اپنی کہانی اپنی زبانی

یہ تحریر 357 مرتبہ دیکھی گئی

ہمارے ہاں یادداشتوں، روزنامچوں اور خطوں کا خیال کم ہی رکھا جاتا ہے حالاں کہ ان سب کی سماجی اور بعض صورتوں میں ادبی اہمیت ہوتی ہے۔ بہت کم حضرات ایسے ہیں جنھیں احساس ہو کہ تاریخ صرف بڑے آدمیوں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس کی ایک زیریں رو بھی ہے جس کا سروکار عوام سے ہے اور جس کو یا تو، بوجوہ، قلم بند نہیں کیا جاتا یا نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی لکھ بھی ڈالے تو لکھے ہوئے کو توجہ سے پڑھنے والے قارئین نصیب نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر ساجد علی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنے دادا بابو غلام محمد مظفر پوری (1890 ۔ 1963) کی یادداشتوں کو مرتب کرکے چھپوا دیا۔ دادا سیلانی آدمی تھے۔ بطور سرویئر ہندوستان میں جا بجا گھومے، برما، ایران اور عراق بھی گئے۔ آخر میں کئی سال مشرقی افریقہ میں گزارے۔ بقول خود، تیس سال ملازمت کی لیکن مستقل نوکری پر کبھی آمادہ نہ ہوئے۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ سیر کرنے کا اشتیاق تھا۔ ایک جگہ ٹکا رہنا پسند نہ تھا۔ دوسری وجہ دل چسپ ہے۔ کہا کہ “مستقل نوکری کرنے سے آدمی بزدل ہو جاتا ہے۔ پنشن وغیرہ کی فکر میں افسروں کی جائز ناجائز بات ماننے پر مجبور ہوتا ہے۔”
غلام محمد کو روشن خیال تو نہ سمجھا جائے گا لیکن وہ حقیقت پسند تھے۔ انھیں اپنے ہم وطنوں یا عربوں یا ایرانیوں میں جو خرابیاں نظر آئی تھیں ان کو صاف صاف لکھ دیا ہے۔ یہ صاف گوئی شاید بعض لوگوں کو ناگوار معلوم ہو۔ حق کڑوا ہی ہوتا ہے۔ بہرحال، اس کتاب میں جو مشاہدات درج ہیں ان کی تصدیق اپنے ارد گرد دیکھنے سے ہو سکتی ہے۔
بعض باتیں خاصی دلچسپ ہیں۔ مدراس میں انھوں نے کچھ عرصہ گزارا۔ لکھتے ہیں: “مدراس کے اس علاقے میں دیکھا گیا کہ مسجدوں میں کوئی امام نماز پڑھانے کے لیے مقرر نہیں ہوتے بلکہ نماز کے وقت جو بھی مقتدی حاضر ہوں ان میں سے جو قابل ہو اسی کو پیش امام بنا کر نماز ادا کر لیتے ہیں۔ پنجاب یا دیگر صوبہ جات کی طرح نہیں کہ جو پیش امام ہو وہی نماز پڑھائے چاہے کیسا ہی ان پڑھ ہو۔ یہ نقص زیادہ تر پنجاب میں دیکھا گیا ہے کہ پیش امام اپنے آپ کو اسلام کے ٹھیکے دار خیال کرتے ہیں۔” اس کے بعد اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا ہے۔ “بعض اوقات مجھے پیش امام کی جگہ کھڑا کر لیا کرتے تھے حالاں کہ میری داڑھی منڈی ہوئی ہوا کرتی تھی لیکن وہ لوگ ایسی باتوں کی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے جالندھر شہر کی ایک مسجد میں تکبیر کہہ دی تو ملاں جی خفا ہونے لگے کہ تمھاری داڑھی نہیں ہے، تکبیر کیوں کہی۔”
آگے چل کر بتایا ہے کہ “مدراس میں ہر گانؤ اور ہر قصبے میں سور بکثرت ہوتے ہیں ۔۔۔۔ سور مسجدوں میں پھرتے اور پانی پیتے دیکھے ہیں جس سے نہ تو کسی مسجد کو کوئی نقصان پہنچتے دیکھا ہے اور نہ مسلمانوں کی مسلمانی میں کچھ کمی واقع نظر آئی ہے۔” مدراس کے بارے میں اور باتیں بھی ہیں، مثلاً “مسلمان سو فی صد اردو جانتے ہیں لیکن ہندو دس فی صد سے بھی کم اردو جانتے ہیں۔ گو مسلمان غریب ہیں لیکن وہاں کے ہندو اکثر ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ مسلمانوں میں پردے کا رواج ہے لیکن پنجاب جیسا واہیات برقع نہیں۔”
نکتے کی ایک بات یہ رقم کی ہے کہ “ہندو، مسلمان اور سکھ مل جل کر نہیں رہ سکتے۔ ہندوستان میں مذہب صرف رسمی طور رہ گئے ہیں۔ عملی طور پر ہم سے مذہبی باتیں نابود ہو چکی ہیں۔”
عراق میں یہ مشاہدے میں آیا کہ عربوں نے، انگریزوں کے ورغلانے سے، ترکوں کی مخالفت کی۔ بعد میں جب انگریزوں کی بدعہدی سے واسطہ پڑا تو انگریزوں کو کافر اور برا بھلا کہنے لگے اور ترکوں کو یاد کرکے پچھتائے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ عرب ہم ہندوستانیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
رضا خان پہلوی کے عروج کی داستان تفصیل سے بیان کی ہے۔ یہ شخص پہلے سپاہی تھا، پھر شاہی محل میں سائیس بنا اور بعد میں فوج میں کرنل ہو گیا۔ کہہ نہیں سکتا کہ جو واقعات غلام محمد صاحب نے بیان کیے ہیں وہ من و عن درست ہیں۔ غالباً بیشتر باتیں صحیح ہوں گی۔ ایران میں جو کچھ دیکھا اس کا بھی ذکر ہے۔ یہ ہے تو ذاتی مشاہدہ لیکن بعض حضرات کو شاید ناگوار گزرے۔
ص 119 تک کتاب میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اس کے بعد خاصا طویل تذکرہ مقدمہ بازیوں کا ہے جو ہمارے دیہی معاشرے کا خاصہ ہیں اور ان کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جو قارئین کو متوجہ کر سکے۔ مشرقی افریقہ میں گزارے ہوئے ایام کا ذکر بھی سرسری اور بے مزہ ہے۔ کتاب کا مغز نصف اول میں ہے اور اسے پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ جو عیوب سو سال پہلے ہم میں تھے وہ آج بھی ہمارا منھ چڑا رہے ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مال و زر کی بادشاہت قوی سے قوی تر ہو چلی ہے۔ غلام محمد صاحب کی تحریر سے ہم عبرت تو کیا حاصل کریں گے۔ ان کی حقیقت پسندانہ آرا سے بھی لوگوں کو اتفاق نہ ہوگا۔ اچھی بات ہے کہ ان کی یاد داشتیں کتابی صورت میں محفوظ ہو گئیں۔ کاش ساجد علی صاحب کی تقلید کا خیال اور لوگوں کو بھی آ جائے۔
سفری زندگی از بابو غلام محمد مظفر پوری
ترتیب و تدوین: ڈاکٹر ساجد علی
ناشر: عکس پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 224؛ چھ سو روپیے