اپنی تلاش میں

یہ تحریر 156 مرتبہ دیکھی گئی

میں نے ہر طرح کے چہل پہل سے خالی جس ماحول میں ہوش کی آنکھیں کھولیں اور زندگی کے پہلے پندرہ برس جس اونگھتی ہوئی، ایک حد تک بے آواز بستی میں گزارے، وہ چھوٹے سے بڑے ہونے کے لیے شاید زیادہ مناسب جگہ نہیں تھی۔ وہاں درسی کتابوں کے سوا، اچھی اور شوقیہ پڑھی جانے والی کتابوں کی کوئی دوکان نہیں تھی۔ ہمارے گھر سے تھوڑی دور پر ایک لائبریری ضرور تھی۔ وہ جگہ جہاں لائبریری کی عمارت واقع تھی گومتی ندی کے کنارے اور پرانے بے لگام درختوں کے جھنڈ کی وجہ سے بہت سنسان اور بھیدوں بھری دکھائی دیتی تھی۔ لائبریری کی عمارت اپنے اونچے ستونوں، مہیب دروازوں اور وکٹورین وضع کے باعث ہمیشہ پُراسرار دکھائی دیتی تھی۔ ان دنوں شہر میں بجلی نہیں آئی تھی۔ شام ڈھلنے کے بعد اِدھر اکیلے جانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ یوں بھی نیم، پیپل اور برگد کے کئی درختوں کے بارے میں کچھ عجیب و غریب کہانیاں مشہور ہو گئی تھیں اور اُدھر سے جب بھی جانا ہوتا تھا، مجھے انوکھی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور آس پاس پرچھائیوں کے گزرنے کا گمان ہوتا تھا۔
میں نے ان دنوں یا تو وہ رسالے اور کتابیں دیکھیں جو میرے والدین پڑھا کرتے تھے اور جن میں اکثریت اُس دور کے مشہور ادبی رسالوں اور ناول افسانے کی کتابوں کی تھی۔ یا پھر وہ کتابیں جو شہر کی اُس اکیلی لائبریری سے منگوائی جاتی تھیں اور جن کے موضوعات ادب کے علاوہ اکثر تاریخی یا سیاسی ہوا کرتے تھے۔ مجھے گھر میں کسی طرح کی مذہبی تعلیم کبھی نہیں دی گئی۔ اس سلسلے میں، میں نے جو کچھ بھی پڑھا، اپنے شوق اور تجسس کی وجہ سے پڑھا۔
میرے والد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے لا گریجویٹ تھے، سرراس مسعود کی وائس چانسلری (1934) کے دور کے بی۔اے میں ان کا ایک اختیاری مضمون انگریزی ادب بھی تھا۔ اس لیے گھر میں شیکسپیئر کے ڈراموں اور ہارڈی کے ناولوں کا ایک سیٹ بھی موجود تھا۔ میں نے ان میں سے کچھ کتابیں اسکول کے مروّجہ نصاب میں شامل ہونے کی وجہ سے اور کچھ اپنے والد کی تحریک پر ان کی مدد سے پڑھیں۔ ٹیگور، چارلس ڈکنس، تھیکرے اور اسٹیونسن کی تحریروں سے میرے تعارف کا ذریعہ بھی وہی بنے۔ یہ ایک طرح کی انسان دوستانہ اور سیکولر تعلیم تھی۔ اس وقت تک زبان اور ادب ادیبوں کے اخلاقی انحطاط اور دنیاداری یا نظریاتی دہشت گردی کے فروغ کا ذریعہ نہیں بنے تھے۔ نہ ہی مطبوعہ لفظ کا آج کے جیسا سیلاب آیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ہمارے زمانے میں کتاب لکھنا تجارت کا حصہ ہے اور ہم کیا پڑھیں، اس کا فیصلہ اب اشتہار بازی کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو مارکیٹ اکونومی نے ادب کو بھی جنسِ بازار یا پروڈکٹ بنا دیا ہے۔
پھر یہ بھی تھا کہ مطبوعہ لفظ اور مطالعے کے ساتھ ساتھ ہم سماعت یا اپنے کانوں کے وسیلے سے بھی تخلیقی لفظ کا کچھ اتا پتہ پاتے رہتے تھے۔ دسہرے اور محرم کے دنوں میں بھجن کیرتن، اکھنڈ پاٹھ اور نوحہ خوانی، مرثیہ خوانی کی روایت جاگ پڑتی تھی۔ میلوں ٹھیلوں میں آلھا گانے والوں کے مقابلے ہوتے تھے اور تو اور سادھوسنت، فقیر بھی کبیر، تلسی کے دو ہے بھجن، نعتیں منا جاتیں گاتے پھرتے تھے۔ ہمارے آبائی مکان سے ملے ہوئے احاطے میں کچھ کوٹھریاں بنی ہوئی تھیں، وہاں میرے والد کے دور پاس کے دیہاتوں سے آنے والے موکل اپنے مقدمے کی پیشی پڑنے پر اکثر رات کو ٹھہرا کرتے تھے اور دن بھر کے کام کاج سے اور اپنے کھان پان سے فارغ ہونے کے بعد کبھی اکیلے، کبھی باجماعت طریقے سے رام چرت مانس کا پاٹھ کرتے تھے۔ ہماری بستی ایودھیا سے کوئی تیس میل کی دوری پر واقع تھی اور اس پورے علاقے میں یہ چلن عام تھا۔ سو میں اپنی نو عمری کے دور میں، آنکھوں کے علاوہ اپنی سماعت کے ذریعے بھی بہت کچھ پڑھتا رہا۔
سنے جانے والے لفظ کا ایک الگ جادو ہوتا ہے۔ اپنی لوک روایت سے دلچسپی اور میری تھوڑی بہت آگہی کا وسیلہ ”یہ سننا سنانا“ بھی رہا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک انتہائی رنگا رنگ اور مستحکم حکائی روایت سے مالا مال معاشرہ رہا ہے۔ اپنی حکائی روایت کے دائرے میں آنے والے ادب کا خاصا بڑا حصہ گیتوں، کہانیوں، حکایتوں، قصوں، ملفوظات، پروچن کی شکل میں، میں نے پڑھنے کے ساتھ ساتھ سنا بھی ہے۔
ہماری آبائی بستی میں ایک مشہور ہندی کوی رہا کرتے تھے، پنڈت رام نریش ترپاٹھی۔ اپنے اسکول کی طرف آتے جاتے میں ان کے گھر سے ہوکر گزرتا تھا۔ میرے والد سے ان کی ملاقات تھی۔ انہی دنوں میں سنا تھا کہ گاندھی جی کی ہدایت پر وہ ہمارے دیس کے مختلف علاقوں کے لوک گیت جمع کر رہے ہیں۔ پنڈت رام نریش ترپاٹھی کے علاوہ اُردو کہانی کار دیوندر ستیارتھی بھی اس کام میں شریک رہے۔ دلی آنے کے بعد ستیارتھی جی سے میری بہت ملاقاتیں ہوئیں۔ ترپاٹھی جی اور ستیارتھی جی کی زندگی کا ایک پہلو جس کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں، گیتوں کی تلاش میں ان کی آوارہ گردی ہے۔ ستیارتھی جی کو تو میں نے اسی برس کی عمر میں بھی دلّی کی سڑکوں پرہمیشہ پیدل چلتے ہی دیکھا۔
یہ جو ادب میں بھی کافی ہاؤس کلچر یا ڈرائنگ روم کلچر قسم کا روّیہ عام ہوا ہے، میری طبیعت سے میل نہیں کھاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادب صرف پڑھنے کی چیز نہیں ہے اور ادب کو سمجھنے، اس پر اثر انداز ہونے یا اس کا اثر قبول کرنے کا ذریعہ صرف کتابیں نہیں ہو سکتیں۔ زندگی کی طرح ادب کے مرکز میں بھی ایک ہی سچائی براجمان ہے اور وہ سچائی ہے ”انسان“ جو صرف کتابوں میں بند نہیں ہوتا اور جسے سمجھنے کے لیے زندگی سے کٹ کر صرف کتابوں پر بھروسہ کیا جا سکتا۔ دیوتاؤں کے بہت سے روپ ہو سکتے ہیں اور ان کے اپنے اپنے مشغلے اور علاقے ہیں، مگر انسان کا تو ایک ہی روپ ہے۔ اچھا ہو یا برا، سب ایک جیسے ہیں۔ بہ قول نظیر ”سو ہے وہ بھی آدمی!“ لیکن زندگی کو جاننے اور برتنے کے سلسلے میں ضروری نہیں کہ ہم زندگی کے ہر پیچ، ہر معاملے، ہر مسئلے سے براہِ راست تعلق بھی رکھتے ہوں۔ کس نے کہا تھا…. اگر تم زندگی کو سمجھنا چاہتے ہو تو زندگی تمہارے دروازے پر دستک دیتی ہوئی تم تک خودبخود پہنچ جائے گی۔ گویا کہ یہ سارا معاملہ رویے کا ہے، عمل کا نہیں۔ میری حالت گنچاروف کے اوبلو موف جیسی تو نہیں تھی اور میں گھر سے باہر کی دنیا کو بھی ہمیشہ پُر شوق نظروں سے دیکھتا اور میں مردم بیزار نہیں تھا۔ لیکن میری زندگی میں کچھ کتابوں نے اس لحاظ سے غیر معمولی رول ادا کیا ہے کہ دنیا کے عام معاملات سے میرے شعوری فاصلے، میری تنہائی اور خلوت گزینی اور بزم آرائی یا جلسے جلوس سے بیزاری یا گریز نے جو خامیاں پیدا کر دی تھیں، انہیں ایک حد تک تو قابو میں رکھنے کا تھوڑا بہت گُر جو میں نے سیکھا تو ادب کی بعض کتابوں کی رفاقت اور ان کی بخشی ہوئی روشنی کے نتیجے میں۔ اس لحاظ سے کتاب سے مطبوعہ لفظ کا بدل ہماری دنیا نے ابھی تک تو پیدا نہیں کیا ہے۔ بہ قول سوسن سونٹیگ جس طرح فلم اورٹیلی ویژن تھیٹر کی جگہ نہیں لے سکتے، اسی طرح بصیرت، علم اور اطلاعات کی فراہمی کا کوئی وسیلہ کتاب کی برابری نہیں کر سکتا۔ ایک چھوٹی سی قدرے بے رنگ بلکہ اکتاہٹ کا مستقل احساس پیدا کرنے والی بستی اور ایک مختصر سے خاندان میں پندرہ سولہ برس کی عمر تک کتابوں نے دوستی اور ہم دمی کا جو تجربہ مہیا کیا، اسے میں زندگی بھر تشکر اور احسان مندی کے جذبے کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ گھر میں یا گھر سے باہر کی دنیا میں میرے لیے وقت گزاری اور تفریح کے سادھن بہت محدود تھے، میری صحت بہت معمولی تھی، بلکہ خراب تھی اور کھیل کود کی طرف ایک تو اپنی جسمانی کمزوری کے باعث ، دوسرے اپنے پیدائشی شرمیلے پن کے باعث طبیعت کبھی مائل نہ ہوتی تھی۔
یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے مجھے الہ آباد بھیج دیا گیا۔ یہاںمجھ پر ایک نئی دنیا سے جان پہچان کے راستے کھلے۔ گھر کے بند بند سے، گھٹے ہوئے ماحول کی بہ نسبت اس شہر کے ماحول میں مجھے آزادی اور پھیلاؤ کا ایک نیا احساس ہوا۔ ہر بستی اپنا ایک مخصوص لینڈ اسکیپ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک خاص آہنگ بھی رکھتی ہے جو گھروں، بازاروں، راستوں، گلیوں سے اٹھنے والی آوازوں سے ترتیب پاتا ہے۔ ہماری بستی میں ہمیشہ ایک سناٹے کا احساس ہوتا تھا۔ گومتی ندی کا پانی، سوائے باڑھ کے دنوں کے، کبھی پُر شور نہیں ہوتا تھا۔ نیم، پیپل اور برگد کے پیڑ جو بستی کی ہر سڑک پر جگہ جگہ سر اٹھائے کھڑے تھے، ہوا کے ساتھ ان کی ایک عجیب موہوم اور مبہم سی آواز رہ رہ کر سنائی دیتی تھی۔ سوائے اُن دنوں کے جب بستی میں کسی تہوار یا میلے کی دھوم ہو، بازار تک سوئے سوئے سے لگتے تھے۔ لوگوں کی بات چیت، چال ڈھال، رہن سہن میں ایک طرح کی سستی اور دھیما پن نمایاں تھا۔ شہر میں بجلی نہیں آئی تھی اس لیے سورج ڈوبتے ہی بستی کی سرحدوں سے سیاروں کی ہواں ہواں اور ایک بڑھتے پھیلتے سناٹے کی گونج اندھیرے کی سکوت پر حاوی ہو جاتی تھی۔
لیکن الہ آباد میرے لیے روشن، صاف اور کھلی ڈلی آوازوں کی ایک دل کو کھینچنے والی جادو نگری تھی۔ ہر طرف نت نئے رنگ، رونقیں اور دل بستگی کے سامان بکھرے ہوئے تھے۔ اُن دنوں الہ آباد ثقافتی اور فکری لحاظ سے تھکا ہوا شہر نہیں تھا۔
ادب پر سیاست کی گہری پرچھائیں کے باوجود، آج کی جیسی سستی ادبی سیاست اور ادب میں پبلک ریلیشنگ کی وجہ اس وقت عام نہیں ہوئی تھی۔ میرے اساتذہ میں کلاسیکی مزاج اور مذاق رکھنے والے، ترقی پسند تحریک سے جذباتی وابستگی رکھنے والے اور ترقی پسندی مخالف، ہر طرح کے لوگ تھے۔ سب سے خاص بات اس شہر میں یہ تھی کہ وہاں کتابوں کی دوکانیں بہت تھیں، یونیورسٹی روڈ تو ان دنوں کتب فروشوں اور چائے خانوں کی سڑک بن گئی تھی۔ سول لائنس کا کافی ہاؤس اپنے ادبی جمگھٹوں کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ نئی پرانی کتابوں کی دوکانوں کے لیے بھی مشہور تھا۔ زیرو روڈ پر بہت سستی کتابیں مل جاتی تھیں۔ روسی ادب اور چینی ادب کا چرچا اس وقت طالب علموں میں ایک تو بائیں بازو کے خیالات سے دلچسپی کے باعث، دوسرے بہت کم داموں میں اور کبھی کبھی بے دام کے مل جانے کی وجہ سے مقبول تھا۔ یونیورسٹی روڈ پر کامریڈ چچا حکیم اللہ کی دوکان ہماری بیٹھک بھی تھی اور بائیں بازو کی ادبی، غیر ادبی کتابوں سے گہری شناسائی کا ایک وسیلہ بھی تھی۔ الہ آباد یونیورسٹی یونین کے جلسوں میں ان دنوں ڈاکٹر لوہیا، آچاریہ کرپلانی، کرشنا مینن کا آنا جانا ایک عام بات تھی۔ جواہر لال نہرو، ڈاکٹر رادھا کرشن، راج گوپال آچاریہ اور پہلی دوسری صف کے بہت سے سیاسی رہنما آتے رہتے تھے۔ ایک طرف ایک نئی ذہنی زندگی سے چھلکتا ہوا الہ آباد تھا، دوسری طرف پرانا یا پریاگ جہاں کمبھ کے میلوں کے علاوہ بھی آئے دن بھانت بھانت کے جشن، تہوار، تقریبات، سنگیت، سمیلنوں اور پروچنوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا…. ادب کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ، فلسفے، سماجی علوم اور تاریخ سے میری دلچسپی انہی دنوں تیزی کے ساتھ بڑھی اور ادب یا شاعری کو پڑھنے کا میرا عام تناظر (پرسپکٹیو) بدلنے لگا۔ میری ذہنی دنیا اردو زبان و ادب اور فارسی ادب کی روایت تک محدود پہلے بھی نہیں تھی، لیکن ا ب الٰہ آباد کی زندگی میں گھل مل جانے کی وجہ سے اس میں کچھ اور وسعت پیدا ہو گئی۔ خاص کر ہندی زبان اور ادب کی روایت، اپنی بولیوں کی روایت کے ساتھ میرے لیے بہت پرکشش ہو گئی۔ پاکستان کے معروف جدید شاعر اور میرے دوست صلاح الدین محمود نے لکھا ہے کہ ان کی ہندی اسلام کی تاریخ میرابائی کے بھجن اور سبّا لکشمی کی آواز کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ الہ آباد کے زمانۂ قیام میں میرا یہ تاثر بتدریج گہرا ہوتا گیا کہ ادب کے معاملے میں تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیے کا ایک طاقت ور رول بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ مغربی ادب سے اپنے تمام تر شغف کے ساتھ مشرقی زبانوں خاص کر ہندوستانی زبانوں کے ادب سے میری ذہنی اور جذباتی قربت بڑھتی گئی اور یہ خیال رفتہ رفتہ پختہ ہوتا گیا کہ آج کی سمٹی ہوئی، تنگ ہوتی ہوئی دنیا میں بھی ہماری اپنی پہچان کے سادھن ہمیں سب سے زیادہ مشرق اور ہندوستان کی ادبی روایتوں کے واسطے سے ہی مل سکتے ہیں۔