری کتاب درکار ہے۔ فی الحال ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے اپنے ہی ایک کالم کا، جو 2018ء میں روزنامہ “دی نیوز” میں شائع ہوا تھا، قدرے آزاد ترجمہ حاضر ہے۔)

میں تو یہ کہنا نہیں چاہتا کہ شمس الرحمٰن فاروقی کو دن رات آٹھ پہر کام کرنے کی لت پڑ گئی ہے۔ کسی کو دھتی قرار دینا ذرا بھی زیب نہیں دیتا۔ “لت” اور “دھتی” دونوں لفظوں سے ناپسندیدگی کی لپٹ سی آتی ہے۔ خیر، اسے تو جانے دیجیے۔ جوں ہی نظر آتا ہے کہ فاروقی نے کتنا کچھ لکھا اور پڑھا اور ترجمہ کیا اور ان کی کارگزاری سے کس درجہ براقی کا احساس وابستہ ہے تو زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کسی کو اتنی اہلیت اور فرصت نصیب ہو سکتی ہے کہ وہ تخلیقی سطح پر مسلسل اپنا جوہر دکھاتا رہے۔ یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ فاروقی سرکاری افسر بھی تھے اور بالآخر بعض اہم عہدوں پر فائز رہے۔ سول سروس میں کسی طرح کے ممتاز مقام تک رسائی سے شاید احساسِ تفاخر دوبالا ہو جاتا ہو لیکن یہ سربلندی عموماً نہایت بوجھل اور تھکا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔  علاوہ ازیں، فضول کاموں اور کاغذ بازی میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور توانائی بھی۔

لہٰذا مجھے یہاں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ کسی روزنامے میں طے شدہ اور محدود جگہ میں فاروقی کے حیران کن تحریری کمالات سے کافی و شافی انداز میں کیسے نمٹا جائے؟ یہ بالکل ناممکن معلوم ہوتا ہے ۔ چناں چہ خود کو اس کالم میں ان کے مختصر فکشن پر اظہارِ خیال تک محدود رکھوں گا۔ وجہ یہ کہ میں نے اس مختصر فکشن کو جتنی مرتبہ پڑھا وہ بے مثال معلوم ہوا اور ہماری ادبی اور ثقافتی تاریخ کے ایک گزرے دور کی دل فریبی اور اسرار سے لبالب نظر آیا۔ فاروقی کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ہنر مند خالق کی طرح ماضی کے ان دور تک پھیلے ہوئے سیربینی مناظر کی شورانگیز تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ ان پر کسی زماں نورد کا گمان ہوتا ہے۔ ان کے مختصر فکشن پر تاریخی ہونے کا لیبل چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ لیبل گمراہ کن ہوگا۔ یہ ہے کہ واقعات اور شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے حقائق کے آثار، سہارا دینے کے لیے، موجود ضرور ہوتے ہیں۔ تاہم مجموعی تاثر تخیلاتی سطح پر تازہ کاری ہی کا ملتا ہے۔

سب سے پہلے میں فی الفور  “لاہور کا ایک واقعہ” پر اچٹتی سی نظر ڈال کر آگے بڑھنا چاہوں گا۔ یہ “سوار” نامی مجموعے کا سب سے کمزور حصہ ہے۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اس قصے میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ انھوں نے خواب میں دیکھے تھے۔ ان کا یہ قول درست ہو سکتا ہے۔ بیانیے میں ایک لایعنی دہشت رچی ہوئی ہے جس سے ہم بعض دفعہ خوابوں میں دو چار ہو جاتے ہیں۔ لیکن خواب ناتراشیدہ جواہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر انھیں تراش خراش کے عمل سے نہ گزارا جائے تو ان کی آب و تاب نمایاں نہیں ہوتی۔ اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔

تین ناولٹوں کا تانابانا مرزا غالب، میر تقی میر اور مصحفی کی بیگم کی مدد سےتیار ہوا ہے۔ چوتھے ناولٹ کا پس منظر اٹھارویں صدی کے وسط کی دہلی ہے۔ اس میں چند ایک کردار حقیقی ہیں لیکن جن کرداروں کے گرد کہانی گھومتی ہے وہ، جہاں تک علم ہے، فرضی ہیں۔ ویسے، ممکن ہے، میں غلطی پر ہوں کیوں کہ فاروقی کی گرفت حقائق اور تفصیلات پر اتنی کڑی ہے کہ حقیقت کو فکشن میں سے چھان کر الگ کرنا مشکل ٹھیرتا ہے۔

دوسرے ناولٹوں کے مقابلے میں مرزا غالب سے متعلق ناولٹ کم اثر انگیز معلوم ہوتا ہے۔ ہمیں غالب کی پسند اور ناپسند، تپاک اور فیاض کا خاصا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ہمیں ان کی کمزوریوں سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ غالب نے انانیت سے  مغلوب ہو کر یہ فرض کر لیا تھا کہ برصغیر میں جتنے بھی مقامی فارسی شعرا ہیں ان میں یہ اہلیت ہی نہیں کہ فارسی سے منصفانہ طور پر نباہ کر سکیں۔ صرف وہ اکیلے ہی مستند فارسی  شعر گو ہیں۔ غالب کے کمال کے آج سبھی معترف ہیں لیکن انھوں نے دوسرے فارسی شاعروں اور عالموں کو جس طرح لتاڑا ہے وہ اب محض خود پسندانہ اتراہٹ لگتی ہے۔ غالب اور راوی کے درمیان، جو غالب کا پرستار ہے، چھیڑ چھاڑ پُرلطف ہے۔ ماحول حقیقت سے قریب اور پُرکارانہ ہے۔

میر تقی میر اور نور السعادت کا الم ناک معاشقہ دل کو چھو لینے والی چلبلاہٹ اور راستی سے بیان ہوا ہے۔ نورالسعادت، جو لوگوں میں نوربائی کے نام سے زیادہ معروف تھی، سترہ اٹھارہ سال کی طوائف تھی، فن کی پکی، اور اپنی یکساں طور پر باہنر ماں کے ہمراہ اٹھارویں صدی میں اصفہان سے دہلی آئی تھی۔ نوربائی ایک حقیقی شخصیت ہے۔ آیا میر صاحب اسی کے عشق میں مبتلا ہوئے تھے یا کسی اور کے، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میر پر کچھ عرصے دیوانگی طاری رہی تھی۔ اس کا اعتراف انھوں نے “ذکرِ میر” نامی آپ بیتی میں کیا ہے۔ ممکن ہے محبوب تک رسائی میں ناکامی ہی دیوانگی کا سبب ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ دوسری جانب سے گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کیا گیا ہو۔ بہرحال، ناولٹ میں ان کی معشوقہ  نورالسعادت ہی ہے۔ فکشن میں بہت سی باتوں کو اس طرح دکھانا ممکن ہے کہ ان پر حقیقت کا گمان ہو۔ معاشقے کی روداد کو جوش و خروش سے ادا کیا گیا ہے اور مجموعی تاثر خوب ہے۔ ایک ایسے عہد کی فضا کی، جو ہمارے لیے بھولے بسرے فسانے سے زیادہ نہیں، چونکا دینے والی مشاقی سے بازآفرینی کی گئی ہے۔ جس شبینہ منظر میں میر اور نورالسعادت آخری مرتبہ ملتے ہیں وہ ایسی حسِ لذت سے مزین ہے جس کی اردو ادب میں مثال نہیں۔

تیسری کہانی میں منظرنامہ دہلی سے لکھنؤ منتقل ہو گیا ہے۔ انیسویں صدی کا آغاز ہو چکا ہے۔ بیانیہ خاصا رواں دواں ہے لیکن راویوں کے مختلف ہونے سے قدرے پیچیدگی ظہور میں آئی ہے۔ مرد راوی کا والد، جو بقیدِ حیات نہیں، کبھی مصحفی کا مودب شاگرد تھا۔ خود مصحفی بھی فوت ہو چکے ہیں۔ بیٹا، جو امیر تاجر ہے، مصحفی کی بیوہ کی تلاش میں نکل پڑا۔ بیوہ کے بارے میں اس نے فرض کر لیا تھا، اور اتفاق سے یہ مفروضہ قطعی طور پر حقیقی ثابت ہوتا ہے، کہ وہ مفلوک الحالی کی زندگی بسر کر رہی ہوگی ۔ وہ بیوہ کو ڈھونڈنے میں کامیاب رہا، مدد بھی کی اور کبھی کبھار احوال پرسی کے خیال سے ملنے بھی چلا جاتا۔ بیوہ نے خاصی تفصیل سے بتایا کہ مصحفی کے ہمراہ اس نے کس طرح کی زندگی گزاری تھی۔ قصے میں ایک تیسری آواز بھی در آتی ہے جو مصحفی کی ہے۔ بیوہ کو چند واقعات یاد آ گئے جو اس نے مصحفی کی زبانی سنے تھے۔ آوازوں کا یہ آمیزہ تکنیکی مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔ خوش قسمتی سے فاروقی اس مسئلے سے نمٹنے میں کامیاب ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر ایک صورت دار عورت کو ہمدردی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اس سفر میں، جو بظاہر بے نکاحی گھریلو زندگی سے شروع ہو کر ایسے حالات تک جا پہنچا جن میں وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے، آسائش کے مختصر وقفے بھی آتے ہیں جو کرب آمیز بردباری کے حامل ہیں اور جنھیں از غیبی اشک شوئی سے مشابہت دی جا سکتی ہے۔

آخری ناولٹ، جو اغلباً اثر انگیزی میں سب سے بڑھ کر ہے، حد سے زیادہ معما آسا ہے۔ شاید اس کی دل کشی اس فہمید سے پرے ہونے کی حالت میں مضمر ہے۔ مجموعے کی باقی کہانیوں کے خاتمے قبولِ خاطر ہیں۔ “سوار” نامی ناولٹ کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔

مرکزی کردار دو ہیں۔ ایک معلم ہے اور  دوسرا امیر کبیر تاجر۔ تاجر کو شاعری سے لگاؤ ہے۔ دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے۔ کہانی میں ابال اس وقت آتا ہے جب دہلی میں (ہم پھر اٹھارویں صدی میں جا پہنچے ہیں) یہ  افواہ گردش کرنے لگتی ہے کہ ایک پُراسرار سوار شہر میں سے گزرے گا۔ مقررہ دن آنے پر وہ ظاہر ہوتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ وہ کون ہے۔ یہ آسیبی ہستی کس بات کی نمائندگی کرتی ہے؟ موت یا نکبت یا سرورِ وقت؟ کیا وہ چند روزہ چیزوں کی علامت ہے؟ معلم محسوس کرتا ہے، گو اس کے احساس کا کوئی واضح سبب نہیں، کہ ایک عظیم موقع اسے ملا تھا جس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔

معلم اور تاجر کی دوستی اچانک ختم ہو گئی۔ تاجر نے، جو کسی کی محبت میں گرفتار تھا اور جسے محبت کا جواب محبت سے نہ ملا تھا، فیصلہ کیا کہ وہ فقیر بن کر زندگی گزارے گا۔ اس نے اپنی حویلی کو کھلا چھوڑ دیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ حویلی سے جو چاہیں اٹھا کر لے جائیں۔ تھوڑے دن بعد وہ خود بھی شہر چھوڑ کر کہیں چلا گیا۔ یوں سمجھیے کہ وہ عشق مجازی سے گزرا، مکمل طور پر تارک ہوا اور زمان و مکان سے ماورا۔ آفاق کی ان حدود کے اس کے لیے معنی نہ رہے۔

اس اثنا میں معلم خود بھی، اتفاقی طور پر کسی کے عشق میں گرفتار ہوا۔ اسے کامیابی کی امید نظر نہ آئی اور دوبارہ اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ گیا۔ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ وہ کسی ایسے فرد سے واقف رہا تھا جو سچ مچ عظیم تھا اور وہ خود ایک عمیق اسرار کا گواہ رہ چکا تھا۔ مگر عشق میں اپنے آپ کو اس طرح لٹا دینے کی جرات نہ رکھتا تھا کہ اپنی شناخت ہی کو تج دے۔

اس پر حیران ہوا جا سکتا ہے کہ اٹھارویں صدی کے ہندوستان میں آخر ایسا کیا تھا جس  نے فاروقی کو فریفتہ کیے رکھا؟ اپنے مختصر پیش لفظ میں فاروقی کہتے ہیں کہ اس دانش کے برعکس، جو ہم پر تھوپ دی گئی ہے اور جس میں کراہت آمیز تکرار کے ساتھ ساری توجہ سیاسی زوال اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والی ابتری پر مبذول رہتی ہے ، اٹھارویں صدی میں بڑی گہماگہمی  تھی۔ پرانا اڑیل نظام ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور وجود میں آنے والی آڑی ترچھی دراڑوں کے جال  میں سے تازہ خیالوں کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ انگریزی راج نے ہر شے کو مسل کر رکھ دیا۔ آخر میں ایک سوال باقی ہے۔ فاروقی نے اپنے زمانے کے بارے میں فکشن کیوں نہ لکھا؟ یہ کام وہ ہم میں سے بیشتر سے بہتر طور پر انجام دے سکتے تھے۔