اک چراغ کافی ہے

یہ تحریر 389 مرتبہ دیکھی گئی

سردیوں کی انتہائی خنک دوپہریں تھیں۔ شعبہ اردو کی پرانی عمارت کی تیسری منزل پر ایک اندھیری راہ داری میں جہاں دو رویہ لوہے کی بھاری الماریاں کھڑی رہتیں، دائیں ہاتھ پر آخری کمرے میں لسانیات کی کلاس لی جاتی۔پی ایچ ڈی کی اس کلاس میں عجیب صورت حال رہتی۔ معلم و متعلم دو نوں سرد ہوا میں ٹھٹھرتے رہتے۔موسموں کی شدت میں میری استاد اکثر طبیعت کی ناسازی کے باعث اونچا بولنے سے ناچار ہوتیں لیکن اس سے چنداں فرق نہ پڑتا۔کہرے سے نم اس کمرہ ء جماعت میں ایک ہی طالب علم ہوتا تھا۔استاد سے بمشکل دو فٹ یا اس سے بھی کم کا فاصلہ ہوتا۔ کھڑکی کے شکستہ شیشوں سے یخ ہوائیں آتیں اور لکھتے لکھتے میرے ناخن نیلے پڑ جاتے۔میرے حریص دل نے اس درسگاہ کے درودیوار سے وہ سب کچھ نچوڑ لینا چاہا تھا جس کے لیے میں مدتوں ترسی تھی اور وہ شاید رخصت کے لفظ سے آشنا ہی نہ تھیں۔ میں نے انھیں ہمیشہ موجود پایا۔ کبھی کبھی میرے علم میں آتا کہ وہ صرف ایک جماعت لینے کے لیے گھر سے یونیورسٹی آئی ہیں۔ پی ایچ ڈی کی وہ جماعت جس میں صرف ایک طالب علم پایا جاتا تھا۔ یہی روش ان کی دو برس پہلے بھی تھی جب میں نے اس درسگاہ میں ایم ایس اردو میں داخلہ لیا تھا۔ وہ نہایت پابندی سے پورے وقت پر کلاس میں آتیں، کبھی غیر حاضر نہ ہوتیں۔ سیاہ عبایا اور حجاب، باریک ہونٹوں پر گہرے سرخ رنگ کا ایک ہی شیڈ جو ان پر بہت جچتا تھا۔محفل میں مکمل نقاب کہ کئی بار میں ہجوم میں انھیں دور سے پہچان ہی نہ پائی لیکن ان کا آنکھوں کے گوشوں سے دیکھنے کا مخصوص انداز پہچانا جاتا۔بعض لوگ خود سے مستقل ایسا اغماز برتتے ہیں کہ ایک مستقل حجاب ان کے اور دیکھنے والوں کے بیچ حائل ہوجاتا ہے۔ بہت دنوں میں جب میں نے ان کی ذات کے کئی ایک گوشے اپنے تئیں دیکھ لیے تو ایک دن میری نگاہ ان کے چہرے پر پڑی۔ وہ بلا شبہ ایک حسین چہرہ تھا۔
یہ دوہزار سترہ کی بات ہے۔ایم ایس اردو کی کلاس میں ہم چوبیس طالبات تھیں۔ہندی کے گھنٹے میں عجیب سماں ہوتا۔ کلاس کا سب سے شوخ و شنگ گروہ شور مچاتا، جلدی رخصت چاہی جاتی،کام کر کے نہ لانے پربہانہ سازیاں چلتیں،مس ایک ایک کا کام چیک کرتیں، سبق سنا جاتا، کبھی زبانی،کبھی تحریری امتحان لیے جاتے۔یہاں تک کہ ہم سب نے ہندی لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ میرا حال یہ تھا کہ مجھے کبھی اصول قاعدے سمجھ نہیں آتے ہاں زبانوں کو سیکھنے میں دلچسپی ضرور تھی۔ گھر آکر بھی گھنٹوں مشق کرتی رہتی توبمشکل کلاس کے نمایاں طلباء کے برابر پہنچ پاتی۔ لیکن میری استاد کی نگاہوں کو میں بھا چکی تھی۔بعض لوگ بڑی سہولت سے عیب نظر انداز کر دیتے ہیں۔ان کی نگاہیں چھوٹی چھوٹی اچھائیوں کو بڑا کر دکھاتی ہیں۔ یہ عجیب صفت ہے۔ مجھے ان کی اس ادا نے کئی بار سنبھالا دیا ہے۔ایم ایس کے پہلے سمسٹر کے اختتام پر ہمیں اسائنمنٹ جمع کروانا تھی۔ میں نے کچھ اردو نظموں کا ترجمہ ہندی میں کرنے کی اجازت چاہی؟ یہ کافی مشکل کام تھا اور چار ماہ کے سمسٹر میں طلبا ہندی میں اتنی استعداد پیدا نہیں کر پاتے کہ ادب پاروں کا ترجمہ کرسکیں۔ میں خود بھی اوسط درجے کی طالبہ تھی لیکن انھوں نے اس خیال کو سراہا۔ لکھنے بیٹھی تو اندازہ ہوا کہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔جتنی بار بھی مدد کے لیے ان کی طرف دیکھا انھیں موجود پایا۔ مجھے بہت دیر میں احساس ہوا کہ وہ کافی کم فرصت تھیں۔ انھیں زندگی کے اور بہت سے دھندے سلجھانے ہوتے تھے لیکن میں نے کم از کم اپنی حد تک طالب علم کے وقت کو ان کی پہلی ترجیح دیکھا ہے۔
 چارسال کے عرصے میں شاید ایک بار میں نے انھیں ناراض بھی دیکھا ہے۔یہ ناراضی ایک ساتھی استاد سے سرزد ہوجانے والی کسی بے قاعدگی پر تھی جس کے باعث ڈاکٹر صاحبہ کو اپنی کلاس کے وقت میں تبدیلی کا بروقت پتا نہ چل سکا تھا اور یوں کلاس لینے کے لیے آنے والی واحد طالبہ کا آدھا گھنٹا انتظار میں برباد ہوگیا تھا۔ یہ بڑا بھاری دن تھا۔ایک دن پہلے ان کا گلا کافی خراب رہا تھا اورتیز بخار میں وہ بمشکل کھڑے ہو کرلیکچر دے رہی تھیں۔کلاس میں دیر سے آنے کا تصور تو ڈاکٹر صاحبہ سے کیا جا نہیں سکتا لہذاجب دس منٹ اوپر ہوگئے اور وہ نہیں آئیں تو میں نے خیال کیاکہ طبیعت زیادہ خراب ہوئی ہوگی اور آج چھٹی کرلی ہوگی۔ میں نے اسے خالی پیریڈ جان کر وقت گزارنے کو شاعری کی کتاب کھول لی۔میں کتاب میں کھوئی ہوئی تھی کہ وہ کلاس میں داخل ہوئیں اور یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ کلاس نہیں لی جارہی۔ یہ جا ن کر کہ اس گھنٹے میں ان کا کلاس لینا قرار پایا تھا وہ غضب ناک ہوئیں۔ میں پہلے بتا چکی ہوں کہ یہ بہت بھاری دن تھا۔ پہلے میری طبیعت صاف کی گئی کہ میں نے استا د سے دریافت کیے بغیر یہ یقین کیسے کرلیا کہ وہ نہیں پڑھائے گا۔پھر کلاس کے اوقات میں ردو بدل کرنے والے کی بابت پہلی بار کچھ سخت بات کہی۔ پوچھا کس وقت شروع ہونی تھی میری کلاس؟ عرض کیا کہ آپ پچیس منٹ کی تاخیر سے تشریف لائی ہیں۔ یہ جاننا تھا کہ غضب کی جگہ عجز اور ملال نے لے لی۔مجھ پر آج جو ظلم ہوچکا تھا اس کی ہر ممکن تلافی کرنے کا میری استاد نے وعدہ کیا۔طالب علم منتظر تھا اور استاد نے آنے میں دیر کردی تھی۔ یہ سسٹم کی بے قاعدگی کی انتہا تھی۔یہ ان کی اپنے فرض منصبی سے انحراف کی ایک ایسی لا شعوری کوشش تھی جس پر اپنے نفس کی تادیب کرنا ان پہ لازم آتا تھا اور یہ ان کی تربیت میں رہ جانے والی کوئی کوتاہی تھی کہ ان کی شاگرد حقیقت جاننے کی کوشش کیے بغیرپڑھائی کے گھنٹے میں شاعری سے شغف فرما رہی تھی۔ان کی گفتگو میں بار بار ‘رزق حلال’،’ طالب علم کا آدھا گھنٹا ‘،’میری زندگی بھر کی ریاضت’ کے کلمات جاری ہوتے۔ افسوس کے جتنے کلمات معلم اور متعلم کے مشترکہ سرمایہ ء الفاظ میں تھے ہم نے بار بارادا کیے اور پڑھنا شروع کیا۔
پی ایچ ڈی کا پہلا سمسٹر ختم ہورہا تھا اور آج لسانیات کی آخری کلاس تھی۔لسانیات کی خاموش رہنے والی استادالوداعی کلمات کے ساتھ رخصت ہو رہی تھیں۔”رابطے میں رہنا”۔ مجھے ایک تھپکی ملتی ہے۔میری آنکھیں بھر آتی ہیں کہ میں نے اس لمحے کے لیے بہت ملامتیں سہی ہیں۔ میری استاد دروازے تک جاتی اور پلٹ کر آتی ہیں۔”اپنا مقام پہچانو”۔ مجھے گلے سے لگایا جاتا ہے۔
میری یہ استاد ڈاکٹر صائمہ شمس ہیں۔
قریب ایک سا ل بعد ماہ رمضان میں جب میں ڈاکٹر صاحبہ کے زیر نگرانی مقالہ کی تسوید کے ابتدائی مراحل میں تھی ایک دن میں نے ان سے کچھ کتابیں طلب کیں۔ شام تک کچھ کتابیں مجھ تک پہنچ چکی تھیں۔ ان کتابوں میں ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ” اردو غزل میں تصور مرگ و حیات” بھی تھا لیکن میری توجہ نظموں کی کتاب” اک چراغ کافی ہے ”کی طرف تھی۔
”اک چراغ کافی ہے ”۔کئی ماہ پہلے جب یہ کتاب ترتیب کے مراحل میں تھی یہ نام سنا تو میرے دل میں خیال آیاکہ اگر یہ چراغ بھی بجھ گیا تو کیا ہوگا؟ ہم ایسوں کو توچراغوں کی قطار بھی کم پڑ جائے لیکن ڈاکٹر صاحبہ جیسی شخصیت کوشاید ایک چراغ ہی کفایت کر جاتا ہوگا۔ نظم تعلق دیکھئے کہ میرے اس گمان کواس نظم سے تقویت پہنچ رہی ہے:

مرا تم سے تعلق اس قدر ہے
 کسی دیوار پر جیسے لکھا ہو
کہ اس دیوار پر لکھنا منع ہے

یہ کچی عمر کے جذبوں کی شاعری نہیں کہ جذبات کی رو صفحوں پہ صفحے رنگتی چلی جائے۔یہ مختصر نظمیں اگرچہ ترسیل معنی میں تشنہ نہیں لیکن انھیں پڑھ کر ایک کم کیفی مجھ پر یوں ضرورر طاری ہوئی ہے کہ شاعرہ نے بہت کچھ ابھی اپنے اندرون میں سنبھالے رکھا ہے اور صرف ایک جھلک ذات کے اس مخفی سفر کی دکھلائی ہے جس کی ریاضت کا اگرثمر نہیں تو کم از کم اثر ان کی تسبیح روز و شب کے پھسلتے دانوں پرمیں نے خود دیکھاہے۔ان نظموں میں کہیں بلند آہنگ لہجہ نہیں ملتا، تعلق داری کے دوطرفہ بہاؤ میں نشیب کی طرف کھڑی عورت کی جانب سے اپنے مقابل کھڑے مرد سے مکالمہ کی خواہش تو نظر آتی ہے لیکن اپنی ذات کی وکالت نہیں ملتی۔
جدید دنیا کی وہ عورت جو اپنی کج روی کے ساتھ بھی گردن تانے وہ سب کچھ منوانے کی تگ و دو میں لگی ہے جس کی حقیقت کا شاید اسے ادراک بھی نہیں، ہوسکتا ہے کہ اس رویے کو عورت کی شکست سے تعبیر کرے لیکن کسی بھی تعلق کی خوش رنگی کو برقرار رکھنے کی طلب بے بسی کے لمحوں میں دعا بن کر کیسے ہونٹوں پر آتی ہے نظم” وفا کی چادر” میں دیکھئے

وفا کی چادر پہ ایک دھبہ نہیں گوارا
اسی لیے تو
 مدد کی خاطر
کسی نفس کو نہیں پکارا
 بچا کے رکھنامرے بھرم کو
 یونہی خدارا

نظم ”دعا” میں خالق اور اس کی مخلوق دونوں سے تعلق کا ایک جہان آباد ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا سے جانے والے بچے کا غم ہے اورراوی تخلیق کے عمل میں شریک عورت ہے جو اولاد کی شکل میں انعام پانے کے بعد اچانک خالی ہاتھ رہ گئی ہے۔ایسی ہی پردرد نظم” تم جو موجود تھے ”جانے والوں کے غم کا ایک اظہاریہ ہے جس میں ایک فرد سے وابستہ کائنات کے درہم برہم ہوکر پھر سے سمٹنے کا سارا دورانیہ سمٹ آیا ہے۔ نظم” دعا” دیکھئے

دل  ِمغموم رکھتے ہیں
اور آنکھیں اشک باراں ہیں
مگر لب سے وہی نکلے
جو اللہ کو گوارا ہے
کہ وہ اس کی امانت تھا
 اسی کو سونپ دینا تھا

حسن اختصار کی بہترین مثال یہ نظم” تم ہو” دیکھ لیجئے

جبیں میری ہے اور تعظیم تم ہو
نظر میری ہے اور تکریم تم ہو
اور اس سے بڑھ کے کیا ہو کیا بتاؤں
مری تاخیر کی تقدیم تم ہو

مجھے اس مجموعے کی جس نظم نے اپنی جانب پوری شدت سے متوجہ کیا وہ ایک ایسے مسئلے سے متعلق ہے جس پہ ہمارے معاشرے میں مصلحتاََ بات نہیں جاتی۔ یہ نکاح کی صورت زندگی میں آسانیاں لانے کی فطری سہولت ہے۔شاعرہ نے نظم ”نکاح ثانی” میں زندگی کی تکمیل سے جڑے اس انتہائی اہم سوال کو بڑے سادہ سے استفہامیے کے ذریعہ سلجھا دیا ہے۔ کیا ستم ہے کہ زندگی اندھیری رات میں کسی ستارے کی روشنی اور دھوپ بھرے راستوں پرکسی پیڑ کی ہری بھری چھاؤں کی آرزو بھی نہ کرسکے کہ سماجی بندشوں نے فطرت کے ودیعت کیے حق صلب کر رکھے ہیں۔

کسی تارے کی تابانی
کسی تنہا مسافر کو اگر رستہ دکھا دیتی
 کوئی رہ رو تھکن سے چور ہوکر سانس لینے کو شجر کی ٹھنڈی چھاؤں میں
اگر اس سمت رک جاتا
 کسی کی خالی آنکھوں میں
کوئی سپنا سجا لیتا
اسے اپنا بنا لیتا
 کسی کا کیا بگڑ جاتا

”اک چراغ کافی ہے ”کو پڑھتے ہوئے مجھے اچانک یہ احساس ہوا کہ میں نے اردو شاعری میں اپنے خوابوں کو نظم کرنے کا تجربہ شاید پہلی بار دیکھا ہے۔ا ن نظموں کی فضا ہی خوابناک نہیں بلکہ کردار بھی کسی ماورائی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ”وہ کمرہ، کتابیں ”،” ہاتھ میں درد کا ساز و ساماں لیے”،” تمناؤں کے قبرستان میں ”،”کہیں آرزؤں کے ساحل ہوئے ہیں ” اور” تم نے آواز دی تو سر شام کو”ایسی ہی نظمیں ہیں۔

اب ایک نظم ”سرورق ”دیکھئے کہ عورت کی نجی زندگی کے کرب کو بیان کرنے کے لیے کس اخفا اور پردہ پوشی سے کام لیا گیا ہے۔

کتاب زیست کا عنواں بنا کر
 مجھے اس کے حوالے کرنے والو!
کوئی تو پوچھ لے اس نیم جاں سے
 کہ اس کے دل کے ٹائٹل پیج پر جو پرندہ پر جمائے رک گیا ہے
مجھے اتنی جگہ دے پائے گا کیا؟
 کہ ہوجاؤں اگر میں منتشر تو میرے ٹکڑے
 سرورق کی حد میں رہ پائیں
 
 عورت، مرد کے شب و روز کے منتشر اوراق کو کتاب زیست کی صورت مرتب کرنے کے لیے ذمہ دارتو ٹھہرا دی جاتی ہے لیکن خود اس کی ذات کے پھیلاؤ کو بکھرنے کے لیے بھی فضا میسر نہیں ہوتی۔مرد اور عوت کےeternal triangleمیں احساس شکست سے دوچار ہونے والی عورت کے المیہ کو کس خوبی سے بنا ہے کہ جہاں کچھ کہنے کی جا ہی نہ ہو وہاں مختصر بات ہی کافی ہوا کرتی ہے۔ میں نے ا س استفہام کا جوا ب ڈھونڈنے کو کتاب کے اوراق پلٹائے تو ایک نظم” ہواؤں کی زد میں ”سے ایک سطر آنکھ میں جم گئی

”کبھی آندھیوں نے بھی لو َکی حفاظت کا ذمہ لیا ہے”؟

”اک چراغ کافی ہے” کی نظموں کے عنوان بہت خوش سلیقگی سے رکھے گئے ہیں۔ اپنی تہذیب سے جڑے اظہارات نے ان انتہائی مختصر بیانیوں کی معنی آفرینی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ملاحظہ ہو نظم” پرائی آگ”

تمھیں کس نے کہا تھا یوں پرائی آگ میں کودو
ابھی تو چہرہ جھلسا ہے
رکو! ایسا نہ ہو کہ آگ کا ایندھن ہی بن جاؤ
مگر تم نے سنی آواز نہ سمجھے اشارے ہی
 ہمیں جلنے دیا ہوتا
 ہمیں مرنے دیا ہوتا
 بجھانے کی تمنا تھی، تمھیں اتنا ہی کافی تھا
 نگاہ ِ سرد رکھتے اور لہجہ برف شافی تھا

جبر و استبداد کی فضا میں محکومی کیسے کیسے تماشے دکھاتی ہے نظم ”وہ میرا ڈگڈگی والا” میں دیکھا جاسکتا ہے۔استعارے اگرچہ مقامی ہیں لیکن نظم کو عالمی تناظرات میں دیکھا جائے تو مفہوم مزید کھل کر سامنے آتا ہے۔بین السطور کہنے کا فن جانتی یہ شاعرہ اختصار میں بڑی جامعیت سے بڑے مضامین کو برت رہی ہیں۔

 وہ میرا ڈگڈگی والا مجھے ہر روز کہتا ہے
جمورا گھوم جا میں گھوم جاتی ہوں
وہ کہتا ہے جمورا جھوم جا
 میں جھوم جاتی ہوں
رعونت سے مجھے وہ پوچھتا ہے کون ہے تو؟
 توقف کے بنا میں ہاتھ باندھے سرجھکائے روز کہتی ہوں
 تو عامل ہے مرا، منظور ہے، تسلیم ہے مجھ کو

 لیکن منظر رنگ بدلتا ہے اور حاکم و محکوم کے بیچ قائم تعلق کا وہ زاویہ نظر آتا ہے جس میں زبردست کوزیردست کا مرہون منت دیکھا جاسکتا ہے۔

وہ لاٹھی سے مری چمڑی ادھیڑے
کر تو سکتا ہے
مگر دمڑی نہ جائے
مر تو سکتا ہے

نظم” یہ ریشمی سا حسین بندھن ”دیکھئے تومشرق کی عورت کی دکھ سہنے کی استعداد ہی نہیں ترجیحات کی بھی خبر ملتی ہے اور اگر مرد و زن کے قضیے کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے اور صرف فرد سے فرد کے رشتے پر بات کی جائے توکیا رشتوں کے ٹوٹے ٹانکوں اور الجھے پھٹے دھجی دھجی اعتماد کے رشتوں کی رفو گری دنیا کا سب سے بامقصد اور اہم کام نہیں محسوس ہوتی۔

یہ ریشمی سا حسین بندھن
جو سب گواہوں کی حاضری میں رقم ہوا تھا
خدا ہی جانے کہاں کہاں سے رفو کیا ہے
یہ ریشمی سا گداز بندھن
یہ جب بھی الجھا
تو خار زاروں کی دھجیوں سے اسے سیا ہے
رفو گری کا ہر ایک ٹانکا گواہ اس کا
بچا رہی ہوں یہ ریشمی سا حسین بندھن

”اک چراغ کافی ہے ”کی نظمیں ”محبت موسوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے”،” خواب محلوں میں کب تک”، ”تیر و تفنگ احساں ”،”اندر کی تنہائی”،” لوگ کہتے ہیں وقت مرہم ہے” اور” چلو چھوڑو”ایسی نظمیں ضرور ہیں کہ اپنے پڑھنے والوں کونظم سے مایوس نہیں کریں گی۔

میں مرتب کررہی تھی زندگی کی داستاں
اک ہوا ایسی چلی قرطاس اول لے اڑی
منتشر ایسا کیا اس نے کتاب زیست کو
پھر کسی ترتیب کی میں جستجو نہ کرسکی

”اک چراغ کافی ہے” کو ماورا پبلشرز نے بڑے اکرام اور اہتمام سے شائع کیا ہے۔کتاب کے دیدہ زیب سرورق کی خوش رنگ خطاطی یقیناََ اہل ذوق کو اپنی طرف متوجہ کرے گی۔ یہ سرورق ڈاکٹر صائمہ شمس کی صاحب زادی سماراشاہد نے بنایاہے